89. Al-Fajr
الفجر
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالْفَجْرِ
(۱) (میں) فجر کو بطور شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں (قسم کھاتا ہوں)۔
(1) By the dawn — I present it as witness (I swear by it).
وَلَيَالٍ عَشْرٍ
(۲) اور دس (مبارک) راتوں کو بطور شہادت پیش کرتا ہوں (ان کی قسم کھاتا ہوں)۔
(2) And by the ten (blessed) nights — I present them as witness (I swear by them).
وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ
(۳) اور شہادت میں پیش کرتا ہوں (دونوں قسم کی راتوں کو) جفت (یعنی عام) راتوں کو اور ایسی راتوں کو جو (اپنے کمالات میں) طاق (اور ممتاز) ہیں۔
(3) And I present as witness (both kinds of nights:) the even (i.e. ordinary) nights and those nights which are unique (and distinguished) in their (spiritual) excellences.
وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ
(۴) اور (تیری فطرت والی یعنی تیرہ وتار) رات کو بھی جب کہ چلے اور چھاجائے بطور شہادت پیش کرتا ہوں اس کی قسم کھاتا ہوں۔
(4) And by the night (that is dark and oppressive by nature) — when it moves and spreads — I present it too as witness, I swear by it.
هَلْ فِي ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِي حِجْرٍ
(۵) کیا اس میں صاحبانِ عقل و فہم کے لئے (کافی) شہادت ہے؟ (بے شک ہے)۔
(5) Is there not in that (sufficient) testimony for those of understanding and discernment? (Indeed there is.)
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ
(۶) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ (ان کا کیا انجام کیا)۔
(6) Have you not seen what your Lord did to ʿĀd? (What end did He bring upon them?)
إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ
(۷) بڑے بڑے ستونوں والے (مکانوں کے مالک) آرم (کا کیا حال ہوا)۔
(7) (The people of) Iram, possessors of great pillared (mansions) — what became of them?
الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ
(۸) جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔
(8) The like of whom had never been created in the lands.
وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ
(۹) اور (کیا تمہیں معلوم ہے کہ خدانے قومِ) ثمود کے ساتھ (کیا کیا؟) جو ایک وادی میں (اعلیٰ درجے کی) سنگ تراشی کیا کرتے تھے۔
(9) And (do you know what God did to the people of) Thamūd — who used to hew stone (with the finest craftsmanship) in the valley?
وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ
(۱۰) اور میخوں والے (یعنی بڑے لشکر والے) فرعون سے (تمہارے رب نے کیا کیا)؟
(10) And with Pharaoh, the one of stakes (i.e. possessor of vast armies) — (what did your Lord do with him)?
الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ
(۱۱) ان سب لوگوں نے شہروں میں بہت سر اٹھا رکھا تھا (مرگ کیا کرتے تھے، آپے سے باہر ہوگئے تھے)۔
(11) Those who transgressed greatly in the lands (they used to do as they pleased and went beyond all bounds).
فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ
(۱۲) پھر ان سب لوگوں نے ان (شہروں) میں بکثرت فساد برپا کردیا تھا۔
(12) And they spread corruption abundantly in those (lands).
فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ
(۱۳) پھر تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسادیا۔
(13) Then your Lord poured upon them the lash of punishment.
إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ
(۱۴) بے شک تمہارا رب تو ان کی تاک میں تھا (ان کے حالات کی نگرانی فرما رہا تھا)۔
(14) Verily your Lord was ever watching (keeping watch over their affairs).
فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ
(۱۵) پھر مگر انسان (اس کا تو یہ حال ہے کہ) جب اس کو اس کا رب آزماتا ہے، پس (ظاہری) اکرام و انعام کرتا ہے تو وہ (ناز میں آکر) کہنے لگتا ہے (اب میں تو اپنے رب کے پاس معزز اور مکرم ہوں) خدا نے میرا اکرام کیا ہے۔
(15) As for man — such is his condition — when his Lord tests him and bestows (outward) honour and bounty upon him, he says proudly (Now I am honoured in my Lord's sight), 'My Lord has honoured me.'
وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ
(۱۶) اور مگر جب کبھی خدا اس کو جتلائے (سختی و تکلیف) کرتا ہے پھر اس کے رزق کو تنگ کردیتا ہے تو کہنے لگتا ہے (ہائے) میرے رب نے میری اہانت کی، (مجھے ذلیل وخوار کردیا)۔
(16) But when God afflicts him (with hardship and distress) and restricts his provision, he says (alas), 'My Lord has humiliated me (and reduced me to disgrace).'
كَلَّا بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ
(۱۷) ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیم پر (لطف و) کرم نہیں کرتے (جس کی وجہ سے یہ ذلت و خواری نصیب ہوئی ہے)۔
(17) By no means! Rather, you do not honour the orphan (with kindness and generosity), which is why this disgrace has befallen you.
وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ
(۱۸) اور غریب مسکین کو کھانا کھلانے پر باہم ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے۔
(18) And you do not urge one another to feed the poor and destitute.
وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا
(۱۹) اور (غریبوں و یتیموں کی) میراث بھی کھاتے ہیں (کھاتا بھی کیسا) بے درپے، بارباراً۔
(19) And you devour (the inheritance of the poor and orphans as well) — and how you devour it — greedily, again and again.
وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا
(۲۰) اور مال کو بہت ہی دل سے چاہتے ہو (مال کی اس محبت نے تم کو گھیر لیا ہے)۔
(20) And you love wealth with an excessive love (the love of wealth has enveloped you).
كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا
(۲۱) ہرگز نہیں، جب زمین ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔
(21) By no means! When the earth is pounded to dust, bit by bit.
وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا
(۲۲) اور تیرے پروردگار کی تجلی ہوگی اور فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے۔
(22) And the manifestation of your Lord will come, with the angels standing rank upon rank.
وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ
(۲۳) اور اس دن جہنم کی حاضر کی جائے گی (دوزخ لائی جائے گی) اس دن انسان (کی آنکھوں پر سے غفلت کا پردہ اٹھ جائے گا) کو سمجھ آجائے گی۔ مگر اب اس کے لئے نصیحت لینے کا موقع کہاں رہا؟
(23) And on that day Hell will be brought forth — on that day (the veil of heedlessness will be lifted from the eyes of) man and he will understand. But where is the opportunity for him to take heed now?
يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي
(۲۴) (دوزخی) کہے گا۔ کاش! میں نے اپنی (آئندہ) زندگی کے لئے (عملِ نیک) بھجوایا ہوتا۔
(24) The (condemned one) will say, 'Would that I had sent ahead (righteous deeds) for my (future) life!'
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ
(۲۵) پس اس روز خدا کے برابر کوئی عذاب کرنے والا نہ لکلے گا۔
(25) On that day no one will punish as Allah punishes.
وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ
(۲۶) اور نہ اس کے جکڑ بند کرنے کے برابر کوئی جکڑ بند کرنے والا لکلے گا۔
(26) And no one will bind in fetters as He binds.
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ
(۲۷) اے اطمینان والے نفس!
(27) O soul at peace (and in tranquillity)!
ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً
(۲۸) (اے نفسِ مطمئنہ) اپنے رب کے پاس، واپس ہوجا۔ تو خدا سے راضی (ہے) تجھ سے خدا راضی۔
(28) (O tranquil soul,) return to your Lord — you are pleased with Him and He is pleased with you.
فَادْخُلِي فِي عِبَادِي
(۲۹) پھر تو میرے (خاص) بندوں میں داخل ہوجا۔
(29) Then enter among My (chosen) servants.
وَادْخُلِي جَنَّتِي
(۳۰) اور میری جنت میں داخل ہوجا۔
(30) And enter My Garden.