80. ʿAbasa
عبس
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عَبَسَ وَتَوَلَّى
(۱) انہوں نے (یعنی حضرت رسول خداﷺ نے) اظہار ناخوشی کیا اور روگردانی کی (پیٹھ پھیری)۔
(1) He (meaning the Messenger of Allah ﷺ) expressed displeasure and turned away (turned his back).
أَن جَاءَهُ الْأَعْمَى
(۲) اس وجہ سے کہ ایک نابینا (عبداللہ ابن ام مکتوم) ان کے پاس آئے۔
(2) Because a blind man (ʿAbdullah ibn Umm Maktum) came to him.
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى
(۳) اور تمہیں کیا معلوم ! شاید کہ وہ نابینا (تمہاری تعلیم) قبول کرلے اور پاک ہوجائے۔
(3) And what do you know! Perhaps the blind man might accept (your teaching) and become purified.
أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكْرَى
(۴) یا وہ نصیحت قبول کرے پھر (تمہاری نصیحت) اس کو نفع بھی دے۔
(4) Or he might take heed, and then the reminder would benefit him.
أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَى
(۵) مگر جو لوگ بے پروائی کرتے ہیں۔
(5) But as for him who considers himself self-sufficient (and heedless).
فَأَنتَ لَهُ تَصَدَّى
(۶) پھر تم ان کی فکر میں رہتے ہو۔
(6) You give your attention to him.
وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّى
(۷) اور تم پر کوئی الزام نہیں اگر وہ (شرک و کفر سے) پاک نہ ہوں۔
(7) And it is no concern of yours if he does not become purified (from polytheism and disbelief).
وَأَمَّا مَن جَاءَكَ يَسْعَى
(۸) مگر جو شخص تمہاری خدمت میں دوڑتا ہوا حاضر ہو۔
(8) But as for him who comes running to you with eagerness.
وَهُوَ يَخْشَى
(۹) اور وہ ڈرتا بھی ہو۔
(9) And he fears (Allah as well).
فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّى
(۱۰) تو تم اس سے بے پروائی کرتے ہو۔
(10) You neglect him and are heedless of him.
كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ
(۱۱) ہرگز ایسا نہ ہونا چاہیے ۔ بے شک یہ (قرآن) ایک یادد ہانی اور نصیحت ہے۔
(11) Never should it be so. Indeed this (Qur'an) is a reminder and admonition.
فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ
(۱۲) پھر جس کا جی چاہے اس کو قبول کرلے۔
(12) So whoever wishes may accept it.
فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ
(۱۳) (یہ قرآن) محترم (کتابوں اور) صحیفوں میں رہے گا۔
(13) (This Qur'an is) in honoured scriptures and scrolls.
مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ
(۱۴) (یہ قرآن) اعلیٰ و ارفع اور (شک و شبہ سے) پاک و صاف ہے۔
(14) Exalted and purified (from all doubt and suspicion).
بِأَيْدِي سَفَرَةٍ
(۱۵) (قرآن) ایسے کاتبوں کے ہاتھوں میں رہے گا۔
(15) In the hands of noble scribes.
كِرَامٍ بَرَرَةٍ
(۱۶) (وہ کاتب) شریف بھی ہیں اور نیکوکار بھی ہیں۔
(16) Who are honourable and righteous.
قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ
(۱۷) ایسا انسان مارا جائے ۔ وہ کس قدر کفران نعمت کرتا ہے۔
(17) Destruction upon man! How extremely ungrateful he is.
مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ
(۱۸) کس چیز سے (خدانے) اس کو مخلوق کیا (پیدا کیا)۔
(18) From what thing did He (Allah) create him (bring him into being)?
مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ
(۱۹) (اس کو) نطفے سے پیدا کیا پھر اس کو (اعضاء کے اناسب میں) تناسب رکھا۔
(19) He created him from a drop of sperm, then fashioned him in due proportion (with fitting harmony of limbs).
ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ
(۲۰) پھر اس پر مقصد کو پہنچنے کا سامان راہ آسان کردیا (موجودہ حالت پر کیوں پھولا ہے ۔ کیوں اپنی موت کو بھولا ہے)۔
(20) Then He made the path easy for him (to reach his goal) — (yet given his present state, why is he so proud? Why does he forget his own death?).
ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ
(۲۱) پھر اس کو موت دی اور قبر میں دفن کردیا۔
(21) Then He caused him to die and laid him in the grave.
ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنشَرَهُ
(۲۲) پھر جب چاہے گا دوبارہ زندہ فرمائے گا۔
(22) Then whenever He wills He will raise him to life again.
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ
(۲۳) ہرگز نہیں ، اس (ناقدردان) نے تو اس کو جو حکم دیا گیا تھا اس پر عمل نہیں کیا۔
(23) By no means! This (ungrateful one) has not yet fulfilled what he was commanded to do.
فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ إِلَى طَعَامِهِ
(۲۴) انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے (کہ وہ کیسے پیدا ہوا)۔
(24) Let man look at his food (and reflect on how it came to be).
أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا
(۲۵) کہ ہم نے خوب پانی برسایا۔
(25) That We poured down water in abundance.
ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا
(۲۶) پھر ہم نے زمین کو جابجا سے شگاف (اس میں شگاف) پیدا کیے۔
(26) Then We split the earth wide open.
فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا
(۲۷) پھر ہم نے زمین سے غلّہ پیدا کیا۔
(27) Then We caused grain to grow from it.
وَعِنَبًا وَقَضْبًا
(۲۸) اور انگور اور ترکاری۔
(28) And grapes and vegetables.
وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا
(۲۹) اور زیتون اور کھجور کو۔
(29) And olives and palm trees.
وَحَدَائِقَ غُلْبًا
(۳۰) اور گنجان باغ۔
(30) And dense, luxuriant gardens.
وَفَاكِهَةً وَأَبًّا
(۳۱) اور میوے اور چارے کو۔
(31) And fruits and herbage.
مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ
(۳۲) تمہارے لیے ضرورت کی چیزیں (کرم کرو) نیز تمہارے جانوروں کے لیے۔
(32) As a provision for you (bestow your grace) and for your animals.
فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ
(۳۳) پھر جب کان بہرے کردینے والا شور ہوگا۔
(33) So when the deafening blast (of the trumpet) comes.
يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ
(۳۴) جس دن بھائی کو چھوڑ کر بھاگ جائے گا (فرار پر قرار پکڑے گا)۔
(34) The day when a man will flee from his own brother.
وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ
(۳۵) اور (جس دن) ماں باپ کو (چھوڑ کر آدی بھاگ جائے گا)۔
(35) And from his mother and his father.
وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ
(۳۶) اور (جس دن) اپنی بیوی کو اور (باپ) اپنے بچوں کو (چھوڑ کر بھاگے گا)۔
(36) And from his wife, and a father from his children (fleeing in terror).
لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ
(۳۷) ہر شخص کا اس دن ایک ایسا حال ہوگا کہ اس کو بس بس ہوگا۔
(37) Every person that day will have a concern that will fully occupy him.
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ
(۳۸) اس دن (اچھوں کے) چہرے (خوشی کے مارے) چمکتے دکھتے ہوں گے۔
(38) On that day some faces (of the righteous) will be bright and shining (radiant with joy).
ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ
(۳۹) ہنستے خوش خوش۔
(39) Laughing and joyful.
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ
(۴۰) اس دن (نافرمانوں کے) چہرے پر (غم کا) گرد و غبار ہوگا۔
(40) And on that day some faces (of the disobedient) will be covered with dust (of grief and sorrow).
تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ
(۴۱) ان (برووں کے چہروں) پر تاریکی چھائی ہوئی ہوگی۔
(41) Darkness will overshadow their (the evildoers') faces.
أُولَٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ
(۴۲) یہی لوگ کافر و فاجر ہوں گے (منکر بدکار ہوں گے)۔
(42) Those are the ones who are disbelievers and evildoers (the deniers and the wicked).