66. At-Taḥrīm
التحريم
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(۱) اے نبی! تم کیوں حرام ٹھہراتے ہو جو خدا نے تم پر حلال کیا ہے ۔ تم اپنی بی بیوں کی رضا مندی چاہتے ہو اور اللہ تو غفور رحیم ہے۔
(1) O Prophet! Why do you forbid what Allah has made lawful for you? You seek the pleasure of your wives, and Allah is Most Forgiving, Most Merciful.
قَدْ فَرَضَ اللهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللهُ مَوْلَاكُمْ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
(۲) اللہ نے تمہاری قسموں کا کفارہ بھی مقرر کر دیا ہے اور اللہ تمہارا دوست ہے اور وہی ہے علم وحکمت والا۔
(2) Allah has ordained for you the expiation of your oaths, and Allah is your Guardian, and He is the All-Knowing, the All-Wise.
وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَنۢ بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنبَأَكَ هَذَا قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ
(۳) اور جب پیغمبر (ﷺ) نے اپنی کسی بی بی سے ایک بات بطورِ راز کہی تھی ۔ پھر جب اس بی بی نے (دوسری بی بی سے) کہہ دیا اور اللہ نے اس راز کے فاش ہونے کی اطلاع دی تو آپ نے اس بات میں سے کچھ بعض کو معلوم کرادیا اور بعض کو ٹال گئے ۔ پھر جب بی بی کو اس نے ان بی بی کو بتلایا بی بی نے کہا آپ کو کس نے خبر دی ۔ آپ نے فرمایا: مجھے (میرے) علیم وخبیر نے اطلاع دی (اس کی خبری)۔
(3) And when the Prophet ﷺ confided a matter to one of his wives as a secret, then when she disclosed it (to another wife), Allah informed him of it. So he made known to her a part of it and turned away from another part. Then when he informed her of it, she said: 'Who informed you of this?' He replied: 'The All-Knowing, the All-Aware informed me (gave me the news of it).'
إِن تَتُوبَا إِلَى اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ
(۴) اگر تم دونوں اللہ کی جناب میں توبہ کرلو (یہ تمہارے لیے بہتر ہے کیونک) تمہارے دلوں نے کجروی اختیار کی تھی اور اگر تم دونوں اس (پیغمبر) کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو اللہ ہو مولیٰ ہے اور جبریل اور صالح
(4) If you two repent to Allah (that is better for you, because) your hearts have certainly deviated. But if you support each other against him (the Prophet), then indeed Allah is his Protector, and Jibrīl and the righteous —
عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا
(۵) ممکن ہے کہ ان کا (پیغمبر کا) پروردگار اگر پیغمبر تم کو طلاق دے اور چھوڑ دے تو بہت جلد ان کو تمہارے بدلے تم سے اچھی بی بیاں ، ایماندار، نمازی توبہ کرنے والی، عبادت گزار، روزہ دار ہوں خواہ دیکھی ہوئی خاوند دیکھی ہوئی خاوند نہ دیکھی ہوئی۔
(5) It may well be that if he (the Prophet) divorces you, his Lord will replace him with wives better than you — obedient Muslims, believing, devout, repentant, worshipping, fasting — whether previously married or virgins.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُونَ اللهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(٦) (اے مسلمانو!) ایمان والو! خود کو اور اپنے متعلقین کو آتش دوزخ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے اور پتھر ۔ اس پر مستمر (دمقر) ہیں قوی دل اور قوی تن فرشتے ۔ وہ احکامِ الٰہی کی نافرمانی نہیں کرتے اور انہیں جو حکم دیا جاتا ہے اس پر (فوراً) عمل کرتے ہیں ۔
(6) O believers! Protect yourselves and your families from a Fire whose fuel is people and stones. Over it are angels who are stern and severe — they do not disobey Allah in what He commands them and they carry out what they are commanded (immediately).
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(۷) اے منکرو! آج معذرت نہ کرو ۔ آج جزا دی جائے گی تمہارے اعمال ہی کی جزا دی جائے گی۔
(7) O disbelievers! Make no excuses today. You are only being recompensed for what you used to do.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ
(۸) اے مسلمانو! تم اللہ کی طرف صاف دلی کے ساتھ توبہ کرو ۔ امید ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا اور تم کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں (یعنی یہ باغ ہمیشہ سرسبز رہیں گے) ذرا اس دن کو بھی یاد کرو کہ خدا اپنے پیغمبر اور ان مسلمانوں کو رسوانہ کرے گا جو ان کے ساتھ مسلمان ہوئے ہیں ۔ ان کا
(8) O believers! Turn to Allah in sincere repentance. It is hoped that your Lord will pardon your sins and admit you into gardens beneath which rivers flow (gardens that will always remain green). Remember also that day when Allah will not disgrace the Prophet and those who believed along with him. Their light will run before them —
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(۹) اے نبی! کافروں اور منافقین سے جہاد کرو ۔ ان سختی سے مقابلہ کرو ۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے ۔ ان کی بازگشت کا مقام بہی برا ہے۔
(9) O Prophet! Strive against the disbelievers and the hypocrites and be firm against them. Their abode is Hell, and what an evil destination it is.
ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ
(۱۰) اللہ کافروں (کی عبرت) کے لیے مثال بیان کرتا ہے ۔ نوح کی عورت اور لوط کی عورت کی مثال ۔ یہ دونوں عورتیں ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں ، (ان کے نکاح میں تھیں) پھر ان عورتوں نے اپنے شوہروں سے دغا کی (خیانت کی) تو ان دونوں کے شوہر ، اللہ (کی ناخوشی) کے سامنے ان کے کچھ کام نہ آئے اور انہیں حکم دیا گیا: دوزخ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی داخل ہوجاؤ۔
(10) Allah presents an example for the disbelievers (as a lesson): the wife of Nūḥ and the wife of Lūṭ. They were both under (in the marriage of) two of Our righteous servants, yet they betrayed them (were disloyal to them), and their husbands availed them nothing against Allah (His displeasure), and it was said to them: 'Enter the Fire along with those who enter it.'
وَضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
(۱۱) خدا مسلمانوں (کی تسلی) کے لیے فرعون کی بیوی (آسیہ) کی مثال بیان فرماتا ہے جب انہوں نے دعا کی: اے میرے رب! تو میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے بدکاری سے بچا اور مجھے ان ظالم لوگوں کے شر سے نکال لے (بچالے)۔
(11) Allah presents an example for the believers (as a consolation): the wife of Firʿawn (Āsiya), when she said: 'My Lord! Build for me near You a house in Paradise, and save me from Firʿawn and his evil deeds, and deliver me from the wrongdoing people.'
وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ
(۱۲) اور (اللہ) مریم بنتِ عمران کی بھی مثال (بیان فرماتا ہے) جنہوں نے اپنے ناموس کی حفاظت کی ۔ پھر ہم نے اس میں اپنی روح (یعنی مریم) اپنے پروردگار کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کرتی (اور نانی) تھیں اور وہ اطاعت گزاروں میں سے تھیں۔
(12) And (Allah also presents the example of) Maryam, daughter of ʿImrān, who guarded her chastity. So We breathed into her from Our Spirit [i.e., Maryam], she affirmed the words of her Lord and His Books (and she was obedient), and she was of those who were devoutly obedient.