Surah 12 · Makki · 111 verses

12. Yūsuf

يوسف

⚠ Unreviewed machine draft. This English rendering is a preliminary, AI-assisted translation of Hasrat’s Urdu translation (not a standard Qur’an translation) and has not yet been reviewed by Dr. Muhammad Ahmad Ghazi. It may contain errors in wording, verse numbering, or OCR transcription of the Arabic and Urdu. It is provided for review only and must not be relied upon or quoted. The complete, authoritative original is the freely available scanned Urdu edition.

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

12:1

الٓرٰ تِلْكَ آيَٰتُ الْكِتَٰبِ الْمُبِينِ

الٓرٰ ۔ یہ صاف بیان کرنے والی کتاب کی آیتیں ہیں ۔

Alif Lam Ra. These are the verses of the clear Book.

12:2

إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

بے شک ہم نے اس کتاب کو عربی قرآن بنا کر اتارا تاکہ تم اسے پڑھنے کے قابل بنایا تاکہ تم سمجھو اور غور کرو ۔

Indeed We have sent it down as an Arabic Qur'an so that you may understand [and reflect upon it].

12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَٰذَا الْقُرْءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ الْغَٰفِلِينَ

ہم تم کو ایک بہترین قصہ سناتے ہیں اس وجہ سے کہ اس قرآن کی ہماری طرف سے تم کو وحی کی گئی ہے ۔ اگرچہ تم اس سے پہلے بے خبر تھے ۔

We relate to you the best of stories through what We have revealed to you in this Qur'an, though before it you were indeed among the heedless [unaware of it].

12:4

إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَٰٓأَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَٰجِدِينَ

جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا : بابا! میں نے گیارہ (11) ستاروں اور چاند سورج کو دیکھا کہ مجھے سجدہ کررہے ہیں ۔

When Yusuf said to his father: 'O my father! I saw eleven stars, the sun and the moon — I saw them prostrating before me.'

12:5

قَالَ يَٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا إِنَّ الشَّيْطَٰنَ لِلْإِنسَٰنِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

کہا ۔ بیٹا ! تم اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کوئی چال چلیں ۔ بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ۔

He said: 'O my son! Do not relate your dream to your brothers, lest they devise a scheme against you. Indeed Satan is a manifest enemy to man.'

12:6

وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ

اسی طرح تمہارا رب تم کو منتخب اور سرفراز کرے گا ، اور تم کو باتوں اور خوابوں کی تعبیر کی تعلیم دے گا اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت کو پوری فرمائے گا جس طرح کہ اس نے پہلے تمہارے دادا ابراہیم اور اسحاق پر

And thus your Lord will choose you and teach you the interpretation of words [and dreams], and complete His favour upon you and upon the family of Ya'qub — just as He completed it before upon your forefathers Ibrahim and Ishaq —

12:7

لَّقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ آيَٰتٌ لِّلسَّآئِلِينَ

یوسف اور ان کے بھائیوں کے معاملہ میں پوچھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ (عبرت ہے) ۔

Indeed in the story of Yusuf and his brothers there are signs [lessons] for those who ask.

12:8

إِذْ قَالُوا لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ

جب یوسف کے بھائیوں نے کہا بے شک یوسف اور ان کے بھائی ہم سے ہمارے باپ کے پاس زیادہ محبوب ہیں ۔ حالانکہ ہم ایک جماعت ہیں (وہ بھی قوی) ۔ بے شک ہمارے والد ایک فاش غلطی پر ہیں ۔

When they said: 'Truly Yusuf and his brother are dearer to our father than we are, though we are a group [a strong band]. Indeed our father is clearly mistaken.'

12:9

اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا مِن بَعْدِهِۦ قَوْمًا صَٰلِحِينَ

(بعض نے کہا) یوسف کو قتل کردو ۔ یا ان کو کسی دوسری سرزمین میں ڈال دو ۔ تب تمہارے باپ کی توجہ صرف تمہارے لئے ہوگی اور اس کے بعد تم اچھی قوم بن جاؤ ۔

[Some said:] 'Kill Yusuf or cast him into another land, so that your father's attention will be exclusively for you, and after that you can become righteous people.'

12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِي غَيَٰبَتِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ

ان (برادران یوسف) میں سے کہنے والے نے کہا : یوسف کو مارنا ڈالو ، ان کو کسی کنویں کی تہ میں ڈال دو ، ان کو قافلہ والوں میں سے کوئی اٹھا لے گا ۔ اگر تم کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو ۔

One speaker among them [the brothers] said: 'Do not kill Yusuf — rather, cast him into the bottom of the well. Some travellers will pick him up, if you must do something.'

12:11

قَالُوا يَٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَنَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَٰصِحُونَ

انہوں نے کہا : باباجان ! آپ یوسف کے معاملے میں ہم پر کیوں اعتبار نہیں کرتے ۔ ہم تو ان کے بھی بھلے چاہنے والے ہیں ۔

They said: 'O our father! Why do you not trust us with Yusuf? We are surely well-wishers to him.'

12:12

أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

ان کو ہمارے ساتھ کل بھیج دیجیے کہ کھائیں چھیلیں اور ہم تو ان کی حفاظت کرنے والے ہی ہیں ۔

'Send him with us tomorrow so that he may eat freely and play, and we will surely keep him safe.'

12:13

قَالَ إِنِّي لَيَحْزُنُنِيٓ أَن تَذْهَبُوا بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ

(یعقوب علیہ السلام نے) کہا : مجھے اس بات سے حزن و ملال ہوتا ہے کہ تم یوسف کو لے جاؤ ، اور مجھے خوف ہے کہ بھیڑیا ان کو کھا جائے ،

[Ya'qub (peace be upon him)] said: 'It saddens me that you should take Yusuf away, and I fear that the wolf may devour him,

12:14

قَالُوا لَئِنْ أَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّآ إِذًا لَّخَٰسِرُونَ

انہوں نے کہا اگر اُنہیں (یوسف کو) بھیڑیا کھاجائے اور ہم جماعت ہیں (بہت سے ہیں ، زور و قوت والے ہیں) ۔ بے کار ہیں ۔ (بے کاروں کے کام کے؟) ۔

They said: 'If the wolf devours him while we are a strong group, then we would indeed be losers [utterly good-for-nothing].'

