9. At-Tawba
التوبة
بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ
جن مشرکوں سے تم نے معاہدہ کیا تھا اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان سے بے تعلقی ہے (اب کوئی تعلق باہم کسی قسم کا معاہدہ باقی نہیں)۔
A declaration of disavowal from Allah and His Messenger to those polytheists with whom you had made treaties (no connection remains between them of any kind, and no treaty is left).
فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ وَأَنَّ اللَّهَ مُخْزِي الْكَافِرِينَ
پس (اے مشرکو!) تم زمین میں چار مہینے چلے پھرو اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور یہ بھی یاد رکھو کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔
So (O polytheists!) roam the land for four months, and know that you cannot render Allah helpless, and also know that Allah is the disgracer of the disbelievers.
وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
کرو، (اور حق پرستی کی طرف رجوع کرو) تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم کو گرتم خدا کو عاجز نہیں کرسکتے اور کافروں کو مبارک باد دو کہ ان پر دردناک عذاب آنے والا ہے۔
(Continued from previous): if you repent (and turn to the truth), it is better for you. And if you turn away, then know that you cannot render Allah helpless, and give the disbelievers the tidings of a painful punishment.
إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنقُصُوكُمْ شَيْئًا وَلَمْ يُظَاهِرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدًا فَأَتِمُّوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَىٰ مُدَّتِهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ
مگر وہ مشرکین جن سے تمہارا معاہدہ ہوگیا ہے اور انہوں نے معاہدے کے باقی رکھنے میں کچھ نقصان نہیں کیا اور تمہارے خلاف میں انہوں نے کسی کی پشتی نہیں کی لہذا ان کی مدت تک ان کے عہد کو برقرار رکھو (ان کو پورا کرو) بے شک اللہ متقیوں کو محبوب رکھتا ہے۔
Except those polytheists with whom you made a treaty and they did not diminish anything from it, and did not support anyone against you — so fulfil their treaty to its term (complete it). Indeed, Allah loves the God-fearing.
فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
پھر جب حرمت (اور امانت) کے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کردو اور ان کو پکڑ ڈالو، ان کا محاصرہ کرو اور ان کی تاک میں ہر چوکیوں میں (اور گھاتوں میں) رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز پرھیں اور زکواۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑو۔ بے شک اللہ غفور، رحیم ہے۔
Then when the sacred months have passed, kill the polytheists wherever you find them, and seize them, besiege them, and lie in wait for them at every ambush. But if they repent, establish prayer, and pay zakāt, then release them. Indeed, Allah is Most Forgiving, Most Merciful.
وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ
اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو تم اس کو پناہ دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سُن سکے۔ پھر اس کو اس کے امن کے مقام پر پہنچا دو۔ یہ اس لئے کہ وہ بے علم قوم ہے۔
And if any one of the polytheists seeks your protection, then grant him protection so that he may hear the word of Allah. Then deliver him to his place of safety. This is because they are a people who do not know.
كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ اللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِ إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدتُّمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ
پھر جب تک وہ عہد کے لئے تمہارے ساتھ قائم رہیں تم بھی ان کے لئے عہد پر قائم رہو۔ بے شک (متقی لوگ خدا کو محبوب ہیں) پسند کرتے ہیں)۔
(Continued): then as long as they remain steadfast with you in the treaty, you too remain steadfast with them. Indeed (the God-fearing are beloved to Allah and) He is pleased with them.
كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً يُرْضُونَكُم بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ
بھلا ان لوگوں سے کیوں کر عہد باقی رہے اگرتم لوگ اگر تم پر غالب آجائیں تو وہ تمہارے متعلق نہ قرابت کا لحاظ رکھتے ہیں نہ عہد و پیمان کا۔ یہ تم کو باتوں کے ساتھ راضی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ان کا دل نہیں مانتا۔ ان میں سے اکثر فاسق ہی ہیں۔
How can there remain any treaty with them, when if they were to gain power over you, they would not respect any bond of kinship or covenant regarding you? They try to please you with their mouths but their hearts refuse. Most of them are indeed transgressors.
اشْتَرَوْا بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَصَدُّوا عَن سَبِيلِهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
خدا کی آیتوں کو انہوں نے نہایت کم قیمت خریدی۔ ان لوگوں نے دوسروں کو بھی راہ خدا سے پھیرا۔ ان کے اعمال برے ہیں۔
They sold the signs of Allah for a paltry price. They also turned others away from His path. Indeed, their deeds are evil.
لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ
یہ لوگ کسی ایمان دار کے متعلق نہ قرابت کا لحاظ رکھتے ہیں، نہ عہد و پیمان کا۔ یہی لوگ ہیں حد سے تجاوز کئے ہوئے۔
They respect no bond of kinship or covenant when it comes to a believer. These are the ones who have exceeded all limits.
فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَنُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پرھیں اور زکواۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم اپنی آیتوں کے لئے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔
But if they repent, establish prayer, and give zakāt, then they are your brothers in faith. And We clearly explain Our verses for a people who know.
وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ
اور اگر یہ عہد کرکے قسم کھاتے ہیں پھر اپنے عہد کے بعد وعدہ توڑیں اور تمہارے دین میں طعن تشنیع کریں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (ان سے مقاتلہ نہ کرو) ان کے پاس کوئی قسموں کی کوئی ذمہ داری نہیں، شاید کہ وہ (اپنے سے کے سے) باز آجائیں۔
And if they break their oaths after their pledge and attack your religion by slander, then fight the leaders of disbelief (battle against them) — indeed, they have no respect for oaths — so that they may perhaps desist.
أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
کیا تم ان لوگوں سے لڑنا نہیں چاہتے جنہوں نے قسم کا خلاف کیا، پیغمبر کو وطن سے نکالنا چاہا، ابتدائی چھیڑ بھی انہوں نے کی۔ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ حالانکہ اللہ سب سے زیادہ ڈرنے کے قابل ہے (سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو) اگر تمہارے دل میں کچھ ایمان ہے۔
Will you not fight those people who broke their oaths, intended to expel the Messenger, and were the ones who initiated hostilities? Do you fear them? But Allah is most deserving of your fear (most worthy of being feared) if there is any faith in your hearts.
قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ
ان لوگوں سے لڑو۔ اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دے گا، ان کو رسوا کرے گا، تم کو ان پر فتح و غلبہ دے گا اور ایمان داروں کے سینوں کی سوزش کو ٹھنڈا کردے گا۔
Fight them! Allah will punish them by your hands, disgrace them, grant you victory over them, and heal the burning grief of the hearts of the believing people.
وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اور (خدائے تعالیٰ) ان کے (یعنی مسلمانوں کے) دلوں کے غصے کو دفع کرے گا اور خدا جس کو چاہتا ہے توبہ قبول کرتا ہے۔ اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
And He (Allah Almighty) will remove the anger from the hearts of the (Muslims), and Allah accepts the repentance of whomever He wills. And Allah is All-Knowing, All-Wise.
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تُتْرَكُوا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِن دُونِ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم یوں ہی چھوڑ دئیے جاؤ گے اور ابھی تو اللہ کو (یعنی رسول اللہ کے اور عامۃ الناس کے) کہ تم میں سے کس نے جہاد کیا اور کس نے خدا اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا دوست بنالیا۔ تم جو کچھ کرتے ہو اس کو خدا خوب جانتا ہے۔
Or did you think that you would be left alone (abandoned), when Allah has not yet determined who among you has striven (in His path) and who has taken anyone other than Allah, His Messenger, and the believers as intimate allies? Allah is fully aware of all that you do.
مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ أُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ
ان مشرکوں کو کیا حق ہے کہ اللہ کی مسجدوں کی تعمیر کریں (آمن آباد کریں) جب کہ وہ اپنے اوپر اقرار بھی کفر کا کرتے ہیں۔ ان کے سارے اعمال ضائع ہیں۔ یہی لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔
It is not fitting for the polytheists to maintain the mosques of Allah while bearing witness against themselves of their own disbelief. Their deeds are all in vain, and they will remain forever in the Fire.
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَىٰ أُولَٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ
اللہ کی مسجدیں تو وہی تعمیر کرتا ہے (اور آباد کرتا ہے) جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، نماز پرھتا ہو اور زکواۃ دیتا ہو اور اللہ کے سوائے کسی سے نہ ڈرتا ہو۔ ایسے لوگوں سے امید ہے کہ وہ راہ راست پر آجائیں۔ (ہدایت سے ان کو بھی کچھ حصہ ملے)۔
Only those maintain the mosques of Allah (and make them flourish) who believe in Allah and the Last Day, establish prayer, give zakāt, and fear no one but Allah. It is hoped that such people will be among the rightly guided (and they too will receive some portion of guidance).
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
کیا تم حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کو آباد رکھنے (اور اس کے نگرانی اور ترمیم کرنے کو) اس شخص کے برابر سمجھتے ہو جو اللہ پر ایمان لائے اور روزِ قیامت پر بھی اور راہ خدا میں جہاد کرے؟ یہ دونوں اللہ کے پاس برابر نہیں اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا۔
Do you consider giving water to the pilgrims and maintaining the Sacred Mosque as equal to (the deeds of) the one who believes in Allah and the Last Day and strives in the path of Allah? They are not equal in Allah's sight. And Allah does not guide the wrongdoing people.
الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ
جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور راہ خدا میں جان و مال سے کوشش کی، اللہ کے اللہ کے پاس بڑے درجے ہیں (بڑے درجے ہیں) اور یہی ہیں دلی مراد پانے والے۔
Those who believe, emigrated, and strove in the path of Allah with their wealth and their lives have the greatest rank with Allah (they have the highest degrees), and they are the ones who achieve their heart's desire.
يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ
ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت اور رضامندی اور جنتوں کی خوش خبری دیتا ہے، (مژدہ اور بشارت عطا کرتا ہے) ان لوگوں کے لئے جنت میں لازوال نعمتیں ہیں۔
Their Lord gives them the glad tidings (glad news and good tidings) of His mercy, His pleasure, and Gardens — for these people in Paradise there are everlasting blessings.
خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ
یہ لوگ جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کے پاس ان کے لئے اجر عظیم ہے (بڑا ثواب ہے)۔
They will dwell therein forever. Indeed, with Allah is a great reward (a great recompense) for them.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِن اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْإِيمَانِ
لوگو! جو ایمان لائے ہو اپنے باپ دادا اور بھائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ، اگر وہ ایمان سے بڑھ کر
O you who believe! Do not take your fathers and brothers as allies if they prefer disbelief over faith
قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
(اے پیغمبر!) تم کہہ دو: اگرتم ہارے باپ دادا اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہاری قرابت دار اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے نقصان کا تم کو خوف ہے (اور جس کے مندا پڑنے کا ڈر لگا ہے) اور گھر جن کو تم پسند کرتے ہو، اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہارے پاس زیادہ عزیز ہیں تو اللہ کے حکم آنے تک انتظار میں رہو (یہاں تک کہ اللہ اپنا عذاب لائے)۔ اور اللہ فاسق قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔
(O Prophet!) Say: If your fathers, your sons, your brothers, your wives, your kinsmen, the wealth you have accumulated, the trade you fear may suffer losses (and the fear of whose decline plagues you), and the homes you love — if all these are dearer to you than Allah, His Messenger, and striving in His path, then wait until Allah brings His command (until Allah's punishment arrives). And Allah does not guide a transgressing people.
لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ
یقیناً اللہ نے بہت سے مقامات پر تم کو فتح و غلبہ اور نصرت عطا فرمائی اور روزِ حنین تم کو تمہاری کثرت نے مغرور کردیا تھا۔ پھر وہ کثرت کچھ کام نہ آئی، زمین پرتنگ ہوگئی باوجود یکہ بہت کشادہ تھی۔ پھر تم دشمنوں کو پیٹھ دکھاتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے۔
Indeed, Allah aided you in many places, and on the Day of Ḥunayn — when your numbers made you proud, but they availed you nothing; and the earth seemed straitened to you despite its vastness; then you turned and fled.
ثُمَّ أَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ
پھر اللہ نے اپنے رسول اور ایمان داروں پر تسکین اور اطمینان اتارا۔ اور ان کی تائید میں ایسے لشکر اُتارے جن کو تم نہیں دیکھ سکتے تھے اور کافروں کو تکلیف دی۔ کافروں کو ایسی ہی سزا ہوتی ہے۔
Then Allah sent down His tranquillity upon His Messenger and upon the believers, and He sent down armies you could not see, and He punished those who disbelieved. Such is the recompense of the disbelievers.
ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
پھر خدا جس کو چاہتا ہے اس کے بعد بھی توبہ قبول کرتا ہے (رحمت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتا ہے) اور اللہ تو غفور رحیم ہے ہی۔
Then Allah accepts the repentance of whomever He wills after all that (turning towards him with mercy), and Allah is indeed Most Forgiving, Most Merciful.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَٰذَا وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ إِن شَاءَ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اے ایمان والو! یہ مشرک (پلید ہیں) نجس ہیں، لہذا اس سال کے بعد ان کو مسجد حرام کے قریب نہ آنا چاہیے۔ اگر تم کو تنگ کنگی کا خوف ہو تو اللہ اپنے فضل و کرم سے اگر چاہے تو تم کو غنی کردے گا۔ اللہ علم و حکمت والا ہے۔
O you who believe! The polytheists are indeed impure (unclean), so after this year of theirs let them not approach the Sacred Mosque. And if you fear poverty, then Allah will enrich you from His grace if He wills. Indeed, Allah is All-Knowing, All-Wise.
قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ
(مسلمانو!) تم ان لوگوں سے مقاتلہ کرو، (جنگ کرو) جو نہ خدا پر ایمان لاتے ہیں اور نہ روز آخر پر اور نہ جس چیز کو خدا اور رسول نے حرام کیا ہے اس کو حرام سمجھتے ہیں۔ (جس چیز سے روکا ہے نہیں رکتے) اور سچے دین کے پابند نہیں ہیں (یہ لوگ کون ہیں؟) یہ اہل کتاب ہیں۔ خدا نے ان کو کتاب دی تھی۔ ان لوگوں سے جنگ کرتے رہو، یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے سرکاری ٹیکس ادا کریں، اور اپنی حکومت اور عاجزی کے قائل ہوجائیں۔
(O Muslims!) Fight those among the People of the Book who do not believe in Allah or the Last Day, who do not forbid what Allah and His Messenger have forbidden (they do not refrain from what has been prohibited), and who do not follow the true religion. Continue fighting them until they pay the jizyah (government tax) with their own hands, in a state of submission and subjugation.
وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَٰلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
یہودوں نے کہا عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، اللہ (یعنی مسیح) سچ کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں (بالکل بے اصل باتیں ہیں) ان کی باتیں بھی پہلے کے کافروں کی باتوں سے ملتی ہیں (ملتی جلتی ہیں)۔ ان پر خدا کی مار ۔ یہ کیا بکتے ہیں (ان کی دروغ گوئی کی کوئی انتہا بھی ہے؟)۔
The Jews said: 'Uzayr is the son of Allah, and the Christians said: The Messiah is the son of Allah. These are words from their mouths (utterly baseless words). Their words resemble the words of the earlier disbelievers (resembling their statements). May Allah's curse be upon them! How can they be so deluded (is there no end to their falsehood?).
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
ان لوگوں نے اپنے احبار اور رہبان کو (یعنی علماء کو اور فقراء کو) اللہ کو چھوڑ کر اپنا رب بنالیا ہے۔ اور مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو صرف ایک خدا کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ ان کے مشرکانہ باتوں سے پاک ہے۔
They have taken their rabbis and their monks as lords besides Allah, and also the Messiah, son of Mary — while they were commanded to worship only one God. There is no deity except Him. Glory be to Him above what they associate with Him.
يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ
(دشمنان اسلام) چاہتے ہیں کہ اپنے منہ کی ہوا سے اللہ کے نور کو بجھا دیں اور خدا منظور نہیں کرتا بجز اس کے کہ اپنے نور کو (کامل کرے) (مکرین، مانتے نہیں، کافر کراہت کرتے ہیں، کافراہت کرتے ہیں، تو ہزار بار کریں)۔
(The enemies of Islam) desire to extinguish Allah's light with their mouths, but Allah refuses except that His light should be completed (perfected) — even if the disbelievers hate it (let them hate it a thousand times over).
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق (یعنی اسلام) کو دے کر بھیجا، تاکہ اس کو (اسلام کو) تمام دینوں پر غالب کردے۔ مشرکین چاہے (برا مانیں (برا مانتے ہیں تو ہزار بار کریں، کراہت کریں)۔
It is He who sent His Messenger with guidance and the religion of truth (i.e., Islam), so that He may make it prevail over all other religions — even if the polytheists dislike it (let them dislike it a thousand times over).
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(اے مسلمانو!) اے ایمان دارو! بہت سے احبار اور راہب (یعنی علماء و مشائخ) لوگوں کا مال ناحق طور سے کھاجاتے ہیں، اور لوگوں کو راہ خدا سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونے چاندی سے خزانے بھرتے ہیں اور راہ خدا میں اس سے خرچ نہیں کرتے، ان کو المناک عذاب کی مبارک باد دو۔
(O Muslims!) O believers! Many of the rabbis and monks (i.e., scholars and spiritual leaders) devour people's wealth unjustly, and prevent people from the path of Allah. And those who hoard gold and silver and do not spend it in the path of Allah — give them the tidings of a painful punishment.
يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ
جس دن اس کو (سونے چاندی کو) جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور ان کے پیشانیوں کو اور ان کے پہلوؤں اور پشتوں کو داغ دئیے جائیں گے۔ (اور ان سے کہا جائے گا کہ) یہی ہے وہ مال جس کو تم نے اپنے لئے (اٹھا رکھا تھا) جمع کیا تھا (گاڑ گاڑ کر رکھا تھا)۔ اب اپنے پیشکیئے ہوئے مال کا مزہ چکھو۔
On the Day when it (the gold and silver) will be heated in the fire of Hell, and their foreheads, sides, and backs will be branded with it. (And they will be told:) This is the wealth you hoarded for yourselves (stored away, buried and kept). Now taste what you used to hoard.
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ
جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو مخلوق کیا اسی دن سے دفتر آسمانی (لوحِ قدرت میں) مہینوں کی گنتی بارہ (۱۲) ہے جن میں سے چار لائق احترام ہیں۔ پس تم (مہینوں) میں اپنے نفوس پر ظلم مت کرو (یعنی حق پر ملڑو)، ناحق پر نہ لڑو) اور جس طرح تم سے سب لشکرین مشرکین سے سب لڑتے ہیں تم بھی ان سب مشرکین سے لڑو۔ اور خوب جان لو اللہ کے ساتھ متقیوں کا ساتھ ہے (اس کی تائید ہمراہ ہے)۔
From the day Allah created the heavens and the earth, the number of months recorded in the book of the heavens (the Tablet of Decree) is twelve, of which four are sacred. This is the firmly established religion. So in these (months) do not wrong yourselves (i.e., do not fight for a wrongful cause, fight only for the right), and fight all the polytheists just as they fight all of you. And know well that Allah is with the God-fearing (His support accompanies them).
إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِّيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فَيُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللَّهُ زَيَّنَ لَهُمُ اللَّهُ سُوءَ أَعْمَالِهِمْ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
(مہینے کو) ہٹا دینا (اور بے ایمانی) میں اور زیادتی ہے (تازہ بدعت ہے)۔ جس سے کافر بہک جاتے ہیں (بے راہ ہوجاتے ہیں)۔ وہ ایک مہینے کو ایک سال حلال اور ایک سال حرام کہتے ہیں (یہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟) وہ اللہ کے حرام کئے ہوئے مہینوں کی گنتی کے برابر (حرام مہینے رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں) پھر اللہ کے حرام کئے ہوئے کو حلال بھی بناتے ہیں (یہ سب کیا ہے؟) ان کی بداعمالی ان کو اچھی دکھائی دیتی ہے اور اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔
The postponement (of sacred months) is but an increase in disbelief (a fresh innovation) by which the disbelievers are led astray. They declare it permissible in one year and forbidden in another (why do they do this?) — they intend to keep the count equal to the months Allah declared sacred, thereby making permissible what Allah has forbidden. What is all this? Their evil deeds are made to seem fair to them, and Allah does not guide a people of disbelievers.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُم بِالْحَيَوٰةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَوٰةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ
مسلمانو! ایمان والو، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم کو کہا جاتا ہے: ''راہ خدا میں جہاد کرنے کے لئے نکلو'' تو وہ تم پر گراں گزرتا ہے۔ اس بار سے تم زمین پر لیٹے جاتے ہو۔ کیا آخرت چھوڑ کر دنیا کی زندگی لینے پر آمادہ ہوگئے ہو۔ دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلہ میں بہت ہی کم ہے۔
O Muslims! O believers! What has happened to you that when you are told 'Go forth in the path of Allah for jihad,' it weighs heavily upon you? This burden makes you cling to the earth. Have you become content to take the life of this world instead of the Hereafter? The provisions of worldly life compared to the Hereafter are very little indeed.
إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اگر تم جہاد کرنے کے لئے نہ نکلو تو خدا تم کو ناک تاک عذاب دے گا اور تمہارے بدلے اور لوگوں کو لے گا۔ تم اس کا تم کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے اور اللہ ہر شئے پر قادر ہے۔
If you do not go forth (for jihad), He will punish you with a painful punishment and replace you with another people. You will not be able to harm Him in the least, and Allah is capable over all things.
إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اگر تم ان کی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) مدد اور ان کی نصرت نہ بھی کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی ہے کہ جب کافروں نے ان کو نکالا تھا اور وہ دو میں سے دوسرے تھے۔ جب وہ دونوں غار میں تھے تو انہوں نے اپنے مصاحب خاص (صدیق اکبر) کو فرمارہے تھے کہ کچھ غم نہ کرو (حزن و ملال نہ کرو، کیونکہ) بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا سکون خاطر نازل فرمایا اور ان کو ایسے لشکروں سے تائید دی کہ جن کو تم دیکھتے نہیں تھے۔ اور کافروں کی بات کو نیست اور پست کردیا اور خدا کی بات ہی بالا ہی ہے اور اللہ عزت والا اور حکمت والا ہے۔
If you do not help him (the Messenger of Allah ﷺ), then Allah already aided him when the disbelievers drove him out — the second of two — when they were both in the cave, and he was saying to his intimate companion (Ṣiddīq Akbar): Do not grieve (do not sorrow and lament), for indeed Allah is with us. Then Allah sent down His tranquillity upon him and supported him with armies you could not see. And He made the word of the disbelievers the lowest, while the word of Allah is the highest. And Allah is Mighty, Wise.
انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
راہ خدا میں جان و مال سے جہاد کرنے کے لئے نکلو، بے سامان (بے حال) نکل کھڑے ہو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے ۔ اگر تم کو علم ہوتا (ضرور اس پر کاربند ہوتے)۔
Go forth (for jihad) in the path of Allah with your wealth and your lives, whether lightly or heavily equipped. This is better for you — if only you knew (you would certainly act upon this).
لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوكَ وَلَٰكِن بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ يُهْلِكُونَ أَنفُسَهُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
اگر ان کو جھٹ پٹ کچھ مل جاتا یا معمولی سا سفر ہوتا تو وہ تمہارے ساتھ ہوجاتے مگر یہ سفران کو بڑا شاق گزر رہا ہے۔ اب (اور باتیں کے اور) اللہ کی قسمیں کھا کر ہم سے کہتے رہیں گے کہ ہم سے ہوسکتا تو ہم بھی تمہارے ساتھ (جہاد کے لئے) نکل کھڑے ہوتے۔ یہ لوگ (اپنی جانیں بچار نہیں، بلکہ حقیقت میں) خود کو ہلاک کر رہے ہیں (کذاب ہیں، ان کا ارادہ جہاد کا ہے ہی نہیں)۔
Had there been a quick gain or an easy journey, they would have followed you. But the distance seemed too long for them. They will now swear by Allah saying: If we had been able, we would have gone out with you (for jihad). They are destroying themselves (they are not saving their lives — in reality) (they are liars — they have no intention of jihad whatsoever).
عَفَا اللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ
اللہ تم کو معاف کرے تم نے ان کو اجازت کیوں دی؟ تاکہ تم کو معلوم ہوجاتا کہ کون جان نثار ہیں اور کون جھوٹے حیلہ باز ہیں۔
Allah has pardoned you — why did you grant them permission (to stay behind)? So that you might have known who were the truthful ones and who were the deceitful pretenders.
لَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَن يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ
جو لوگ خدا اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں، وہ جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق کوئی اجازت نہیں چاہتے (کیونکہ اجازت ملنی غیر حاضری کی ہوتی ہے) اور اللہ کو متقیوں کا خوب علم ہے۔
Those who believe in Allah and the Last Day do not seek permission from you to be exempted from striving with their wealth and lives (for permission is sought only in order to stay behind). And Allah has full knowledge of the God-fearing.
إِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِي رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ
وہی تم سے اجازت اور اذن چاہتے ہیں (حاضر جنگ نہ ہونے کی) جن کو اللہ اور روزِ قیامت پر یقین نہیں۔ ان کے دل میں شک پڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے شکوک و تردود میں پڑے ہوئے ہیں۔
Only those seek permission from you (to be excused from battle) who do not believe in Allah and the Last Day. Their hearts are filled with doubt, and they are tossed about in their doubts and hesitations.
وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَاعِدِينَ
اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو کچھ تو سامان مہیا کرتے (کچھ تو جنگ کے لئے تیاری کرتے) مگر نہیں اللہ نے ان کے اُٹھنے ہی کو پسند نہیں کیا اور انہیں روک دیا اور (ان کے لئے) کہا گیا، تم بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھ رہو۔
And if they had intended to set out, they would have prepared some equipment for it [some provision for the campaign], but Allah disliked their going forth, so He held them back, and it was said [to them]: Sit back with those who sit back.
لَوْ خَرَجُوا فِيكُمْ مَا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ
(یہ منافق) اگر تم میں رہ کر جنگ کے لئے نکلتے تو فساد اور فساد بڑھاتے تمہارے درمیان دوڑ لگاتے (فتنہ و فساد چاہتے) اور تم میں کافروں کے لئے بعض تمہاری باتیں سننے والے (جاسوسی کرنے والے) ہیں اور اللہ (ان) ظالموں سے خوب باخبر ہے۔
Had they set out with you, they would have added nothing to you but disorder [mischief], and they would have hurried about in your midst seeking to sow discord among you, and among you are those who listen for their sake [act as spies for them]. And Allah is well aware of the wrongdoers.
لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ حَتَّى جَاءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَارِهُونَ
بے شک انہوں نے اس سے پہلے بھی فتنہ و فساد برپا کیا تھا اور تمہارے خلاف ہر قسم کی تدبیریں کی تھیں (الٹ پھیر کیا تھا) ۔ یہاں تک کہ حق آ گیا اور امر حق غالب ہوگیا اور یہ کراہت کرتے اور برا مانتے رہے۔
Indeed they sought to cause discord [create mischief] before this, and they turned matters upside down for you, until the truth came and the command of Allah prevailed, even though they hated it.
وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِّي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ
اور ان میں سے بعض وہ لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں: ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم جنگ میں شریک نہ ہوں اور امتحان میں نہ ڈالے۔ ہاں! وہ خود فتنے اور امتحان میں پڑے ہوئے ہیں اور یقیناً جہنم کافروں کو احاطہ کیے ہوئے ہے (یعنی وہ دوزخ سے بھاگ کر نہیں جاسکتے)۔
And among them is one who says: Grant me leave [to stay back] and do not put me to trial. Beware! It is into trial that they have already fallen. And indeed Hell encompasses the disbelievers.
إِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُوا قَدْ أَخَذْنَا أَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَيَتَوَلَّوا وَهُمْ فَرِحُونَ
اگرتم کو کچھ بھلائی پہنچتی ہے تو اُن کو برا لگتا ہے اور اگر کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم نے اپنا کام تو پہلے ٹھیک کر لیا تھا۔ پتے ہیں تو خوشیاں مناتے۔
If good fortune befalls you, it grieves them, but if a calamity strikes you, they say: We took our precaution beforehand, and they turn away rejoicing.
قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(اے پیغمبر!) تم ان سے کہہ دو ہم کو وہی ہوگا جو اللہ نے ہماری تقدیر میں لکھا ہے۔ وہی (اللہ) ہمارا کارساز ہے اور ایمانداروں کو چاہیے کہ خداہی پر توکل کریں۔
Say: Nothing will befall us except what Allah has written for us. He is our Protector [Guardian]. And in Allah should the believers place their trust.
قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَنْ يُصِيبَكُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِنْ عِنْدِهِ أَوْ بِأَيْدِينَا فَتَرَبَّصُوا إِنَّا مَعَكُمْ مُتَرَبِّصُونَ
تم (ان منافقوں سے) کہہ دو کہ تم ہمارے متعلق دو بھلائیوں میں سے ایک کا انتظار کرتے ہو (دو دونوں ہمارے حق میں اچھی ہی ہیں) اور ہم بھی تمہارے متعلق انتظار کرتے ہیں کہ خدا اپنے پاس سے تم کو عذاب دے گا، یا ہمارے ہاتھوں سے تم کو سزا دے گا۔ اچھا اب تم انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔
Say: Are you waiting for anything to befall us except one of the two good things [victory or martyrdom]? But we are waiting for you [hoping] that Allah will afflict you with punishment from Himself or at our hands. So wait; we too are waiting with you.
قُلْ أَنْفِقُوا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا لَنْ يُتَقَبَّلَ مِنْكُمْ إِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فَاسِقِينَ
(پیغمبر!) تم کہہ دو: تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے۔ تمہارا دیا ہرگز قبول نہ ہوگا۔ کیوں کہ تم فاسق اور بدکار لوگ ہو۔
Say: Spend willingly or unwillingly; it will never be accepted from you. Indeed you have been a people who are ungodly [disobedient].
وَمَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَوةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَارِهُونَ
اور ان کے دیے کو قبولیت سے اس بات ہی نے روکا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے منکر ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں تو سستی سے۔ راہ خدا میں کچھ دیتے بھی ہیں تو کراہت کے ساتھ۔
And nothing prevents their expenditures from being accepted except that they disbelieve in Allah and His Messenger, and they come to prayer only with sluggishness, and they spend [in Allah's way] only while reluctant.
فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ
(اے پیغمبر!) پس تم کو ان کے مال و اولاد کچھ تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ چاہتا ہے کہ ان کو (ان کے مال و اولاد دیے سے) دنیاوی حیات دنیوی ہی میں ان کو عذاب میں ڈالے اور ان کی جان کفر کی حالت میں نکلے۔
So let not their wealth or their children impress you [fill you with wonder]. Allah only intends to punish them through these [their wealth and children] in the life of this world, and that their souls depart while they are disbelievers.
وَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ وَمَا هُمْ مِنْكُمْ وَلَكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ
اور یہ لوگ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک ڈرپوک قوم ہیں۔ (مسلمان کسی سے نہیں ڈرتا، رضائے الٰہی پر رہتا ہے)۔
And they swear by Allah that they are indeed from among you, but they are not from among you. They are rather a people who are [only] afraid [cowardly].
لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَأً أَوْ مَغَارَاتٍ أَوْ مُدَّخَلًا لَوَلَّوْا إِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُونَ
اگر ان کو پناہ گاہ مل جاتی یا غار یا کہیں گھس جانے کی جگہ ملٹی تو وہ اس کی طرف بے قابو ہوکر ناخرمانی کے ساتھ پھر جاتے۔
If they could find a refuge or some caves or any place to enter [hide in], they would turn towards it in a headlong rush.
وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِنْ لَمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ
اور ان میں سے بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو تم پر مال میں اعتراض کرتے ہیں، اگر ان کو کچھ دیا جاتا ہے تو خوش رہتے ہیں اور نہ دیا جائے تو بگڑ جاتے ہیں۔ (اور غصہ میں بھر جاتے ہیں)۔
And among them are some who find fault with you regarding the distribution of alms [charitable funds]. If they are given from it, they are pleased, but if they are not given from it, they become angry.
وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَ
اور کیا اچھا ہوتا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے دیے ہوئے پر راضی رہتے اور کہتے ہم کو خدا بس ہے اللہ اور اس کا رسول اپنے فضل سے ہم کو اور دیں گے۔ (ہم کو توخدا چاہیے) ۔ (ہم کو توخدا چاہیے)۔
And how much better it would have been if they had been satisfied with what Allah and His Messenger gave them, and said: Allah is sufficient for us; Allah will give us [more] from His bounty, and so will His Messenger. Indeed to Allah alone are we desirous [of turning].
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
صرف صدقات محض فقیروں، مسکینوں کے لئے ہے۔ نیز ان کارکنوں کے لئے جو صدقات کا انتظام کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جن کی تالیف قلوب ضروری ہے، اور غلاموں کی آزادی میں اور قرض داروں کے قرض ادا کرنے میں اور راہ خدا میں اور مسافروں کے لئے۔ یہ اللہ کا فرض ہے (ٹھہرا یا ہوا ہے) اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
The alms [zakāt] are only for the poor, and the needy, and those employed to administer them, and those whose hearts are to be reconciled [won over], and for [the freeing of] slaves, and for those in debt, and in the cause of Allah, and for the wayfarer. This is an obligation from Allah. And Allah is All-Knowing, All-Wise.
وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اور ان میں سے بعض لوگ پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں (ہر ایک کی سنتے ہیں) سرایا گوش ہیں۔ تو تم کہہ دو، وہ سرایا گوش ہیں تمہاری بھلائی کے لئے یعنی اللہ کا ایمان اور یقین رکھتے ہیں اور مسلمانوں (کے فائدے) کے لئے یقین رکھتے ہیں۔ وہ یقین رکھتے ہیں۔ وہ ایمان داروں کے لئے رحمت ہے اور جو لوگ رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں انہیں ہے عذابِ الیم (دردناک سزا)۔
And among them are those who cause annoyance to the Prophet ﷺ and say: He is all ears [listens to everyone]. Say: He is ears of good for you [a listener for your benefit] — he believes in Allah and trusts the believers, and is a mercy for those among you who have believed. And those who cause harm to the Messenger of Allah — for them is a painful punishment.
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَنْ يُرْضُوهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ
وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں اور اللہ اور اس کا رسول اس کو راضی رکھنے کے زیادہ مستحق ہیں کہ اس کو راضی رکھیں اگر وہ ایمان دار ہیں۔
They swear by Allah to you in order to please you, but Allah and His Messenger have a greater right that they should please Him, if they are truly believers.
أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذَلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ
کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول کے سکنارہ گشی کرتا ہے اس کے لئے آتش دوزخ ہے اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ تو بڑی خواری ہے (رسوائی ہے)۔
Do they not know that whoever opposes Allah and His Messenger — for him is the fire of Hell, abiding in it forever? That is the great humiliation [disgrace].
يَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ قُلِ اسْتَهْزِئُوا إِنَّ اللَّهَ مُخْرِجٌ مَا تَحْذَرُونَ
منافق لوگ ڈرتے ہیں کہ اُن پر کوئی ایسی سورت اُتاری جائے جو ان کے دلوں کے رازوں سے ان کو باخبر کردے۔ (پیغمبر!) تم کہہ دو: ٹھٹھے اُڑاؤ۔ اچھا! یہی تو اللہ اس بات سے تم ڈرتے ہو اس کو اللہ ضرور ظاہر کرکے نکالے گا (تمہارا راز فاش کرے گا)۔
The hypocrites fear lest a surah be revealed against them, informing them of what is in their hearts. Say: Mock on! Indeed Allah will bring to light [expose] what you fear [your hidden secrets].
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ
اگر تم ان سے سوال کرو تو وہ ضرور کہہ دیں گے، ہم تو خالی یوں ہی باتیں اور دل لگی کرتے تھے۔ تم کہہ دو: کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے تم ہنسی کرتے تھے۔
And if you ask them, they will certainly say: We were only jesting and playing. Say: Was it Allah and His signs and His Messenger that you were mocking?
لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ
بے کار جھوٹی عذر خواہی نہ کرو۔ تم تو ایمان لانے کے بعد کفر کیا۔ اگر ہم تمہاری ایک جماعت سے عفوکردیں گے تو ایک جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ مجرم تھی۔
Make no excuses. You have disbelieved after your faith. If We pardon one group among you, We will punish another group because they have been criminals.
الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
منافق مرد ہوں یا منافق عورتیں، سب ایک ہی قسم کے ہیں۔ بری بات کا حکم کرتے ہیں اور اچھی بات سے روکتے ہیں۔ ان کی مٹھی ہمیشہ بند رہتی ہے (راہ خدا میں کچھ نہیں دیتے)۔ یہ لوگ خدا کو بھول گئے۔ خدا بھی ان کو بھول گیا۔ بے شک منافق ہی فاسق ہیں (بدکار ہیں)۔
The hypocrite men and hypocrite women — they are all from one another. They command what is wrong and forbid what is right, and they keep their hands closed [withhold from spending in Allah's way]. They forgot Allah, so He has forgotten them. Indeed the hypocrites — they are the ungodly [the defiantly disobedient].
وَعَدَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا هِيَ حَسْبُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُقِيمٌ
منافق مردوں اور منافق عورتوں اور منکرین کے لئے خدا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آتش دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ جہنم ان کے لئے بالکل کافی ہے۔ ان پر خدا کی لعنت ہے (اس کی پھٹکار ہے) اور انہیں کے لئے اٹل عذاب ہے۔
Allah has promised the hypocrite men and the hypocrite women and the disbelievers the fire of Hell — abiding therein forever. It is sufficient for them. And Allah has cursed them. And for them is a lasting punishment.
كَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوا أَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَأَكْثَرَ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا فَاسْتَمْتَعُوا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خَاضُوا أَوَلَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
(اے منافقو!) تم بھی اسی طرح ہو جس طرح سے پہلے لوگ گزرے ہیں۔ وہ تم سے قوی تھے۔ ان کے پاس مال و اولاد بہت کچھ تھی۔ بس وہ اپنے حصے سے لطف اندوز ہوئے اور تم بھی اپنے حصے سے لطف اندوز ہوئے جیسے کہ وہ لوگ جو تم سے پہلے تھے اپنے حصے سے فائدہ اُٹھاتے تھے اور تم بھی ایسے ہی مثلے پاکاتے رہتے ہو جیسے کہ ان لوگوں نے کیا اور ان لوگوں نے کیا ان کے اعمال دنیا و آخرت میں غارت مگئے (اکارت ہوگئے) اور وہی یہی خسارہ (اور نقصان) اُٹھانے والے۔
Like those before you — they were stronger in power than you and had more wealth and children. They enjoyed their share [of worldly pleasures], and you have enjoyed your share just as those before you enjoyed their share; and you have indulged in vain discourse as they indulged. Those are the ones whose deeds have come to nothing in this world and the Hereafter, and those are the losers.
أَلَمْ يَأْتِهِمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَاهِيمَ وَأَصْحَابِ مَدْيَنَ وَالْمُؤْتَفِكَاتِ أَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
کیا ان لوگوں کے پاس ان لوگوں کی خبریں نہیں آئی جوان سے پہلے تھے؟ (وہ کون تھے؟) قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور اصحاب مدین کے رہنے والے اور وہ لوگ جن کی بستیاں تہہ و بالا کردی گئیں۔ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے لہٰذا ایسا نہیں ہوا کہ خدا نے ان کو جتا کیا بلکہ خود ان لوگوں نے اپنے آپ کو تاہ کیا۔
Has not the news of those before them come to them — the people of Nūḥ, and ʿĀd, and Thamūd, and the people of Ibrāhīm, and the dwellers of Madyan, and the overturned cities [the towns of Lot]? Their messengers came to them with clear proofs. So it was not Allah who wronged them, but they used to wrong themselves.
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور مومن مرد اور مومن عورتیں، وہ باہم ایک دوسرے کے یار و مددگار ہیں، وہ اچھے کاموں کا حکم کرتے ہیں اور برے کاموں سے منع کرتے ہیں اور باقاعدگی سے نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ عنقریب ان لوگوں پر اللہ ضرور رحم فرمائے گا، وہ بڑی عزت و حکمت والا ہے (غالب ہے ۔ دانا ہے)۔
And the believing men and believing women — they are guardians [allies] of one another. They command what is right and forbid what is wrong, and they establish the prayer and pay zakāt, and they obey Allah and His Messenger. Those — Allah will have mercy on them. Indeed Allah is Almighty, All-Wise.
وَعَدَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
خدائے تعالیٰ نے ایمان دار مردوں اور ایمان دار عورتوں کو جنتیں دینے کا وعدہ فرماتا ہے، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ہمیشہ کے باغوں کے اچھے مکانات عطا کرنے کا بھی وعدہ فرماتا ہے۔ اور اللہ کی رضا مندی تو ان سے سب سے زیادہ بڑی چیز ہے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ (عظیم فائز المرامی)۔
Allah has promised the believing men and believing women gardens beneath which rivers flow, abiding therein forever, and goodly dwellings in the gardens of perpetual abode [ʿAdn]. And the pleasure of Allah [His good pleasure toward them] is the greatest of all. That is the great success.
يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(اے پیغمبر!) کافروں اور منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔ (ان سے لڑنے میں دل کڑا کرو) ان کا مقام جہنم ہے اور ان کا انجام بہت برا ہے۔
O Prophet ﷺ! Strive hard [wage jihad] against the disbelievers and the hypocrites, and be stern with them. Their abode is Hell, and what a wretched destination.
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنْ يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَهُمْ وَإِنْ يَتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
وہ لوگ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا۔ بے شک انہوں نے کفر کا کلمہ کہا اور اپنے اسلام کے بعد کفر اختیار کیا۔ اور ایسے ایسے منصوبے گاٹھے جن کو وہ حاصل کر نہ سکے۔ اور انہوں نے (دشمنی کیوں ڈھکی؟) یہی ایک بات تو دشمنی کرتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیا۔ اگر (اب بھی) وہ توبہ کریں تو ان کے لئے بہتر ہے (ان کے حق میں ہے) اور اگر وہ اعراض کریں تو اللہ کو دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب کرے گا (دنیا اور) زمین میں ان کا کوئی یار نہ مددگار نہ ہوگا۔
They swear by Allah that they did not say [it], but they certainly did say the word of disbelief, and they disbelieved after their Islam, and they plotted what they could not achieve. And they took revenge for nothing except that Allah and His Messenger had enriched them from His bounty. If they repent, it will be better for them [in their interest]; and if they turn away, Allah will punish them with a painful torment in this world and the Hereafter, and they will have in the land no protector and no helper.
وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللَّهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ
اور ان لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ سے معاہدہ کرتے ہیں کہ اگر اللہ ہم کو اپنے فضل و کرم سے دے تو ہم (اس کی راہ میں) صدقہ دیں گے (خیرات کریں گے) اور ہم صالحین میں سے ہوجائیں گے۔
And among them are those who made a covenant with Allah [promising]: If He gives us of His bounty, we will surely give charity [in His way] and we will surely be among the righteous.
فَلَمَّا آتَاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ
پھر جب ان کو (خدانے) اپنے فضل و کرم سے عطا کیا تو اس میں بخل کیا اور وعدہ کا جو وعدہ کیا تھا اس سے مکر گئے اور اعراض کرنے لگے۔
But when He gave them of His bounty, they withheld it miserly and turned away, while they were averse.
فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ
بس اس کے بعد اللہ نے ان کے دلوں میں (مرتے دم تک اور) قیامت تک نفاق پیدا کردیا۔ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ خلافی کی اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔
So He caused hypocrisy to take root in their hearts until the Day they meet Him [on the Day of Resurrection] — because they broke their promise to Allah and because they used to lie.
أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ وَأَنَّ اللَّهَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ ان کے راز اور سرگوشی کو خوب جانتا ہے اور یہ کہ بے شک اللہ تمام غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے۔
Do they not know that Allah knows their secret [thoughts] and their private consultations, and that Allah is the All-Knower of all unseen things?
الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
جو لوگ ان ایمانداروں پر طعن تشنیع کرتے ہیں جو خوش دلی سے صدقات دیتے ہیں (خیرخیرات کرتے ہیں) اور جو لوگ مشقت سے کمائے ہوئے تھوڑے مال کے سوانہیں پاتے (ان پر اعتراض کرتے ہیں)۔ اللہ بھی ان سے تمسخر کرتا ہے اور ان کے لئے ہے المناک عذاب۔
Those who find fault with the volunteers [the willing givers] among the believers in [the matter of] charitable donations, and with those who find nothing [to give] except their labour [their meagre efforts] — so they mock them — Allah will mock them, and for them is a painful punishment.
اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
(اے پیغمبر!) تم ان کے لئے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو۔ اگرتم ان کے لئے ستر (٧٠) دفعہ مغفرت طلب کروگے تو خدا ان کی ہرگز مغفرت نہ کرے گا۔ (ان کو ہرگز نہ بخشے گا) یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اللہ و رسول سے کفر کیا اور اللہ نافرمان و بدکار لوگوں کو کبھی ہدایت نہیں کرتا۔
Whether you seek forgiveness for them or do not seek forgiveness for them — if you seek forgiveness for them seventy times, Allah will never forgive them. That is because they disbelieved in Allah and His Messenger. And Allah does not guide the people who are ungodly [the disobedient].
فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ وَكَرِهُوا أَنْ يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالُوا لَا تَنْفِرُوا فِي الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا لَوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ
جو لوگ پیغمبر خدا کے خلاف مرضی (ان کی خالفت) میں اپنے گھروں میں بیٹھ رہے، وہ بڑے خوش رہے اور وہ لوگ راہ خدا میں جان اور مال سے جہاد کرنے کو مکروہ (ناگوار) سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں (کمروں سے) کہ اس شدت کی گرمی میں جنگ کے لئے نہ نکلو۔ (پیغمبر!) تم کہہ دو دوزخ کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ سوچتے ہوتے۔
Those who were left behind rejoiced in their sitting still [staying back] against the [wishes of the] Messenger of Allah, and they disliked striving with their wealth and their lives in the cause of Allah, and they said: Do not go out in the heat. Say: The fire of Hell is more intense in heat — if only they understood.
فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
ان کو تھوڑا ہنسنا اور خوب رونا چاہیے۔ یہ اس کی سزا ہے جس کو وہ کماتے تھے۔
So let them laugh a little and weep much — as a recompense for what they used to earn [the deeds they committed].
