31. Luqmān
لقمن
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الم
(۱) اللہ اعلم بمرادہ ۔
(1) Allah knows best what is intended [by these letters].
تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ
(۲) یہ کتاب حکمت کی آیتیں ہیں ۔
(2) These are the verses of the Book of Wisdom.
هُدًى وَرَحْمَةً لِلْمُحْسِنِينَ
(۳) یہ نیکوکاروں کے لئے ہدایت و رحمت ہے ۔
(3) [This is] guidance and mercy for the doers of good.
الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ
(۴) جو ڈرتی اور پابندی سے نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ آخرت کا یقین بھی رکھتے ہیں ۔
(4) Those who establish the prayer with regularity and devotion, pay the zakāh, and firmly believe in the Hereafter.
أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(۵) یہ لوگ اپنے خدا کی ہدایت پر قائم ہیں اور یہی لوگ فلاح و بہبود پانے والے ۔
(5) These people stand upon the guidance of their Lord, and these are the ones who will attain salvation and prosperity.
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ
(۶) اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو دل لگی کی باتوں کے خریدار ہیں کہ باوجود بے علمی کے لوگوں کو راہ خدا سے گمراہ کریں اور اسی کو کھیل تھمگا بتالیں ۔ (ان کا مذاق کریں) اور انہی لوگوں کے لئے ذلت اور اہانت کا عذاب ۔
(6) And among people there are those who purchase idle talk [entertainment] in order to mislead people from the path of Allah without knowledge, and to take it [the path of Allah] as a mockery [to ridicule it]. Such people — for them is a humiliating punishment.
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ آيَاتُنَا وَلَّى مُسْتَكْبِرًا كَأَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْرًا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(۷) اور جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو تکبّر سے منہ پھیر لیتا ہے ۔ گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں ۔ اور گویا اس کے کانوں میں گرانی ہے (کم سنتا ہے) ۔ تو اس شخص کو عذاب الیم کی بشارت دو (اس کو درد ناک سزا مبارک ہو) ۔
(7) And when Our verses are recited to him, he turns away arrogantly, as though he did not hear them — as though there is heaviness in his ears (as if he is hard of hearing). So give him glad tidings of a painful punishment (let that painful punishment be his reward).
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ جَنَّاتُ النَّعِيمِ
(۸) بے شک جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں ان کے لئے نعمتوں سے بھری ہوئی جنتیں ہیں ۔
(8) Indeed, those who believe and do righteous deeds — for them are gardens filled with blessings.
خَالِدِينَ فِيهَا وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(۹) یہ لوگ جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے ۔ وہی عزت و حکمت والا ہے ۔
(9) They will dwell therein forever. This is the true promise of Allah, and He is the Mighty, the Wise.
خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ
(۱۰) (اللہ نے) آسمانوں کو بغیرستونوں کے پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین میں مضبوط پہاڑی قائم کئے کہ کہیں تم کو بھونچال نہ آئے ۔ (کہ کہیں وہ ڈانواں ڈول نہ ہوجائیں) اور اس میں ہرقسم کے جانور پھیلائے اور ہم نے آسمان سے بارش کی اور ہم نے زمین میں قسم قسم کے اچھے جبات پیدا کئے ۔
(10) [Allah] created the heavens without pillars as you can see, and placed firmly fixed mountains in the earth so that it does not shake with you (so that it does not become unstable), and dispersed therein every kind of creature. And We sent down water from the sky and caused every noble pair of plants to grow therein.
هَذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
(۱۱) یہ سب تو اللہ کی بنائی ہوئی چیزیں ہیں ۔ ذرا مجھے بتاؤ تو کہ خدا کے سوا کسی اور نے کیا بنایا ؟ بلکہ یہ ظالم واضح ضلالت و گمراہی میں گرفتار ہیں ۔
(11) All of this is Allah's creation. Tell me then, what have those besides Him created? Rather, these wrongdoers are in manifest error and misguidance.
وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ وَمَنْ يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ
(۱۲) اور ہم نے لقمان کو حکمت دی کہ اللہ کا شکر ادا کرو اور جو شکر کرے گا اس کے شکر کا فائدہ خود اس کو پنچے گا ۔ اور جو ناشکری کرے گا تو یقیناً اللہ بے پرواہ (مستغنی ہے) وہ لائق حمد و تعریف ہے ۔
(12) And indeed We gave Luqmān wisdom, [saying]: 'Give thanks to Allah.' Whoever gives thanks, his gratitude benefits only himself. And whoever is ungrateful — indeed Allah is Self-Sufficient, Praiseworthy.
وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(۱۳) اور جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ ان کو نصیحت کر رہے تھے یا بیٹا ! اللہ سے شرک نہ کرو ۔ شرک بڑا ہی ظلم ہے ۔
(13) And when Luqmān said to his son, while admonishing him: 'O my dear son! Do not associate partners with Allah. Indeed, shirk [associating partners with Allah] is a great injustice.'
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ
(۱۴) اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ، ماں نے اس کے بچے کا بار اٹھایا اور ضعف پر ضعف کی تکلیفیں جھیلیں اور دودھ چھڑائی ہوئی تھی دو سال کے بعد (ہم نے یہ وصیت کی) کہ تم میرا شکر ادا کرو اور اپنے ماں باپ کا بھی ۔ سب کا انجام میری ہی طرف ہے ۔
(14) And We enjoined upon man [goodness] regarding his parents — his mother carried him, bearing weakness upon weakness, and his weaning is in two years — [saying]: 'Give thanks to Me and to your parents; to Me is the final return.'
وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(۱۵) اور اگر ماں باپ کوشش کریں کہ تم مجھ سے شرک کرو جس کا تم کو معلوم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کرو ۔ مگر دنیا میں ان کے ساتھ دستور کے موافق رہو اور ان لوگوں کے طریقے کی اتباع کرو جو میری طرف متوجہ ہیں ۔ پھر میری طرف ہی تمہارا مرجع ہے (واپس جانا ہے) پس میں تم کو ایک ایک کام جتادوں گا ۔
(15) And if they strive to make you associate with Me something of which you have no knowledge, then do not obey them. But accompany them in this world with kindness, and follow the path of the one who has turned to Me. Then to Me is your return, and I will inform you of what you used to do.
يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
(۱۶) پیارے بیٹے ! اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی چیز ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ، اللہ ان سب کو لے آتا ہے ۔ اللہ یقیناً بڑا باریک بین اور خبردار ہے ۔
(16) 'O my dear son! Even if something is the weight of a grain of mustard seed, and it be within a rock, or in the heavens, or in the earth — Allah will bring it forth. Indeed Allah is Subtle, All-Aware.'
يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
(۱۷) پیارے بیٹے ! نماز کو پابندی اور ڈرتی سے قائم کرو ۔ (اچھی بات کی نصیحت کرو) امر بالمعروف کرو ۔ نہی عن المنکر کرو (یعنی بری باتوں سے دوسروں کو روکو ان کو کومنع کرو) پھر جو مصیبت تم پر پڑے اس پر صبر کرو ۔ بے شک یہ تمام کام ہمت کے ہیں (اولوالعزمی کے ہیں) ۔
(17) 'O my dear son! Establish the prayer with regularity and devotion. Command what is good [enjoin good]. Forbid evil [forbid wrong deeds] (i.e., prevent others from wrongdoing). And be patient over whatever befalls you. Indeed, all these tasks require determination (they are the work of the resolute).'
وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
(۱۸) لوگوں کے سامنے بُغلے کر تکبّر کے ساتھ منہ نہ پھیرو ، اتراتے ہوئے زمین میں اکڑتے نہ چلو ، یقیناً اللہ ہر تکبّر اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ۔
(18) Do not turn your face away from people with arrogance, and do not walk upon the earth with conceit. Indeed, Allah does not love any self-conceited boaster.
وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ
(۱۹) اور تمہاری چال میانہ روی پر رہنی چاہیے ۔ آہستہ بات کرو ۔ کیا ہی بری آواز ہے گدھے کی آواز (ڈھانچوں کی آواز) ۔
(19) And be moderate in your walking, and lower your voice. Indeed, the most disagreeable of sounds is the braying of a donkey [the sound of jackasses].
أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُنِيرٍ
(۲۰) کیا تم لوگوں نے دیکھانہیں کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ تمہارا اور فرمانبردار کردیا ہے ۔ (تمہارا سخر اور زیر اثر کردیا ہے) اورتم پر ظاہر و باطن کی نعمتیں پوری پوری کیں اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے متعلق جھگڑتے ہیں ۔ حالانکہ ان کے پاس نہ علم ہے نہ ہدایت ہے اور نہ کوئی واضح کتاب ہے ۔
(20) Have you not seen that Allah has subjected to you whatever is in the heavens and whatever is in the earth, and has lavished upon you His blessings — both outward and inward? Yet among people there are those who dispute about Allah [without any knowledge], though they have neither knowledge, nor guidance, nor an illuminating Book.
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ
(۲۱) اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ خدا نے جو اتارا ہے اس کی اتباع کرو (پیروی کرو) تو کہتے ہیں نہیں تو وہی طریقہ پر چلیں جن پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا (کیا تم اسی طریقہ پر رہوگے) اگرچہ شیطان نے ان کو دوزخ کی طرف بلایا ہو !
(21) And when it is said to them: 'Follow what Allah has revealed,' they say: 'Rather, we will follow what we found our forefathers upon.' [Will they do so] even if the Shayṭān is inviting them to the punishment of the blazing Fire?
وَمَنْ يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى وَإِلَى اللَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ
(۲۲) اور جو شخص اپنا رُخ خدا کی طرف کرلیتا ہے ۔ اور وہ اخلاص مند اور محسن بھی ہو تو اُس نے مضبوط حلقہ تھام لیا اور تمام چیزوں کا انجام خدا ہی کی طرف ہے ۔
(22) And whoever submits his face to Allah while he is a doer of good — he has indeed grasped the firmest handhold, and to Allah belongs the outcome of all affairs.
وَمَنْ كَفَرَ فَلَا يَحْزُنْكَ كُفْرُهُ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(۲۳) اور جو کفر کرتا ہے ۔ (پیغبر!) تم ان کے کفر سے غمگین و رنجیدہ نہ ہو ۔ ان کو ہمارے پاس آنا ہے اور ہم ان کے سارے کرتوت کو جتادیں گے (اور ان کی سزا دیں گے) یقیناً اللہ دلی خیالات سے خوب واقف ہے ۔
(23) And whoever disbelieves — O Prophet, let not his disbelief grieve you. To Us is their return, and We will inform them of what they did (and give them their punishment). Indeed, Allah is All-Knowing of what lies within the breasts.
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(۲۴) ہم انہیں موقع دے رہے ہیں کہ چند روز مزے اڑالیں ۔ پھر ان کو سخت عذاب کی طرف دھر ہنکمیٹیں گے ۔ (اور مضطر و عاجز بنا کر لائیں گے) ۔
(24) We will give them a little enjoyment for a while, then We will force them towards a harsh punishment (and bring them helpless and humiliated).
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
(۲۵) اور (پیغبر!) اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے ۔ تم کہو الحمد للہ ۔ بلکہ ان میں کے اکثر بے علم ہیں (جاہل ہیں پھر کچھ نہیں جانتے) ۔
(25) And [O Prophet!] if you ask them: 'Who created the heavens and the earth?' they will surely say: 'Allah.' Say: 'All praise is for Allah!' Rather, most of them do not know [the full truth] (they are ignorant and thus understand nothing further).
لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ
(۲۶) آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب خدا کا ہے ۔ بے شک وہی بے نیاز ہے وہی خوبیوں والا لائق تعریف ہے ۔
(26) To Allah belongs whatever is in the heavens and the earth. Indeed, Allah — He is the Self-Sufficient, the Praiseworthy.
وَلَوْ أَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
(۲۷) اور اگر زمین میں کے درختوں کے قلم بن جائیں اور سمندر کے پیچھے سات سمندرل (کریاں بن) جائیں تو خدا کی ہاتھیں کبھی ختم نہ ہوں گی ۔ بے شک اللہ عزت و حکمت والا ہے ۔
(27) And if all the trees on the earth were pens, and the sea [were ink], replenished after it by seven [more] seas — the words of Allah would not be exhausted. Indeed, Allah is Mighty, Wise.
مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
(۲۸) تمہارا پیدا کرنا اور تم کو قبروں سے اٹھانا ایسے ہی ہے جیسے ایک شخص کو پیدا کرنا یقیناً اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے ۔
(28) Your creation and your resurrection are but as [the creation and resurrection of] a single soul. Indeed, Allah is All-Hearing, All-Seeing.
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَأَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(۲۹) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کبھی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور کبھی دن کو رات میں (یعنی رات دن گھٹتے بڑھتے ہیں) اور سورج و قمر بھی اس کے زیر فرمان ہیں ۔ سب کی گردشیں معین میعاد کی ہیں (اور یہ سب گردشیں قیامت تک رہیں گی) اور یقیناً اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے ۔
(29) Have you not seen that Allah causes the night to enter into the day and the day to enter into the night (i.e., the days and nights lengthen and shorten), and has subjected the sun and the moon — each running to a fixed term — and that Allah is All-Aware of what you do?
ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
(۳۰) یہ سب اس وجہ سے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سواجن کو یہ پکارتے ہیں سب باطل ہیں (بے اصل ہیں) اور یقیناً اللہ ہی صاحب رفعت اور بزرگ مرتبت ہے ۔
(30) That is because Allah — He is the Truth, and whatever they call upon besides Him is falsehood (baseless), and indeed Allah — He is the Most High, the Grand.
أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللَّهِ لِيُرِيَكُمْ مِنْ آيَاتِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
(۳۱) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جہاز سمندر میں بفضل خدا چلتا ہے کہ تم کو اس کی نشانیاں دکھائے ۔ اس میں بے شک نشانیاں ہیں ہر صابر وشاکر کے لئے ۔
(31) Have you not seen that the ships sail through the sea by the grace of Allah, so that He may show you some of His signs? Indeed in that are signs for every patient, grateful [person].
وَإِذَا غَشِيَهُمْ مَوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُورٍ
(۳۲) اور جب ان پر موج چھا جاتی ہے جیسے سائبان تو خدا کو پکارنے لگتے ہیں نہایت اطاعت اور اخلاص مندی کے ساتھ ۔ پھر جب وہ ان کو نجنات دے کر خشکی کی طرف پنچا دیتا ہے تو ان میں بعض اعتدال پسند بھی رہتے ہیں ۔ اور ہماری آیتوں سے صرف جھوٹا ناشکرا ہی انکار کرتا ہے ۔
(32) And when waves cover them like [dark] canopies, they call upon Allah with sincere devotion and obedience. But when He delivers them to dry land, some of them remain moderate [in gratitude]. None denies Our signs except every treacherous ingrate.
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَا يَجْزِي وَالِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ
(۳۳) لوگو ! تم تقوٰی اختیار کرو خدا (کے عذاب) سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو جس دن باپ بیٹے کے کام نہ آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آئے گا ۔ یقیناً اللہ کا وعدہ سچ ہے (حق ہے) یہ دنیوی زندگی تم کو کہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور دغا باز (شیطان) بھی تم کو اللہ کے متعلق قریب فریب نہ دے ۔
(33) O people! Fear your Lord and dread a Day when no father will avail his son, nor will a son avail his father anything. Indeed, the promise of Allah is true. So let not the life of this world deceive you, and let not the Deceiver [Shayṭān] deceive you concerning Allah.
إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
(۳۴) قیامت کب آئے گی اس کا علم یقیناً خدا ہی کو ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ عورت کے پیٹ میں کیا ہے (بیٹا یا بیٹی) اور کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کسی کو معلوم نہیں کہ کس زمین میں مرے گا ۔ مگر ہاں اللہ علیم و خبیر ہے (جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے) ۔
(34) Indeed, with Allah alone is the knowledge of the Hour. He sends down rain and knows what is in the wombs (whether it is a boy or a girl). No soul knows what it will earn tomorrow, and no soul knows in which land it will die. Indeed, Allah is All-Knowing, All-Aware (He knows and is fully informed of everything).