12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا أَن يَجْعَلُوهُ فِي غَيَٰبَتِ الْجُبِّ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

پھر جب وہ لوگ یوسف کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ یوسف کو کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے یوسف کو مطلع کردیا کہ ان کے بھائیوں کو ان کی غلطی پر متنبہ کردیا جائے گا جب وہ جانتے نہ ہوں گے ۔

So when they took him [Yusuf] away and agreed to put him into the bottom of the well, We revealed to him: 'You will surely inform them of this deed of theirs at a time when they are unaware [of who you are].'

12:16

وَجَآءُوٓ أَبَاهُمْ عِشَآءً يَبْكُونَ

اور بڑی رات گئے وہ باپ کے پاس پہنچے روتے ہوئے ۔

And they came to their father in the evening, weeping.

12:17

قَالُوا يَٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٰعِنَا فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَٰدِقِينَ

انہوں نے (برادران یوسف نے) کہا ہم دوڑ میں مقابلہ کرنے گئے اور ہمارے سامان کے پاس یوسف کو چھوڑ گئے تو ان کو بھیڑیا کھا گیا اور آپ کو ہماری بات کا بالکل یقین نہیں (صادق القول ہوں) ۔

They [the brothers] said: 'O our father! We went off to race one another and left Yusuf by our belongings, then the wolf devoured him. But you will not believe us even if we are truthful.'

12:18

وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍ كَذِبٍ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ

اور وہ ان کی قمیص پر جھوٹ موٹ خون لگا کر لائے ۔ (یعقوب علیہ السلام نے) فرمایا : (نہیں) بلکہ تم سب نے اپنے من گھڑت (تمہاری فریب کاری ہے) الگ ہی کوئی بات بنائی ہے ۔ میرا کام ہے میرا جمیل ۔ تم جو کچھ (کہہ رہے ہو) بیان کرتے ہو ، اس پر اللہ ہی کی مدد طلب کی جاتی ہے ۔

And they brought his shirt with false blood upon it. [Ya'qub] said: 'Nay, rather your souls have enticed you into a [fabricated] matter. So [for me is] beautiful patience, and Allah alone is the one whose help is sought against what you describe.'

12:19

وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌ فَأَرْسَلُوا وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ قَالَ يَٰبُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٌ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَعْمَلُونَ

(یوسف کو کنویں میں ڈالنے کے بعد) ایک قافلہ آیا ، انہوں نے پانی لانے کے لئے ایک آدمی کو بھیجا ۔ اس آدی نے اپنا ڈول ڈالا اور وہ پکارا اُٹھا (کیا بشارت ہے!) اے خوش نصیبی! یہ تو ایک لڑکا ہے ۔ اور انہوں نے اس کو ایک لڑکا تجارت سمجھ کر آنکھوں سے چھپایا اور اللہ کو خوب معلوم تھا جو وہ کررہے تھے ۔

Then a caravan came [after Yusuf was cast into the well], and they sent their water-drawer. He lowered his bucket and cried out: 'What good news! This is a boy!' And they concealed him as merchandise. And Allah was All-Aware of what they were doing.

12:20

وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا فِيهِ مِنَ الزَّٰهِدِينَ

اور انہوں نے ان کو کھوٹے داموں (چند روپیوں کے عوض) خریدا اور ان کے خریدنے میں کچھ بے رغبتی سے تھے ۔ (انہیں کچھ شوق سے نہیں خریدا) ۔

And they sold him for a low price — a few counted dirhams — and they were of those who had little interest in him [not buying him with eagerness].

12:21

وَقَالَ الَّذِي اشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِامْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِي مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًا وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

اور جس نے مصر میں خریدا تھا اپنی بیوی سے کہا : اس کے رہنے سہنے کو باحترام اور باکرام رکھو ۔ شاید کہ وہ ہمارے کام آئے ، یا ہم اس کو (اپنا) بیٹا بنالیں ۔ اور اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین میں عزت و مکانت بنایا اور تاکہ ہم اس کو باتوں اور حوادث کی تاویل اور تعلیم دیں اور اللہ اپنے امر پر غالب ہے (یعنی درست ہوتا ہے) مگر اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے ۔

And the one who bought him from Egypt said to his wife: 'Honour his lodging — perhaps he may benefit us, or we may take him as a son.' And thus We established Yusuf in the land, and in order to teach him the interpretation of events. And Allah is predominant over His affair, but most people do not know.

12:22

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ آتَيْنَٰهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

اور جب وہ (یوسف) جوانی کو پہنچے تو ہم نے انہیں حکمت بھی دی اور علم بھی اور ہم اسی طرح اچھے کام کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں ۔

And when he [Yusuf] reached his full maturity, We gave him judgement and knowledge. And thus We reward the good-doers.

12:23

وَرَٰوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَٰبَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُۥ رَبِّي

اور یوسف جس کے گھر میں رہتے تھے اس عورت نے یوسف کو (اپنے مطلب کے مطابق بہلانا - پھسلانا) چاہا اور گھر کے دروازے بند کرلئے ۔ اور کہا ۔ ادھر آؤ ! یوسف نے کہا : معاذ اللہ (پناہ خدا!) میرے پروردگار نے مجھے اچھا مقام بنایا (یعنی بہتر ہوں صاحب میں) ۔ برا کام نہیں کرسکتا ۔ (کیونکہ بہ کہ) جو ظالم ہے وہ فلاح پاتے نہیں (اور عمدہ مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے) ۔

And the woman in whose house he lived sought to seduce him, and she shut the doors and said: 'Come here!' He said: 'God forbid! Indeed he is my lord [master] who has given me an honourable station [meaning his master]. I cannot do wrong. [For] indeed the wrongdoers do not succeed [and cannot prosper in noble aims].'

12:24

وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَٰنَ رَبِّهِۦ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوٓءَ وَالْفَحْشَآءَ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ

اور اگر وہ (یوسف) اپنے رب کی دلیل قاطع (اور پیغمبری کی صفت) کو نہ دیکھتے تو وہ بھی اس عورت کا ارادہ کرتے ، وہ بھی اس عورت کا ارادہ کرتے تھے ۔ ہم ایسی طرح ان سے برائی اور بے حیائی کو پھیرتے ہیں ۔ وہ تو ہمارے اخلاص بندوں میں سے ہے ۔

And indeed she desired him, and he would have desired her too, were it not that he saw the proof of his Lord. Thus it was, so that We might avert from him evil and indecency. Indeed he was one of Our sincere servants.