فَإِنْ رَجَعَكَ اللَّهُ إِلَى طَائِفَةٍ مِنْهُمْ فَاسْتَأْذَنُوكَ لِلْخُرُوجِ فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِيَ أَبَدًا وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا إِنَّكُمْ رَضِيتُمْ بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةً فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِينَ
پھر اگر اللہ تم کو (زندہ سلامت) واپس لائے ان میں سے ایک گروہ کی طرف، پھر وہ جنگ کے لئے نکلنے کی تم سے اجازت مانگیں تو (اے پیغمبر!) تم ان سے کہو کہ تم ہرگز میرے ساتھ نہ نکلوگے اور نہ میرے ساتھ ہوکر دشمن سے لڑوگے۔ (یعنی تم سے جانبازی کی بالکل امید نہیں) تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے پر راضی ہوچکے تھے تم اب پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ (یعنی تم آرام طلبوں سے لڑنے کی بالکل امید نہیں)۔
So if Allah brings you back [in safety] to a group of them, and they ask your permission to go out [to battle], then say [to them]: You will never go out with me, and you will never fight an enemy alongside me. You were content to sit still the first time, so sit [now] with those who stay behind.
وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ
تم ان لوگوں میں سے کسی پر بھی جو مرگیا ہو نماز نہ پڑھو (ان کے لئے دعا نہ کرو) نہ اس کی قبر کے پاس کھڑے رہو۔ یہ لوگ خدا اور رسول سے منکر تھے اور مرے تو فاسق و بدکار مرے۔
And never pray [the funeral prayer] over any of them who dies, ever, and do not stand over his grave. Indeed they disbelieved in Allah and His Messenger, and they died while they were ungodly [defiantly disobedient].
وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَأَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ
(اے پیغمبر!) پس تم کو ان کے مال اور اولاد کہیں تعجب میں نہ ڈالیں۔ (پسند نہ آجائیں) خدا کا صرف یہ مقصد ہے کہ ان کو (ان کے مال و اولاد دیے سے) دنیاوی ہی میں ان کو عذاب میں جتلائے اور وہ کافر ہی مریں۔
And do not let their wealth or their children impress you. Allah only intends to punish them through these in this world, and that their souls depart while they are disbelievers.
وَإِذَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ أَنْ آمِنُوا بِاللَّهِ وَجَاهِدُوا مَعَ رَسُولِهِ اسْتَأْذَنَكَ أُولُو الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَقَالُوا ذَرْنَا نَكُنْ مَعَ الْقَاعِدِينَ
اور جب کوئی سورت اتاری جاتی ہے (جس میں حکم رہتا ہے) کہ اللہ پر ایمان لاؤ، اللہ کے ساتھ ہوکر جہاد کرو تو لوگ (مال دار) تم سے اجازت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو گھر میں بیٹھ رہنے لوگوں کے ساتھ رہنے دو۔
And whenever a surah is revealed [commanding]: Believe in Allah and strive [in His cause] alongside His Messenger, those among them of means [the wealthy ones] ask your permission, and say: Leave us to be with those who sit at home.
رَضُوا بِأَنْ يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ
(یہ منافق) عورتوں اور بچوں کے ساتھ گھر میں رہ جانے کو پسند کرتے ہیں۔ ان کے دلوں پر مہر لگ گئی ہے (تاریکی چھا گئی ہے) لہٰذا وہ کچھ نہیں سمجھتے۔
They were pleased to be with those who stay behind [women and children], and a seal was set upon their hearts, so they do not understand.
لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَأُولَئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
مگر رسول اللہ اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ایمان لائے، اپنے جان و مال سے (اسلام کے لئے) کوشش کرتے ہیں (جہاد کرتے ہیں)۔ انہیں کے لئے ہے ہر طرح کی بھلائی اور وہی ہیں کامیاب (فلاح پانے والے)۔
But the Messenger ﷺ and those who believed with him strove [engaged in jihad] with their wealth and their lives, and for them are [all kinds of] good things, and those are the successful ones.
أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
اللہ نے ان (ایمانداروں) کے لئے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ (ایماندار لوگ) ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔
Allah has prepared for them gardens beneath which rivers flow, abiding therein forever. That is the great success.
وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِينَ كَذَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ سَيُصِيبُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اور ان دیہاتی عربوں میں سے بعض (جھوٹے عذر کرنے والے) آئیں گے (بہانے حیلے کرنے والے) آئیں گے کہ انہیں اجازت دی جائے۔ یہ اور وہ لوگ جو خدا اور اس کے رسول سے جھوٹی باتیں کہتے تھے، گھر میں بیٹھ رہے۔ ان منکروں کو عنقریب دردناک عذاب پہنچے گا۔
And the [Bedouin] Arabs who had excuses [fabricated reasons] came that permission might be given to them, and those who lied to Allah and His Messenger sat [at home]. Soon a painful punishment will strike those among them who disbelieved.
لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَى وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنْفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں (الزام نہیں) جو ضعیف ہیں، بیمار ہیں اور نہ ان لوگوں پر جو خرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں پاتے۔ جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مطیع و فرمانبردار ہیں اور نیکوکاروں پر الزام کی کوئی راہ نہیں ہے اور اللہ تو غفور و رحیم ہے۔
There is no blame on the weak, nor on the sick, nor on those who find nothing to spend [for the cause of Allah], so long as they are sincere [loyal and obedient] to Allah and His Messenger. There is no blame [no recourse] against the doers of good. And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.
وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ
اور ان لوگوں پر بھی کوئی حرج نہیں ہے جو تمہارے پاس آتے ہیں کہ تم انہیں سواری عطا کرو اور تم کہتے ہو (یہ سنو) کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے۔ وہ واپس چلے جاتے ہیں اور ان کی آنکھیں (یعنی وہ روتے ہیں) کہ ان کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ خرچ کرسکیں۔
Nor is there blame on those who, when they came to you to have you provide them with mounts [riding animals for the campaign], you said: I find no mounts [means of transport] to carry you. They turned back while their eyes overflowed with tears out of grief that they could not find the means to spend [for the cause of Allah].
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ رَضُوا بِأَنْ يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
اعتراض کا راستہ تو ان لوگوں پر کھلتا ہے جو جنگ میں حاضر ہونا نہیں چاہتے اور تم سے اس کی اجازت چاہتے ہیں حالانکہ وہ مالدار ہیں (صاحب ساز و سامان ہیں)۔ وہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ گھر میں بیٹھ رہنے کو پسند کرتے ہیں (یعنی ان کا مقولہ ہے جان بچی تو لاکھوں پائے) ان کے دلوں پر خدا نے مہر کردی ہے۔ اب وہ (کوئی درست اور صحیح بات) نہ سمجھتے ہیں نہ جانتے ہیں۔
The blame is only against those who ask you for exemption [from battle] while they are wealthy. They are content to be with those who stay behind [the women and children at home], and Allah has set a seal upon their hearts, so now they do not know [perceive the truth].
يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو وہ تم سے عذر خواہی کریں گے۔ (پیغمبر!) تم کہہ دو، عذر نہ کرو، ہم تمہاری کسی بات کا یقین نہیں کرتے۔ اللہ نے ہم کو تمہاری خبروں کی اطلاع دی ہے اور اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے عمل کو دیکھے گا۔ پھر وہ تم کو اس (خدا) کی طرف پلٹا دیا جائے گا جو باطن اور ظاہر (نہاں اور عیاں سب) کا جانے والا ہے۔ پھر وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
They will offer apologies to you when you return to them. Say: Make no excuses; we will not believe you. Allah has already informed us about your affairs. And Allah will observe your deeds, and so will His Messenger. Then you will be returned to the Knower of the unseen and the witnessed, and He will inform you of what you used to do.
سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
عنقریب یہ لوگ تمہارے پاس (۲ آئیں گے اور) اللہ کی قسمیں کھائیں گے، جب تم ان کے پاس واپس پلٹو گے تا کہ تم ان سے اعراض کرو۔ اچھا، تم ان سے درگزر کرو۔ یہ بڑے پلید اور ناپاک لوگ ہیں، ان کا مقام جہنم ہے ان کے اعمال بد کی سزا۔
They will swear to you by Allah when you return to them, so that you may turn away from them [overlook their offence]. So do turn away from them. Indeed they are impure [filthy], and their abode is Hell — a recompense for what they used to do.
يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ
(جھوٹی قسمیں کھا کر) حلف اُٹھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ۔ اگر تم ان لوگوں سے راضی ہوجاؤ تو اللہ نافرمان لوگوں سے کبھی راضی نہ ہوگا۔
They swear to you [by Allah] so that you may be pleased with them. But if you are pleased with them, then indeed Allah is not pleased with the people who are ungodly [the disobedient].
الْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا حُدُودَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
یہ دیہاتی عرب کفر و نفاق میں بڑے ہیں (بڑے ہی سخت ہیں) اور خداوند خدا نے اپنے رسول پر جو احکام اتارے ہیں ان سے یہ دیہاتی ان سے باالکل واقف نہیں اور اللہ تو علم و حکمت والا ہے۔
The Bedouin Arabs are the most intense in disbelief and hypocrisy, and they are most worthy of not knowing the limits [boundaries of the laws] of what Allah has revealed to His Messenger. And Allah is All-Knowing, All-Wise.
وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور بعض دیہاتی اعرابی ایسے ہیں جو (راہ خدا میں) کچھ دیتے ہیں تو اس کو (جرمانہ سمجھتے ہیں) بیکار اور نقصان سمجھتے ہیں، (ان کو ایک قسم کا تاوان لگتا ہے)۔ اور (مسلمانوں) پر آفتیں پڑنے کا انتظار کرتے ہیں۔ (مسلمانوں پر کوئی آفت آ گئی مگر) ان (بدنصیبوں) پر بھی آفت آ گئی اور اللہ (سب کی سنتا اور جانتا ہے) سمیع ہے، علیم ہے۔
And among the Bedouin Arabs are those who regard what they spend [in the cause of Allah] as a loss [a fine], and they wait for misfortunes to befall you. Upon them shall be the evil turn of fortune [the calamity]. And Allah is All-Hearing, All-Knowing.
وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ أَلَا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَهُمْ سَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
بعض دیہاتی عرب اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ (راہ خدا میں) صرف کرتے ہیں اس کو اللہ تعالیٰ کے پاس تقرب (کا ذریعہ) سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس تقرب اور رسول خداﷺ کے دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں (جو کچھ الله دیا جاتا ہے)۔ ہاں سنو! وہ بے شک ان کے لئے قربت الٰہی ہے وہ عنقریب اللہ ان کو رحمت میں داخل کرے گا کیونکہ اللہ مغفرت اور رحمت والا ہے۔
And among the Bedouin Arabs are those who believe in Allah and the Last Day and regard what they spend [in His cause] as a means of drawing near to Allah and of [earning] the prayers [blessings] of the Messenger ﷺ. Indeed it is a means of nearness for them. Allah will admit them into His mercy. Indeed Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهُرُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
اور مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین (یعنی قدیم اسلام) لوگ اور جو نیکوکاری کے ساتھ ان کی اتباع کرتے ہیں، اللہ ان سے راضی ہے، اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں اور اللہ نے ان کے لئے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ یہ عظیم الشان (اور بڑی کامیابی) ہے۔
And the forerunners — the first [to embrace Islam] from the Muhājirūn [Emigrants] and the Anṣār [Helpers], and those who followed them in goodness — Allah is pleased with them and they are pleased with Him. And He has prepared for them gardens beneath which rivers flow, abiding therein forever. That is the supreme success.
وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ
اور ان دیہاتی عربوں میں سے بعض جو تمہارے اطراف میں ہیں کچھ منافق ہیں، اسی طرح مدینے والوں میں سے بھی کچھ منافق بیٹھے ہوئے ہیں (وہی نفاق پر پکے ہوئے ہیں) ۔ تم انہیں نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔ عنقریب ہم ان کو دو دفعہ عذاب دیں گے (شرم بار کریں گے) پھر وہ بڑے سخت عذاب کی طرف واپس پھیرے جائیں گے (جو قیامت میں ہوگا)۔
And among the Bedouin Arabs around you are hypocrites, and among the people of Madinah [too] — they have persisted in hypocrisy. You do not know them; We know them. We will punish them twice [humiliate them], and then they will be returned to a grievous punishment.
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
اور کچھ اور لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے (اقرار کرلیا ہے) اچھے کاموں کے ساتھ بعض برے کاموں کو بھی ملط کردیا۔ عنقریب اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور اللہ تو غفور و رحیم ہے۔
And there are others who have confessed their sins — they had mixed a righteous deed with another that was evil. Perhaps Allah will turn [in forgiveness] to them. Indeed Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَوتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(پیغمبر!) تم ان کے مالوں میں سے صدقہ لو۔ اس سے تم ان کو پاک کردوگے (ان کی طہارت اور تزکیہ ہوجائے گا) اور ان کے لئے دعا کرو (تمہاری دعا ان کے دلوں کو تسکین ہوگی) اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔
Take alms [zakāt] from their wealth, so that you may purify and cleanse them thereby, and pray for them [invoke blessings upon them]. Indeed your prayer is a comfort [reassurance] for them. And Allah is All-Hearing, All-Knowing.
أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات بھی قبول فرماتا ہے (اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے)۔
Do they not know that it is Allah who accepts repentance from His servants and takes [receives] the charitable donations, and that Allah — He is the Ever-Accepting of repentance, the Most Merciful?
وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(پیغمبر!) تم کہہ دو۔ تم کام کرتے جاؤ۔ اللہ اور اس کا رسول، اللہ اور مسلمان تمہارے اعمال کو دیکھیں گے۔ پھر تم اس واقف کار (خدا) کی طرف کہ غائب و حاضر کے جاننے والے ہیں وہ پاس واپس جانا ہے۔ پھر وہ تم کو بتادے گا کرتے تھے (تمہارے اعمال کیسے تھے؟)۔
And say: Act! For Allah will observe your deeds, and so will His Messenger ﷺ and the believers. And you will be returned to the Knower of the unseen and the witnessed, and He will inform you of what you used to do.
وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اور دوسرے اور لوگ اللہ کے حکم کے لئے پیچھے رہ گئے ہیں (ان پر رحمت کے ساتھ متوجہ ہو اور) اب انہیں اللہ عذاب دے یا (ان کی توبہ قبول فرمائے) ان کی توبہ قبول فرمائے۔ اور اللہ علم و حکمت والا ہے (سب کچھ جانتا ہے، جو مناسب ہو کرتا ہے)۔
And others are deferred to the command of Allah — whether He will punish them or turn [in forgiveness] to them. And Allah is All-Knowing, All-Wise.
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَى وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
اور جن لوگوں نے (مسلمانوں کو) ضرر دینے اور (اس لئے کہ) مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے ایک مسجد بنائی ہے (اور کس لئے؟) اور تاکہ اس نے پہلے خدا اور اس کے رسول سے جنگ کی تھی، ایک پناہ گاہ بن جائے۔ (یہ لوگ سامنے آئیں گے) قسم کھائیں گے کہ ہمارا مقصد بھلائی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اور اللہ شہادت دیتا ہے، (گاتا ہے) کہ یہ سب جھوٹے ہیں۔
And there are those who set up a mosque to cause harm [to Muslims] and as an act of disbelief and to cause division among the believers, and as an outpost for those who had previously waged war against Allah and His Messenger. They will certainly swear: We intended nothing but good. But Allah bears witness that they are indeed liars.
لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ
تم اس (مسجد) میں ہرگز کھڑے نہ رہو (قیام نہ کرو، نماز نہ پڑھو)۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقوٰی اور پرہیزگاری پر رکھی گئی پہلے دن ہی سے، وہ زیادہ مستحق ہے کہ تم اس میں قیام کرو (نماز پڑھو)۔ اس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو طہارت اور پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں۔ اور اللہ پاک صاف لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
Never stand therein [for prayer]. A mosque founded on piety [taqwā] from the first day is more worthy that you should stand in it [for prayer]. In it are men who love to purify themselves, and Allah loves those who purify themselves.
أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى تَقْوَى مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَمْ مَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
تو کیا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے تقوٰی کے تقوٰی اور رضا جوئی پر رکھی، بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک کھوکھلے ٹوٹے ہوئے کنارے کے اوپر رکھی، پھر وہ گرکر جہنم کی آگ میں گرگیا۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔
Is he who founded his building on piety [consciousness] of Allah and His good pleasure better, or he who founded his building on the edge of a crumbling, undercut bank, which collapsed [fell] with him into the fire of Hell? And Allah does not guide the wrongdoing people.
لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ إِلَّا أَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
ان کی یہ عمارت جس کو انہوں نے بنایا ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں شک کا موجب بنی ہوئی ہے اور یہاں تک کہ ان کے دل دل پارہ ہوجائیں اور اللہ علیم ہے اور حکیم بھی ہے۔
The building they built will continue to be a cause of doubt [misgiving and unrest] in their hearts, unless their hearts are cut to pieces [until they die]. And Allah is All-Knowing, All-Wise.
إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
بے شک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے جان و مال کو خرید لیا ہے کہ ان کے عوض ان کو جنت دے گا (یہ کیا کام کرتے ہیں) وہ فی سبیل اللہ راہ خدا میں جنگ کرتے ہیں، مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ ان سے یہ وعدہ (جو کیا گیا ہے) تورات، انجیل اور قرآن میں ثابت ہے۔ اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے۔ پھر (مسلمانو!) ان اپنے اس تجارتی معاملہ پر خوش ہوجاؤ۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
Indeed Allah has purchased from the believers their lives and their wealth, in exchange for which [Paradise] awaits them. They fight in the cause of Allah, so they kill and are killed — a promise binding on Him in truth, [recorded] in the Torah and the Gospel and the Qur'an. And who is truer to his covenant than Allah? So rejoice in your transaction which you have made [with Him]. And that is the great success.
التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
توبہ پر قائم رہنے والے، عبادت کرنے والے، حمد و شکر ادا کرنے والے، ہمیشہ روزے رکھنے والے، اللہ کے سامنے جھکنے والے، زمین پر سرتک رکھنے والے، اچھی بات کا حکم دینے اور بری بات سے منع کرنے والے، اللہ تعالیٰ کی (حدود کی حفاظت کرنے والے) ان (حدود سے تجاوز نہیں کرتے)۔ ان ایمان داروں کو بشارت دو۔
[Those who are] the repentant, the worshippers, the praisers [of Allah], the wanderers [those who fast], the bowing ones, the prostrating ones, those who enjoin what is right and forbid what is wrong, and those who observe the limits set by Allah — give glad tidings to the believers.
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ
پیغمبر کے شایانِ شان نہیں اور نہ مسلمانوں کے لئے مناسب ہے کہ مشرکوں کے لئے مغفرت طلب کریں، استغفار کریں۔ اگر چہ وہ قریمی قرابت دار ہوں، اس بعد اس کے کہ ان کو معلوم ہوجائے کہ وہ دوزخی ہوگئے (اور الگ ہوگئے)۔
It is not fitting for the Prophet ﷺ and those who believe to seek forgiveness for the polytheists, even if they are close relatives, after it has become clear to them that they are the companions of the Hellfire.
