77. Al-Mursalāt
المرسلات
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا
(۱) قسم ہے ان ہواؤں کی جو مناسب طور سے چلائی جاتی ہیں۔
(1) By the winds sent forth in succession (blowing in an appropriate manner).
فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا
(۲) اور قسم ہے تند ہواؤں کی جو زور سے چلتی اور درختوں کو جھمکے دیتی ہیں۔
(2) Then by the stormy winds that blow with force and make the trees sway.
وَالنَّاشِرَاتِ نَشْرًا
(۳) قسم ہے ان ہواؤں کی جو (ابروں کو) بہت ہی منتشر کردیتی ہیں۔
(3) And by those (winds) that scatter (the clouds) widely.
فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا
(۴) قسم ہے ان ہواؤں کی جو (ایک بادل، ایک ٹکڑے کو دوسرے سے) جدا کردیتی ہیں۔
(4) Then by those that separate (one cloud, one portion from another), dividing them apart.
فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا
(۵) پھر (ان خطرات میں سے، خیالات میں سے) بعض یاد الٰہی (اور توبہ کو) پیدا کرتے ہیں۔
(5) Then those that cast (from those impressions and thoughts) divine remembrance and repentance into hearts.
عُذْرًا أَوْ نُذُرًا
(۶) (وہ یاد) عذر خواہی (اور توبہ) کی یا ڈرانے کو ہے۔ (یعنی دل میں یاد الٰہی ہوتی ہے تو انسان یا توبہ کرلیتا ہے یا ڈرتا اور ترساں رہتا ہے)۔
(6) (That remembrance serves) as an excuse (and repentance) or as a warning. (i.e., when divine remembrance stirs in the heart, either the person repents or remains fearful and in awe).
إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ
(۷) جس بات کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ پورا ہوکر رہے گا (یعنی قیامت میں)۔
(7) Indeed what you are promised will surely come to pass (i.e., the Day of Judgement).
فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ
(۸) پھر جب تارے بے نور کردیے جائیں گے۔
(8) Then when the stars are extinguished.
وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْ
(۹) اور جب آسمان میں شگاف پڑ جائیں گے (دو پھٹ جائے گا)۔
(9) And when the sky is cleft open (split apart).
وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ
(۱۰) اور جب پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں گے (اڑادیے جائیں گے)۔
(10) And when the mountains are shattered to pieces (scattered and blown away).
وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ
(۱۱) اور جب پیغمبر لوگ مقرر وقت پر بلائے جائیں گے۔
(11) And when the messengers are gathered at their appointed time.
لِأَيِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ
(۱۲) کس دن کے لیے (ان کے معاملہ میں) تاخیر کی گئی۔
(12) To which Day was it deferred (the matter of the messengers)?
لِيَوْمِ الْفَصْلِ
(۱۳) فیصلہ کے دن کے لیے۔
(13) For the Day of Decision.
وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ
(۱۴) تم کیا جانو کہ وہ فیصلہ کا دن کیا ہے (کب ہے اور کیا ہے)؟
(14) And what will make you understand what the Day of Decision is (when it will be and what it entails)?
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(۱۵) اس دن واویلا ہے تکذیب کرنے والوں (اور جھٹلانے والوں) کی بڑی خرابی ہے (افسوس ہے واے ہے)۔
(15) Woe on that day to those who deny (great ruin for the rejecters — alas for them!).
أَلَمْ نُهْلِكِ الْأَوَّلِينَ
(۱۶) کیا ہم نے ہلاک نہیں کردیا پہلوں کو۔
(16) Did We not destroy the people of former times?
ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ
(۱۷) پھر ہم ان کے پچھلوں کو (یعنی ان آخری دور کے لوگوں کو جس طرح ہم نے گزشتہ لوگوں کو نیست و نابود کردیا ان آخری دور کے لوگوں کو بھی نابود و نابود کریں گے)۔
(17) Then We will make the later ones follow them (just as We annihilated the former peoples, so too will We annihilate those of the later era).
كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ
(۱۸) ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کام کرتے ہیں۔
(18) Thus do We deal with the guilty.
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(۱۹) خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کی (یعنی جو اس دن واویلا کرنے والوں کو مانتے نہیں مانتے، اس دن واے ہائے کرتے ہوں گے)۔
(19) Woe on that day to the deniers (those who do not believe in this Day — on that Day they will lament in anguish).
أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ
(۲۰) کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا؟
(20) Did We not create you from a contemptible fluid?
فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ
(۲۱) پھر ہم نے اس کو ایک محفوظ مقام میں رکھا۔
(21) Then We placed it in a secure place (the womb).
إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ
(۲۲) ایک معلوم زمانے تک (وقت مقررہ تک، وعدہ تک)۔
(22) Until a known measure (an appointed term).
فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ
(۲۳) تو ہم نے ہر چیز کے لیے (وقت متعین کیا) اندازہ کیا۔ کیوں ہم کیسا اچھا اندازہ کرنے والے ہیں؟
(23) So We measured (appointed a term for everything). And how excellent are We as measurers!
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(۲۴) اس دن واویلا ہے تکذیب کرنے والوں کے لیے۔
(24) Woe on that day to the deniers.
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا
(۲۵) کیا ہم نے زمین کو (دونوں کی) قرارگاہ نہیں بنایا؟
(25) Did We not make the earth a repository (for both)?
أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا
(۲۶) خواہ زندے ہوں یا مردے (یعنی زندہ زمین پر چلتے ہیں تو مرگے اس زمین کے اندر پڑے ہیں)۔
(26) Both the living and the dead (the living walk upon it while the dead lie within it).
وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَيْنَاكُم مَّاءً فُرَاتًا
(۲۷) ہم نے زمین میں اونچے اونچے پہاڑ بنائے اور تم کو میٹھا پانی پلایا۔
(27) And We placed in it lofty mountains and gave you sweet water to drink.
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(۲۸) تکذیب کرنے والوں (اور نہ ماننے والوں) کے لیے اس دن واویلا ہے۔
(28) Woe on that day to the deniers (those who do not believe and do not accept).
انطَلِقُوا إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ
(۲۹) تم اس (میدان حشر) کی طرف چلے جاؤ۔ (دیکھو) جس کی تم تکذیب کرتے تھے (جس کو تم ماننے والے نہ تھے)۔
(29) Proceed toward that (Plain of Judgement — behold) what you used to deny.
انطَلِقُوا إِلَىٰ ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ
(۳۰) ایسے سایہ کی طرف جاؤ جس کے تین شعبے ہیں۔
(30) Proceed toward a shadow of three branches.
لَا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّهَبِ
(۳۱) نہ وہ ٹھنڈا سایہ ہے نہ شعلوں سے بچاتا ہے۔
(31) That is neither a cool shade nor protection from the flame.
إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ
(۳۲) وہ (دوزخ) بڑے بڑے مکانوں کے مواقع شرارے اچھالتی ہے۔
(32) It (Hell) hurls sparks (like) large castles.
كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ
(۳۳) گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں (جو ان کے دل کے چارے ہیں)۔
(33) As if they were yellow camels (in the eyes of the terrified).
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(۳۴) اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی مصیبت خراب ہوگی (وہ واویلا کرتے ہوں گے)۔
(34) Woe on that day to the deniers (they will wail in great distress).
هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ
(۳۵) یہ وہ دن ہے کہ یہ لوگ (منہ سے) بات تک نہ کرسکیں گے۔
(35) This is a Day on which they will not speak.
وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ
(۳۶) اور ان کو اذن و اجازت نہ دی جائے گی کہ عذر خواہی (اور توبہ) کریں۔
(36) Nor will they be given permission to offer excuses (or repent).
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(۳۷) اس دن تکذیب کرنے والوں کی بڑی خواری ہوگی۔
(37) Woe on that day to the deniers.
هَٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ جَمَعْنَاكُمْ وَالْأَوَّلِينَ
(۳۸) آج فیصلہ کا دن ہے ہم نے تم کو اور اگلے لوگوں کو جمع کردیا ہے۔
(38) This is the Day of Decision; We have gathered you and the former peoples together.
فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ
(۳۹) اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو میرے سامنے چلاؤ۔
(39) If you have any stratagem, then try it against Me.
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(۴۰) اُس دن جھٹلانے والوں کی بڑی مصیبت خراب ہوگی۔
(40) Woe on that day to the deniers.
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَالٍ وَعُيُونٍ
(۴۱) بے شک پرہیز گار لوگ (ٹھنڈی چھاؤں، ٹھنڈی چھاؤں) سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔
(41) Indeed the God-fearing will be in (cool shade, cool shade,) shades and springs.
وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ
(۴۲) اور وہ ایسے میوؤں میں ہوں گے جن کی وہ خواہش کریں۔
(42) And in fruits of whatever they desire.
كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(۴۳) مزے سے کھاؤ پیو (تمہارا کھانا پینا تم کو رچ پچ) صلے میں تمہارے نیک اعمال کے۔
(43) Eat and drink with pleasure — it is well-suited for you — in recompense for your righteous deeds.
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
(۴۴) ہم محسنین کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں ۔ (نیکوں کا صلہ ایسا ہی دیتے ہیں)۔
(44) Indeed thus do We reward the good-doers.
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(۴۵) (احسان) نہ ماننے والوں کی (خدا کے انعام و اکرام کے نہ ماننے والوں کی) اس دن بڑی مصیبت خراب ہوگی۔
(45) Woe on that day to the deniers (those who do not acknowledge Allah's favours and blessings).
كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِمُونَ
(۴۶) چار دن (کی زندگی میں) کھالو مزے اڑالو مگرتم یقیناً گنہگار ہو (خطاکار ہو)۔
(46) Eat and enjoy for a little while — you are indeed sinners (transgressors).
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(۴۷) جو لوگ (اپنے گناہگار ہونے کو) مانتے نہ تھے ان کی اس دن بڑی تباہی اور بربادی ہوگی۔
(47) Woe on that day to those who denied (their own sinfulness).
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ
(۴۸) اور جب ان سے کہا جاتا کہ گردن جھکاؤ تو ہرگز گردن نہ جھکاتے (اپنی سرکشی پر اڑے رچے)۔
(48) And when they were told to bow down (in submission), they would not bow (persisting in their arrogance).
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(۴۹) جو (خدا کی اطاعت کو) واجب نہیں سمجھتے (اس کے سامنے نہیں جھکاتے) ان کی اس دن بڑی ذلت و خواری ہوگی۔
(49) Woe on that day to those who deny (and do not bow before Allah — great humiliation awaits them).
فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ
(۵۰) اب کس بات پر اس کے بعد (یقین اور) ایمان لائیں گے؟
(50) Then in what statement after this will they believe?