12:25

وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٍ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے ۔ عورت نے یوسف کے پیچھے سے پیچھے سے چاک کردی اور اس عورت کے شوہر (یعنی عزیز مصر) کو دونوں کے پاس دروازے کے پاس پایا ۔ اس عورت نے کہا : جو تمہاری بیوی سے برائی کا ارادہ کرے اس کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ اسے قید کیا جائے یا دردناک سزا دی جائے ۔

And they both raced towards the door, and she tore his shirt from behind. And they found her husband [the 'Aziz of Egypt] at the door. She said: 'What is the punishment of one who intended evil towards your wife except that he be imprisoned or receive a painful punishment?'

12:26

قَالَ هِيَ رَٰوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكَٰذِبِينَ

(یوسف نے) کہا اس عورت نے مجھے پھسلایا اور اس عورت کے متعلقین میں سے ایک شخص نے گواہی دی کہ اگر یوسف کا کرتا سامنے کے رخ سے پھاڑا گیا ہے تو وہ سچی ہے اور یوسف جھوٹوں میں سے ہے ۔

[Yusuf] said: 'It was she who sought to seduce me.' And a witness from her own family testified: 'If his shirt was torn from the front, then she is truthful and he is of the liars.'

12:27

وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّٰدِقِينَ

اور اگران کا کرتا پیچھے کے رخ سے پھاڑا گیا ہے تو وہ جھوٹ بولتی ہے اور یوسف سچوں میں سے ہیں ۔

'But if his shirt was torn from the back, then she has lied and he is of the truthful.'

12:28

فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُۥ مِن كَيْدِكُنَّ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ

پھر جب (عزیز مصر نے) ان کی قمیص دیکھی پیچھے سے پھٹی ہوئی تو بولا : یہ سب تم عورتوں کی مکاری ہے ۔ بے شک تم عورتوں کا مکر بہت برا ہے ۔

Then when [the 'Aziz] saw that his shirt was torn from behind, he said: 'Indeed this is from your scheming [O women]. Indeed the scheming of women is great.'

12:29

يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا وَاسْتَغْفِرِي لِذَنۢبِكِ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ

یوسف ! اس سے درگزر کرو اے عورت ! تو اپنے گناہ سے معافی مانگ ۔ بے شک تو خطاکاروں میں سے ہے ۔

'O Yusuf, ignore this matter. And you [O woman], seek forgiveness for your sin. Indeed you were of the wrongdoers.'

12:30

وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَٰىهَا عَن نَّفْسِهِۦ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِي ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ

اور شہر کی عورتوں نے کہنا شروع کیا : عزیز مصر کی عورت اپنے جوان کو بہکانا چاہتی ہے ۔ محبت اس کے دل میں داخل ہوگئی ہے ۔ بے شک ہم اسے کھلی گمراہی (اور شدید محبت) میں گرفتار پاتے ہیں ۔

And women in the city began to say: 'The wife of the 'Aziz is seeking to seduce her young man. He has deeply infatuated her with love. Indeed we see her in manifest error.'

12:31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً وَآتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ

پس جب اس نے ان عورتوں کی چالبازی کو سنا ، کسی کو بلوایا اور ان کے لئے مسند لگادیئے اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک چھری دے دی اور یوسف سے کہا ذرا ان عورتوں کے سامنے (جرے سے) آکل کرآ ۔ ان عورتوں نے جب یوسف کو دیکھا تو ان کو بہت بڑا سمجھا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور کہا : حاشاللہ (سبحان اللہ!) یہ آدمی نہیں ہے ۔ یہ آدمی نہیں بلکہ ایک بہت بزرگ فرشتہ ہے ۔

So when she heard of their scheming, she summoned them and prepared couches for them, and gave each one of them a knife, and said [to Yusuf]: 'Come out before them.' When they saw him, they were greatly struck and cut their hands [in amazement] and said: 'God forbid! This is no human. This is none other than a noble angel!'

12:32

قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ وَلَقَدْ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَاسْتَعْصَمَ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ الصَّٰغِرِينَ

اس عورت (اے مصر کی عورت!) نے کہا : یہی وہ شخص ہے جس کے متعلق تم مجھے ملامت کرتی تھیں ۔ میں نے اسے پھسلایا (بھلایا - پھسلایا) مگر وہ (اپنی پاکی واضحی پر) قائم رہا ۔ اگر وہ میری کہی ہوئی بات نہیں کرے گا تو اس کو قید میں ڈالوں گی اور وہ ذیل و خوار لوگوں میں سے ہوجائے گا ۔

She said: 'There he is — the one for whom you blamed me! And I did indeed seek to seduce him, but he held firm [to his integrity and chastity]. If he does not do what I command him, he will surely be imprisoned and made to be of those who are humiliated.'

12:33

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَٰهِلِينَ

یوسف نے دُعا کی : میرے پروردگار ! جس برے کام کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں ۔ اس سے تو مجھے قید زیادہ پسند ہے ۔ اور اگر تو ان کے مکر کو مجھ سے نہ ہٹائے تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور خودبھی جاہلوں میں سے ہوجاؤں گا ۔

Yusuf prayed: 'O my Lord! Prison is dearer to me than what they call me towards [this evil act]. And if You do not turn away their scheming from me, I shall incline towards them and become one of the ignorant.'

12:34

فَاسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُۥ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

پھر یوسف کے خدا نے ان کی سن لی اور ان عورتوں کے مکر کو ان سے پھیر دیا اور وہی سمیع اور جاننے والا ہے ۔

So his Lord answered him and turned away from him their scheming. Indeed He is the All-Hearing, the All-Knowing.

12:35

ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا رَأَوُا الْآيَٰتِ لَيَسْجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٍ

پھر اس کے بعد بھی کہ وہ نشانیاں دیکھ چکے تھے ان کے (یعنی دل میں آیا اور) یہی مناسب ہوا کہ ان کو ایک زمانے تک قید میں رکھیں ۔

Then it seemed best to them [in their hearts] even after they had seen the signs — to imprison him for a time.