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(۱۱۳) ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے استغفار کرنا اس وعدے کی وجہ سے تھا کہ انہوں نے اپنے باپ سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے لئے استغفار کروں گا۔ جب انہیں معلوم ہوگیا کہ وہ دشمن خدا ہوگئے تو اس سے بیزاری اختیار کرلی (اور الگ ہوگئے)۔ بے شک ابراہیم بڑا نرم دل، آہ و زاری کرنے والا اور بردبار تھا۔
And Ibrāhīm's seeking of forgiveness for his father was only because of a promise he had made to him. But when it became clear to him that he [his father] was an enemy of Allah, he disowned him [distanced himself from him]. Indeed Ibrāhīm was tender-hearted [deeply sighing] and forbearing.
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُمْ مَا يَتَّقُونَ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
خدا ہدایت کرکے کسی قوم کو گمراہ نہیں کرتا (ہلاکت میں نہیں ڈالتا) جب تک وہ انہیں احکام بیان نہ کردیتا۔ جن سے وہ تقوٰی اختیار کریں (اپنے آپ کو بچالیں) اور اللہ تو سب کچھ جانتا ہے۔
Allah would not lead a people astray after He has guided them until He has made clear to them what they should avoid [what deeds they must guard against]. Indeed Allah has knowledge of all things.
إِنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی تو خدا ہی کی ہے۔ جلانا مارنا اسی کا کام ہے۔ اس کے سوا تمہارا کوئی یار و مددگار نہیں۔
Indeed to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth. He gives life and He causes death. And apart from Allah you have no protector and no helper.
لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
اللہ نے پیغمبر اور مہاجرین اور انصار پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی (یہ لوگ کیسے تھے؟) جنہوں نے تنگی کے وقت میں انہوں نے اتباع کی اس کے بعد کہ بعض لوگوں کے دل (ٹھنڈ وشتیر میں پڑ رہے تھے۔ پھر اللہ نے ان پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی۔ اللہ تو بے شک ان کے لئے رؤوف و رحیم ہے۔
Allah has turned [in mercy] to the Prophet ﷺ and the Muhājirūn [Emigrants] and the Anṣār [Helpers] who followed him in the hour of hardship [difficulty], after the hearts of a group of them had nearly wavered [been tempted to deviate]. Then He turned [in mercy] to them. Indeed He is to them full of kindness [Raʾūf], Most Merciful.
وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
اور (اللہ نے) ان تین آدمیوں کی بھی (رحمت کے ساتھ خاص توجہ فرمائی) جو (جنگ میں شریک نہ ہوئے) پیچھے رہ گئے۔ یہاں تک کہ جب ان کی یہ حالت ہوگئی کہ زمین باوجود خود کشادہ ہونے کے ان پر تنگ و تار ہوگئی اور ان کی جانیں بھی (تنگ) پرگئیں، (یعنی حبس میں گرفتار ہوگئیں) اور انہوں نے یقین کرلیا کہ اللہ کے (اس کے پاس) کے سوا کوئی پناہ نہیں مل سکتی۔ ہاں! مگر (اسی کی طرف) اسی کی طرف پھر اللہ نے ان پر توبہ قبول فرمائی کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
And [also toward] the three who were left behind [did not participate in the expedition], until the earth, despite its vastness, became straitened for them, and their own souls became straitened for them [they were in great inner distress], and they were certain that there was no refuge from Allah except toward Him. Then He turned to them [in mercy] that they might repent. Indeed Allah — He is the Ever-Accepting of repentance, the Most Merciful.
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ
مسلمانو! اللہ سے ڈرو اور راست بازوں اور راست باز ایمانداروں کے ساتھ رہو۔
O you who believe! Fear Allah and be with those who are truthful [the truthful believers].
مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
اہل مدینہ کو اور ان اعرابیوں کو جو ان کے اطراف میں ہیں مناسب نہیں ہے کہ رسول کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں، اپنی جان کو اس طرح (بھلا) نہ سمجھیں کہ نبی کی جان کو ایک طرف رکھ کر اپنی جان عزیز رکھیں۔ اس (طرح نہ دینے) کا سبب یہ ہے کہ ان کو کوئی پیاس، بھوک، تھکان اور بھوک ایسی جگہ نہیں آ گئی جس سے کافروں کو غیظ و غضب پیدا ہو۔ اور وہ اپنے دشمنوں پر غلبہ پاتے ہیں مگر ہر کام نیک سمجھا جاتا ہے (ان کا ہر کام نیک عمل میں لکھ لیا جاتا ہے) اور اللہ نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔
It was not fitting for the people of Madinah and those Bedouin Arabs around them to lag behind the Messenger of Allah, nor to prefer their own lives over his. That is because there falls on them no thirst, nor fatigue, nor hunger in the cause of Allah, nor do they tread a path that enrages the disbelievers, nor do they gain anything from an enemy — but a righteous deed is written to their account for it. Indeed Allah does not waste the reward of the righteous.
وَلَا يُنْفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
اور یہ لوگ چھوٹا بڑا کچھ خرچ کرتے ہیں اور کوئی وادی بھی گزرتے مگر یہ کہ ان کے لئے لکھ لیا جاتا ہے (اللہ ان کے لئے لکھ رکھتا ہے) تاکہ اللہ ان کے اعمال کی بہترین جزا دے۔
And they do not spend any expenditure, small or large, and they do not cross any valley, but it is recorded for them [by Allah] — so that Allah may recompense them with the best of what they used to do.
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
مسلمانوں کو بے شک مناسب نہیں کہ سب کے سب نکل پڑیں۔ تو کیوں ان کی بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت نہیں نکلتی جو دین کی سمجھ حاصل کرتی اور جب اپنی قوم کے پاس واپس پہنچتی تو ان کو بھی ڈراتی۔ شاید کہ وہ قوم بھی ڈرتی (اور بری باتوں سے بچتی)۔
And it is not fitting for the believers to go forth [to battle] all together. So why does not a party from every group among them go forth [to gain] understanding in the religion [to learn the faith deeply], so that they may warn their people when they return to them — that they may beware?
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ
اے ایمان والو! تمہارے پاس جو کافر ہیں ان سے لڑو (دو تم کو قتل کرو)، تم بھی ان کو قتل کرو اور تم میں اپنی قوت اور طاقت پیدا کرنی چاہیے اور یاد رکھو کہ خدا ان کے ساتھ ہے، (وہ کبھی تم کو مغلوب ہونے نہ دے گا)۔
O you who believe! Fight those of the disbelievers who are nearest to you, and let them find in you sternness. And know that Allah is with those who are pious [the God-fearing].
وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
اور جب بھی کوئی سورت اتری ہے تو ان میں سے بعض یہ کہنے لگتے ہیں کہ اس سورت کے اترنے سے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا؟ (کیا فائدہ ہوا؟) کیا ایمانی ترقی ہوئی؟ تو جو ایمان لائے ہیں ان کے ایمان کو بے شک اس سورت نے بڑھا دیا (قوی کردیا) اور وہ خوش ہیں۔
And whenever a surah is revealed, some of them say: Which of you has this increased in faith? As for those who believe, it has increased them in faith, and they are joyful.
وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَى رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ كَافِرُونَ
لیکن جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے (یہ سورت) پلیدی پر پلیدی بڑھاتی ہے اور وہ کافر (اور بے ایمان) مرتے ہیں۔
But as for those in whose hearts is sickness [spiritual disease], it increases them in filth [wickedness] added to their filth, and they die while they are disbelievers.
أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہر سال ایک دو دفعہ آزمائے جاتے ہیں (دو امتحانات میں پڑتے ہیں)۔ پھر نہ وہ توبہ کرتے ہیں اور نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
Do they not see that they are tested [tried and tried] every year once or twice? Then still they do not repent, nor do they take heed.
وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ نَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ هَلْ يَرَاكُمْ مِنْ أَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ
جب کوئی سورت اترتی ہے تو وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ (اور گھبرا کر کہتے ہیں) کہ کوئی تم کو دیکھتا تو نہیں ہے۔ خدا بھی ان کے دلوں کو پلٹ دیتا ہے (پھیر دیتا ہے)۔ کیونکہ وہ لوگ غور و خوض و فکر و ذکر نہیں کرتے (قرآن کے مقاصد پر غور و خوش نہیں کرتے)۔
And whenever a surah is revealed, they look at one another [saying]: Does anyone see you? Then they turn away. Allah has turned away their hearts, because they are a people who do not understand [reflect and ponder].
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَاعَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
تمہارے پاس تو ایک ایسا رسول آیا ہے جو (تمہارا ہم جنس ہے) تمہیں میں کا ایک ہے۔ جو چیز تم کو ناگوار ہوتی ہے وہ اس کو بھی گوارا نہیں ہے۔ تمہاری بھلائی کا طالب ہے۔ مسلمانوں پر رحم کرنے والا اور رحیم ہے (رؤوف و رحیم ہے)۔
Indeed there has come to you a Messenger from among yourselves [one of your own] — grievous to him is what you suffer, deeply concerned for your welfare, to the believers most kind [Raʾūf] and Merciful [Raḥīm].
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
پھر اگر وہ تمہاری ماننا نہ چاہیں اور روگردانی کریں تو تم کہہ دو: مجھے اللہ بس ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اسی پر میں اعتماد کرتا ہوں (اپنے کاموں کو اس کے اوپر چھوڑتا ہوں)۔ اور وہ عرش عظیم کا رب ہے۔
But if they turn away, then say: Allah is sufficient for me. There is no god except Him. In Him I have placed my trust [I commit all my affairs to Him]. And He is the Lord of the Magnificent Throne.