6. Al-Anʿām
الأنعام
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
تعریف اللہ ہی کی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکی اور روشنی کو (تاریکی اور روشنی) پیدا کیا پھر بھی جو کافر ہیں (حق پوش) پیدا کیا، پھر بھی جو کافر ہیں (حق نا شناس) وہ ناحق شریک کے برابر رکھتے ہیں۔
All praise is for Allah, Who created the heavens and the earth, and brought into being darkness and light — yet those who disbelieve [who conceal the truth] set up equals to their Lord.
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ طِينٍ ثُمَّ قَضَىٰ أَجَلًا وَأَجَلٌ مُسَمًّى عِنْدَهُ ثُمَّ أَنْتُمْ تَمْتَرُونَ
وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا (کچھ تمہاری اصل ہے) کس بات پر بھولتے ہو؟ کس بات پر پوچھتے ہو؟ پھر (ہر ایک کی) ایک دن مرنا ہے — (کوئی اپنی ایک عمر یعنی کوئی ایک عمر سے زیادہ جی نہیں سکتا) پھر (اس کے پاس) ایک میعاد مقرر ہے (اور اس کا علم خدا کے سوائے کسی کو نہیں) تم شک میں پڑے ہو — (مرنے سے بے خبر ہو)۔
He it is Who created you from clay — [this is your origin, so what deceives you? About what do you enquire?] Then [for each of you] there is a fixed term of death — [no one can live beyond his appointed span] — and a determined term is with Him [known to none but Allah]. Yet you are in doubt [heedless of death].
وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ
اور آسمانوں میں اور زمین میں اللہ ہی تو ہے (اسی کی حکومت ہے، اسی کی عزت ہے) تمہارے ظاہر و باطن (تم کرتے اور) کماتے ہو اس سے بھی وہ واقف ہے۔
And He is Allah in the heavens and in the earth [His is the sovereignty, His is the glory]. He knows your secret and your open [deeds] and He knows whatever you earn.
وَمَا تَأْتِيهِمْ مِنْ آيَةٍ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ
(اور خدائے تعالیٰ کو دانا بینا سمجھتے ہیں) مگر اس کی آیتوں میں سے کوئی آیت آتی ہے تو اس سے اعراض ہی کرتے ہیں (اس کو نہیں مانتے)۔
[And yet they consider Allah All-Knowing, All-Seeing] but whenever any sign from their Lord's signs comes to them, they turn away from it [and refuse to accept it].
فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنْبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
جب ان کو حق بات پہنچی تو انہوں نے اس کی تکذیب کی (اچھا!) ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ جن لوگوں کا حق سے مذاق اڑاتے تھے (اس سے تمسخر کرتے تھے) ان کے حق کا جواب کیا ہوتا ہے (اس سے مذاق کرنا کیا نتیجہ لاتا ہے)۔
They denied the truth when it came to them. Very soon they shall come to know what those people who used to mock the truth [who made a sport of it] will receive in return [what becomes of those who mock the truth].
أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَكُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْأَنْهَارَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُمْ
(کیا انہیں معلوم نہیں) کیا یہ دیکھتے نہیں کہ ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہم نے نیست و نابود کردیا — (وہ قومیں کیسی تھیں؟) ہم نے زمین پر ان کو وہ قدرت سلطنت اور غلبہ دیا تھا (کہ ہر طرف سرسبزی ہو، کھانے پینے کی کچھ بھی نہ ہو) اور ہم نے ان کے نیچے نہروں کو بہتا دیا اور ابر انہوں نے احسانات کو نہ مانا اور گناہ کرتے ہی رہے — پھر ہم نے انہیں (بربادکردیا) اور ان کے بعد ایک دوسری قوم کو پیدا کیا۔
(Do they not know?) Can they not see how many generations We destroyed before them — what were those nations like? We gave them power, dominion, and supremacy over the earth [from every direction — no shortage of food or drink], and We sent abundant rain upon them and made rivers flow beneath them. Yet they did not acknowledge Our blessings and continued to sin — then We destroyed them [ruined them utterly] and raised up another people after them.
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَابًا فِي قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ
اگر ہم تم پر کاغذ میں لکھی ہوئی تحریر بھی بھیجتے پھر وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے تو (منکرین اور) نہ ماننے والے یہی کہتے: (کوئی جادو ہے) یہ تو کھلا جادو ہے (کوئی ہاتھ کا چالاکی ہے)۔
Even if We had sent down to you a scripture on parchment and they had touched it with their own hands, those who disbelieve would still have said: 'This is nothing but plain sorcery [some sleight of hand].'
وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ وَلَوْ أَنْزَلْنَا مَلَكًا لَقُضِيَ الْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنْظَرُونَ
اور (معترض) کہتے ہیں (اعتراض ہے کہ) کیوں نہیں ان پر فرشتہ اتارا گیا — (اس کا جواب یہ ہے کہ) اگر ہم فرشتہ کو اتارتے تو بس معاملہ تمام ہوجاتا (قصہ ہی تمام ہوجاتا) پھر انہیں مہلت ملتی نہ ملتی۔
And the objectors say: Why was no angel sent down to him? [The answer to this is:] If We had sent down an angel, the matter would have been concluded [the affair ended entirely] — they would then be given no respite at all.
وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَجَعَلْنَاهُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِمْ مَا يَلْبِسُونَ
اگر ہم اس (پیغمبر) کو فرشتہ بناتے تو ضرور انسان ہی کی شکل پر بناتے اور جو دھوکا وہ اس وقت کھاتے ہیں وہی دھوکا پھر بھی کھاتے۔
And if We had made him [the Prophet] an angel, We would have made him [appear] in the form of a man — and the same confusion they create now, they would create then too.
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِيَسْتَهْزِئُونَ
یقیناً تم سے پہلے اور رسولوں کی بھی ہنسی اڑائی گئی (مگر اس کا نتیجہ کیا ہوا؟) کہ جنہوں نے پیغمبروں سے ہنسی کی، ان کی ہنسی کو اللہ نے ان ہی کو گھیر لی (اس کا عذاب ان پر پڑچھایا)۔
Indeed, messengers before you were mocked — but what became of those who mocked them? The very mockery they directed at the prophets encircled them [that punishment descended upon them].
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(اے پیغمبر!) تم کہو زمین میں چوطرف پھرو، پھر دیکھو کہ تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔
(O Prophet!) Say: Travel through the earth and then see what was the end of those who denied [the truth].
قُلْ لِمَنْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلْ لِلَّهِ كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
(اے پیارے پیغمبر!) تم (پوچھو تو) یہ پوچھو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ ہے کس کا؟ تم ہی کہہ دو اللہ کا — اس نے اپنے آپ پر رحم (کرم) لازم کرلیا ہے۔ (مگر ضرور) وہ سب تم کو قیامت کے دن (اٹھا کرے گا) جمع کرے گا (اس میں کیا شک ہے؟) اس میں کوئی شک نہیں — جنہوں نے اپنا نقصان کردیا تو وہ ایمان لانے کے نہیں۔
(O beloved Prophet!) You ask: 'To whom belongs all that is in the heavens and the earth?' You yourself answer: 'It belongs to Allah.' He has decreed mercy upon Himself [made it obligatory upon Himself]. He will certainly gather all of you on the Day of Resurrection — there is no doubt in this. Those who have ruined themselves — they will not believe.
وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
اور اسی کا ہے (اللہ ہی کا ہے) رات دن میں جو کچھ ہے — اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے۔
And to Him belongs whatever rests in the night and the day [it all belongs to Allah alone] — and Allah is the All-Hearing, the All-Knowing.
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(پیغمبر!) تم کہہ دو، کیا اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا والی بناؤں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا (بناؤں)؟ وہ (سب کو نعمت سے) کھلاتا ہے (سب کے محتاج کی ضرورت ورتا ہے) وہ (سب کے) محتاج نہیں — (یہ بھی) کہہ دو، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے اللہ کے سامنے گردن تسلیم جھکادوں اور (اے خاطب! دیکھو!) مشرکوں میں سے نہ بن (خدا کا کسی کو شریک نہیں بنا)۔
(O Prophet!) Say: Shall I take anyone other than Allah — the Creator of the heavens and the earth — as my protector? He provides sustenance for all [feeds all, meets the needs of all], and He Himself needs no sustenance [from any]. (Also) say: I have been commanded to be the first to submit [to bow the neck before Allah], and (O addressed one! Beware!) do not be among the polytheists [do not associate any partner with Allah].
قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(ان سے) کہہ دو، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے اپنے رب کے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔
Say (to them): If I were to disobey my Lord, I fear the punishment of a tremendous Day.
مَنْ يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ
جس سے اس دن وہ عذاب پھیرا جائے (اور وہ عذاب نہ ہو) تو (اللہ نے) یقیناً بڑا رحم کیا اور یہ ایک مرتح بڑا کام اور یہ ایک مرتح بڑا کامیابی ہوگی۔ (ہماری مرادی ہوگی)۔
Whoever is spared that punishment on that Day — [Allah] has certainly shown him great mercy, and that is the clear and manifest triumph [our heart's desire].
وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اور (اے انسان ضعیف البیان) اگر اللہ تجھ کو کوئی ضرر پہنچائے تو اس کو اس کو ٹالنے والا تو اس کی ذات ہی ہے (وہی تالنے والا ہے) مگر اسی کی ذات اگر وہ تجھے کوئی خیر و بھلائی پہنچائے (تو اس کا ہاتھ پکڑنے والا کون ہے) تو وہ ہر شئے پر قادر ہے۔
And (O weak, helpless human!) if Allah afflicts you with some harm, none can remove it except Him alone; and if He brings you any good and blessing [who can stop His hand?], He has power over all things.
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
اور وہی غالب ہے (زبردست ہے) اپنے بندوں پر اور وہ حکمت والا ہے باخبر ہے۔
And He is the Irresistible [All-Powerful] over His servants, and He is the All-Wise, the All-Aware.
قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ آلِهَةً أُخْرَىٰ قُلْ لَا أَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ
(اے رسول کریم!) کہو (پوچھو) سب سے زیادہ معتبر اور بڑی گواہی کس کی ہے؟ تم کہہ دو اللہ دونوں کے درمیان گواہ ہے (وہی حال سے واقف ہے) اور مجھ پر یہ قرآن (کی وحی) کی گئی ہے اور اس کی وحی اس لیے ہے کہ میں اس کے ذریعے تمہیں (اور ان لوگوں کو) ڈراؤں — کیا تم واقعی یہ گواہی دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور بھی معبود ہیں؟ تم کہہ دو میں تو ایسی شہادت نہیں دے سکتا (نہ اس بات کا یقین کرتا ہوں) تم کہہ دو خدا بحق دو ہے تو ایک ہی ہے اور میں تمہارے اس شرک سے (میں بیزار ہوں) بری ہوں (ہرگز اس شرک کی جرأت نہیں کرسکتا)۔
(O Most Honoured Messenger!) Say: Whose testimony is the greatest and most reliable? You yourself say: Allah is the witness between me and you [He alone knows the reality]. And this Qur'an was revealed to me — it was revealed for this: that I may warn you [and all whom it reaches]. Do you really bear witness that there are other deities alongside Allah? Say: I cannot give such testimony [nor do I believe it]. Say: By truth, God is only One, and I am completely free [I disavow myself] from your associating partners [I could never have the audacity for such shirk].
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
جن کو ہم نے یہ کتاب دی (یہ اہل کتاب یہودی اور نصرانی) اس (قرآن اور پیغمبر اور اس کی تعلیم) کو خوب جانتے (پہچانتے) ہیں (جس طرح اپنی اولاد کو جانتے ہیں) جس طرح اپنی اولاد کو جانتے ہیں — (مگر) جو (بدنصیب ہیں) اپنے آپ کو خسارے میں ڈالے ہیں تو وہ (ہرگز) ایمان لانے والے نہیں۔
Those to whom We gave the Book [these People of the Book — Jews and Christians] recognise him [the Qur'an, the Prophet, and his teachings] just as they recognise their own children — but those [unfortunate ones] who have put themselves at a loss will never believe.
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر افتراء پردازی کرے (اس پر جھوٹ باندھے اور شرک کرے) یا اس کی آیتوں کی تکذیب کرے (اور جھٹلائے) — بات یہ ہے کہ ظالموں کو فلاح نہیں (کامیابی نہیں)۔
And who is more wrongful than he who fabricates a lie against Allah [attributes falsehood to Him and associates partners with Him] or denies His signs? Indeed, the wrongdoers shall not succeed.
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا أَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِينَ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ
اور (ذرا اس دن کو اپنے پیش نظر رکھو) جس دن ہم سب کا حشر کریں گے — پھر ہم مشرکوں سے پوچھیں گے، وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کا تم دعویٰ کرتے تھے؟
And [keep that Day in mind] the Day when We shall gather them all — then We will ask the polytheists: 'Where are your associates [those you claimed as partners with Allah]?'
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
پھر ان کی فتنہ پردازی اور چالاکی کچھ نہ چل سکی چلی مگر یہ کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کی ہمارے پروردگار کی قسم (ہم نے کبھی شرک کیا ہی نہیں) ہم مشرک تھے ہی نہیں۔
Then their scheming and cunning availed them nothing — except that they said: 'By Allah, our Lord, we were never polytheists [we never committed shirk at all].'
انْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
دیکھو یہ اپنے آپ پر کیسا جھوٹ لگا رہے ہیں (شرک کرنا اور پھر انکار بھی کرنا) یہ ساری افترا پردازیاں بے راہ اور بے قائدہ طلبیں (انکار کرنے سے پھر کچھ حاصل نہ ہوا)۔
See how they lie against themselves [committing shirk and then denying it] — and all their fabrications went astray and came to nothing [denial gained them nothing].
وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ
اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری باتیں کان لگا کر سنتے ہیں (مگر کیا حاصل؟) ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں (لہٰذا وہ کچھ بھی نہیں سنتے) ان کے کانوں میں بوجھ ہے (کچھ بھی سنتے بہت ہیں تو وہ بھی کفر وشرک ان کے کانوں میں پڑا ہے) ان پر ایسا چھا گیا ہے کہ دنیا بھر کی آیتیں اور نشانیاں دیکھ بھی جائیں تو ان پر ایمان لانے والے نہیں — لہٰذا وہ جب تمہارے پاس آتے ہیں تو پھر وہی لڑتا جھگڑتا (کٹ بُچّی کرنا) بحثی کرنا — (اور جب) یہ منکر کہیں گے کہ یہ تو نری کہانیاں ہیں پرانی داستانیں ہیں (سنتے سنتے ہمارے کان تو بھرے ہوگئے)۔
And among them are those who listen to you [but what use is it?] — their hearts are veiled [so they hear nothing] and in their ears is a heaviness [whatever they hear, disbelief and polytheism fill their ears]; it has so overcome them that were they to see every sign and wonder in the world they would never believe. So when they come to you, they come only to argue and wrangle [engage in pointless debate] — and when they do, these deniers say: 'This is nothing but stories of the ancients, old tales [our ears are filled with hearing it].'
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ وَإِنْ يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
وہ اس سے (تعلیم نبوی اور اسلام و قرآن سے) دوسروں کو روکتے ہیں اور (خودبھی) دور بھاگتے ہیں — (مگر اس کا نتیجہ کیا ہے؟) یہ اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں، بلاک کر رہے ہیں — (مگر اس کا) ہلاک کرتے ہیں، مگر اس کو شعور نہیں، (اداراک نہیں)۔
They forbid others from it [from prophetic teaching, Islam, and the Qur'an] and themselves [flee] from it — (but what is the result?) They are only destroying themselves, ruining themselves [but they have no awareness of this, no realisation].
وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
اور (اے خاطب) کاش تو بھی دیکھ لیتا جب وہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے گئے ہیں (یا اگر دیکھ لیتا تو بڑا خوفناک منظر دیکھتا کہ منکرین بے قرار ہیں اور اپنی غلطیوں پر نادم ہیں) اور کہتے ہیں (دنیا میں) کاش ہم (دنیا میں) پھر لوٹ جائیں اور ہمارے رب کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں (اور رب کی آیتوں کو نہ جھٹلائیں) اور ہم مومنین میں سے ہوتے — (تو ہماری ایسی جگہ نہ ہوتی، اس طرح سخت عذاب نہ ہوتا)۔
And (O addressed one!) if only you could see when they are made to stand before the Fire [what a terrifying sight: the deniers are desperate and remorseful for their errors] — saying: 'Would that we could return to the world! Then we would not deny the signs of our Lord [would not reject them] and we would be among the believers!' — [then we would not be in such a place, nor suffer such severe punishment].
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
بلکہ جو کچھ وہ پہلے (دل کا مرض، طبیعت کی کزوری) چھپایا کرتے تھے، وہ سب پہلے ظاہر ہوگئی (اس سے بچنے کے لیے الظہارت عذامت کر رہے ہیں) اگر یہ (دنیا کی طرف) لوٹائے بھی جائیں تو (ان کی غفلت ورزی کا تقاضا ہے کہ) اسی بات پر پڑ جائیں جس سے انہیں روکا گیا تھا اور یہ بے شک (اظہار ندامت میں) جھوٹے ہیں۔
Rather, what they used to conceal before [the sickness of their hearts, the weakness of their nature] has now become manifest [and they are showing remorse to flee from it]. If they were returned to the world [their negligence demands that] they would revert to what they were forbidden from — and they are indeed liars [in their expression of remorse].
وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری تو بس صرف دنیا کی زندگانی ہے اور مرنے کے بعد ہم اٹھائے نہ جائیں گے۔
And they say: 'There is nothing but our life in this world, and we shall not be resurrected after death.'
وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ قَالَ أَلَيْسَ هَٰذَا بِالْحَقِّ قَالُوا بَلَىٰ وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ
اور (اے خاطب) تو بھی دیکھ لیتا کہ یہ (منکرین) دربار الٰہی میں حاضر کئے گئے ہیں، پوچھا جائے گا: کیا یہ برحق نہ تھا؟ قالوا: وہ عرض کریں گے ہاں بلکل بالکل بروردگار یقیناً تھا — کیوں نہیں ہمارے پروردگار پاک نے وہ فرمائے گا اپنے کفر کی وجہ سے اب عذاب کے مزے لوٹو۔
And (O addressed one!) if you could see when they [the deniers] are made to stand before their Lord — it will be asked: 'Was this not the truth?' They will say: 'Yes, by our Lord, indeed it was!' [Our pure Lord] will say: 'Then taste the punishment on account of your disbelief.'
قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا يَا حَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ
یقیناً یہ لوگ بڑے نقصان اور خسارے میں پڑے ہیں، جنہوں نے خدا سے ملنے کو جھٹلایا (اس کی تکذیب کی)، یہاں تک کہ جب سامنے والی کڑھی قیامت آجائے گی (یعنی مرنے کا وقت آجائے گا یا قیامت آجائے گی) تو اس وقت کہیں گے: ہائے ہمارے افسوس! ہائے صد افسوس! (اور اس وقت تفصیر پر جو ہم سے صادر ہوئی) اس وقت کا کیا حال ہوگا — وہ اس وقت اپنے گناہوں کی گٹھڑی اپنی پیٹھوں پر لادے ہوں گے — سوچیا ہی برا (بوجھ ہے) یہ جو وہ پیٹھوں پر لادے ہوئے ہیں۔
Those who denied the meeting with Allah have certainly fallen into great loss — until when the Hour comes upon them suddenly, they will cry: 'Alas, our regret! Alas, a hundred times our regret for what we neglected [regarding it]!' At that time they will be carrying the burden of their sins upon their backs — truly wretched [a terrible burden] is what they carry on their backs.
وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
اور دنیا کی زندگی (کھیل تماشہ ہے) لہو و لہب ہی ہے (بے کارکاموں میں مشغولی ہے) اور آخرت کا مقام خدا ترسوں کے لیے بہتر ہے — کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے؟
And the life of this world is nothing but play and amusement [meaningless and idle preoccupation] — and the home of the Hereafter is better for those who are God-fearing. Will you not understand even this much?
قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(اے پیغمبر!) ہم خوب جانتے ہیں کہ ہم ان کی باتوں سے تم کو رنج ہوتا ہے (کیونکہ وہ تم کو جھٹلاتے ہیں) مگر یہ تمہیں ظالم نہیں جھٹلاتے بلکہ خدا کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں (تمہارا جھٹلانا خدا کا جھٹلانا ہے)۔ اس کی آیتوں سے ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔
(O Prophet!) We know well that their words grieve you [because they deny you]. But they are not denying you as a person — rather, the wrongdoers are denying the signs of Allah [their denial of you is a denial of Allah]. They obstinately reject His signs.
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّىٰ أَتَاهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَبَإِ الْمُرْسَلِينَ
اور (اے پیغمبر!) تم سے پہلے اور پیغمبروں کی تکذیب کی گئی اور انہوں نے اس کو برداشت کرلیا (ان کو نہ مانا گیا) اور انہیں جھٹلانے اور ایذا دینے سے بھی وہی وہی برداشت کرلیا (اس پر مرکیا) یہاں تک کہ ان کو ہماری فتح و نصرت پہنچی۔ — خدا کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا — اور تم کو پیغمبروں کے کچھ حالات پہنچ چکے ہیں۔
(O Prophet!) Messengers before you were also denied — and they endured [they were not heeded] and bore the denial and the harm patiently [they persevered through it all] — until Our help and victory came to them. No one can change the words of Allah — and some accounts of the messengers have already reached you.
وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُم بِآيَةٍ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَىٰ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ
(۳۵) اگرتم پر ان کا اعراض (ان کی بے التفاتی) شاق گزر رہی ہے پھر اگرتم سے ہوسکے تو زمین میں ایک سرنگ یا آسمان تک ایک سیڑھی تلاش کرکے ڈھالو اور ان کے سامنے (بڑی سے بڑی نشانی) بڑے سے بڑا معجزہ دکھاؤ (یہ ہٹ دھرم نہ مانے ہیں نہ مانیں گے ۔ اگران میں ہدایت کی قابلیت ہوتی) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ہدایت پر جمع کردیتا (اور وہ سب مسلمان ہوجاتے ۔ مگر خدا تو حکیم ہے جو کرتا ہے حکمت سے کرتا ہے) (اے مخاطب! لوگو!) تم (ان) نادانوں میں سے ہرگز نہ بنو۔
(35) If their indifference [disregard] weighs heavily on you, then if you are able to seek a tunnel in the earth or a ladder into the sky so as to bring them a sign [do so, but even then] — these stubborn people will not believe, and will not believe. [Had they had the capacity for guidance,] and had Allah willed, He would have gathered them all on guidance [and they would all have become Muslims — but Allah acts with wisdom in all He does]. (O addressee! O people!) Do not at all be of the ignorant.
إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ ۘ وَالْمَوْتَىٰ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(۳۶) مانتے تو وہی ہیں جو سنتے اور کان رکھتے ہیں (یہ سنے ہی کب ہیں یہ مردہ دل ہیں) اور (مردوں کو زندہ کرنا خدا ہی کا کام ہے) اللہ ہی مردوں کو جِلا سکتا ہے (اور ان مردہ دلوں کو ہدایت کرسکتا ہے) پھر اُسی کی طرف یہ سب لوٹائے جائیں گے (اس وقت حق و باطل ظاہر ہوگا، پیغمبر کے نہ مانے کی برائی ظاہر ہوگی)۔
(36) Only those respond who listen [and have ears to hear] — but these are dead-hearted and have never listened. And [it is Allah alone who revives the dead, and] Allah will raise the dead, then they will be returned to Him [at that time truth and falsehood will become manifest, and the evil of rejecting the Prophet ﷺ will be exposed].
وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ ۚ قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَن يُنَزِّلَ آيَةً وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
(۳۷) اور (ان معترضین نے) کہا ، کیوں ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی آیت نہیں اتاری گئی (حالانکہ ایک آیت کے بعد دوسری آیت اتاری جارہی ہے مگر ان کی فرمایش کا سلسلہ ختم ہی نہیں ہوتا) ۔ تم کہو اللہ ایک اور نشانی کے ظاہر کرنے پر بھی قادر ہے (وہ ایک اور آیت بھی اتار سکتا ہے) مگر ان میں کے اکثر نادان ہیں (ان کو یقین ہی نہیں ہوتا) ۔
(37) And [these objectors] said: 'Why has no great sign been sent down upon him from his Lord?' [Yet a sign is continuously being revealed one after another, and their demands never end.] Say: 'Allah is capable of bringing forth yet another sign [He can send down yet another verse], but most of them are ignorant [they will not believe regardless].'
مِن شَيْءٍ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ
میں کوئی کوتاہی نہیں کی (مگر یہ سب کب کھلے گا؟) جب وہ اپنے رب کی طرف حشر کئے جائیں گے (قیامت ہوگی تو آنکھوں پر سے پردہ اٹھے گا اور صحیح بات سمجھ میں آجائے گی) ۔
— [We have left out] nothing. But when will all this be revealed? When they are gathered before their Lord [at the Resurrection, the veil will be lifted from their eyes and the truth will become clear].
وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ ۗ مَن يَشَإِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(۳۹) اور جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں (ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں) وہ بہرے اور گونگے ہیں (وہ) اندھیریوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ رہنے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ راست پر لاتا ہے ۔ (مگر کرتا وہی ہے، وہی قدیر بھی ہے حکیم بھی ہے)۔
(39) And those who deny Our signs [reject Our portents] are deaf and dumb, lost in darknesses. Whom Allah wills, He leaves astray, and whom He wills, He places on the straight path. [Yet He does what He does, and He is all-powerful as well as all-wise].
قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
(۴۰) تم کہہ دو، ذرا بتاؤ (ذرا بولو) اگرتم پر اللہ کا عذاب آپڑے یا بری گھڑی (یا موت کی ساعت یا قیامت کا وقت) آجائے تو تم اللہ کے سوا کس کو پکارو گے؟ سچے ہو تو بتاؤ۔
(40) Say: 'Tell me [speak up] — if the punishment of Allah should come upon you, or the dreadful hour [the moment of death, or the time of Resurrection] should arrive, would you call upon anyone other than Allah? Tell me if you are truthful.'
بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ
(۴۱) بلکہ اسی کو پکارو گے، پھر اگر وہ چاہے تو جس مصیبت کے دفع کرنے کے لیے تم پکار رہے ہو اس کو دفع کردے اور جن کو تم خدا کا شریک بناتے تھے تم ان کو بھول جاؤ گے ۔
(41) Rather, it is Him alone you will call upon; then if He wills, He removes the affliction for the removal of which you were calling upon Him, and those you set up as partners with Allah — you will forget them entirely.
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُم بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ
(۴۲) اور ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف اپنے پیغمبر بھیجے اور ان کو کشتی اور ضرر بھی دیا تاکہ (دربار الٰہی میں) تضرع و زاری کریں (اظہار عجز و نیاز کریں، توبہ کریں)۔
(42) And We sent messengers to nations before you, then We seized them with hardship and harm so that they might humble themselves [before the divine court, express their helplessness and neediness, and repent].
فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(۴۳) تو کیوں ایسا نہیں ہوا کہ جب ان کو کشتی ہوئی تو (توبہ کرتے) ۔ تضرع وزاری کرتے ۔ مگر ان کے دل توسخت ہوگئے ہیں اور شیطان نے ان کی بد اعمالیوں کو ان کے لیے خوشنما بنا کر تیار کیا ہے ۔
(43) Then why, when Our punishment reached them, did they not humble themselves [repent]? But their hearts had hardened, and Satan had made their evil deeds alluring and appealing to them.
فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ
(۴۴) جب کہ انہیں جس کی یاد دہانی کی گئی تھی (پند و نصیحت کی گئی تھی) وہ بھول گئے (اور اس پر کوئی دھیان نہیں دیا) تو ہم نے ان کے سامنے ہم نے ہرقسم (کی عیش وعشرت) کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ جب وہ خوش خوش ہوئے (اور جو کچھ ان کو دیا گیا تھا ، اس سے مالامال ہوگئے) تو ہم نے وفعتاً ان کو پکڑلیا (گرفتار کرلیا) اور وہ اس وقت مایوس تھے۔
(44) Then when they forgot what they had been reminded of [and paid no heed to the admonition and counsel], We opened before them the doors of every [luxury and pleasure], until when they became merry [and were filled to the brim with what they had been given], We seized them suddenly [took them into Our grip], and they were then in utter despair.
فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا ۚ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
(۴۵) پھر تو ظالم قوم کی جڑ کٹ دی گئی اور تعریف کا مستحق تو اللہ ہی ہے جو رب العالمین ہے ۔
(45) Then the very root of the wrongdoing people was cut off, and all praise belongs to Allah who is the Lord of all the worlds.
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ مَّنْ إِلَٰهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِهِ ۗ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ
(۴۶) تم کہہ دو ! کبھی تم نے اس بات پر غور بھی کیا ، اگر اللہ تمہاری سماعت اور بصارت لے لے (اورتم کو اندھا اور بہرا بنادے) اور تمہارے دلوں پر مہر کردے (کوئی معبود) اللہ کے سواے (ذکور) کون تم کو پھر سماعت، بصارت، مہر توڑے، دے ۔ دیکھو ! ہم کس کس طرح سے اپنی آیتوں کو بیان کرتے ہیں (کرکے کسی طرح بھی سمجھ جائیں) مگر وہ اعراض ہی کرتے ہیں (اور کچھ بھی توجہ نہیں کرتے) ۔
(46) Say: 'Have you ever reflected — if Allah were to take away your hearing and sight and seal your hearts, is there any god other than Allah who could restore these to you?' Look how We set forth Our signs in varied ways [so that they might understand somehow], yet they turn away [and pay no heed whatsoever].
قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الظَّالِمُونَ
(۴۷) تم کہو، ذرا بتا دو، اگرتمہارے پاس خدا کا عذاب دفعتاً یا ظاہر آجائے تو کیا ظالموں کے سواء کوئی اور بھی ہلاک ہوگا؟ (ہرگزنہیں، ظالم ہی تباہ ہوں گے)۔
(47) Say: 'Tell me — if the punishment of Allah comes upon you suddenly or openly, will anyone perish except the wrongdoing people? [Never — only the wrongdoers will be destroyed].'
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ ۖ فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
(۴۸) اور ہم رسول نہیں بھیجتے مگر بشارت دینے والے (خوش خبری سنانے والے) اور (نقصان دہ اور بری باتوں سے) خبردار کرنے والے ۔ پھر جو ایمان لائے اور اپنی اصلاح کرلی (اپنے اعمال درست کئے) تو ان پر کسی قسم کا ڈر وخوف ہے، نہ حزن و ملال ۔
(48) And We send messengers only as bearers of good tidings [bringers of glad news] and as warners [against harmful and evil things]. Then whoever believes and reforms himself [sets his deeds aright] — on such people shall be no fear, nor shall they grieve.
وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
(۴۹) اور جو لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ، ان کی نافرمانی (اور فسق و فجور) کی وجہ سے ان پر عذاب آجائے گا ۔
(49) And those who denied Our signs — the punishment will touch them on account of their disobedience [and wickedness and transgression].
قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ
(۵۰) (پیغمبر!) تم کہہ دو ۔ میں تم سے نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے (جس کو چاہوں دوں گا) میرے پاس ہیں اور میں یہ بھی نہیں کہتا کہ میں غیب جانتا ہوں (بلکہ میں آدمیوں میں سے ہوں ، آدی ہوں) مگر وحی الٰہی کا تابع ہوں (اس کے حکم پر چلتا ہوں) ۔ بتقیری بڑی بڑی چیز ہے) ۔ کیا نابینا دونوں برابر ہیں ؟ (کیا عالم و جاہل دونوں مساوی ہیں؟) ۔ کچھ تو سوچو، (یہ کیا بدتمیزی ہے) ۔
(50) (O Prophet!) Say: 'I do not tell you that the treasuries of Allah [to give to whomever I wish] are with me, nor do I claim to know the unseen [I am one of the humans, I am a man], but I follow divine revelation [I walk according to its commands — this discernment is a great thing indeed]. Are the blind and the seeing equal? [Are the learned and the ignorant equal?] Do think a little — [what utter rudeness is this]!'
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُم مِّن دُونِهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(۵۱) اور اس سے (ان کو قرآن ساتھ) خبردار کردو لوگوں کو جن کو اپنے رب (خدائے تعالیٰ) کے پاس حاضر ہونے کا خوف ہے اس سے سوا ان کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ سفارشی ، شاید کہ وہ تقوائی اختیار کریں (عذاب الٰہی سے بچیں ۔ یعنی جو لوگ حشر کے قابل ہیں ان کو سناؤ و پڑھو ۔ یہ تم ان کو سناد و کہ خدا کے ساتھ تمہارا کوئی دوست نہ سفارشی ۔ یہ تم ان کو سناد کہ شاید وہ تقوائی اختیار کریں ، متقی پرہیزگار بن جائیں) ۔
(51) And warn with it [the Qur'an] those who fear that they will be gathered before their Lord — they will have no protector nor intercessor apart from Him — so that they may adopt taqwā [guard themselves from Allah's punishment — that is, recite it to those who are receptive; make them hear that they will have no friend or intercessor with Allah other than Him — so that perhaps they adopt taqwā and become the God-fearing, the pious].
وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِم مِّن شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ
(۵۲) اور (اے پیارے نبی!) اپنے پاس سے ان لوگوں کو جو اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں (اس سے دعائیں کرتے ہیں) ہمیشہ رات دن صبح و شام (ان کا مقصد کیا ہے؟) صرف خدا کی رضا جوئی کے لیے ، نہ تم کو ان کی جوابدہی کرنی ہوگی نہ ان کو تمہاری جوابدہی کرنی ہوگی ۔ ان (غریبوں) کو اپنے پاس سے نکال دو ، (اگرتم ایسا کروگے) تو (بھی) ظالموں میں سے ہوجاؤ گے ۔
(52) And (O beloved Prophet!) do not drive away from your presence those who call upon their Lord [supplicate Him] always night and day, morning and evening — [what is their purpose?] Solely to seek the pleasure of Allah. You will not be accountable for them, nor they for you. If you were to drive these [poor people] away from your presence [were you to do such a thing], you would become one of the wrongdoers.
وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولُوا أَهَٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا ۗ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ
(۵۳) اور ہم نے اسی طرح ایک دوسرے کا امتحان لیا تاکہ وہ کہیں کہ کیا وہی لوگ ہیں جن کا دعوٰی ہے کہ ہمارے میں سے (پسند کر، انتخاب کرکے) اللہ نے ان کو اپنا فضل و کرم کیا ہے (حالانکہ نہ ان کے پاس مال ہے، نہ ان کا اچھا حال ہے، بھئی) ۔ کیا خدا شکرگزاروں کو نہیں جانتا؟
(53) And thus We tested some of them through others, so that they would say: 'Are these the ones upon whom Allah has bestowed His favour from among us [chosen and selected]?' [Though they have neither wealth nor good standing!] Is Allah not well aware of the grateful ones?
وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۖ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(۵۴) اور جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو (اے نبی کریم!) تم ان سے کہو (السلام علیکم) ۔ تمہارے پروردگار نے اپنے آپ پر رحم لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں سے ناداانگی میں کوئی برا کام کربیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اپنے تمام کاموں کو درست کرلے تو اللہ غفور و رحیم ہے ۔
(54) And when those come to you who believe in Our signs, say [O noble Prophet!]: 'Peace be upon you [Al-salāmu ʿalaykum].' Your Lord has made mercy obligatory upon Himself — that whoever among you commits an evil deed out of ignorance, then repents afterwards and sets all his affairs aright, then truly Allah is Most Forgiving, Most Merciful.
وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ
(۵۵) اور ہم (اپنی نشانیاں) اپنی آیتیں اسی طرح باتفصیل بیان کرتے ہیں تاکہ مجرموں کا طریقہ واضح ہوجائے (اور مسلمان، مجرموں کے طور طریقہ سے احتراز کریں)۔
(55) And thus We set forth Our signs in detail, so that the path of the criminals may become clear [and the Muslims may keep themselves away from the ways and methods of the criminals].
قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۚ قُل لَّا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ ۙ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ
(۵۶) تم کہہ دو (پیارے پیغمبر!) تم کہہ دو مجھے اس کی ممانعت کی گئی ہے کہ خدا کو چھوڑ کر ان کی عبادت کروں جن کو تم پکارتے ہو ۔ (پیارے پیغمبر!) تم کہہ دو میں تمہارے ہواو ہوس کی اتباع نہیں کرسکتا ۔ اگر میں ایسا کروں تو میں یقیناً گمراہ ہوجاؤں گا (جاہ وضلالت میں گرجاؤں گا) ۔ (پیغمبر تو ہدایت یافتہ ہوتے ہیں) ۔ اگر میں ایسا کروں تو میں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہوں گا ۔
(56) Say (O beloved Prophet!): 'I am forbidden to worship those you call upon besides Allah.' Say: 'I cannot follow your desires and passions. If I were to do so, I would certainly go astray [fall into error and misguidance] — [Prophets are guided ones]. If I were to do such a thing, I would no longer be among the guided ones.'
مَا عِندِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ ۚ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَاصِلِينَ
جس کے لیے تم جلدی کررہے ہو (وہ عذاب) میرے ہاتھ میں نہیں ۔ (ایسا) حکم تو صرف خدا کے پاس ہے ۔ وہ جو کچھ بیان فرماتا ہے حق ہے اور (جو فیصلہ کرنے والا ہے، بہتر) وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔
That [punishment] which you are hastening [the punishment] is not in my hands. The decision belongs to Allah alone. He tells the truth in all He declares, and He is the best of those who decide.
قُل لَّوْ أَنَّ عِندِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِيَ الْأَمْرُ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۗ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ
(۵۸) (اے پیغمبر!) تم کہو ''اگر میرے ہاتھ میں وہ ہوتا جس کی تم جلت طلب کررہے ہو (وہ عذاب ہوتا)'' جس کی تم جلدی کررہے ہو تو تم اور میرے درمیان میں فیصلہ ہوچکا ہوتا (اب تک تم نابود ہوچکے ہوتے) اور اللہ (ان) ظالموں کو خوب جانتا ہے ۔
(58) (O Prophet!) Say: 'If that which you are hastening [the punishment] were in my hands, the matter between me and you would have already been decided [by now you would have been annihilated].' And Allah knows the wrongdoers very well.
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
(۵۹) اور اس کے (اللہ کے) پاس غیب کی کنجیاں ہیں (غیب کے خزانے ہیں) ان کو اللہ کے سواے کوئی نہیں جانتا (یعنی بالذات، خودبخود) اور تری خشکی اور ترتی اور خشک جو کچھ ہے اس کو بھی جانتا ہے ۔ کوئی پتا نہیں گرتا (نہیں جھڑتا) مگر اس کا علم خدا کو ہے ۔ زمین کی تاریکیوں میں ایک دانہ بھی رہتا ہے اور ترو خشک جو کچھ ہے ، سب ایک روشن کتاب میں ہے ، سب (علم الٰہی میں ہے ، لوح محفوظ میں ، عالم مثال میں ہے) ۔
(59) And with Him [Allah] are the keys of the unseen [the treasuries of the unseen] — no one knows them except Allah [independently, by virtue of Himself]. And He knows whatever is in the land and the sea. Not a leaf falls [not a leaf drops] but He knows it. There is not a grain in the darknesses of the earth, nor anything moist or dry, but it is in a clear Book [it is all in the divine knowledge, in the Preserved Tablet, in the realm of archetypes].
وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(۶۰) اور وہی تو ہے جو رات کو تم کو پورا پورا لے لیتا ہے (تم کو تمام کام تمام کرتا ہے) اور دن میں تم جو کچھ کرتے ہو اس کو جانتا ہے ۔ پھرتم کو دن میں اٹھاتا ہے (جگا دیتا ہے) تاکہ معینہ وقت پورا ہوجائے اور پھر اُسی کی طرف تمہاری واپسی ہے (اس کے دربار میں جانا ہے) پھر وہ (جلادے گا اور) تم کو خبردار کردے گا ان اعمال سے کہ تم کرتے تھے ۔
(60) And He it is who gathers you fully in the night [concludes all your affairs], and He knows whatever you do during the day. Then He raises you up [awakens you] in the daytime so that the appointed term may be fulfilled. Then to Him is your return [you must appear before His court], and then He will [resurrect you and] inform you of all that you used to do.
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ
(۶۱) اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ، اورتم پر محافظ اور نگران کار بھیجتا ہے ۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آتا ہے (آتے ہوئے) فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں اور (اتثال حکم الٰہی میں) کہتا ہی نہیں کرتے (ذکی کو مارنے سے ڈرتے ہیں ، نہ رحم کھا کر کسی کو چھوڑتے ہیں) ۔
(61) And He is the Dominant over His servants, and He sends guardian-watchers over you, until when the time of death of any one of you arrives, [the coming] angels take his soul, and [in executing Allah's command] they do not fall short at all [they neither fear killing the noble one, nor spare anyone out of pity].
ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۚ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ
(۶۲) پھر وہ (جو لوگ مرگئے ہیں) خدا کے دربار میں حاضر کئے جائیں گے جو ان کا مالک اور برحق آقا ہے دیکھو ، فیصلہ کرنا اُسی کے ہاتھ میں ہے (مرنے کے بعد کچھ مہلت نہ لے گی) اور یہ سرعت تمام حساب لینے والا ہے (جو مرگیا اس کی قیامت برپا ہوگئی)۔
(62) Then they [those who have died] are returned before Allah, their true Master and rightful Lord. Know that the decision is in His hands alone [after death, not a moment's respite will be given], and He is the swiftest of reckoners [for whoever has died, their personal Day of Judgment has already come].
قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ هَٰذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ
(۶۳) (اے نبی!) تم کہو ، کون تم کو نجات دے گا بروبحر کی تاریکیوں سے (خشکی وتری کی آفات) سے ہر طرح کی آفتوں سے جبکہ تم دعائیں گڑگڑا کر اور چھپ کر کرتے ہو اور چکے چکے ہو ''اگر ہم کو (اللہ) ان (آفات) سے نجات دے گا تو ہم شکرگزاروں میں سے ہوجائیں گے''۔
(63) (O Prophet!) Say: 'Who delivers you from the darknesses of land and sea [the calamities of dry land and water, every kind of affliction], when you call upon Him humbly and in secret, having already said [under your breath]: "If Allah delivers us from these [afflictions], we will surely be of the grateful ones"?'
قُلِ اللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ
(۶۴) تم کہہ دو ، اللہ تم کو نجات دے گا اس (آفت) سے اور ہر بے چینی سے اور ہر بے چینی سے پھر بھی تم شرک کرتے ہو ۔
(64) Say: 'Allah delivers you from it [the affliction] and from every anguish — yet even then you continue to commit shirk [associate partners with Allah].'
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَىٰ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ ۗ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ
(۶۵) تم کہہ دو ، وہی اس بات پر بھی قادر ہے کہ تم پر اوپر سے یا تمہارے پیروں تلے سے عذاب بھیجے یا تم کو ٹولیاں بنادے اور بعض کو بعض سے لڑائی کا مزہ چکھادے ۔ دیکھو ہم کس طرح آیتوں کو مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں ، سمجھیں ۔
(65) Say: 'He has the power to send punishment upon you from above you or from beneath your feet, or to divide you into factions and make some of you taste the ferocity of others.' Look how We set forth the signs in various ways so that they may ponder and understand.
وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ ۚ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ
(۶۶) اور تمہاری قوم نے اس کی (قرآن کو) جھٹلایا ، پھر جھٹلایا (حالانکہ) وہ حق تھا ۔ تم کہو (تمہارا ذمہ دار نہیں) تمہارے منوانے کا کوئی کام میں نہیں ہوں ۔
(66) And your people denied it [the Qur'an], again and again denied it, though it was the truth. Say: 'I am not a guardian over you [it is not my responsibility to make you believe].'
لِكُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ ۚ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(۶۷) ہر بات اپنے وقت پر ہوکر رہی گی (وہ عذاب بھی آئے گا) اور پیش کوئی بھی چیز ثابت ہوجائے گی (اور اس بات کے حق ہونے کا تم کو قریب انقریب جان لوگے (اور اس کے حق ہونے کا تم کو کام ہوکر رہے گا)۔
(67) Every matter has its appointed time [that punishment will also come], and every matter will be established — and you will come to know very soon [the truth of this will become clear to you, and its truth will be decisively realized].
وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
(۶۸) اور جب (اے خاطب) تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں لگتی چھیڑتی (اور خواہ خواہ اعتراضات کی مار بار کرتے ہیں) تو تم ان سے اعراض کرو (ان کے پاس سے چل جاؤ) یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں لگ جائیں (اور تم سے غافلت ہوجائیں اورتم شیطان سے بھول میں آئیں (اور تم کو یاد آنے کے بعد) کے بعد ان ظالموں کے پاس نہ بیٹھو ۔
(68) And when (O addressee!) you see those who indulge in mockery [and make needless objections] against Our signs, then turn away from them [leave their company] until they engage in other conversation. And if Satan causes you to forget [and after remembering], do not sit with those wrongdoing people [after you have remembered].
وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ وَلَٰكِن ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(۶۹) اور متقیوں (اور پرہیزگاروں) پر ان (ظالموں) کی جوابدہی واجب نہیں ہوگی ۔ مگر (ان کا کام ہے) نصیحت اور یاد دہانی تاکہ وہ بھی متقی ہوجائیں (پرہیزگار بن جائیں)۔
(69) And the God-fearing [and the pious] will not bear any accountability for those [wrongdoers]. But [their duty is] admonition and reminding, so that they [the wrongdoers] may also become God-fearing [and join the ranks of the pious].
عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَا ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا ۖ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ
چاہیے (تاوان دینا چاہیے ، جرمانہ دینا چاہیے) تو ہرگز نہ لیا جائے گا ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی بدکاریوں کی وجہ سے سختی میں پڑے ہیں ۔ ان کو پینے کے لیے کھولتا پانی ملے گا اور ان کے کفر کی وجہ سے عذاب الیم ہوگا ۔
kind of compensation were offered [ransom or fine], it would not be accepted from it. These are they who are seized [in a trap] on account of their evil deeds. For them shall be a drink of scalding water, and a painful punishment because of their disbelief.
قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۖ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
(۷۱) تم پوچھو ، تم پوچھو ، کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ایسیوں کو پکاریں جو (ان کے ہاتھ میں خیر ہے نہ شر) نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان ، اور (کیا) ہم اللہ کی ہدایت ملنے کے بعد اُلٹے پاؤں (پیچھے) لوٹ جائیں (خول بیانی نے) جیسے کہ ''اگر ہم کو (اللہ) سے نجات دے گا تو ہم شکرگزاروں میں سے ہوجائیں گے'' (شیطان نے) جو شخص ایسے کسی کے پاس راہ ہدایت آ (پلٹ کر ہدایت یافتہ ہوجا) ۔ تم کہو ، خدا ہی کی ہدایت ہے اصل ہدایت ، اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم رب العالمین کے فرمان برودار ہوجائیں ۔
(71) Say: 'Shall we call upon, instead of Allah, those who can neither benefit us nor harm us [in whose hands is neither good nor evil], and shall we turn back on our heels after Allah has guided us — like the one whom the devils have lured away, wandering bewildered in the earth, whose companions call out to him toward the guidance: "Come to us"?' Say: 'The guidance of Allah — that is the true guidance, and we have been commanded to submit to the Lord of all the worlds.'
وَأَن تُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَاتَّقُوهُ ۚ وَهُوَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
(۷۲) اور پابندی و درستی سے نماز پڑھیں اور تقوائی اختیار کریں ۔ اور وہی تو ہے جس کی طرف حشر ہوگا (اسی کے پاس تم سمیٹے جاؤ گے)۔
(72) And that you establish the prayer [diligently and correctly] and adopt taqwā. And He it is toward whom you will be gathered [assembled before Him].
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ ۚ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۚ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ ۚ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
(۷۳) اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو درست طریقے پر (قیامت کے دن) بنایا اور اس دن (قیامت کے دن) جو چیز فرمائے گا ، بس وہ ہوجائے گی ، اس کا قول برحق ہے (اس کی بادشاہت ہے) اور اسی کی قدرت ہے (قیامت میں) جس دن صور پھونکا جائے گا ۔ (لوگوں کی ظاہری حکومت نہ رہے گی) وہ غیب اور شہادت دونوں کو جانتا ہے (ظاہر اور پوشیدہ سب اس کا کام ہے) اور وہی حکیم خبیر ہے (جو کرتا ہے جان بوجھ کر کرتا ہے اور مناسب کرتا ہے)۔
(73) And He it is who created the heavens and the earth in due measure, and on the Day [of Resurrection], when He says 'Be!' — it shall be. His word is the absolute truth, and sovereignty belongs to Him on the Day when the Trumpet is blown [people's outward authority will be no more]. He knows the unseen and the witnessed [the hidden and the manifest are all His domain], and He is the All-Wise, the All-Aware [He does all He does with full knowledge and in proper measure].
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(۷۴) اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا ، کیا تم بتوں کو خدا مانتے ہو (اپنا معبود سمجھتے ہو) ؟ میں تو تم کو اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں ۔
(74) And remember when Ibrahim said to his father Āzar: 'Do you take idols as gods [as your objects of worship]? I see you and your people in manifest misguidance.'
وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ
(۷۵) اور ہم اسی طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی دکھاتے ہیں تاکہ وہ (دیکھ کر) کامل یقین والوں (یعنی یقین ، یعین الیقین) میں سے ہوجائے ۔
(75) And thus We showed Ibrahim the kingdom of the heavens and the earth so that he might become one of those with complete certainty [that is, certain knowledge, the very eye of certainty].
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ
(۷۶) پھر جب رات کی اندھیری ان پر چھا گئی ایک روشن تارے کو دیکھا (یایک جگلی ملاحظہ کیا) ، کہا کیا یہ میرا رب ہوسکتا ہے ؟ (کیا یہ میرا رب ہے) پھر جب وہ ڈوب گیا (غروب ہوگیا) میں کہا ، میں غروب ہونے والوں کو پسند نہیں ۔
(76) Then when the darkness of the night covered him, he saw a bright star [observed it for a moment], and said: 'Could this be my Lord? [Is this my Lord?]' Then when it set [disappeared], he said: 'I do not love those that set.'
فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ
(۷۷) پھر جب چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے ؟ پھر جب وہ (چاند بھی) چھپ گیا (غروب بھی ہوگیا) تو کہا اگر میرا رب ہدایت نہ کرے تو البتہ میں لوگوں میں سے گمراہ لوگوں میں سے ہوجاؤں گا ۔
(77) Then when he saw the moon rising, he said: 'Is this my Lord?' Then when it [the moon] too set [disappeared], he said: 'If my Lord does not guide me, I will surely be among the people who are astray.'
فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَا أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
(۷۸) پھر جب (ابراہیم نے) آفتاب کو روشن دیکھا تو فرمایا یہ میرا رب ہے ؟ یہ بڑا ہے ۔ جب وہ (آفتاب بھی) غروب ہوگیا تو فرمایا اے میری قوم ! میں اُن تمام چیزوں سے بری ہوں جن کو تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو ۔
(78) Then when [Ibrahim] saw the sun rising, he said: 'Is this my Lord? This one is bigger.' When it [the sun] too set, he said: 'O my people! I am free [I disassociate myself] from all the things you set up as partners with Allah.'
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۚ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(۷۹) میں نے اپنا رُخ (ایک دل و یک زبان) ہوکر اس (پروردگار) کی طرف کردیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو (خدا سے) شرک کرتے ہیں ۔
(79) I have turned my face [with one heart and one tongue] toward the One who created the heavens and the earth — as a ḥanīf [one who turns away from all falsehood toward Allah alone] — and I am not one of those who associate partners with [Allah].
وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ ۚ قَالَ أَتُحَاجُّونِي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِ ۚ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا ۗ وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۗ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
(۸۰) (ابراہیم سے) ان کی قوم نے بے کار جھیلیں کیں ، (ابراہیم علیہ السلام نے) کہا ، کیا تم اللہ کے متعلق مجھ سے سچ بازی کرتے ہو ، حالانکہ اس نے مجھے سمجھ راستہ بتایا ہے ۔ میں (تمہارے ان معبودوں سے) جن سے تم شرک کرتے ہو ہرگز نہیں ڈرتا ، الاّ یہ کہ میرا رب کچھ چاہے ۔ میرا رب سب کچھ بہت جانتا ہے (اس کا علم وسیع ہے) ۔ کیا تم (ابھی تک) نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟
(80) His people argued with [Ibrahim] — [Ibrahim ʿalayhi al-salām] said: 'Do you argue with me about Allah, when He has already guided me? I have no fear at all of those [idols] you associate as partners with Him, unless my Lord should will something. My Lord's knowledge encompasses everything [His knowledge is vast]. Will you not even now take heed?'
وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا ۚ فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
(۸۱) بھلا میں (ماسوا اللہ سے) جن کو تم خدا کا شریک بناتے ہو کیوں ڈروں حالانکہ تم اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہو (اس نے) جس کے متعلق (اس بت پرستی بت پرستی) کوئی سند تم پر نہیں اتاری (تمہاری بت پرستی کا کوئی سند نہیں) تو پھر (ہم اور تم) ان دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ امن کے قابل ہے (ہم بے فکر ہیں یا تم) ؟ اگرتم اس بات کو جانتے ہو تو بتاؤ ۔
(81) Why should I fear those [besides Allah] whom you set up as partners with Him, when you associate partners with Allah for whom He has sent down no authority [no proof or sanction for your idol-worship] — so which of the two parties is more deserving of security [are we worry-free or are you?]? Tell me if you know.
الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ
(۸۲) جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم عظیم (یعنی شرک) سے آلودہ نہیں کیا ، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں ۔
(82) Those who believe and have not mixed their faith with great wrongdoing [namely shirk — associating partners with Allah] — those are the ones for whom there is security, and they are the rightly guided.
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
(۸۳) اور یہ ہماری حجت ہے ، (دلیل ہے) اسے ہم نے ابراہیم کو دیا تاکہ وہ اپنی قوم کے مقابل پیش کریں ہم جسے چاہتے ہیں اس کے درجے بلند کرتے ہیں ، (عالی مرتبہ بناتے ہیں) ۔ بے شک آپ کا رب حکیم علیم ہے (جو کرتا ہے جان بوجھ کر کرتا ہے اور مناسب کرتا ہے)۔
(83) And this is Our argument — We gave it to Ibrahim so that he might present it against his people. We raise in degrees whomever We will [make whomever We will exalted in rank]. Indeed, your Lord is All-Wise, All-Knowing [He does all He does with full awareness and in proper measure].
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۚ وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَارُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
(۸۴) اور ہم نے اسے (ابراہیم کو ایک بیٹا) اسحاق اور (ایک پوتا) یعقوب عطا کیا ۔ ہم نے ان سب کو ہدایت (پیغمبری) سے سرفراز کیا ۔ اور ابراہیم سے پہلے ہم نے نوح کو سرفراز کیا تھا (پیغمبری دی) ۔ (ابراہیم کی) اولاد میں سے ہم نے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں (بدلہ دیتے ہیں)۔
(84) And We gave him [Ibrahim] Isḥāq [as a son] and Yaʿqūb [as a grandson], and We guided all of them [bestowed prophethood upon them]. And before Ibrahim, We had guided [honoured with prophethood] Nūḥ. And from [Ibrahim's] descendants, We guided Dāwūd, Sulaymān, Ayyūb, Yūsuf, Mūsā, and Hārūn — and thus do We reward those who do good [We give recompense to the righteous].
وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ
(۸۵) (اور ہم نے نبوت و ہدایت سے سرفراز کیا) زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو اور یہ سب نیک ہیں ۔
(85) [And We honoured with prophethood and guidance] Zakariyyā, Yaḥyā, ʿĪsā, and Ilyās — all of them were of the righteous.
وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا ۚ وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ
(۸۶) اور اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی (ہم نے نبوت و ہدایت سے سرفراز کیا) اور ہم نے ان میں سے ہر ایک کو ان کے زمانے کے لوگوں کے لیے فضیلت دی ۔
(86) And [We also honoured with prophethood and guidance] Ismāʿīl, al-Yasaʿ, Yūnus, and Lūṭ — and each one of them We elevated in distinction above the people of their time.
وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ ۖ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(۸۷) اور ان کے آبا و اجداد میں سے اور ان کی اولاد کی میں سے اور ان کے بھائیوں میں سے (بھی کچھ کو نبوت و ہدایت دی) اور ان کو برگزیدہ کیا اور ان کو سیدھا راستہ بتایا ۔
(87) And from among their forefathers, and their descendants, and their brothers [We also gave some prophethood and guidance], and We chose them [as the elect] and guided them to the straight path.
ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(۸۸) یہ ہے اللہ کی ہدایت ، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (ہدایت اور رہنمائی کرتا ہے) اس پر چلاتا ہے اور اگر وہ شرک کرتے تو جو کچھ وہ نیک کام کرتے تھے وہ سب ضائع اور اکارت ہوجاتے ۔
(88) This is the guidance of Allah — He makes whomever He wills of His servants walk upon it, and if they had committed shirk, all the good deeds they used to perform would have been nullified and rendered void.
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ۚ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَٰؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ
(۸۹) یہی وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور (شریعت) اور حکومت اور نبوت عطا کی ۔ پھر اگر یہ لوگ (ان ذکورہ امور کو) نہ مانیں (اور انکار کریں) تو ہم نے اس کے لیے ایسے لوگوں کو مقرر کیا جو (جزوں) کے مکر نہیں ہیں ۔
(89) These are the ones to whom We gave the Book, governance [law and authority], and prophethood. If these people [the ones mentioned] deny and reject [those things], then We have appointed for it a people who are not disbelievers in them.
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَالَمِينَ
(۹۰) یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ۔ (ان کے قدم پر چلو) ان کی ہدایت کی اتباع کرو (اے رسول کریم!) تم کہہ دو (تم سے اس پر کچھ بھی) میں تم سے اس سے کوئی بدلہ نہیں مانگتا (کچھ بدلہ نہیں چاہتا) ۔ یہ تو (سب کے لیے پند و نصیحت ہے) ساری دنیا کے لیے چند و نصیحت ہے ۔
(90) These are those whom Allah has guided — follow their guidance [walk in their footsteps]. (O noble Messenger!) Say: 'I ask no reward from you for this [I desire nothing in return]. It is nothing but admonition and counsel for all the worlds.'
وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ ۗ قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَىٰ نُورًا وَهُدًى لِّلنَّاسِ ۖ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا ۖ وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوا أَنتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ
(۹۱) ان لوگوں نے اللہ کی قدر جیسی قدر کرنی چاہیے تھی نہیں کی جب کہ انہوں نے کہا خدا نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا (یہ سب من گھڑت باتیں ہیں) ۔ (اے پیغمبر!) تم (ان سے پوچھو) وہ کتاب کس نے اتاری جس کو موسیٰ لائے تھے ، جو لوگوں کے لیے (نور) روشنی اور ہدایت تھی ، جس کو تم نے (کتاب میں لگانے کے لیے) پریشاں بناکر رکھے ہیں اور تم میں سے بعض کو ظاہر کرتے ہو اور بہت سے حصوں کو چھپاتے ہو اور (اس کتاب کے ذریعہ سے) ان باتوں کا علم دیا گیا جن کو تم نے تمہارے باپ دادا ۔ (پیغمبر!) تم اللہ کہو (تم کہو اللہ ہی نے دیا ہے) پھر ان کو ان کی دھوکہ سازی بازیوں میں چھوڑ دو (وہ جو چاہیں ہیں فائدہ اٹھائیں کریں) ۔
(91) They did not give Allah the regard He is truly due when they said: 'Allah has sent nothing down upon any human being [all of this is invented].' (O Prophet!) Ask them: 'Who sent down the Book that Mūsā brought, which was a light [illumination] and guidance for people — which you have turned into scattered pieces [separate pages], displaying some parts and concealing many others, and through which you were taught things that neither you nor your forefathers knew?' (O Prophet!) Say: 'Allah [it was Allah who gave it],' then leave them to play about in their false games [let them pursue whatever benefit they wish].
وَهَٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا ۚ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ
(۹۲) یہ مبارک کتاب ہے جس کو ہم نے اتارا ہے ، وہ اگلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور تاکہ آپ اہل مکہ کے اطراف کے لوگوں کو (ڈرائیں) نقصان رسالوں سے ڈرائیں اور جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں (وہ قرآن کو بھی مانتے ہیں) اس پر ایمان رکھتے ہیں اور وہی لوگ اپنی (دعاؤ) نماز کے پابندی بھی ہیں (کیونکہ بری باتوں کی طرف سے روکتی ہے)۔
(92) And this is a blessed Book that We have sent down, confirming what was before it, so that you may warn the people of Umm al-Qurā [Makkah] and those around it. Those who believe in the Hereafter believe in it [the Qur'an] and maintain their prayers diligently [for the prayer keeps one away from evil things].
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَا أَنزَلَ اللَّهُ ۗ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمْ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ
(۹۳) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا ؟ جو خدا پر جھوٹ باندھے ، یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس کو کچھ بھی وحی نہیں آئی ، یا وہ ہو جو کہے کہ جیسا کلام خدا نے اتارا ویسا کلام اتار سکتا ہوں ۔ (ان ظالموں کا کیا حال ہوگا) تم بھی دیکھتے جب ظالم موت کی سکرات میں (اور اس کی سکرات میں ہوتے ہیں) اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلا رہے ہیں (اور کہہ رہے ہیں) اپنی روح نکالو ، آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا ، کیونکہ تم خدا پر جھوٹ بولتے تھے اور اس کی آیتوں کی سرکشی سے انکار کرتے تھے ۔ (اورتم اپنے آپ کو بہت بڑا اورتکبر کرتے تھے) ۔
(93) And who is more unjust than one who fabricates a lie against Allah, or says 'Revelation comes to me' when nothing has been revealed to him, or says 'I too can bring down something like what Allah has revealed'? [What will the state of these wrongdoers be?] If only you could see when the wrongdoers are in the agonies of death, and the angels stretch forth their hands [saying]: 'Yield up your souls! Today you will be given the punishment of humiliation because you used to say falsehood against Allah and turned away from His signs with arrogance [and you used to consider yourselves great and behave with pride].'
وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ ۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ ۚ لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ
(۹۴) اور اب تم ہمارے پاس اکیلے آئے ہو ، جس طرح ہم نے تم کو پہلی مرتبہ تم کو (اکیلا) پیدا کیا تھا اور تم نے جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا وہ (ساتھ پشت) چھوڑ آئے ، (ساتھ نہیں آئی) اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو نہیں دیکھتے جن کے بارے میں تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے شریک ہیں ۔ جن کو تم خدا کا شریک ٹھہراتے تھے ۔ (اب تمہارے) درمیان کوئی تعلقات باقی نہ رہے (ہر ایک کو اپنی پڑی ہے ، کوئی کسی کا نہیں) اور تمہارے سارے خیالات غلط نکلے (تمہارے رزم بے جائے ہوگئے)۔
(94) And now you have come before Us alone, just as We created you the first time [alone], and you have left behind everything We had given you [it did not come with you], and We do not see with you your intercessors — those about whom you imagined that they were partners [in divinity with Allah]. Now [all] connections between you have been severed [each one is concerned only with himself, no one belongs to another], and all your suppositions have turned out to be wrong [your claims have gone up in smoke].
إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَىٰ ۖ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ
(۹۵) بے شک اللہ دانہ اور گٹھلی میں سے موکے نکالتا ہے (درخت بناتا ہے) ۔ کیا تم بھی ایسا کرسکتے ہو؟ ہرگزنہیں ۔ وہ جاندار سے بے جان جاندار (پیدا کرتا) ہے (کیا تم بھی ایسا کرسکتے ہو؟) ۔ (لوگو!) اللہ تو ایسا ہی ہے (اس طرح اپنی قدرت کے جلوے دکھاتا ہے) پھر تم کدھر (کس طرح) بھٹک رہے ہو ؟
(95) Indeed, Allah splits the grain and the date-stone [and brings out a tree from them]. Can you do such a thing? Never! He brings out the living from the dead and the dead from the living. [O people!] Such is Allah [He manifests His power in this way] — so then where are you wandering astray?
فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(۹۶) وہ صبح کو نمودار کرتا ہے اور رات کو باعث آرام بنایا ہے اور شمس و قمر کو حساب کے لیے پیدا کیا ہے ۔ یہ باعزت اور علم والے خدا کا اندازہ ہے (اس کے خلاف کوئی کرسکتا، جس کا خلاف ہرگزنہیں ہوسکتا)۔
(96) He is the Cleaver of the dawn, and He made the night a means of rest, and the sun and moon for reckoning [for calculation of time]. This is the measure [the decree] of the Mighty, the All-Knowing — [no one can alter it, and it can never be changed].
وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(۹۷) اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنائے تاکہ تم ان سے خشکی اور تری کی ظلمتوں میں راہ پاؤ (اور سفر کرسکو) ہم نے اپنی آیتیں تفصیل وار بیان کردیں (کن کے لیے) اہل علم کے لیے ۔
(97) And He it is who made the stars for you so that you might be guided by them in the darknesses of land and sea [and travel safely]. We have set forth Our signs in detail [for whom?] — for the people of knowledge.
وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ
(۹۸) اور وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (دیکھو) وہی ہے جس نے (نشو ونما دی) ٹھیرنے کی جگہ (تمہارا مقام بھی یکم حکم زمین ہے) اور سپرد ہونے کی جگہ (تمہارے ساتھ بھی یکم حکم زمین کے ساتھ) بنایا ۔ پیدا ہونے سے (اپنی نشانیاں) آیتیں بیان کردیں ، (مگر کن کے لیے؟) ان کے لیے جو سوچتے ہیں ، (غور وفکر کرتے ہیں) ۔
(98) And He it is who produced you from a single soul — [observe] He appointed a resting place [your abode is the earth by one decree] and a repository [your entrusting place is also in keeping with the earth]. We have set forth Our signs in detail [but for whom?] — for people who reflect [who ponder and think deeply].
فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۗ انظُرُوا إِلَىٰ ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
اس میں سے ہم نے ہری ہری پالیں نکالیں اور جن سے دانوں کے ڈھیر کے ڈھیر نکالتے ہیں ، خوب کھجور کے درخت کے گابے میں سے دانے نزدیک نزدیک (اور جن کے پچھوں میں بکثرت دانے ہیں ، خوب کھجور لگے ہوئے) ہیں ۔ (ہم اس سے) باغ لگاتے ہیں ، انگور ، زیتون اور انار کے ، بعض ملتے چلتے ہیں ، بعض ملتے چلتے نہیں ۔ جب پھل پڑتا ہے تو اس کو (پھول کو دیکھو) اور اس کے پکنے کو دیکھو (کہ یہ سب انسانی قدرت سے باہر ہیں) ۔ بے شک ان میں (خدا کی) نشانیاں ہیں (آثار رحمت کے وقت ہیں ، مگر) کے لیے جن کے دل میں ایمان ہے ۔
We brought forth from it fresh green [shoots] from which We bring out grains piled in layers; and from the palm tree from its spathe, clusters hanging low [and laden abundantly with dates] — and gardens of grapes, olives, and pomegranates, similar [to one another] and dissimilar. Look at its fruit when it fruits, and then at its ripening [all of this is beyond human power]. Indeed, in these are signs [portents of divine mercy] — but only for those who believe.
وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ ۖ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ
(۱۰۰) اور انہوں نے (ان نادانوں نے) جنات کو خدا کا شریک (بندے اور) مخلوق ہیں اور خدا کے لیے بیٹا اور بیٹی بھی کوڑ لیے ہیں (بے علمی اور بغیر جانے سمجھے) ۔ یہ ان کی بے علمی کا نتیجہ ہے (کہ نہ جانتے ہیں نہ پہنچتے ہیں) ان کی واہی جانی بیان سے خدائے تعالیٰ برتر و اعلیٰ ہے ۔
(100) And they [those ignorant ones] set the jinn as partners of Allah — though they are [merely Allah's] servants and creatures — and they have falsely attributed sons and daughters to Him [out of ignorance and without knowledge]. This is the consequence of their ignorance [they neither know nor comprehend]. Allah the Exalted is far above and beyond their false and worthless descriptions.
بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
(۱۰۱) بغیر نمونے کے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ۔ بھلا اس کی اولاد کیسے ہوگی (اور کہاں سے ہوگی؟) اس کی بیوی تو تھی نہیں (خلوق کیونکر اولاد بن سکتی ہے، یا بیوی یا بیوی) اس نے تو سب کچھ پیدا کیا ہے (اس لیے اولاد بھی خلوق ہے پیدا ہوئی ہے) ، وہ ہر شے کے بارے میں جانتا ہے ۔
(101) The Originator of the heavens and the earth [without any prior model] — how could He have a child? He had no spouse [how could a creature become an offspring, or a wife or a consort?]. He created everything [so all creatures, including the supposed offspring, are created beings] — and He has full knowledge of all things.
ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ
(۱۰۲) یہ ہے اللہ تمہارا رب ۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ ہر شے کا خالق ہے ۔ لہذا اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر ایک کا کارساز (اور نگہبان) ہے ۔
(102) Such is Allah, your Lord. There is no god but He, the Creator of all things. So worship Him alone, and He is the Guardian [the Protector] over all things.
لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
(۱۰۳) (لوگوں کی) آنکھیں اس کا ادراک اور احاطہ نہیں کرسکتیں اور وہ لوگوں کی آنکھوں کا ادراک کرتا ہے اور وہ باریک سے باریک بات کو جانتا ہے ۔ (لطیف سے جانتا ہے) ہر شے سے واقف ہے ۔
(103) Eyes cannot perceive or encompass Him, but He perceives all eyes [all vision]. And He is the Most Subtle [He is the knower of the finest details, knowing with the subtlest awareness] — the All-Aware of all things.