12:36

وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيَانِ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّيٓ أَرَىٰنِيٓ أَعْصِرُ خَمْرًا وَقَالَ الْءَاخَرُ إِنِّيٓ أَرَىٰنِيٓ أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِي خُبْزًا تَأْكُلُ الطَّيْرُ مِنْهُ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ

اور یوسف کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے ۔ ان میں سے ایک نے کہا : میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں ۔ دوسرے نے کہا : میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ اپنے سر پر روٹیاں لیا ہوا ہوں اور پرندے اس میں سے کھارہے ہیں ۔ ہمیں تم سے تعبیر بتائیے ۔ بے شک ہم تم کو نیک کردار سمجھتے ہیں ۔

And two young men entered prison along with him. One of them said: 'I see myself pressing wine.' The other said: 'I see myself carrying bread on my head, from which birds are eating.' [They said:] 'Tell us its interpretation — indeed we see you to be of the good-doers.'

12:37

قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَآ ذَٰلِكُم مِّمَّا عَلَّمَنِي رَبِّي إِنِّي تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَهُم بِالْءَاخِرَةِ هُمْ كَٰفِرُونَ

یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں دیا جاتا ہے اس کے تمہارے پاس آنے سے پہلے ہی تمہارے خواب کی تعبیر دوں گا ۔ یہ ان علوم سے ہے جو میرے رب نے مجھے تعلیم دیا ہوں ۔ میں ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا ہوں جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں ۔

Yusuf said: 'No food that you are given shall come to you but I shall inform you of its interpretation before it comes to you. That is from what my Lord has taught me. I have abandoned the creed of people who do not believe in Allah and who deny the Hereafter.'

12:38

وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَآئِيٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِاللَّهِ مِن شَيْءٍ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ

اور میں اپنے باپ داد ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کے مذہب کی اتباع کرتا ہوں ۔ ہم کو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا حق نہیں ۔ یہ اتباع اللہ کے فضل و کرم میں سے ہے ۔ مگر اکثر لوگ بالکل شکر نہیں کرتے ۔

'And I follow the religion of my forefathers Ibrahim, Ishaq, and Ya'qub. It was not right for us to associate anything with Allah. That is from the grace of Allah upon us and upon the people, but most people do not give thanks.'

12:39

يَٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَٰحِدُ الْقَهَّارُ

اے قیدخانہ کے دو ساتھیو ! کیا متفرق خدا بہتر ہیں یا اللہ ایک ، اور قہار ہے ۔ (سب سے زبردست ہے) ۔

'O my two fellow prisoners! Are many separate lords better, or Allah, the One, the Omnipotent?'

12:40

مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَآبَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَٰنٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا إِلَّآ إِيَّاهُ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

خدا کو چھوڑ کر تم جن کی پوجا کرتے ہو وہ تو صرف نام ہیں (ام بلاسمی ہیں) جو تمہارے اور تمہارے باپ دادا کے رکھے ہوئے نام ہیں (جن کی کوئی اصل نہیں) اور اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری ۔ حکم دینا اللہ کا کام ہے ۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ یہ راست مذہب ہے مگر اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے ۔ (بڑی جہالت میں پڑے ہوئے ہیں) ۔

'What you worship besides Him are nothing but names you and your forefathers have invented. Allah has sent down no authority for them. The command belongs to Allah alone. He has commanded that you worship none but Him. That is the upright religion, but most people do not know. [They are sunk in great ignorance.]'

12:41

يَٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُۥ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ الطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ

اے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو ! تمہارے میں سے ایک تو آقا کو شراب پلائے گا اور دوسرا صلیب پر چڑھایا جائے گا ۔ پھر پرندے اس کے سر سے (نوچ نوچ کر) کھائیں گے (اس بات پر قضا و قدر جاری ہوچکی) ۔ اس کا فیصلہ ہوچکا ہے جس کے متعلق تم فتویٰ طلب کرتے ہو ۔

'O my two fellow prisoners! As for one of you, he will pour wine for his master. As for the other, he will be crucified and birds will eat from his head. [Destiny has been decreed.] The matter concerning which you sought my judgement has been decided.'

12:42

وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ الشَّيْطَٰنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ

اور (یوسف علیہ السلام نے) اس شخص سے جس کو نجات پائے گا ان میں سے یقین تھا کہ کہا ۔ تم : میرا ذکر (میری بات) اپنے آقا کے پاس کرنا ۔ مگر شیطان نے اپنے آقا کے پاس ذکر کرنا (میری بات) اپنے آقا کے پاس کرنا (یاد دلانا) کا یوسف سے بھلا دیا ۔ اور لہذا ان کو کوئی سال تک قید میں رہنا پڑا ۔

And [Yusuf] said to the one whom he believed would be saved among them: 'Mention me to your master.' But Satan caused him to forget mentioning [Yusuf] to his master [the king], so Yusuf remained in prison for several years.

12:43

وَقَالَ الْمَلِكُ إِنِّيٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍ يَٰٓأَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي رُءْيَٰيَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ

اور بادشاہ نے کہا : میں نے سات موٹی گائیں دیکھی ہیں جن کو سات ڈبلی گائیں کھا جاری ہیں اور سات سبز اور خشک بالوں اور بھنوں کو بھی کھا جاری ہیں (اے اہل دربار!) اے سرداروں ! میرے خواب کی تعبیر بتاؤ ، اگر تم خوابوں کو تعبیر دینا آتا ہے ۔

And the king said: 'I see seven fat cows being eaten by seven lean ones, and seven green ears of grain and [seven] others dry. O chiefs! Inform me about my dream if you are skilled in the interpretation of dreams.'

12:44

قَالُوٓا أَضْغَٰثُ أَحْلَٰمٍ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الْأَحْلَٰمِ بِعَٰلِمِينَ

لوگوں نے کہا : یہ خواب پریشان ہیں جن کی کوئی اصل نہیں اور ہم (بے اصل) خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے ۔

They said: 'These are confused and mixed-up dreams and we have no knowledge of the interpretation of confused dreams.'

12:45

وَقَالَ الَّذِي نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ

اور ان میں سے جس شخص کو نجات ملی تھی ، اور لمبے عرصے کے بعد اس کو یاد آیا (کیا کیا؟) کہ میں اس کی تعبیر تم کو بتادوں گا ۔ پس تم مجھے بھیجو ۔ (کس کے پاس ؟ یوسف کے پاس) ۔

And the one of the two who had been saved — and who now remembered after a long period [what he had forgotten] — said: 'I will inform you of its interpretation, so send me [to Yusuf in prison].'

