18. Al-Kahf
الكهف
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجًا
تعریف اس خدا کی ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری (وہ بالکل سیدھی ہے) اور اس میں کسی کمی کی بھی گنجائش نہیں۔
All praise is for Allah, who sent down the Book upon His servant (it is completely straight) and placed no crookedness in it.
قَيِّمًا لِيُنْذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِنْ لَدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا
وہ کتاب ہمیشہ رہنے والی ہے (وہ اس لیے اتاری ہے) کہ خدا کے پاس کے سخت عذاب سے ڈرائے اور اچھے اور مناسب کام کرنے والے ایمان داروں کو بشارت دے کہ ان کے لیے بہترین اجر ہے۔
It is a steadfast book (He sent it down) to warn of a severe punishment from Him, and to give glad tidings to the believers who do righteous deeds that for them is the finest reward.
مَاكِثِينَ فِيهِ أَبَدًا
وہ اجر میں (یعنی جنت میں) ہمیشہ رہیں گے۔
They will remain in it (i.e., in Paradise) forever.
وَيُنْذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا
اور تاکہ ڈرائے ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ خدا کا بیٹا بھی ہے (خدا صاحب اولاد ہے)۔
And to warn those who say that Allah has a son (that Allah has offspring).
مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِآبَائِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا
نہ ان کو علم (سچ) ہے نہ ان کے باپ دادا کو علم (سچ) تھا — جو باتیں ان کے منہ سے نکلتی ہے وہ بہت بڑی سخت ہے — یہ جو کچھ کہتے ہیں جھوٹ ہے (دروغ ہے)۔
They have no knowledge of this (truth), nor did their forefathers — the words that come out of their mouths are most grievous — they say nothing but a lie (a falsehood).
فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا
پھر کیا تم ان کے پیچھے جان بلاکت میں ڈال دوگے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں — رنج و غم سے (افسوس سے)۔
Then will you perhaps destroy yourself with grief over their footsteps if they do not believe in this word — out of sorrow and distress (out of grief).
إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا
یقیناً ہم نے زمین پر جو کچھ اس کی زینت و آرائش کے لحاظ سے بتایا ہے — اس وجہ سے ہے کہ ہم لوگوں کو آزمائیں اور امتحان لیں کہ کون بہترعمل کرنے والا ہے۔
Indeed We have made whatever is upon the earth as an adornment for it — for this reason: that We may test people and examine them as to who performs the best deeds.
وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا
اور بے شک ہم زمین پر کی تمام چیزوں کو ایک چٹیل میدان بنادیں گے (یعنی قیامت کے وقت سب کو فنا کردیں گے)۔
And indeed We will turn everything upon it into a barren, desolate plain (that is, at the time of the Final Hour We will annihilate everything).
أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا
کیا تم گمان کرتے ہو کہ اصحاب کہف اور اصحاب رقیم ہماری نشانیوں میں تعجب خیز تھے۔
Do you suppose that the Companions of the Cave and al-Raqim were among Our wonders (something extraordinary)?
إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا
جب ان جوانوں نے ایک غار میں جا کر پناہ لی پھر دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا کر اور ہمارے کام میں راستی مہیا کر (ہم کو رشد و ہدایت پر تیار کر)۔
When those young men took refuge in a cave and prayed: Our Lord! Bestow upon us mercy from Your presence, and prepare for us right guidance in our affair (make us ready for rectitude and guidance).
فَضَرَبْنَا عَلَى آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا
پھر ہم نے ان کو غار میں کانوں پر تھپکی کر کئی سال سُلا دیا۔
Then We sealed their ears (with sleep) in the cave for a number of years.
ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَى لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا
پھر ہم نے ان کو (نیند سے) اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ ان دونوں فرقوں میں سے کون سچ گنے اور کتنا مدت کو کہ وہ (غار میں) رہے۔
Then We roused them (from sleep) to determine which of the two groups was more accurate in reckoning the period they had remained (in the cave).
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى
ہم تمہارے سامنے تحقیق کے ساتھ ان کا قصہ بیان کریں گے — وہ خدا پر ایمان رکھنے والے چند جوان تھے اور ہم نے ان کو خوب ہدایت کی تھی۔
We narrate to you their account in truth — they were young men who believed in their Lord, and We increased them greatly in guidance.
وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَنْ نَدْعُوَ مِنْ دُونِهِ إِلَهًا إِلَّا قَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا
اور جب وہ (نیند سے) اٹھے تو ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا تھا (ان کو پوری یقین تھا)، پھر انھوں نے کہا ہمارا رب تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کو چھوڑ کر کسی دیوتا کی پوجا نہ کریں گے — اگر ہم ایسا کریں تو ہماری بات جھوٹ ہوگی، دور از عقل ہوگی۔
And when they rose (from sleep) We had made firm their hearts (they had full conviction); then they said: Our Lord is the Lord of the heavens and the earth — we will not call upon any deity besides Him. If we were to do so, we would have said an absurd and egregious thing.
هَؤُلَاءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَوْ لَا يَأْتُونَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطَانٍ بَيِّنٍ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا
یہ ہماری قوم تو خدا کو چھوڑ کر معبودوں کو ماننے لگ گئی ہے — کیوں نہیں واضح حجت و دلیل لاتی۔ پھر اس شخص سے کون زیادہ ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ اور افتراء لگائے۔
These people of ours have taken deities besides Him — why do they not bring a clear proof and evidence? Who then is more unjust than one who fabricates a lie against Allah?
وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ فَأْوُوا إِلَى الْكَهْفِ يَبْسُطْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيُهَيِّئْ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ مِرْفَقًا
اور جب تم ان سے اللہ کے سوائے ان کے معبودوں سے جدا ہوگئے ہو تو جاؤ ایک غار میں جا بیٹھو — تم پر اللہ اپنی رحمت کی چادر اوڑھادے گا اور تمہارے کام میں اور زرق میں آسان اور تمہارے کاموں کے لیے آسانی پیدا کرے گا۔
And since you have separated yourselves from them and from whatever they worship besides Allah, then take refuge in the cave — your Lord will spread His mercy over you and will arrange ease and provision for you in your affair.
وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ تَزَاوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِنْهُ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا
اور (اے خاطب!) تم آفتاب کو دیکھتے ہو کہ جب طلوع کرتا ہے تو ان کے غار سے ترچھا طلوع کرتا ہے (ترچھا رہتا ہے) اور جب غروب کرتا ہے تو شمالی جانب کترا جاتا ہے اور یہ (اصحاب کہف) غار کے اندر کشادہ حصہ میں تھے — یہ خدا کی نشانیوں میں سے ایک کرشمہ ہے — جس کو خدا ہدایت کرے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جس کو خدا ضلالت اور گمراہی میں رکھے تو تم اس کے لیے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤگے۔
And (O addressee!) you see the sun, when it rises, incline away from their cave towards the right (it inclines away) and when it sets it passes them on the left side, while they (the Companions of the Cave) are in an open space inside the cave. That is among the signs of Allah. Whoever Allah guides, he is rightly guided; and whoever Allah leaves in error and straying — you will never find for him a guiding friend.
وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا
اور (اے خاطب!) تو ان کو بیدار سمجھتا ہے حالانکہ وہ سو رہے ہیں اور ہم ان کو سیدھی باہیں کروٹ دلاتے ہیں اور ان کا کتا چوکھٹ کے پاس دونوں ہاتھ پھیلایا ہوا ہے — اگر تو ان کو دیکھتا تو تُو ان سے پھیر کر بھاگ جاتا اور ان کے رعب سے بھر جاتا (ان کی دہشت چھا جاتی)۔
And (O addressee!) you would think them awake whereas they are asleep; and We turn them over — to the right side and to the left — and their dog is stretching its forelegs at the threshold. If you were to look at them, you would turn and flee from them, and you would be filled with dread of them (terror would overwhelm you).
وَكَذَلِكَ بَعَثْنَاهُمْ لِيَتَسَاءَلُوا بَيْنَهُمْ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالُوا رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوا أَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هَذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنْظُرْ أَيُّهَا أَزْكَى طَعَامًا فَلْيَأْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا
اور اسی طرح ہم نے ان کو جگلایا کہ آپس میں پوچھ کریں — ان میں سے ایک نے کہا تم کتنی دیر ٹھیرے؟ دوسروں نے اس کے جواب میں کہا ہم ایک دن یا اس سے بھی کم ٹھیرے — بعضوں نے کہا خدا ہی خوب جانتا ہے — اب اپنے میں کے ایک شخص کو یہ روپیہ دے کر شہر بھیجو، پھر وہ دیکھے کونسا کھانا پاک و صاف کھانا ہے تو اس کو لائے — دیکھو یہ سب کام ایسی لطافت اور نزی سے کرے کہ کسی کو تمہارا شعور اور اطلاع نہ ہو۔
And thus We roused them so that they might question one another. One of them said: How long have you stayed? They replied: We stayed a day or part of a day. Others said: Your Lord knows best how long you stayed. Now send one of you with this money to the city, and let him see which food is the purest and most wholesome, and let him bring provision from it — and let him act with great care and subtlety so that no one becomes aware of you.
إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فِي مِلَّتِهِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوا إِذًا أَبَدًا
ان لوگوں کو اگر تمہاری خبر لگ جائے تو تم کو سنگسار کریں گے یا اپنے مذہب میں واپس کریں گے — تب تم بھی فلاح نہ پاؤگے (تمہارا بھلا نہ ہوگا)۔
For if they were to discover you, they would stone you or force you back into their religion — and then you would never succeed (no good would come to you).
وَكَذَلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا
اور اسی طرح ہم نے ان کو باخبر کردیا کہ انہیں معلوم ہوجائے کہ خدا کا وعدہ حق ہے اور قیامت بے شک آنے والی ہے — جب وہ لوگ اپنے کام میں جھگڑتے اور نزاع کرتے تھے — پھر لوگوں نے کہا ان (اصحاب کہف) پر ایک عمارت بناؤ — خدا ہی کو ان کا حال سے خوب واقف ہے — ان میں سے جو قوی اور غالب تھے انہوں نے کہا ہم ان کے پاس ایک مسجد بنائیں گے۔
And thus We caused them to be discovered, so that they would know that Allah's promise is true and that the Hour — without doubt — is coming. When (the people) were disputing and arguing amongst themselves about their affair, some said: Build a structure over them — their Lord knows best about them. Those who prevailed in the matter said: We will surely build a mosque over them.
سَيَقُولُونَ ثَلَاثَةٌ رَابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَيَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًا بِالْغَيْبِ وَيَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ قُلْ رَبِّي أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ فَلَا تُمَارِ فِيهِمْ إِلَّا مِرَاءً ظَاهِرًا وَلَا تَسْتَفْتِ فِيهِمْ مِنْهُمْ أَحَدًا
عنقریب (یہ لوگ آپس میں اختلاف کریں گے) بعض کہیں گے کہ اصحاب کہف تین تھے، چوتھا ان کا کتا تھا، اور بعض کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا — یہ سب باتیں (اٹکل بچ ہیں — دل کے لیے ہیں) — رجم بالغیب ہیں اور بعض کہیں گے کہ وہ سات ہیں اور ان کا آٹھواں کتا ہے — (پیغمبر!) تم کہو میرا خدا ان کی گنتی سے خوب واقف ہے — بہت کم لوگ ان کی گنتی سے واقف ہیں — پس تم ان سے اختلاف نہ کرو مگر سرسری بحث، گفتگو — اور ان کے بارے میں کسی سے نہ پوچھو۔
Some will say: They were three, the fourth being their dog; and others will say: They were five, the sixth being their dog — all these are (mere guesses — they are for the heart) — conjectures about the unseen. And some will say: They were seven, and the eighth was their dog. (O Prophet!) Say: My Lord knows best their number — very few people know their count. So do not argue about them except with a surface argument, a discourse — and do not ask anyone about them.
وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا
اور تم ہرگز نہ کہو کسی شئے کے لیے کہ میں کل اس کو کرنے والا ہوں۔
And never say of anything: I will certainly do that tomorrow.
إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَى أَنْ يَهْدِيَنِ رَبِّي لِأَقْرَبَ مِنْ هَذَا رَشَدًا
مگر یہ کہ خدا چاہے (اس کی مشیت میں ہو) اور جب تم (اپنے رب کو) بھول جاؤ (اس سے غفلت ہوجائے) تو اپنے رب کو فوراً یاد کرو اور تم کہو امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے قریب تر ہدایت فرمائے۔
Except (by saying): If Allah wills. And whenever you forget (grow heedless of your Lord), remember your Lord at once and say: Perhaps my Lord will guide me to something nearer to rectitude than this.
وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا
اور وہ لوگ اپنے غار میں تین سو نو (٣٠٩) سال تک ٹھیرے رہے۔
And they remained in their cave for three hundred and nine (309) years.
قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ مَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا
تم کہو! اللہ ہی خوب جانتا ہے (اور اسی کو یہ بصارت ہے) کہ وہ کتنے دن اور زمین کی غیب کی باتیں اسی کو (خدا کو) معلوم ہیں — اس کی بصارت کیا عجیب ہے اور اس کی شنوائی کیا عجیب ہے — خدا کو چھوڑکر لوگوں کا کوئی دوست نہیں اور خدا اپنے احکام میں کسی کو شریک نہیں بناتا (اس کا شریک ممکن نہیں اور نہ وہ راضی نہیں)۔
Say: Allah knows best how long they remained — to Him belongs the unseen of the heavens and the earth. How piercing is His sight! How keen is His hearing! They have no protector apart from Him, and He makes no one a partner in His governance (partnership with Him is impossible, nor would He consent to it).
وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا
تم پڑھو جو کچھ تمہاری طرف اتر رہا ہے کلام رب سے — اس کے کلمات کو کوئی بدل نہیں سکتا — اس کو چھوڑے تو کہیں پناہ نہیں۔
And recite what has been revealed to you from the Book of your Lord — no one can alter His words — and apart from Him you will find no refuge.
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا
اور تم اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کرو، جو صبح و شام اپنے خدا کو پکارتے ہیں اور ان کا مقصد و مراد رضائے الٰہی ہے اور اپنی نگاہ ان سے نہ ہٹاؤ کہ تم دنیاوی زندگی کی زیب و زینت چاہتے ہو (اور اس کا ارادہ کرتے ہو) اور ایسے کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل بنادیا ہے اور وہ اپنے ہوس کا تابع ہوگیا ہے اور اس کا کام حد کو پہنچ گیا ہے — (افراط اور اسراف کی حد کو پہنچ گیا ہے)۔
And constrain yourself to remain with those who call upon their Lord morning and evening seeking His countenance — and do not let your eyes wander from them desiring the adornment of worldly life (and intending it). And do not obey one whose heart We have made heedless of Our remembrance, who follows his own desires, and whose affair has exceeded all bounds — (has reached the limit of excess and extravagance).
وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا
اور تم کہو حق تو خدا کے پاس سے آتا ہے — پھر جس کا جی چاہے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کفر کرے — بے شک ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کی ہے جو ان کو ڈیرے کی طرح احاطہ کیے ہوئے ہے اور اگر وہ پانی مانگیں تو ان کو ایسا پانی دیا جائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا ہے جو چہروں کو بھون دے (جلا دے) — کیا ہی برا پانی ہے اور کیا ہی برا مقام ہے۔
And say: The truth comes from your Lord — so whoever wishes, let him believe, and whoever wishes, let him disbelieve. Indeed We have prepared for the wrongdoers a Fire whose encircling walls will surround them, and if they cry out for water they will be given water like molten copper that scorches the faces (burns them) — what an evil drink, and what an evil resting place!
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا
یقیناً جو لوگ ایمان لاتے اور اچھے عمل کرتے ہیں تو یقیناً ہم کسی اچھے کام کرنے والے کے اجر کو یقیناً ہم ضائع نہیں کرتے۔
Indeed those who believe and do righteous deeds — We shall certainly not waste the reward of anyone who performs good deeds.
أُولَئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِنْ سُنْدُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا
یہ لوگ دائمی جنت میں رہیں گے — ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان کو سونے کے زیور سونے کے کڑے پہنائے جائیں گے اور سبز باریک اور گاڑھے ریشم کے کپڑے پہنیں گے — صوفوں پر ٹیک لگائے رہیں گے — کیا بہتر ثواب ہے اور کیا بہتر ان کی آرام گاہ ہے۔
Those people will reside in the Gardens of Eden — rivers flowing beneath them — they will be adorned with bracelets of gold and wear green garments of fine silk and brocade — reclining upon couches. What a fine reward, and what a beautiful resting place!
وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا رَجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا
اور ان لوگوں کے سامنے دو شخصوں کی مثال بیان کرو — ان میں سے ایک کے لیے دو باغ لگائے تھے جو انگور کے تھے اور ان کے اطراف کھجور کے درخت لگائے تھے اور بیچ میں کھیتی بھی تھی۔
And present to them the parable of two men — for one of them We had set up two gardens of grapevines, and surrounded them with date palms, and placed cultivated fields between them.
كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ آتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْهُ شَيْئًا وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا
دونوں باغ اپنے پھل دیتے تھے اور پھل دینے میں کوئی کوتاہی نہ کرتے تھے — ان کے بیچ میں سے نہر بہتی تھی۔
Both gardens yielded their fruit and diminished nothing thereof — and We caused a river to flow between them.
وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا
اس شخص کے پاس ہرقسم کا ثمرہ تھا — پس اس نے اپنے دوست سے کہا گفتگو میں اس سے — میرے پاس تمہارے سے زیادہ مال ہے اور میرے یار و مددگار زیادہ عزت مند اور قوی ہیں۔
And he had abundant fruit. So he said to his companion while conversing with him: I have more wealth than you and I am mightier in respect of men (supporters and helpers).
وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَنْ تَبِيدَ هَذِهِ أَبَدًا
وہ اپنے باغ میں داخل ہوتا ہے اور اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرتا ہے اور کہتا ہے میں گمان نہیں کرتا کہ میرا یہ باغ کبھی جاہ و برباد ہوگا۔
And he entered his garden while he was wronging himself, saying: I do not think this garden will ever perish.
وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَى رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِنْهَا مُنْقَلَبًا
اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت آنے والی ہے — فرض کرو (کہ قیامت آئے گی اور) میں خدا کے دربار میں حاضر ہوں گا تو یقین کرو کہ وہاں میں اس سے بہتر جگہ پاؤں گا۔
And I do not think the Hour will ever come. But even if I am returned to my Lord, I will surely find there a better return than this.
قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلًا
گفتگو میں اس کے دوست نے اس سے کہا کیا تم اس خدا کو نہیں مانتے جس نے تم کو مٹی سے ، پھر نطفے سے ، پھر نطفے ایک اچھا خاصا آدمی بنایا۔
His companion said to him in conversation: Do you disbelieve in Him who created you from dust, then from a drop of fluid, then fashioned you into a proper man?
لَكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِرَبِّي أَحَدًا
لیکن (میں کتنا ہوں) اللہ ہی میرا رب ہے اور کسی کو میں (اس کا) اپنے رب کا شریک نہیں بناتا۔
But as for me (for my part): Allah alone is my Lord, and I associate no one as partner with my Lord.
وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
اور جب تم باغ میں داخل ہوئے تھے تو تم نے یہ کیوں نہیں کہا: خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے، کسی کو کچھ اختیار ہے، کسی کو کچھ نہیں —
And when you entered your garden, why did you not say: Whatever Allah wills (comes to pass) — there is no power except with Allah —
فَعَسَى رَبِّي أَنْ يُؤْتِيَنِ خَيْرًا مِنْ جَنَّتِكَ وَيُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْبَانًا مِنَ السَّمَاءِ فَتُصْبِحَ صَعِيدًا زَلَقًا
پس مجھے میرے خدا سے امید ہے کہ مجھے تمہارے باغ سے اچھا باغ دے گا اور اس کو اس قدرت ہے کہ آسمان سے ایک بجلی گرائے اور وہ باغ پھسل میدان ہوجائے جہاں کوئی چیز نہ ہو۔
Perhaps my Lord will give me something better than your garden, and send upon it (your garden) a calamity from heaven, so that it becomes a barren slippery plain on which nothing remains.
أَوْ يُصْبِحَ مَاؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِيعَ لَهُ طَلَبًا
یا اس کا پانی تہہ کو پہنچ جائے اور تو اس کو طلب نہ کر سکے۔
Or its water may sink deep into the earth and you will never be able to seek it out.
وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَى مَا أَنْفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا
اور آفت نے اس کے ثمرے کو ہر طرف سے گھیر لیا — پھر وہ اس مال پر جو اس باغ میں تاری میں صرف ہو گیا افسوس ملتے ہوئے اپنے باغ اپنے ہاتھوں کو لے کر پڑا ہے اور (باغ والا) کہتا ہے کاش میں کسی کو میرے خدا کا شریک نہ بناتا۔
And his fruit was encompassed by ruin — so he began to wring his hands over what he had spent on it, while it lay collapsed upon its trellises, and (the garden owner) was saying: Would that I had not associated anyone as a partner with my Lord!
وَلَمْ تَكُنْ لَهُ فِئَةٌ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مُنْتَصِرًا
اور اس (باغ والے) کے پاس خدا کے سوائے کوئی ایسی جماعت نہ تھی جو اس کی مدد کرتے اور اس لوگ نہ تھے جو اس کی مدد کرتے — اور کوئی انتقام لینے والا بھی نہ تھا۔
And he had no group apart from Allah to help him, and there were no people to aid him — and there was no one to take revenge on his behalf either.
هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَخَيْرٌ عُقْبًا
اس وقت برحق خدا ہی کی بادشاہی اور حکومت رہے گی — وہ بدلہ دینے کے لحاظ سے بھی اچھا ہے اور انجام دینے کے لحاظ سے بھی اچھا ہے۔
At that point, authority belongs to Allah alone, the True — He is best in reward and best in outcome.
وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِرًا
اور ان لوگوں کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا، زمین کے نباتات کو وہ پانی پہنچا، خوب سرسبزی ہوئی پھر اس کے بعد بھی وہ تمام نباتات سوکھ کر چورم ہوگئے، ہوا ان کو اڑاتے لیے جاری ہے — ان کو اڑائے لیے جاتی ہے اور اللہ کو ہر شئے پر اقتدار کامل ہے وہ جو کچھ چاہتا ہے کر سکتا ہے۔
And present to them the parable of the life of this world: like water that We send down from the sky — the vegetation of the earth mingles with it, then flourishes — but afterwards all those plants dry up and crumble, blown about by the winds. And Allah has complete power over all things; He does whatever He wills.
الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا
(دنیا کا) مال اور اولاد یہ سب دنیا کی زندگی کی زیب و زینت (اور آرائش) ہے اور باقی رہنے والے نیک کام وہ خدا کے پاس بہترین ثواب اور بہتر قابل امید ہے۔
Wealth and children are the adornment (and embellishment) of the life of this world — but the enduring righteous deeds are better in reward with your Lord and better in hope.
وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا
ذرا اس دن کا خیال رکھو جب ہم پہاڑوں کو جگہ سے دور کردیں گے اور تم دیکھو گے کہ زمین چٹیل میدان ہے اور ہم نے ان سب کا حشر کیا (اور ایک جگہ جمع کردیا) اور ان میں سے کسی کو نہ چھوڑا۔
And bear in mind the day when We will set the mountains in motion and you will see the earth as a barren plain, and We will gather them all together (assembling them in one place) and not leave out a single one of them.
وَعُرِضُوا عَلَى رَبِّكَ صَفًّا لَقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّنْ نَجْعَلَ لَكُمْ مَوْعِدًا
اور یہ لوگ تمہارے رب کے سامنے صف باندھ پیش کیے جائیں گے — یقیناً تم ہمارے پاس اس طرح حاضر ہوگے جس طرح کہ پہلی دفعہ ہم نے تم کو پیدا کیا تھا بلکہ تم نے یہ زعم کیا تھا کہ تم کو یہاں لانے کے لیے ہم نے کوئی وعدہ اور وقت مقرر نہیں کیا ہے اس وقت کا ہے۔
And they will be brought before your Lord in ranks — (told:) Indeed you have come to Us just as We created you the first time. Yet you imagined that We had set no appointed time for you (to appear before Us) — and this is that time.
وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا
اور اعمال نامہ سامنے ڈھیرا ہوگا اور تم مجرموں کو دیکھوگے کہ اپنی موجودہ حالت میں ڈرتے اور گھبراتے ہیں اور کہتے ہیں ہائے ہمارے بدبختی یہ کیسی ہمارا بدبختی یہ کتاب کیسی ہے (یہ اعمال نامہ کیسا ہے؟) کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتا ہے نہ بڑی بات کو مگر سب کو محفوظ کرلیتا ہے (سب کو شمار کرلیا ہے) پھر انھوں نے اپنے اعمال کو اپنے سامنے حاضر پایا اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
And the Book of Deeds will be placed before them, and you will see the criminals fearful and terrified of what is in it, saying: Woe to us! What kind of record is this (what kind of book of deeds is this?)— it leaves out nothing small or great but has counted it all (has preserved everything). Then they will find what they did present before them; and your Lord does not wrong anyone.
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا
اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ ہم نے آدم کے سامنے سجدہ کرو (تعظیمی سجدہ بجالاؤ) — سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس! آخر وہ گروہ جن سے تھا! پھر اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی — کیا تم (لوگو!) کیا تم نے شیطان اور اس کی ذریت کو میرے دوست بنا لیا اور وہ تمہارے (پکے) دشمن ہیں — تم نے کیا برا اختیار (پسند کیا)۔
And recall when We said to the angels: Prostrate before Adam (perform a prostration of honour) — all prostrated except Iblis, who was from the jinn, and he disobeyed the command of his Lord. Will you then (O people!) take him and his offspring as protectors instead of Me, while they are your (confirmed) enemies? What an evil exchange (they have chosen).
مَا أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَا خَلْقَ أَنْفُسِهِمْ وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّينَ عَضُدًا
میں نے ان کو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت اور خود ان کو پیدا کرنے کے وقت کا شاہد اور حاضر نہیں رکھا تھا اور نہ میں ان گمراہ کرنے والوں کو اپنی کوئی قوت بازو بناتا۔
I did not make them witness the creation of the heavens and earth, nor their own creation; and I was not to take those who lead others astray as My helpers and supporters.
وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَوْبِقًا
اور ذرا اس دن کا بھی خیال رکھو جب خدا فرمائے گا کہ پکارو ان لوگوں کو جن کو تم نے زعم کرتے تھے کہ میرے شریک ہیں — پس انھوں نے ان کو پکارا مگر کسی نے جواب تک نہ دیا اور ہم اور ان کے درمیان ایک ہلاکت کا مقام بنادیا ہے۔
And remember the day when He will say: Call upon those whom you claimed to be My partners — they will call them but they will get no response, and We will place between them and those (false gods) a gulf of destruction.
وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُمْ مُوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا
اور مجرموں نے دوزخ کو دیکھا پھر سمجھا کہ اب وہ اس میں گرنے والے ہیں اور یہ کہ اس سے کوئی صورت نہیں کہ بچ سکیں۔
And the criminals will see the Fire and realise that they are about to fall into it, and will find no escape from it.
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا
اور ہم نے قرآن میں لوگوں (کو سمجھانے) کے لیے مختلف طور سے مثالیں بیان کیں اور انسان ہے کہ سب سے زیادہ لڑتا جھگڑتا ہے۔
And indeed We have explained in this Qur'an for the people (to understand) all manner of parables from every angle, and man is the most contentious and quarrelsome of all things.
وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا
اور لوگوں کو کس نے ایمان لانے سے منع کیا جب کہ ان کے پاس ہدایت پہنچ چکی تھی اور کون چیز ان کے رب سے استغفار کرنے سے روک رہی تھی مگر یہ کہ ان سے وہی سلوک کیا جائے جو گزشتہ لوگوں سے کیا گیا تھا یا ان کے سامنے ہی عذاب آجائے۔
And what prevented people from believing when guidance had already come to them, and from seeking forgiveness of their Lord — except that the fate of the ancient peoples should come upon them, or that the punishment should come before their very eyes?
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَمَا أُنْذِرُوا هُزُوًا
اور ہم پیغمبروں کو بھیجتے ہیں تو صرف بشارت اور نذارت (یعنی ڈرانے) کے لیے (نہیں کہ جبراً ایمان لائیں) اور جو لوگ کافر ہیں وہ باطل کے ساتھ جھوٹ اور جدل کرتے ہیں کہ اس سے حق کو ڈگمگا دیں اور ہماری نشانیوں اور ڈر کی باتوں کو ٹھٹھا اور فلسفی تیر اڑا دیں۔
And We do not send the Messengers except as bearers of good tidings and as warners (not to compel anyone to faith); and those who disbelieve argue with falsehood and disputation to unsettle the truth thereby, and they mock Our signs and the warnings given to them.
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِنْ تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَى فَلَنْ يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًا
اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جس کو خدا کی آیتوں سے نصیحت اور یاد دہانی کی جائے اور وہ اس سے اعراض کرلیا ہے اور اپنے گزشتہ کاموں کو بھول گیا ہے — ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ سمجھ نہ جائیں کہیں — اور کانوں میں ان کے مغلل سنائی دیتا ہے — اور اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ کبھی ہدایت قبول نہ کریں۔
And who is more unjust than one who is reminded of the signs of his Lord and then turns away from them, forgetting what his own hands have sent forth — We have placed coverings over their hearts lest they should understand, and heaviness in their ears — and if you call them to guidance they will never accept guidance.
وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ بَلْ لَهُمْ مَوْعِدٌ لَنْ يَجِدُوا مِنْ دُونِهِ مَوْئِلًا
اور تمہارا رب غفور ہے ، رحیم ہے — اگر ان کے کاموں پر فوری مواخذہ کرتا تو ان پر جلدی عذاب نازل کردیتا — بلکہ ان کا وعدہ کا بھی ایک وقت ہے — اس کے سوا (رہنے) کی کوئی جگہ نہیں۔
And your Lord is the Forgiving, the Possessor of mercy — if He were to take them to account for what they have earned, He would have hastened the punishment for them. Rather, they have an appointed term, and they will find no refuge apart from it.
وَتِلْكَ الْقُرَى أَهْلَكْنَاهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَوْعِدًا
اور یہ وہ قریے ہیں کہ ہم نے ان کو ہلاک کردیا جب انھوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کے ہلاک کرنے کے لیے ایک معین مدت رکھی تھی۔
And those are the townships — We destroyed them when they committed wrong, and We had set an appointed time for their destruction.
وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا
اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا میں ہٹوں گا نہیں جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ کے لیے نہ پہنچ جاؤں یا سال ہا سال چلا ہی جاؤں۔
And recall when Musa said to his young companion: I will not stop until I reach the meeting point of the two seas, or I will journey on for many long years.
فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا
پھر جب وہ دونوں دریاؤں کے ملنے کی جگہ پہنچے تو وہ اپنی مچھلی کو بھول گئے — پھر وہ مچھلی اپنا راستہ لے کر سمندر میں گھس گئی۔
So when they reached the meeting place of the two seas, they forgot their fish — and it made its way into the sea, tunnelling through.
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا
پھر جب وہ (مقام معین سے) تجاوز کرگئے — (آگے بڑھ گئے) تو (موسیٰ نے) اپنے جوان سے کہا ہمارا ناشتہ لاؤ — ہم اس سفر سے تھک گئے ہیں۔
Then when they had passed beyond (the appointed place), (Musa) said to his young companion: Bring us our morning meal — we have indeed experienced fatigue from this journey of ours.
قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا
کہا، آپ نے دیکھا جب ہم نے پتھر کے پاس جگہ لی (ذہاں ٹھیرے) تو میں مچھلی کو بھول گیا ، مجھے صرف شیطان نے اس کو بھلادیا کہ میں اس کا ذکر کروں اور مچھلی نے دریا میں عجیب و غریب طریقہ سے اپنا راستہ لے لیا۔
He said: Did you see — when we took rest by the rock (stopped there) — I forgot the fish, and nothing made me forget to mention it except Satan; and the fish took its way into the sea in a wondrous manner.
قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا
(موسیٰ نے) کہا یہی (جگہ) تو وہ ہے جس کو ہم چاہتے تھے — پھر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشان پر واپس ہوتے ہوئے لوٹ آئے۔
(Musa) said: That is precisely what we were seeking — so they retraced their steps, following their own footprints back.
فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْمًا
پھر ان دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جس کو ہم نے اپنے پاس کی رحمت دی اور اپنے پاس کے علم کی تعلیم دی۔
Then they found one of Our servants upon whom We had bestowed mercy from Us, and whom We had taught a knowledge from Our own presence.
قَالَ لَهُ مُوسَى هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا
ان کو موسیٰ نے کہا کیا میں تمہارے ساتھ رہ سکتا ہوں اس شرط پر کہ تم جس راہ یابی کی تعلیم دی گئی ہے تم مجھے بھی تعلیم دو۔
Musa said to him: May I follow you on condition that you teach me something of the right guidance you have been taught?
قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا
کہا، تم میرے ساتھ صبر کرسکتے (ظاہر نہیں سکتے) — (ظاہر نہیں ہیں)۔
He said: You will not be able to bear with me patiently (you cannot endure it).
وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا
اور تم اس پر کس طرح صبر کرسکتے ہو جس کا تم کو تجربہ نہیں (واقفیت نہیں)۔
And how will you have patience regarding something of which you have no experience (no familiarity)?
قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا
(موسیٰ نے) کہا ان شاء اللہ تم مجھے صابر پاؤگے اور میں تم سے کسی بات میں مخالفت نہ کروں گا۔
(Musa) said: You will find me patient, if Allah wills, and I will not oppose you in any matter.
قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا
(خضر نے) کہا اگر تم میری اتباع کرنا چاہتے ہو تو جب تک میں خود سے بیان نہ کروں تم سے کسی شئے کے بارے میں بھی خود سے سوال نہ کرو۔
(Al-Khadir) said: If you wish to follow me, then do not ask me about anything until I myself mention it to you first.
فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا
پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب وہ دونوں کشتی میں سوار ہوگئے تو اس میں سوراخ ڈال دیا — کہا کیا تم نے اس میں سوراخ ڈالا ہے کہ اس کے لوگوں کو غرق کردو (ڈبودو) یقیناً تم نے ایک بڑا بھاری کام کیا۔
So the two of them set off until, when they boarded the boat, he made a hole in it. (Musa) said: Have you made a hole in it to drown its passengers (to sink them)? You have indeed done a most grave thing!
قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا
کہا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں دے سکتے۔
He said: Did I not tell you that you would not be able to bear with me patiently?
قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا
کہا میرے نسیان اور بھول چوک پر مجھ سے مواخذہ نہ کرو اور میرے کام میں مجھ پر سختی اور دشواری پیدا نہ کرو۔
He said: Do not take me to account for my forgetfulness, and do not make my affair difficult for me by imposing hardship.
فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا
پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک لڑکے سے ملے تو اس کو مار ڈالا — کہا کیا تم نے ایسے شخص کو مارا جو بے گناہ تھا (تصور اور خطا سے پاک تھا) — نہ اس نے کسی کو مارا تھا (نہ اس کے کسی کو قصاص میں مارا جا رہا ہے) — تم نے یقیناً ایک سخت نامعقول حرکت کی۔
Then the two went on until, when they met a young boy, he killed him. (Musa) said: Have you killed an innocent soul (one pure in conscience and free of wrongdoing) — who had not killed anyone (nor was this in retaliation for anyone's murder)? You have indeed committed a most dreadful act!
قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا
(خضر نے) کہا: کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کرسکتے۔
(Al-Khadir) said: Did I not tell you that you would not be able to bear with me patiently?
قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا
کہا، اگر میں اس کے بعد تم سے کچھ پوچھوں تو تم مجھے اپنی صحبت میں نہ رکھو — تم میری طرف سے معذور ہو اور مجھے اپنے ساتھ رکھنے سے کوئی عذر باقی نہ رہا ہے۔
He said: If I ask you about anything after this, then do not keep me in your company — you have received from me a sufficient excuse (you are justified in dismissing me, and no excuse remains on your part to keep me with you).
فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا
پھر وہ دونوں (آگے) چلے یہاں تک کہ ایک قریہ اور بستی کو پہنچے — جہاں کے رہنے والوں سے کھانا مانگا — پھر ان لوگوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کردیا — پھر ان دونوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گر رہی تھی اور اس پر قائم کردیا — (موسیٰ نے) کہا کم تم چاہتے تو اس (دیوار بنانے) کی اجرت لیتے۔
Then the two went on until they came to the people of a certain town — they asked its people for food, but they refused to offer them hospitality. Then they found a wall there that was about to collapse, and he (al-Khadir) set it upright. (Musa) said: If you had wished, you could have taken payment for it (for building the wall).
قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا
کہا ، اب ، اب میری اور تمہاری جدائی ہے — میں اس کے راز کو تم سے بیان کرتا ہوں جس پر تم صبر نہ ہوسکا۔
He said: This is the parting between me and you — I shall now inform you of the explanation of what you could not bear with patience.
أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا
رہی وہ کشتی تو وہ چند محتاجوں اور فقیروں کی تھی جو سمندر میں محنت مزدوری کرتے تھے — میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کردوں (کچھ توڑ پھوڑ کردوں) اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر (اچھی) کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔
As for the boat, it belonged to some poor wretched people who worked hard on the sea for their livelihood — I wanted to damage it (break it a little) because ahead of them was a king who was forcibly seizing every (good) boat.
وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا
اور رہا وہ لڑکا تو اس کے ماں باپ ایماندار تھے — پس ہم کو خوف ہوا کہ یہ لڑکا اپنے ماں باپ کو اپنی سرکشی اور کفر سے نہ کردے۔
And as for the young boy, his parents were believers — and We feared lest he should burden them with rebellion and disbelief.
فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا
پھر ہم نے چاہا کہ ان (ماں باپ کو) ان کا خداوند اس کے بدلہ دے ، وہ پاکیزہ بھی ہو اور قرابت کا لحاظ رکھنے والا اور قریب بھی ہو۔
So We desired that their Lord should give them in exchange one who would be better than him in purity and closer in tender affection.
وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا
اور اب رہ گئی دیوار تو وہ دو یتیم بچوں کی تھی جو شہر میں رہتے تھے اور اس (دیوار) کے نیچے ان کا خزانہ آدی تھا — اور ان کا باپ ایک نیک آدی تھا — پھر تمہارے رب نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور اپنے خزانے کو نکال لیں — یہ سب تمہارے رب کے رحم کے کرم سے ہوا ہے — اور میں نے یہ سب اپنی مرضی (جو کچھ کیا) سے نہیں کیا یہ (بلکہ محبت اور الٰہی) یہ حقیقت ہے ان واقعات کی جن پر تم صبر نہ کرسکے۔
And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and beneath it was a treasure belonging to them, and their father had been a righteous man. So your Lord desired that they should reach their maturity and bring out their treasure — this was all by the mercy and grace of your Lord. And I did not do any of it of my own accord (rather, by divine command) — this is the interpretation of what you could not endure with patience.
وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَأَتْلُو عَلَيْكُمْ مِنْهُ ذِكْرًا
اور لوگ ذوالقرنین کے متعلق تم سے سوال کرتے ہیں — (پیغمبر!) تم کہو! میں ابھی ان کے ذکر کو بیان کرتا ہوں۔
And they ask you about Dhul-Qarnayn — (O Prophet!) say: I will now relate to you an account of him.
إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا
یقیناً ہم نے اس کو زمین پر قابو اور حکومت دی تھی اور اس کو (حصول مقاصد کے) ہرقسم کے اسباب کے دیے تھے۔
Indeed We established him upon the earth and gave him the means to achieve every kind of purpose.
فَأَتْبَعَ سَبَبًا
پھر سب کے پیچھے لگا۔
Then he followed a way (set out following a course).
حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا قُلْنَا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا
یہاں تک کہ جب مغربی جانب پہنچا جب مغربی سورج غروب ہوتا پایا تو اس کو دیکھا کہ ایک سیاہ رنگ کے چشمہ میں ڈوب رہا ہے (اس چشمہ کا پانی کالا ہے) اور اس کے (چشمہ) کے پاس ایک قوم کو پایا — ہم نے کہا، اے ذوالقرنین! یا تو تم ان کو عذاب اور تکلیف دو یا ان کے ساتھ نیک سلوک کرو۔
Until, when he reached the setting of the sun, he found it setting in a dark muddy spring (whose water is black), and he found a people there near it. We said: O Dhul-Qarnayn! Either you punish them or you treat them with kindness and goodness.
قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُكْرًا
اس نے کہا ، جس نے ظلم کیا تو عنقریب ہم اس کو عذاب کریں گے — پھر وہ اپنے رب کی طرف واپس جائے گا — پھر وہ اس کو ایسا عذاب کرے گا جو خدا ہی کا عذاب ہوگا (جوان کے وہم و گمان سے بھی باہر ہوگا)۔
He said: As for one who does wrong, we will punish him — then he will be returned to his Lord, and He will punish him with a fearsome punishment (one that is beyond their imagination).
وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءً الْحُسْنَى وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا
اور جو ایمان لایا اور نیک کام صالح کام کیا اس کے لیے اچھی جزا ہے — اور ہماری طرف سے اس کے ساتھ نزمی سے سلوک کیا جائے گا۔
And as for one who believes and does righteous deeds, he will have the finest reward — and We shall speak to him with ease and gentleness from Our command.
ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا
پھر ایک دوسری راہ اختیار کی (ایک دوسری جگہ — تازہ ساز و سامان حاصل کیا)۔
Then he followed another way (another course — fresh resources and provisions gathered).
حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَى قَوْمٍ لَمْ نَجْعَلْ لَهُمْ مِنْ دُونِهَا سِتْرًا
یہاں تک کہ جب مشرقی جانب پہنچا تو مشرقی جانب ایک قوم تھی اور ان کے سامنے کوئی پردہ (اور اوٹ) نہ تھا۔
Until, when he reached the rising of the sun, he found it rising over a people for whom We had made no shelter (covering) from it.
كَذَلِكَ وَقَدْ أَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا
اسی طرح ہم اس کے پاس کے تمام خبروں سے واقف تھے (ان کو احاطہ کیے ہوئے تھے)۔
Thus it was; and We encompassed with knowledge all that he had (We were fully aware of everything concerning him).
ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا
پھر دوسرے اسباب و ذرائع کی تلاش میں لگا۔
Then he followed yet another way (set out seeking further means and resources).
حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا
یہاں تک کہ وہ دو پہاڑوں (یا دیواروں) کے بیچ میں پہنچا تو وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ (اس کی) بولی نہیں (اس کی) بات سمجھ نہیں سکتے۔
Until, when he reached between the two mountains (or two barriers), he found on this side of them a people who could barely understand any speech.
قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا
لوگوں نے کہا : اے ذوالقرنین ! یہ یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کر رہے ہیں — پھر کیا ہم تمہیں کوئے دیں اور ان کے اور ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کردو۔
They said: O Dhul-Qarnayn! Verily Gog and Magog (Ya'juj and Ma'juj) are spreading corruption in the land — shall we make you a tribute on condition that you build a barrier between us and them?
قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا
(ذوالقرنین نے) کہا ، مجھے میرے خدا کا دیا ہوا اچھا اور بہتر ہے — پس تم قوت اور محنت سے میری اعانت و مدد کرو — میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بناؤں گا۔
(Dhul-Qarnayn) said: What my Lord has established for me is better — so assist me with strength and labour; I will build a firm barrier between you and them.
آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا
کہا ، میرے پاس لوہے کی چادریں لاؤ — پھر جب ان دونوں پہاڑوں کے درمیان (بچی دیوار کے برابر کردیا تو کہا آگ لگاؤ (پھر جب آگ لگا کر گرم کردیا (کی طرح گرم) کردیا تو کہا پگھلا ہوا تانبا لاؤ اس پر ڈالوں۔
He said: Bring me sheets of iron — then when he levelled it (the wall) between the two mountain sides, he said: Blow (the bellows) — then when he had made it (like) fire (blazing hot), he said: Bring me molten copper to pour over it.
فَمَا اسْطَاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبًا
پھر وہ لوگ نہ اس دیوار پر چڑھنے کے سکے نہ اس میں سوراخ کرسکے۔
Then they (Gog and Magog) could neither scale it nor could they bore through it.
قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا
اس نے کہا یہ میرے رب کی رحمت ہے — پھر جب خدا کا حکم آجائے گا تو اس کو توڑ تاڑ کر برابر کردے گا — اور میرے خدا کا وعدہ بالکل برحق ہے۔
He said: This is a mercy from my Lord — then when my Lord's promise comes, He will reduce it to rubble; and my Lord's promise is absolutely true.
وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا
اور ہم نے بعض لوگوں کو ایسے حال میں کر چھوڑیں گے کہ پریشانی میں ایک دوسرے کے گڈ مڈ ہوتے ہیں اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو (ایک مقام میں) جمع کردیں گے۔
And on that day We will leave them surging in upon one another (in confusion), and the Trumpet will be blown, and We will gather them all (in one place).
وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا
اور ہم اس دن کافروں کے سامنے جہنم پیش کریں گے۔
And on that day We will present Hell before the disbelievers, displayed openly.
الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاءٍ عَنْ ذِكْرِي وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا
ان کافروں کی آنکھوں کی طرف سے میری یاد پر پردے پڑے ہوئے تھے ، اور وہ کچھ سن بھی نہیں سکتے تھے۔
Those disbelievers whose eyes were veiled from My remembrance, and who were incapable of hearing.
أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِنْ دُونِي أَوْلِيَاءَ إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ نُزُلًا
تو ان کافروں نے کیا سمجھ رکھا ہے کہ (میری خلق اور) میرے بندوں کو مجھے چھوڑ کر اپنا یار و مددگار بنالیں — ہم نے (ان) کافروں کے لیے دوزخ کی ضیافت تیار کر رکھی ہے۔
Do the disbelievers suppose that they can take My servants (My creation and) apart from Me as protectors and helpers? Indeed We have prepared Hell as a reception for those disbelievers.
قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا
تم کہو! کیا ہم تمہیں تادیں ان لوگوں کے جن کے اعمال اکارت ہیں (خسارے میں ہیں، سراپا نقصان دہ ہیں)۔
Say: Shall We inform you of those who are the greatest losers in deeds (whose deeds are wasted — thoroughly in loss and harmful)?
الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا
وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے متعلق بے اصول ، بے راہ کام کرتے رہے اور سمجھتے رہے کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں۔
Those who wasted their efforts in the life of this world without principle or direction, yet thought they were doing well.
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں اور اس کی ملاقات کا انکار کیا پس ان کے اعمال ضائع ہو گئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں رکھیں گے (ان کے اعمال کی کوئی قدر نہیں ہوگی)۔
These are those who disbelieved in the signs of their Lord and in meeting Him, so their deeds were rendered void, and on the Day of Resurrection We shall assign no weight for them (their deeds will have no value whatsoever).
ذَٰلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَرُسُلِي هُزُوًا
ان لوگوں کی جزا دوزخ ہے کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور رسولوں کا مذاق اڑایا (ان کو کھیل ٹھنا سمجھا)۔
Their recompense is Hell, because they disbelieved and took My signs and My messengers as a mockery (treating them as a jest and plaything).
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا
بے شک جو ایمان رکھتے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں ان کی مہمانی، ضیافت فردوس کے باغ ہیں (فردوس جنت کا اعلیٰ حصہ ہے)۔
Indeed, those who believe and do righteous deeds — for them the Gardens of Paradise are prepared as a welcome (Paradise being the highest part of the Garden).
خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا
(یہ لوگ) ہمیشہ اس میں (جنت میں) رہیں گے۔ اس کو چھوڑ کر جانا نہ چاہیں گے۔
They will abide therein forever, wishing neither to leave it nor to go away from it.
قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا
تم (ان سے) کہہ دو: اگر میرے رب کے کلمات (کے لکھنے) کے لیے تمام سمندر سیاہی بن جائے تو میرے رب کے کلموں کے ختم ہونے سے پہلے وہ سمندر ختم ہوجائے گا اور اگرچہ ویسا ہی سمندر مدد کے لیے لایا جائے۔
Say (to them): If the sea were ink for (writing) the words of my Lord, the sea would be exhausted before the words of my Lord were exhausted, even if We brought another like it as further supply.
قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا
(پیغمبر!) تم کہو میں بھی تمہارے ہی جیسا آدمی ہوں مگر مجھ پر وحی آتی ہے کہ بے شک تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے جو اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اس کو چاہیے کہ عمل صالح کرے اور اس کی بندگی اور عبادت میں کسی اور کو شریک نہ کرے۔
(O Prophet!) Say: I am only a human being like you; it is revealed to me that your God is One God. So whoever hopes to meet his Lord, let him do righteous deeds and not associate anyone in the worship and servitude of his Lord.