قَدْ جَاءَكُم بَصَائِرُ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ
(۱۰۴) دیکھو تمہارے پروردگار کی طرف سے (کافی بصیرت افروز) پانچ چکے ہیں ۔ اب جو کوئی دیکھے اور سمجھے تو اس کا فائدہ خود اسی کو پہنچے گا اور جو بن گیا ہے (نابینا ہوگیا) تو اس کا نقصان خود اسی کو پہنچے گا (اس کا وبال کس پر پڑے گا؟ خوداسی پر) ۔ اور میں (کہ زبردستی تم کو راہ راست پر لاؤں، ایسا) تمہارا حافظ و نگہبان نہیں ہوں (تم کو چھوڑتا ہوں، چاہیے سدھرو ۔ میرا کام سمجھانا ہے، چاہیے سدھرو) ۔
(104) Clear insights [illuminating evidences] from your Lord have come to you. Now whoever sees and understands, its benefit reaches himself alone; and whoever has become blind [remained sightless] — the harm falls upon himself alone [whose burden will it be? His own]. And I am not your guardian-keeper [to compel you onto the right path — I leave you to it; if you wish, reform yourselves. My task is to make things clear — if you wish, reform yourselves].
وَكَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
(۱۰۵) اور ہم اسی طرح پھیر پھیر کر آیتوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ کہ سب کچھ سنا تا چکے (جو کچھ سنا تا چکے) اور تاکہ ہم بیان کردیں اس کو جاننے والے لوگوں کے لیے ۔
(105) And thus We turn over and over the signs [repeating them in various ways] so that everything has been conveyed [all that needed to be said has been said], and so that We make it clear for the people of knowledge.
اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ
(۱۰۶) تمہارے رب کی طرف سے جو وحی (ذریعہ) تمہاری طرف آتی ہے تم اس کی اتباع کرو (اسی پر چلو، اسی پر عمل کرو) (کوئی عبادت نہیں) اس کے سوا کوئی معبود نہیں (کوئی عبادت کے لائق نہیں) اور (ان) مشرکوں سے رو گردانی کرو (اب ان کی طرف نہ کرو ، ان کی باتیں سننے کی قابلیت ہی نہیں ، ان میں ان حق باتیں سننے کی قابلیت ہی نہیں پیدا ہوگی) ۔
(106) Follow what has been revealed to you from your Lord — there is no god but He — and turn away from the polytheists [pay no attention to them now; they have no capacity to listen to the truth, nor will the capacity for receiving these truths ever be produced in them].
وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكُوا ۗ وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(۱۰۷) اور اگر خدا چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے (تمہارا کام تبلیغ تھا اور تم نے اس کو ادا کردیا) اور ہم نے تم کو ان کا محافظ نہیں بنایا اور تم ان کے کاموں کے (جواب دہ اور) ذمہ دار نہیں ہو ۔
(107) And had Allah willed, they would not have committed shirk [your task was to deliver the message and you have fulfilled it]. And We have not made you a guardian over them, and you are not a guardian responsible for their affairs.
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ كَذَٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(۱۰۸) (مسلمانو!) یہ مشرکین جو خدا کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں ، ان کے بتوں کو گالیاں نہ دو (سب و شتم نہ کرو) کہ کہیں جواب میں جہالت سے آکر (اپنی طرف سے) خدا کو گالیاں دینے لگیں ۔ ہم نے یوں ہی ہر گروہ کی نظروں میں (ان کے نقصانات فطرت کی وجہ سے) ان کے عمل کو (اچھا) مزین کردکھایا (اچھا کہدھر جاتا ہے) پھر ان کو اپنے رب کے پاس جانا ہوگا (اس کے دربار میں حاضر ہونا پڑے گا) ۔ وہ سب کو جانتا ہے پھر وہ ان کو بتادے گا کہ وہ کیا کرتے تھے (اور ان کی بد اعمالیوں کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا) ۔
(108) (O Muslims!) Do not revile those deities which the polytheists call upon besides Allah [do not abuse and insult them], lest in retaliation, out of ignorance, they begin to revile Allah. Thus have We made the deeds of every group appear pleasing to them [due to the deficiencies of their nature] — then they must return to their Lord [they will have to appear before His court]. He knows all, and He will then inform them of what they used to do [and they will have to bear the consequences of their evil deeds].
وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ
(۱۰۹) (یہ مشکر لوگ) بڑی جدوجہد سے (بڑی کوشش سے) اللہ کی بڑی سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی آیت یا نشانی آ جائے تو وہ ضرور ایمان لائیں گے ۔ (اے پیغمبر!) تم کہہ دو ، (اورنشانیاں) تو اللہ کے پاس ہی ہیں اور (اے مسلمانو!) تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ آیت اور نشانی آ بھی جائے تو یہ کبھی ایمان نہ لائیں گے ۔
(109) These polytheists swear by Allah most solemnly [with great effort and exertion], saying that if a sign came to them they would certainly believe. (O Prophet!) Say: 'Signs are with Allah alone.' And [O Muslims!] you well know that even if a sign and portent were to come, these people would never believe.
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
(۱۱۰) اور (ان کی فطرت اور طبیعت کی خرابی کی وجہ سے) ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو حق سے پھرے ہوئے ہی رکھیں گے جیسا کہ وہ پہلی دفعہ ایمان نہ لائے ۔ اب بھی اس پر ایمان نہ لائیں گے ۔ (اب بھی ایمان نہ لائیں گے) اور ہم ان کو ان کی طغیانی میں (ہرشی میں) بھٹکتا چھوڑ دیں گے ۔
(110) And [due to the corruption of their nature and temperament], We will keep their hearts and eyes turned away from the truth, just as they did not believe the first time — they will still not believe [they will still not believe] — and We will leave them to wander blindly in their insolence and transgression.
وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ
(۱۱۱) اور اگر ہم ان پر فرشتے نازل بھی کرتے اور ان سے مردے بھی باتیں کرتے اور ہم تمام چیزوں کو لاکر ان کے سامنے جمع بھی کردیتے تو وہ ایمان لانے والے نہیں تھے مگر یہ کہ خدا ہی چاہتا ، مگران میں کے اکثر تو جاہل ہی ہیں ۔
(111) And even if We had sent down angels to them, and the dead had spoken to them, and We had gathered all things before them — they would still not have believed, unless Allah willed — but most of them are just ignorant.
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۚ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
(۱۱۲) اور اسی طرح ہم نے ہر ایک نبی کے لیے جن و انس کے شیطانوں میں سے کوئی نہ کوئی دشمن مقرر کیا جو بعض بعض کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں (بھکاتے ہیں) بالکل دھوکے اور ملمع سازی کی باتیں کرتے ہیں ۔ اور اگر تمہارا رب چاہتا تو وہ یہ نہ کرتے لہذا ان کو اور ان کی افترا پردازیوں کو چھوڑو ۔ (تمہارا کام سمجھانا اور تبلیغ کرنا ہے)۔
(112) And thus have We appointed for every prophet enemies from among the devils of humankind and jinn, who whisper vain and deceptive words to one another in order to deceive [they deceive and gloss things over with complete falsehood]. And had your Lord willed, they would not have done it — so leave them and their fabrications [your task is to explain and convey the message].
وَلِتَصْغَىٰ إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ
(۱۱۳) اور تاکہ اس کی طرف ان کے دل مائل رہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور تاکہ اس پر راضی رہیں (پسند کریں) اور وہی کرتے رہیں (غلط کاریاں اور گناہ جو وہ کررہے ہیں) ۔ (اور یاد دہانی کرکے چلے جائیں)۔
(113) So that the hearts of those who do not believe in the Hereafter may incline toward it [the deception], and may be pleased with it [approve of it], and may go on committing what they have been committing [evil deeds and sins] — [and then reminding yourself, move on].
أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا ۚ وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنزَلٌ مِّن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
(۱۱۴) کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کا ثالث (فیصل) بناؤں ، حالانکہ وہی ہے (اللہ ہی ہے) جس نے تمہاری طرف کتاب واضح اور تفصیل وار نازل فرمائی ۔ اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ کتاب آپ کے ساتھ تمہارے پروردگار کے پاس سے اتاری ہوئی ہے ۔ لہذا دیکھو ! تم شک اور جھگڑا کرنے والوں میں سے نہ بنو ۔
(114) Shall I seek a judge [arbiter] other than Allah, when it is He [Allah] who has sent down to you the Book, clear and detailed? And those whom We have given the Book know well that it is sent down from your Lord with the truth. So look — do not be of those who doubt and dispute.
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(۱۱۵) تمہارے رب کا کلام (اور اس کے احکام) سب کامل ، بالکل صداقت اور عدالت پر مبنی ہیں ، یہی اس کے اقوال اور احکام کو کوئی بدل نہیں سکتا ۔ وہی سننے والا (دوبارہ کیا جانے گا) ۔
(115) The word of your Lord [and all His commands] is complete, founded on perfect truth and justice — no one can change His words and decrees. He is the All-Hearing, the All-Knowing.
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ
(۱۱۶) اور اگرتم زمین میں (دنیاوالوں میں) سے اکثر لوگوں کی باتیں مان لیا کرو تو وہ تم کو راہ خدا سے پھیر دیں گے (تم کو گمراہ کردیں گے) ۔ یہ صرف گمان (فاسد) پر چلتے ہیں ۔ یہ تو محض قیاس لڑایا کرتے ہیں ۔ (واہی تباہی خیالات پاتے ہیں) ان کی ساری باتیں اصل سے دور ہیں ۔ بے اصل باتیں ہیں ۔
(116) And if you were to obey most of those on earth [the majority of worldly people], they would lead you astray from the path of Allah. They follow nothing but vain conjecture [corrupt assumptions] — they merely speculate [reason by mere guess]. Their words are all far from the truth — they are baseless sayings.
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
(۱۱۷) بے شک آپ کا رب ہی خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک کر جارہا ہے اور کون راست راہ پر چل رہے ہیں ۔
(117) Indeed, your Lord knows best who wanders astray from His path, and He knows best those who are rightly guided.
فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ
(۱۱۸) پس جس (جانور) پر اللہ کا نام لیا گیا ہے ، (یعنی بسم اللہ بول کر ذبح کیا گیا ہے) کھاؤ اگرتم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو ، (اس کے احکام کو مانتے ہو) ۔
(118) So eat of that upon which Allah's name has been pronounced [that is, which has been slaughtered with 'Bismillah'], if you indeed believe in His signs [and accept His commands].
وَمَالَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ
(۱۱۹) اورتمہارے پاس کیا وجہ ہے (کیا دلیل ہے) کہ تم نہ کھاؤ اس جانور کو جو نام خدا پر ذبح کیا گیا ہے حالانکہ جو چیز تم پر حرام کی گئی ہے اس کی تفصیل ہمارے سامنے بیان کردی گئی ہے ، الاّ یہ کہ یعنی ناجائز ہضرار کی حالت میں (ناجائز اضطرار کی حالات میں جائز ہوجاتا ہے) اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے ہواؤ سے (بلا سچ کے) لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے حدود سے تجاوز کرنے والوں کو ۔
(119) And what reason do you have [what argument do you have] for not eating of that animal upon which Allah's name has been pronounced, when the details of what is forbidden to you have already been made clear to you [set before us all], except in cases of genuine dire necessity [in cases of genuine compulsion, what is forbidden becomes permissible]? And indeed many people lead others astray through their desires without any knowledge. Your Lord knows best those who transgress the limits.
وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ
اور کھلے چھپے گناہ چھوڑو ۔ جو لوگ گناہ کرتے ہیں ان کو عنقریب اپنے کئے کی سزا ملے گی ۔
And leave open and hidden sin. Those who commit sin will soon be recompensed for what they used to earn.
وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ ۗ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
اور جس (جانور) پر (ذبح کے وقت) بسم اللہ نہ کہا گیا ہو اس کو تم ہرگز نہ کھاؤ ۔ یہ تو بڑا گناہ ہے اور (آدمی اور جن دونوں میں کے) شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں تا کہ وہ تم سے لڑیں (جھگ و جدل کریں) ۔ اگر تم نے ان کی اطاعت کی (ان کا کہا مان لیا) تو تم بھی مشرک ہوجاؤ گے ۔
And do not eat of that over which the name of Allah has not been mentioned (at the time of slaughter) — that is indeed a transgression. And the devils (from among both humans and jinn) inspire their friends (to come and argue with you), so that they may dispute with you [pick a quarrel]. If you obey them, you will indeed be polytheists.
أَوَ مَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
کیا وہ شخص جو مُردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا (بے علم تھا ہم نے اس کو علم دیا) اور اس کے لئے ہم نے ایسا نور دیا جس کو لے کر وہ لوگوں میں چلتا ہے ، اس شخص کے جیسا ہو سکتا ہے جو ظلمتوں میں پڑا ہے (اس کے اطراف تاریکی ہی تاریکی ہے) جس سے وہ نہیں نکلتا ۔ ایسے ہی ، کافروں کو ان کے اعمال مزین اور اچھے دکھائے گئے ہیں ۔
Can one who was dead and We gave him life [he was without knowledge and We gave him knowledge], and for whom We provided a light by which he walks among people, be like one whose likeness is to be in darkness from which he cannot emerge? Thus are the deeds of the disbelievers made to seem fair to them.
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
اور اسی طرح ہم نے ہر شہر میں اس کے مجرمین کے سردار بنائے ہیں کہ اس میں مکر پھیلائیں (جھوٹ کا جال پھیلائیں) مگر یہ (حقیقت میں) اپنے آپ سے مکر کرتے رہتے ہیں ۔ (اور اس فریب کاری کا اثر خود ان پر پڑتا ہے) مگر ان کو اس کا شعور نہیں (احساس نہیں) ۔
And thus We have placed in every city its greatest criminals to scheme therein. But they scheme only against themselves and do not perceive it. [And the effect of this deception falls on themselves,] but they have no awareness of it.
وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ ۘ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ۗ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِندَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ
اور جب ان کے پاس آیت (کوئی نشانی، کوئی معجزہ) پہنچتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہم کو بھی ویسی چیز نہ ملے جو اللہ کے رسولوں کو ملی ۔ اللہ خوب جانتا ہے جہاں اس کی نبوّت کی قائم رکھنی ہو ۔ (اور جو حقیقی قابلیت بھی رکھتا ہو) ۔ عنقریب ان مجرموں کو خدا کے پاس سے ذلّت و خواری پہنچے گی اور ان حیلہ بازیوں کی وجہ سے سخت عذاب ہوگا ۔
And when a sign (any miracle) comes to them they say: We will never believe until we are given the same as what the messengers of Allah were given. Allah knows best where He places His prophethood [and who truly possesses the qualification for it]. Those who have committed crimes will soon be afflicted with humiliation and disgrace from Allah, and a severe punishment because of their scheming.
فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ
پھر جس کو اللہ ہدایت کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے ۔ اور جس کو گمراہ رکھنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کردیتا ہے (کہ سانس رہا ہے مگر نئی زندگی حاصل نہیں) ۔ گویا کہ بلندی پر چڑھ رہا ہے ۔ اسی طرح اللہ ان پر جو ایمان نہیں لاتے لعنت اور عذاب بھیجتا ہے (عذاب نازل کرتا ہے) جو ایمان نہیں لاتے ۔
So whomever Allah wills to guide, He expands his breast for Islam. And whomever He wills to leave astray, He makes his breast tight and constricted [he keeps breathing but gains no new life] — as if he were climbing up into the sky. Thus Allah places filth [punishment] upon those who do not believe.
وَهَٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ
اور یہ تمہارے رب کا سیدھا راستہ ہے (اور مرطّا مستقیم ہے) ۔ ہم نے ساری آیتیں (تمام نشانیاں، تمام دلائل) نہایت توضیح سے نصیحت پذیر لوگوں کے سامنے بیان کردیں ۔
And this is the straight path of your Lord [and a level, upright way]. We have detailed the signs clearly for people who take heed.
لَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِندَ رَبِّهِمْ ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
ان کے (نیک) اعمال کی وجہ سے ان کے رب کے پاس جنت ہے (ان کا آنا ہے) ۔ جنت ہے (جس میں سلامتی ہی سلامتی ہے ۔ کسی تکلیف کا درد، کدر پریشانی نہیں) ۔
For them is the Abode of Peace with their Lord. And He is their guardian because of what they used to do. [The Abode of Peace — the Garden in which there is only peace and well-being, no pain, grief or worry.]
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُم مِّنَ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ
اور اس دن جب اللہ ان سب کا حشر کرے گا (اللہ فرمائے گا) اے جنوں کی قوم تم نے بہت سے آدمیوں کو اپنا بنالیا تھا (اور فرمائے گا) اور ان کے آدمیوں میں سے دوست کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے تھا
And the Day He gathers them all together [Allah will say]: O assembly of jinn! You have misled many of mankind. And their allies among humankind will say: Our Lord, we each benefited from the other.
وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
اور اسی طرح ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض کی ہم دوستی کراتے ہیں (ظالم و ستم پرست اور) ظالموں میں بعض کی بعض کے ساتھ ، ان کے اعمال کی وجہ سے ۔
And thus We make some of the wrongdoers allies of others because of what they used to earn.
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ
اے جنوں اور انسانوں کے گروہ ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے جو تمہیں میری آیتیں سناتے رہے اور اس دن کے آنے سے تم کو ڈراتے رہے ؟ وہ کہیں گے :۔ '' ہم نے اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہیں '' اور دنیوی زندگی نے انہیں دھوکے میں رکھا تھا اور انہوں نے اپنے خود مان لیا کہ وہ کافر تھے (کافر تھے) ۔
O assembly of jinn and humankind! Did there not come to you messengers from among yourselves, reciting My signs to you and warning you of the meeting of this Day of yours? They will say: We bear witness against ourselves. And worldly life had deceived them, and they will testify against themselves that they were disbelievers.
ذَٰلِكَ أَن لَّمْ يَكُن رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَىٰ بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَافِلُونَ
یہ اس لئے کہ تمہارا رب کسی شہر کو ان کے ظلم کی وجہ سے ہلاک اور برباد کرنے والا نہیں ہے بحالیکہ اس کے لوگ غفلت میں پڑے ہوں ۔
That is because your Lord would not destroy the towns for their wrongdoing while their people were unaware [i.e., without first sending a messenger].
وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ
اور ہر شخص کے اعمال کا لحاظ سے ایک درجہ ہے ۔ ان کے اعمال سے تمہارا پروردگار غافل نہیں ۔
And for all are degrees [of reward and punishment] according to what they did. And your Lord is not unaware of what they do.
وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِكُم مَّا يَشَاءُ كَمَا أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ
اور آپ کا رب غنی بھی ہے اور رحیم بھی ہے ۔ چاہے تو تم (لوگوں) کو فنا کردے اور تمہارے بعد (کسی اور قوم کو) جس طرح (اس سے پہلے) دوسری قوم کی اولاد سے تم کو پیدا کیا ۔
And your Lord is Self-Sufficient, Full of Mercy. If He wills, He can remove you and put in your place after you whomever He wills — just as He produced you from the descendants of another people.
إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ ۖ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ
جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (یعنی خدا کا وعدہ) بے شک پورا ہونے والا ہے (جو فرمارہا ہے وہ ہوکر رہے گا) اور تم اس کے حکم کو روک نہیں سکتے ۔
Indeed, what you are promised is coming, and you are not able to frustrate [His decree].
قُل يَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ ۗ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
تم کہو لوگو ! تم اپنی جگہ (اپنی حیثیت حسب) اپنا کام کئے جاؤ ، میں اپنا کام کئے جاتا ہوں ۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کی آخرت اچھی ہوتی ہے (کس کا گھر آباد رہتا ہے) ۔ بے شک ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے (اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوتے ۔ ناکامی ان کی سیدھی راہ ہوتی ہے) ۔
Say: O my people, act according to your position [according to your capability]. I too am acting. You will soon come to know who will have the good outcome [whose home remains prosperous]. Indeed, the wrongdoers will not succeed [they will not attain their goals — failure is their straight path].
وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَائِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَائِهِمْ ۗ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
اور (دیکھو! خدا نے) جو کچھ کھیتی اور موشیٰ میں سے پیدا کیا ہے ان لوگوں نے ان میں ایک ایک حصہ خدا کے لئے ٹھہرایا ہے ۔ پھر اپنے زعم باطل کے مطابق (کہتے ہیں) یہ خدا کا ہے اور یہ ہمارے شریکاؤ کا ہے (خدا کا) ۔ پھر جو ان کے شریکوں (خدا کا) کا حصہ ہوتا ہے تو وہ خدا کو نہیں پہنچتا اور جو خدا کے لئے ہے (خدا کا) کے لئے وہ ان کے شریکوں (خدا کا) کو پہنچتا ہے ۔ کیا ہی برا ہے جو یہ حکم کرتے ہیں (یہ سب وہابیات اور اصل احکام ہیں) ۔
They assign to Allah, from the crops and livestock He created, a share, saying by their false claim: This is for Allah, and this is for our partners [associates]. But what is assigned to their partners does not reach Allah, and what is assigned to Allah reaches their partners. Evil is what they judge [all of this is fabrication and contrary to the original rulings].
وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
اور اسی طرح ان کے شریکوں (شیطانوں) نے ، ان (بیچاریوں) نے (اپنے تابع) بہت سے مشرکوں کو اولاد کو قتل کو بڑے ثواب کا کام دکھلایا ، تا کہ ان کو تباہ کریں اور ان کے دین کو مشتبہ اور ناقابل اعتبار بنادیں اور اگر خدا چاہتا تو ایسا نہ کرتے اور اب ان کو چھوڑو اور (ان کے) ڈھکوسلوں کو ۔
Likewise, their partners [the devils] made the killing of their children seem beautiful to many of the polytheists, in order to ruin them and to confuse their religion for them. Had Allah willed, they would not have done so. So leave them and what they fabricate.
وَقَالُوا هَٰذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لَّا يَطْعَمُهَا إِلَّا مَن نَّشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاءً عَلَيْهِ ۚ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
اور (یہ بیچاری) کہتے ہیں ۔ (ان پادریوں کا خیال ہے) کہ یہ موشی اور کھیتی ممنوع ہیں (کوئی ان پر تصرف نہیں کرسکتا) ، نہ ان کو کوئی کھا سکتا ہے مگر جن کو ہم چاہیں (ان کا ایسا کہنا زعم باطل ہے) اور ایسے مویشی ہیں جن کی پشت پر سوار ہونا حرام کردیا گیا ہے اور ایسے مویشی بھی ہیں جن پر ذبح کے وقت خدا کا نام نہیں لیتے ۔ (اس کا ایسا کہنا) خدا پر (اس کے خلاف) افترا پردازی ہے ۔ عنقریب اللہ ان کو ان کی افترا پردازی کی سزا دے گا ۔
They say [these are the notions of their religious leaders]: These are livestock and crops that are forbidden — none may eat of them except whom we will, by their false claim. And there are animals whose backs are forbidden for riding, and animals over which they do not mention the name of Allah at slaughter — all as a fabrication against Him. He will soon recompense them for what they used to fabricate.
وَقَالُوا مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰ أَزْوَاجِنَا ۖ وَإِن يَكُن مَّيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
اور وہ کہتے ہیں : ان چار پایوں کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ ہمارے مردوں کے لئے خاص ہے اور ہماری بیویوں پر حرام ہے ۔ اور اگر کوئی مردہ ہو تو اس میں سب شریک ہیں (سب کے لئے جائز ہیں) ۔ عنقریب ان کو ان کے بے سروپاؤں کی سزا دے گا ۔ بے شک وہ حکیم ہے علیم ہے ۔
They say: What is in the bellies of these animals is exclusively for our males and forbidden to our wives. But if it is a stillborn, then all of them share in it [it is permissible for all]. He will soon requite them for their description [of things]. Indeed He is Wise, All-Knowing.
قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ
بے شک وہ لوگ خسارے میں پڑے جنہوں نے حقیقت سے (بیوقوفی سے) بے علمی سے اپنی اولاد کو قتل کردیا اور خود اللہ نے جو رزق دیا تھا اس کو حرام کردیا ، وہ بھی اللہ پر تہمت باندھ کر (بے اصل جھوٹ گُھڑ کر) ۔ وہ سب راہ گُم ہوگئے ۔ ان کی فطرت میں ہدایت میں بھی نہیں تھی ۔ (اور ان کی طبیعت کا اقتضاء سیدھا راستہ چلنا نہ تھا) ۔
Lost indeed are those who killed their children in foolishness and ignorance, and declared forbidden what Allah had provided them — as a fabrication against Allah. They have gone astray and were not guided [their nature did not incline toward the straight path].
وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ جَنَّاتٍ مَّعْرُوشَاتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَاتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۚ كُلُوا مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ۖ وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
اور وہی ہے جس نے باغ پیدا کئے ، چھتری دار اور بے چھتری اور درخت خرما اور زراعت (مختلف قسم کے) مختلف مزے کے اور زیتون اور انار (کے پھل) آپس میں آتے جاتے ۔ جب یہ درخت پھل لیں تو ان کے پھل کھاؤ اور کھیتی کے دن اس کا حق ادا کرو ۔ (سرکاری ٹیکس واجب الادا ہے تو ادا کرو ۔ غریب لوگ امداد کی امید پر کھیت کے پاس جمع ہوں گے ۔ تم ان کو ناامید واپس مت پھراؤ ۔ ان کو کوئی حق دے دو) ۔ مگر اسراف ہرگز نہ کرو ۔ (خود اپنے نام پر کچھ کھا کھاؤ ۔ خدا اپنے اور) اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں رکھتا ۔
And it is He who produced gardens with trellises and without trellises, date palms, crops of different flavors, olives and pomegranates — similar and dissimilar. Eat of its fruit when it ripens and give its due [zakāt and charity] on the day of its harvest [and do not send away the poor who gather at the field hoping for help]. But do not be wasteful — indeed He does not love the wasteful.
وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا ۚ كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
اور (اللہ نے) چوپایوں میں سے بعض بوجھ اٹھانے کے لئے اور بعض چھوٹی قسم کے (بیدا کئے) ۔ تم اس میں سے کھاؤ جو تم کو اللہ نے رزق دیا ہے اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو ، وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ (جس کو خدا نے حلال کیا ہے ، حلال سمجھو ۔ جس کو خدا نے حرام کیا ہے ، حرام سمجھو) ۔
And of the livestock He created, some for carrying loads and some small [for other uses]. Eat of what Allah has provided for you, and do not follow the footsteps of Satan — he is clearly your enemy. [What Allah has declared lawful, consider lawful; what He has declared forbidden, consider forbidden.]
ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۖ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ ۗ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنثَيَيْنِ ۖ نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
(اللہ نے) آٹھ قسم کے نر و مادہ (پیدا کئے) بھیڑ میں سے دو اور بکریوں میں سے دو ۔ اب تم ان سے پوچھو (اللہ نے) کیا نروں کو حرام کیا یا مادہ کو ۔ یا ان مادہ کے پیٹ کے بچّوں کو ۔ ذرا سوچ سمجھ کر مجھے بتاؤ ۔ اگر تم سچّے ہو ۔
Eight in pairs [Allah created] — two of sheep and two of goats. Say: Has He forbidden the two males or the two females or what is contained in the wombs of the two females? Tell me with knowledge, if you are truthful.
وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ ۗ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنثَيَيْنِ ۖ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ وَصَّاكُمُ اللَّهُ بِهَٰذَا ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
اور اونٹ سے بھی دو (نر و مادہ) اور گایوں سے بھی دو (نر و مادہ) ۔ اب تم ان سے پوچھو کیا (اللہ نے) نروں کو حرام کیا یا مادہ کو یا ان مادہ کو پیٹ میں کیا کیا ۔ یا جب اللہ نے تم کو ایسا حکم دیا کیا تم اس وقت اس کے پاس حاضر تھے ۔ (اے نبی کریم!) تم کہہ دو کہ اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے بے علم اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے ۔ (ہم کو تلایا مت دو ، سامنے سے کہہ دو ، تم محض وہم و گمان کی اتباع کرتے ہو اور تمہاری ساری باتیں بے اصل اور جھوٹ ہیں) ۔
And of the camels two and of the cattle two. Say: Has He forbidden the two males or the two females or what is contained in the wombs of the two females? Or were you present when Allah commanded you this? [O Prophet!] Say: Who is more unjust than one who fabricates a lie against Allah in order to lead people astray without knowledge? [Do not try to deceive us; say clearly: you follow nothing but conjecture and all your claims are baseless and false.] Indeed, Allah does not guide the wrongdoing people.
قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(اے رسول کریم!) تم کہہ دو : جن احکام میں مجھ پر وحی آئی ہے اس میں کوئی چیز اس حرام نہیں پاتا جو کھانے والے پر اس کا کھانا حرام ہو ۔ مگر یہ کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو کیونکہ یہ ناپاک ہیں نا پاک ہیں (ناپاک چیزیں) یا ان میں نالائق بات یہ ہو کہ (ذبح کے وقت) غیر خدا کا نام اس پر پکارا گیا ہو (وہ بھی حلاشیہ حرام ہے) ۔ اگر کوئی آدمی مجبور ہوجائے اور اس کا نافرمانی مقصود نہ ہو ، نہ ضرورت سے زیادہ ہو (بلکہ صرف جان بچانے کے لئے ان سے کچھ کھالے) تو بے شک تمہارا پروردگار غفور و رحیم ہے ۔ (مغفرت اور رحمت اس کا کام ہے) ۔
[O Prophet!] Say: I find not in what has been revealed to me anything forbidden to one who wishes to eat it, except it be dead meat, or blood poured forth, or the flesh of swine — for indeed it is an impurity — or an ungodly thing over which the name of other than Allah has been invoked [at slaughter, that too is unlawful]. But if someone is forced, neither desiring it nor transgressing [but eating only to preserve his life], then indeed your Lord is Forgiving, Merciful. [Forgiveness and mercy is His work.]
وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
اور ان پر جو یہودی ہیں ، ہم نے سب ناخن والے جانور اور گایوں اور بکریوں سے ہم نے ان پر چربی حرام کئے تھے اور بکریوں سے ہم نے ان پر ان کی چربی حرام کی تھی ، بجز اس کے جو ان کی پشت اور آنتوں پر لگی ہوئی ہو یا جو بڑی کے ساتھ ملی ہوئی ہو ۔ یہ بھی ہم نے ان کی بغاوت و شرارت کی سزا کی تھی اور یقیناً ہم سچے ہیں (اور صادق ہیں) ۔
And to those who are Jews We forbade every animal with claws, and of cattle and sheep We forbade them their fat, except what their backs carry or the intestines or what is mixed with bone. That was their recompense for their rebellion and transgression, and We are indeed truthful.
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ
پھر اگر وہ تمہاری تکذیب کریں تو تم کہو تمہارا رب بہت وسیع رحمت والا ہے اور اس کی سزا مجرم قوم سے دفع نہیں ہوسکتی (کسی کے ٹالے نہیں ٹلتی) ۔
Then if they deny you, say: Your Lord is Possessor of vast mercy, but His punishment cannot be averted from the criminal people [no one can deflect it].
سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن شَيْءٍ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ حَتَّىٰ ذَاقُوا بَأْسَنَا ۗ قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا ۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ
عنقریب مشرکین کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے ، اور نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے اور نہ ہم ازخود کسی کو حرام کرتے ۔ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے تکذیب کی جن کو پہلے سے ، یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا ۔ (اے نبی کریم!) تم کہہ دو کیا تمہارے پاس علم ہے تو لاؤ آگے ہمارے سامنے (ہم کو تلایا مت دو) تم تو محض وہم و گمان کی اتباع کرتے ہو اور تمہاری ساری باتیں بے اصل اور جھوٹ ہیں ۔
The polytheists will say: Had Allah willed, we would not have associated partners nor would our forefathers, nor would we have forbidden anything. Those before them denied likewise, until they tasted Our punishment. [O Prophet!] Say: Do you have any knowledge to bring forward for us? You follow nothing but conjecture and you are only guessing.
قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۖ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
تم کہہ دو اللہ کی حجت پوری ہے ، کامل ہے ۔ پھر اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت کردیتا ۔
Say: The conclusive proof belongs to Allah alone. Had He willed, He would have guided you all.
قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَا ۖ فَإِن شَهِدُوا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
(اے نبی کریم!) تم کہو ۔ آؤ تم اپنے گواہوں کو بلاؤ ، جو گواہی دیں کہ اللہ نے اس چیز کو حرام کیا ہے ۔ اگر وہ ایسی (جھوٹی گواہی) دیں (اور کہیں) تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور تم ان لوگوں کی خواہو اور ہواؤ کی اتباع نہ کرو جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں (اور ان کو جھٹلاتے ہیں) اور وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے (مرنے کے بعد باز پرس کے قائل نہیں) ۔ یہ لوگ (ان نہیں) اپنے رب کی برابری کرنے والے ہیں (آخرت نہیں مانتے) ۔
[O Prophet!] Say: Bring forward your witnesses who testify that Allah has forbidden this. If they testify [a false testimony], do not testify with them. And do not follow the desires and whims of those who deny Our signs [and give them the lie], and those who do not believe in the Hereafter [do not acknowledge accountability after death] — these people set up equals to their Lord.
قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۖ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(اے رسول کریم!) تم کہہ دو ۔ آؤ میں تم کو سنادوں ۔ آؤ تم کو کچھ تمہارے رب نے تم پر حرام کردیا ہے ۔ (اور وہ یہ ہے) کہ تم کسی کو خدا کا شریک نہ بناؤ ۔ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی اور تنگداری کی وجہ سے قتل نہ کرو ۔ ہم تم کو بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی ۔ اور طاہری اور باطنی ہر قسم کی بے حیائی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ ۔ جس نفس کے قتل کو اللہ نے حرام کیا ہے اس کو تم ناحق قتل نہ کرو ، مگر حق پر ۔ یہ وہ احکام ہیں جن کی خدا نے تم کو وصیت کی ہے (تم کو تاکیدی احکام دئے ہیں) تا کہ تم کچھ عقل لو ۔
[O Prophet!] Say: Come, I will recite to you what your Lord has forbidden you: that you associate nothing with Him; and [be] good to parents; and do not kill your children out of poverty — We provide for you and for them; and do not approach immoralities, what is apparent and what is concealed; and do not kill the soul which Allah has forbidden [to be killed] except by right. That is what He has instructed you with, so that you may use reason.
وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ
تم یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر احسن طریقے سے ۔ (یتیم کی خدمت کا معاوضہ اتنا ہی ہو جتنا مناسب ہو) ۔ اس کو نہ کہا جائے ۔ جب تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے ۔ اور ناپ تول کو انصاف کے مطابق لیں کرو ۔
And do not approach the property of an orphan except in the best way [the orphan's wages should be only as much as is appropriate; no more should be claimed], until he reaches maturity. And give full measure and weight with justice.
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اور بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے تم اسی کی اتباع کرو (اسی پر چلو) اور دیگر راستوں کی اتباع نہ کرو کہ وہ تم کو اس کے راستے سے بھٹکادیں گے (پریشان کردیں گے) ۔ یہ وہ (احکام) ہیں جن کی خدا نے وصیت کی ہے تا کہ تم متّقی اور پرہیزگار بنو ۔
And [know] that this is My straight path, so follow it. And do not follow other paths lest they scatter you from His path [and lead you astray and into confusion]. That is what He has instructed you with, so that you may be God-fearing and pious.
ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ تَمَامًا عَلَى الَّذِي أَحْسَنَ وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ
پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ۔ اس پر نعمت کا اتمام کرنے کے لئے جو نیک ہے اس کی یہ مکمل ہوجائے اور ہر چیز کی ضروری تفصیل اور ہدایت اور رحمت ، تا کہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں ۔
Then We gave Moses the Book — to complete [Our blessing] upon those who do good, and as a detailed explanation of all things, and as guidance and mercy — so that they might believe in the meeting with their Lord.
وَهَٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
اور یہ ایسی کتاب ہے جس کو ہم نے اتارا اور وہ برکت والی ہے لہذا اس کی اتباع کرو اور تقویٰ اختیار کرو ۔ (تا کہ تم پر رحم ممکن ہو) تا کہ تم پر رم ہوسکے ۔
And this is a blessed Book We have sent down. Follow it and be God-fearing, so that mercy may be shown to you.
أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ
ایسا نہ ہو کہ تم کہہ یٹھو کہ کتاب تو صرف ہم سے پہلے دو گروہوں پر اتاری گئی ۔ (یعنی یہود و نصاریٰ پر) ۔ یہ اسماعیلی خاندان کے لوگ ، یا عرب لوگ ، کتاب آسانی کے کیسے مستحق ہوگئے ۔ اگرچہ ہم ان کے پڑھنے سے غافل تھے ۔ (بے خبرتھے) ۔
Lest you say: The Book was revealed only to two groups before us [that is, the Jews and the Christians] — how then did a people of the Ismaeli family or the Arabs become deserving of the Book? — even though we were unaware of their studies [and had no knowledge of it].
أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۗ سَيُجْزَى الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ
یا تم یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے (یہود و نصاریٰ سے) زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے ۔ (اب بتاؤ) تمہارے رب کے پاس سے واضح دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی ہے ۔ پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے اللہ کی آیتوں کو تکذیب کیا اور ان سے اعراض کیا (روگردانی کی) ۔ عنقریب ہم بھی اپنی آیتوں سے اعراض کرنے والوں کو (ان کے نہ ماننے والوں کو) سخت اور برے عذاب کی سزا دیں گے ۔ (کیونکہ وہ روگردانی کرتے تھے اور مانتے نہ تھے) ۔
Or lest you say: If only a Book had been sent down to us, we would have been better guided than they [the Jews and Christians]. Now there has come to you a clear proof from your Lord, and guidance and mercy. So who is more unjust than one who denies the signs of Allah and turns away from them? Those who turn away from Our signs will soon be recompensed with an evil punishment because they used to turn away.
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ۗ قُلِ انتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ
(آخر کس چیز کا انتظار کررہے ہیں) ان کو کسی چیز کا انتظار نہیں ۔ مگر یہ کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا تمہارا رب آجائے یا تمہارے رب کی بعض نشانیاں آجائیں ۔ (مگر یاد رکھو) جس دن تمہارے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گا جو اس سے پیشتر ایمان لایا تھا یا اس نے ایمان میں کچھ نیکی کمائی تھی اس کا ایمان کام نہ آئے گا ۔ تم کہہ دو : تم بھی انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں ۔
What are they waiting for but that the angels should come to them, or your Lord should come, or some of the signs of your Lord should arrive? The Day when some of the signs of your Lord come, the faith of a person who did not believe before, or who earned no good through their faith, will not benefit them at all. Say: Wait — we too are waiting.
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
بے شک جنہوں نے دین میں فرقہ بندی پیدا کردی اور (ہیئا، ہیئا) فرقے ، فرقے بن گئے ، تم کو ان سے (کیا سروکار) ۔ ان کا کام اللہ کے حوالے ہے ۔ پھر وہی انہیں بتادے گا کہ وہ کیا کرتے تھے ۔
Indeed, those who have divided their religion and become sects — you have nothing to do with them. Their matter rests with Allah; He will then inform them of what they used to do.
مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
جو ایک نیکی کرے گا ، اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملے گا ، اور جو ایک گناہ کرے گا ، اس کو اتنا ہی عذاب ہوگا اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا ۔
Whoever comes with a good deed, for him is ten times its like. And whoever comes with an evil deed, he will not be recompensed except the like of it, and they will not be wronged.
قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۚ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
تم کہہ دو مجھے رب نے مجھے راہ راست کی ہدایت کردی ۔ (وہ کیا ہے؟) ملّت ابراہیمی ، سیدھا اور مستقیم دین ۔ ایک دل ، ایک زبان ہوکر (ہم موحّد ہیں ، ہمارے بزرگ موحّد تھے ، تمام بزرگوں کے سردار ابراہیم) وہ مشرکوں میں سے نہ تھے ۔
Say: My Lord has guided me to a straight path — a right religion, the creed of Abraham, inclining toward truth. And he was not of the polytheists [we are monotheists, our elders were monotheists, and the leader of all elders, Abraham, was not of the polytheists].
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
کہو ! یقیناً میری نماز ، میرے عبادات ، میرے عبادات جج ، میرا جینا اور مرنا ، سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔
Say: Indeed my prayer, my worship, my living and my dying are all for Allah, Lord of all the worlds.
لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ
جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم ہوا اور میں سب سے اول مسلمان ہوں (حکم بردار ہوں) ۔
He has no partner. That is what I have been commanded, and I am the first of the Muslims [those who submit].
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ۚ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
(اے رسول کریم!) تم کہہ دو : کیا میں اللہ کو چھوڑ کر اپنا رب تلاش کروں حالانکہ وہ سب کا رب ہے ۔ ہر شخص جو برائی کماتا ہے تو اپنے آپ پر ۔ ایک اپنا بوجھ دوسرے کو نہیں اٹھائے گا ۔ پھرتم اپنے رب کے دربار میں جانا ہوگا ۔ پھرتم کو وہ بتادے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے (ان چیزوں کو) جس میں تم اختلاف کرتے تھے ۔
[O Prophet!] Say: Shall I seek a lord other than Allah, when He is the Lord of all things? Every soul earns only against itself. No bearer of burden shall bear the burden of another. Then to your Lord is your return, and He will inform you of what you used to differ about.
وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۗ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
اور وہی ہے جس نے تم کو زمین کے خلیفہ بنایا اور بعض کے مرتبے بعض سے بلند کئے تا کہ تم کو جو کچھ دیا ہے اس میں تمہارا امتحان لے ۔ بے شک تمہارا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ غفور و رحیم بھی ہے ۔
And it is He who made you successors [vicegerents] on the earth and raised some of you above others in degrees, so that He might test you in what He has given you. Indeed, your Lord is swift in punishment, and indeed He is Most Forgiving, Most Merciful.