12:46

يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِي سَبْعِ بَقَرَٰتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنۢبُلَٰتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٍ لَعَلِّيٓ أَرْجِعُ إِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ

اے یوسف صدیق ! ہم سے تعبیر بیان کرو ۔ سات موٹی گائیں کو سات ڈبلی گائیں کھا جاتی ہیں اور سات سبز بالیں اور سات خشک اور سات بالیں (اس کی بھی تعبیر بیان کرو) ۔ میں واپس لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کو (تعبیر خواب کا) علم ہو ۔

'O Yusuf the truthful! Inform us about seven fat cows being eaten by seven lean ones, and seven green ears of grain and [seven] others dry — so that I may return to the people that they may come to know.'

12:47

قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِي سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تَأْكُلُونَ

(یوسف نے) کہا : تم حسب عادت سات سال تک کھیتی کروگے ۔ پھر تم کو چاہیے کہ جو کچھ تم کاٹو اس کو بالوں میں (یعنی چھلوں میں) چھوڑ دو ۔ مگر تھوڑا اپنے کھانے کے لئے بھی لے لو ۔

[Yusuf] said: 'You will sow continuously for seven years. Then whatever you harvest, leave it in its ear [husk], except a little which you eat.'

12:48

ثُمَّ يَأْتِي مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ

پھر اس کے بعد سات سخت سال آئیں گے اور تم نے جو کچھ جمع کیا ہے اس کو کھاجائیں گے (سواے غلہ کے جو تم ذخیرہ کرلو (اذخار کرو) ۔

'Then after that will come seven severe [years] that will consume what you stored up for them, except a little of what you keep [in reserve].'

12:49

ثُمَّ يَأْتِي مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ

اس کے بعد پھر ایسا سال آئے گا جس میں لوگوں پر بکثرت بارش ہوگی اور اس میں لوگ (خوب انگور) نچوڑیں گے ۔

'Then after that will come a year in which people will be granted relief [abundant rain], and in which they will press [fruit and grape juice].'

12:50

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِۦ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الَّٰتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ

اور بادشاہ نے ان کو کہا ان کو میرے پاس لاؤ ۔ پھر جب فرستادہ ان کے (یوسف علیہ السلام کے) پاس پہنچا تو انہوں نے کہا : تم اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ کیا ماجرا ہے ان عورتوں کا ، جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے ۔ میرا رب تو ان کے مکر کا خوب علم رکھتا ہے ۔

And the king said: 'Bring him to me.' When the messenger came to him [Yusuf], he said: 'Go back to your master and ask him about the matter of the women who cut their hands. Indeed my Lord is well aware of their scheming.'

12:51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ قُلْنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍ قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْءَٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ الصَّٰدِقِينَ

(بادشاہ نے) کہا : تمہارا کیا معاملہ ہے جب تم نے یوسف کو پھسلانا اور بہکانا چاہا ۔ ان عورتوں نے کہا : حاشاللہ ہم کو یوسف کے متعلق کوئی برائی معلوم نہیں ۔ عزیز مصر کی بیوی نے کہا : اب حق ظاہر ہوگیا ۔ میں نے یوسف کو پھسلانا اور بہکانا چاہا اور بے شک وہ سچوں میں سے ہیں ۔

[The king] said: 'What was your affair when you sought to seduce Yusuf?' They said: 'God forbid! We knew no evil of him.' The wife of the 'Aziz said: 'Now the truth is manifest. I was the one who sought to seduce him, and indeed he is of the truthful.'

12:52

ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ

(یوسف نے کہا) یہ اس لئے ہے کہ اس کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیبت میں کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ تو خیانت کرنے والوں کی تدبیروں کو (ان کو کامیاب ہونے دیتا ) کامیاب ہونے نہیں دیتا ۔

[Yusuf said:] 'This is so that he [the 'Aziz] may know that I did not betray him in his absence, and that Allah does not guide the scheming of the treacherous [to success].'

12:53

وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ

اور میں اپنے نفس کو پاک اور عیوب سے بری نہیں سمجھتا ۔ یقیناً نفس بڑی بری بات کا حکم دیتا ہے مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے ۔ بے شک میرا رب غفور ، رحیم ہے ۔ (وہی ہے خطاؤں کا ڈھانکنے والا ، وہی ہے رحم وکرم کرنے والا) ۔

'And I do not acquit my own soul [of blame]. Indeed the soul is greatly inclined to command [one towards] evil, except when my Lord shows mercy. Indeed my Lord is Most Forgiving, Most Merciful. [He covers faults and grants mercy.]'

12:54

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ

اور بادشاہ نے کہا ان کو (یوسف کو) میرے پاس لاؤ ۔ میں ان کو اپنے نزدیمان خاص من شریک کرتا ہوں ۔ پھر جب بادشاہ نے ان سے (یوسف سے) گفتگو کی (کلام کیا) تو کہا : تم آج ہمارے پاس معزز اور امین ہو ۔

And the king said: 'Bring him to me — I will appoint him exclusively for my own service.' Then when he [the king] spoke with him [Yusuf], he said: 'Today you are with us established [in authority] and trustworthy.'

12:55

قَالَ اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَآئِنِ الْأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ

(یوسف علیہ السلام نے) کہا (اے بادشاہ!) مجھے اس سرزمین کے خزانوں کا نگران کار بنا دیجیے ۔ بے شک میں بڑی حفاظت کرنے والا ، علم اور واقعیت رکھنے والا ہوں ۔

[Yusuf] said: 'Appoint me over the storehouses of the land. Indeed I am a trustworthy and knowledgeable [guardian].'

12:56

وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ

اور اس طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں اقتدار بناد یا تھا ۔ وہ اس سرزمین میں جہاں چاہتا تھا رہتا تھا ۔ ہم اپنی رحمت سے جسے چاہتے ہیں سرفراز اور محسنوں کا اجر ضائع نہیں کرتے ۔ (ہر شخص کو اس کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں) ۔

And thus We established Yusuf in the land, so that he could settle therein wherever he wished. We bestow Our mercy on whom We will, and We do not allow the reward of the good-doers to go to waste.

12:57

وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ

اور آخرت کا اجر بے شک بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان دار ہیں اور متقی بھی ۔

And the reward of the Hereafter is indeed better for those who believe and are God-fearing.

12:58

وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ

اور یوسف کے بھائی آئے ، ان سے ملے ۔ یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ یوسف کو پہچان نہ سکے ۔

And the brothers of Yusuf came and entered upon him. He recognised them, but they did not recognise him.

12:59

وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُونِي بِأَخٍ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّيٓ أُوفِي الْكَيْلَ وَأَنَا۠ خَيْرُ الْمُنزِلِينَ

اور جب انہیں باساز و سامان کردیا تو (یوسف نے) اپنے بھائیوں سے کہا : مجھے اپنے علاقائی بھائی کو لاؤ ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں پوری تول دیتا ہوں اور میں بہترین مہمان نواز ہوں ۔

And when he had provided them with their provisions, he [Yusuf] said: 'Bring me a brother of yours from your father. Do you not see that I give full measure and I am the best of hosts?'

12:60

فَإِن لَّمْ تَأْتُونِي بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِي وَلَا تَقْرَبُونِ

پھر اگر تم ان کو میرے پاس لانے کے لئے نہ لائے تو میرے پاس تمہارے لئے ناپ (یعنی غلہ) نہ ملے گا اور تم میری قربت حاصل نہ ہوگی ۔

'But if you do not bring him to me, there will be no measure [grain] for you from me, and do not come near me.'

12:61

قَالُوا سَنُرَٰوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٰعِلُونَ

انہوں نے کہا : ہم ان کے باپ کے ارادے کو پھیریں گے ، (انہیں سمجھائیں گے کہ بھائی کو بھیجائیں) اور ہم یہ کرکے رہیں گے ۔

They said: 'We will try to persuade his father [to release him], and we will surely do it.'

12:62

وَقَالَ لِفِتْيَٰنِهِۦ اجْعَلُوا بِضَٰعَتَهُمْ فِي رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُونَهَآ إِذَا انقَلَبُوٓا إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

اور انہوں نے اپنے نوکروں سے کہا کہ ان کا سرمایہ ان کے تھیلوں میں ڈال دو ۔ شاید کہ وہ اسے اپنے متعلقین کے پاس آئیں گے تو ان کو پہچانیں اور ممکن ہے کہ پھر لوٹ آئیں ۔

And he [Yusuf] said to his servants: 'Place their goods [money] back into their packs, so that they may recognise it when they return to their family — and perhaps they will come back.'

12:63

فَلَمَّا رَجَعُوٓا إِلَىٰٓ أَبِيهِمْ قَالُوا يَٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

پھر جب (برادران یوسف) اپنے والد کے پاس پہنچے (ابا جان ! ہم سے) غلہ روک دیا گیا ہے ۔ لہذا ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجیے تاکہ غلہ لائیں گے اور ہم ان کی حفاظت کریں گے ۔

Then when they returned to their father, they said: 'O our father! Measure [grain] has been withheld from us. So send our brother with us so that we may obtain measure, and we will surely guard him.'

12:64

قَالَ هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمْ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبْلُ فَاللَّهُ خَيْرٌ حَٰفِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

انہوں نے کہا ان کے متعلق تمہارا اعتبار نہیں کرسکتا مگر اسی طرح جس طرح پہلے ان کے بھائی کے بارے میں میں اعتبار کیا تھا ۔ اللہ ہی بہتر نگہبان ہے اور وہی ارحم الراحمین ہے ۔

He said: 'Should I trust you with him as I trusted you with his brother before? Allah is the best guardian, and He is the Most Merciful of the merciful.'

12:65

وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَٰعَهُمْ وَجَدُوا بِضَٰعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ قَالُوا يَٰٓأَبَانَا مَا نَبْغِي هَٰذِهِۦ بِضَٰعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ذَٰلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ

اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا سرمایہ ان کو واپس کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا باباجان ! اب ہم کس امید پر کوئی خواہش کریں ۔ یہ تو ہمارا سرمایہ ہمیں واپس کردیا گیا ۔ اگر آپ بنیامین کو ہمارے ساتھ بھیجیں تو ہم لوگ اپنے لوگوں کے لئے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ہمارے لئے ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ ہوجائے گا ۔ یہ (موجودہ) غلہ تو بہت کم ہے ۔

And when they opened their baggage, they found their goods had been returned to them. They said: 'O our father! What more can we desire? Here is our goods returned to us. If you send our brother [Benjamin] with us, we will obtain grain for our family, protect our brother, and gain an additional camel-load. That [current provision] is but a small quantity.'

12:66

قَالَ لَن أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ لَتَأْتُنَّنِي بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ فَلَمَّآ آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ

(یعقوب نے) کہا : میں ہرگز تمہارے ساتھ ان کو نہیں بھیجوں گا یہاں تک کہ تم خدا کی قسم کھاؤ (اس کو پختہ کرو) کہ تم ان کو لاؤگے (واپس لے کر آؤگے) مگر یہ کہ تم محاصرہ کرلیا جاؤ ۔ پھر جب انہوں نے اپنا عہد دیا (یعقوب علیہ السلام نے) کہا ، ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا اللہ ہی کارساز ہے ۔ (وہی ہمارا کارساز ہے) ۔

[Ya'qub] said: 'I will never send him with you until you give me a solemn covenant by Allah that you will surely bring him back to me, unless you are overwhelmed [by circumstances beyond your control].' When they gave him their covenant, he said: 'Allah is Witness over what we say.'

12:67

وَقَالَ يَٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوا مِنۢ بَابٍ وَٰحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَٰبٍ مُّتَفَرِّقَةٍ وَمَآ أُغْنِي عَنكُم مِّنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ

اور کہا اے میرے بچو! ایک دروازے سے داخل نہ ہو اور متفرق دروازوں سے داخل ہوجاؤ ۔ میں خدا کے حکم کے مقابل تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتا ۔ حکم دینا تو اللہ ہی کا کام ہے ۔ میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور توکل کرنے والوں کو چاہیے کہ اسی پر توکل کریں ۔

And he said: 'O my sons! Do not enter from one gate; enter from separate gates. And I cannot avail you anything against Allah's decree. The command belongs only to Allah. Upon Him I rely, and upon Him let all those who trust put their trust.'

12:68

وَلَمَّا دَخَلُوا مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُمْ مَا كَانَ يُغْنِي عَنْهُم مِّنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ إِلَّا حَاجَةً فِي نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَٰىهَا وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٍ

اور جب داخل ہوئے اس طرح جس طرح ان کے والد کے حکم سے کہ ان کو اللہ کے حکم کے مقابل میں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے تھے ، مگر یہ ایک حاجت یعقوب کے دل کی تھی جس کو انہوں نے پورا کیا ۔ مگر یہ بڑے تھے تو بڑے علم والے تھے کیونکہ ہم نے ان کو تعلیم دی تھی ۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

And when they entered as their father had instructed them, it could not avail them anything against Allah's decree. It was merely a need [wish] within Ya'qub's soul, which he fulfilled. Indeed he was possessed of great knowledge, because We had taught him — but most people do not know.

12:69

وَلَمَّا دَخَلُوا عَلَىٰ يُوسُفَ آوَىٰ إِلَيْهِ أَخَاهُ قَالَ إِنِّي أَنَا أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

(۶۹) اور جب یہ لوگ یوسف کے پاس آئے (ان کے پاس داخل ہوئے) تو یوسف نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی – کہا میں تمہارا بھائی ہوں – تم ان بد سلوکیوں کی پرواہ نہ کرو۔

(69) And when these people came to Yusuf (entered his presence), he seated his brother beside himself — he said: I am your brother — do not grieve over the bad treatment they have shown.

12:70

فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِي رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ

(۷۰) پھر جب ان کو ساز و سامان کے ساتھ تیار کردیا تو ان کے بھائی کے تھیلے میں کٹورا رکھ دیا – پھر پکارنے والے نے پکارا کہ او قافلہ والو! تم تو چور ہو۔

(70) Then when he had equipped them with their provisions, he placed the [king's] drinking cup in his brother's saddlebag — then a herald called out: O caravan! You are indeed thieves.

12:71

قَالُوا وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ

(۷۱) (برادران یوسف نے) ملازمین رسد کی طرف متوجہ ہوکر کہا (تم کیا ڈھونڈتے ہو؟) تمہارا کیا گم ہوا ہے؟

(71) (The brothers of Yusuf), turning towards them [the officials], said: (What are you searching for?) What have you lost?

12:72

قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَن جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ

(۷۲) انہوں نے کہا کہ ہم بادشاہ کا پیالہ ڈھونڈ رہے ہیں اور جو شخص اس کو لائے اس کو (بطور انعام) ایک اونٹ کا بوجھ ملے گا اور میں اس کا ضامن ہوں (ضامن ہوں)۔

(72) They said: We are searching for the king's goblet, and whoever brings it shall receive (as a reward) a camel-load, and I am the guarantor of it (I stand surety for it).

12:73

قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ

(۷۳) انہوں نے کہا – اللہ کی قسم! تم کو معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد پھیلانے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں۔

(73) They said: By Allah! You well know that we did not come to spread corruption in the land, and we are not thieves.

12:74

قَالُوا فَمَا جَزَاؤُهُ إِن كُنتُمْ كَاذِبِينَ

(۷۴) انہوں نے کہا پھر اس کی کیا سزا ہے اگر تم جھوٹے نکلے؟

(74) They said: Then what is the penalty for it, if you turn out to be liars?

12:75

قَالُوا جَزَاؤُهُ مَن وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ

انہوں نے کہا اس کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کے بورے میں سے وہ ملے وہ خود اس کی جزا (یعنی غلام) ہوگا ۔ ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیتے ہیں ۔

They said: The recompense for it is that the one in whose saddlebag it is found — he himself shall be the recompense (i.e., a slave). This is how we recompense the wrongdoers.

12:76

فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِيهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَاءِ أَخِيهِ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ

اس نے (بنظر رسد نے) ان کے بھائی کے تھیلے سے پہلے دوسرے بھائیوں کی تلاشی لی ۔ پھر اس کو نکالا ان کے بھائی کے تھیلے میں سے ۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی ۔ کیونکہ یوسف شاہی قانون کی رو سے اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھ نہیں سکتے تھے ۔ مگر یہ کہ خدا چاہے (یعنی خدا کے نزدیک اس کی وجہ سے یوسف کے بھائی کے پاس آرہنا ہوا) ہم جس کو چاہتے ہیں مرتبہ بلند کرتے ہیں اور ہر ذی علم کے اوپر علم (حکیم) ہے ۔ (یعنی جہاں یوسف کی تدبیر کی نہیں چل سکتی تھی ، وہاں ہم نے اپنے علم وحکمت سے تدبیر نکال ہی لی) ۔

He (the steward) began searching their bags before his brother's bag, then he brought it out from his brother's bag. Thus We devised a plan for Yūsuf. He could not have taken his brother under the king's law, unless Allah willed (i.e., by Allah's will, his brother had to remain with Yūsuf). We raise in degrees whom We will, and above every possessor of knowledge is One more knowing (Wise). (That is, where Yūsuf's own plan could not work, We devised a plan through Our own knowledge and wisdom.)

12:77

قَالُوا إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِن قَبْلُ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ

انہوں نے کہا اگر اس نے سرقہ کیا ہے تو پہلے اس کے بھائی نے بھی سرقہ کیا تھا ۔ یوسف نے اسے اپنے دل میں چھپایا اور ان کے لئے ظاہر نہیں کیا ۔ کہا تم نے کہا کہ تم لوگ بری حالت کے ہو اور اللہ بہتر جانتا ہے جو تم بیان کرتے ہو ۔

They said: If he has stolen, then a brother of his had stolen before. Yūsuf concealed it within himself and did not reveal it to them. He said (to himself): You are in a worse situation, and Allah knows best what you describe.

12:78

قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ

انہوں نے کہا ، اے عزیز اس کا ایک بوڑھا باپ ہے لہٰذا تم ہم میں سے ایک کو اس کے عوض لے لو ۔ ہم تو تمکو بڑا نیکوکار جھتے ہیں ۔

They said: O 'Azīz! He has an elderly father, so take one of us in his place. Indeed, we see you as one of the beneficent.

12:79

قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِندَهُ إِنَّا إِذًا لَّظَالِمُونَ

کہا : پناہ بخدا ! کہ ہم پکڑیں سوائے اس شخص کے جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم ظالم ہوں گے ۔

He said: Allah forbid that we take anyone other than the one in whose possession we found our property — if we did so, we would indeed be wrongdoers.

12:80

فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِي يُوسُفَ فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ

پھر جب وہ سب لوگ مایوس ہوگئے تو الگ ہوکر آپس میں مشورہ کرنے لگے ۔ ان میں سے بڑے نے کہا کیا تمہیں علم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کی طرف پختہ وعدہ لیا تھا اور اس سے پہلے جو کچھ تم نے یوسف کے متعلق کوتاہی کی وہ بھی تم کو معلوم ہے ۔ اب تو میں اس سرزمین سے نہ لکلوں گا (اس جگہ کے نمرکوں گا) جب تک میرے والد خود مجھے حکم نہ دیں یا خدا کوئی حکم دے اور وہی بہترحکم دینے والا ہے ۔

Then when they despaired of him, they withdrew to confer privately. The eldest among them said: Do you not know that your father took a solemn covenant from you in Allah's name, and before this you had already been remiss regarding Yūsuf? I will by no means leave this land (I shall not move from this place) until my father gives me permission or Allah decrees for me, and He is the best of those who decree.

12:81

ارْجِعُوا إِلَىٰ أَبِيكُمْ فَقُولُوا يَا أَبَانَا إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَا إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ

(بڑے بھائی نے دوسرے بھائیوں سے کہا) تم اپنے والد کے پاس واپس جاؤ ۔ پھر ان کو عرض کرنا ۔ ابا جان آپ کے بیٹے نے سرقہ کیا ۔ ہم نے اسی کو ٹھیک ٹھیک بیان کیا ہے جو ہم جانتے ہیں (اور ہم نے بیان نہیں کیا اس چیز کو جس کو ہم کبھی نہیں جانتے) اور غیب کی بات ہم (اور ہم نے بیان کیا جس چیز کو ہم گواہ ہیں اور جو غیب سے ہوئی بات ہے) سے ہم روک نہیں سکتے تھے ۔

Return to your father and say: O our father, your son stole. We testify only to what we know, and we could not guard against the unseen (we have stated only what we witnessed, and as for what happened beyond our knowledge, we could not prevent it).

12:82

وَسْأَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا وَالْعِيرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا وَإِنَّا لَصَادِقُونَ

(۸۲) اور اس بستی سے دریافت کریجئے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بالکل سچ ہیں ۔

And ask the town in which we were, and the caravan in which we came — and indeed we are truthful.

12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ

(۸۳) کہا : یہ سب تمہاری من گھڑت باتیں ہیں ، اب میں خوبی سے برداشت کرلوں گا ۔ شاید کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لائے ۔ بے شک وہ بڑا علم و حکمت والا ہے ۔

He said: Rather, your souls have embellished a matter for you, so (my recourse is) gracious patience. Perhaps Allah will bring them all to me. Indeed He is the All-Knowing, the All-Wise.

12:84

وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ

(۸۴) اور ان سے (یعقوب نے) منہ پھیر لیا اور کہا ہائے افسوس یوسف ! اور ان کی آنکھیں غم کے مارے سفید ہوگئیں اور وہ غم کو پی جا رہے تھے ۔

And he (Ya'qūb) turned away from them and said: O my sorrow for Yūsuf! And his eyes turned white from grief, and he was suppressing his anguish.

12:85

قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ

(۸۵) انہوں نے کہا ۔ بخدا تم تو یوسف کی یاد کرتے ہی رہوگے یہاں تک کہ قریب المرگ ہوجاؤ یا مر ہی جاؤ ۔

They said: By Allah, you will never cease remembering Yūsuf until you are at the point of death or until you die.

12:86

قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

(۸۶) کہا : میں اپنا رنج وغم بیان کرتا ہوں تو اپنے خدا کی طرف سے اور اللہ کی طرف سے ایسی باتیں بھی جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔

He said: I complain of my grief and sorrow only to Allah, and I know from Allah what you do not know.

12:87

يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ

(۸۷) اے میرے بیٹو ! جاؤ اور یوسف اور ان کے بھائی کا پتہ لگاؤ (ان کو دریافت کرو) اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو کیونکہ اللہ کی رحمت سے کافروں کے سوا اور کوئی مایوس نہیں ہوتا ۔

O my sons, go and search for Yūsuf and his brother, and do not despair of Allah's mercy. Indeed, none despairs of Allah's mercy except the disbelieving people.

12:88

فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجَاةٍ فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا إِنَّ اللَّهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ

(۸۸) پھر جب وہ ان کے پاس پہنچے کہا اے عزیز ہم کو اور ہمارے متعلقین کو بہت ضرر پہنچا ہے اور ہم کچھوڑا سرمایہ لے کر آئے ہیں (بہت تھوڑا سرمایہ لے کر حاضر ہوئے ہیں) مگر آپ ہمیں پورا ناپ دو اور خیرات بھی دو ۔ بے شک اللہ تو صدقہ اور خیرات کرنے والوں کو جزا ء خیر عطا فرماتا ہے ۔

Then when they entered upon him, they said: O 'Azīz, distress has befallen us and our family, and we have brought meagre capital (we have come with very little), so give us full measure and be charitable to us — indeed Allah rewards the charitable.

12:89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ

(۸۹) اس نے کہا کیا تمہیں اس کا علم ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ جب کہ تم نادان تھے ۔

He said: Do you know what you did to Yūsuf and his brother when you were ignorant?

12:90

إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ

احسان فرمایا ہے ۔ بات یہ ہے کہ جو تقویٰ اور صبر اختیار کرتا ہے تو یقیناً اللہ محسنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا (کسی کی نیکی خالی نہیں جاتی) ۔

Indeed, whoever has taqwā and is patient — truly Allah does not waste the reward of the righteous (no one's good deed goes unrewarded).

12:91

قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَاطِئِينَ

(۹۱) بھائیوں نے کہا بخدا خدا نے تم کو ہم پر ترجیح دی اور بے شک ہم خطاکار ہیں ۔

They said: By Allah, Allah has indeed preferred you over us, and we were indeed sinners.

12:92

قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

(۹۲) کہا ! آج تم پر کوئی ملامت نہیں ۔ اللہ تم کو معاف فرمائے (مغفرت کرے) اور وہ ارحم الراحمین ہے ۔

He said: There is no reproach upon you today. May Allah forgive you (grant you pardon), for He is the Most Merciful of the merciful.

12:93

اذْهَبُوا بِقَمِيصِي هَٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ

(۹۳) میرا یہ کرتہ لے جا اور اس کو میرے والد کے منہ پر ڈال دو ، وہ بینا ہوجائیں گے اور تم اپنے تمام اہل وعیال کو لے کر میرے پاس آ ؤ ۔

Take this shirt of mine and place it over my father's face — he will regain his sight. Then bring your entire family to me.

12:94

وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلَا أَن تُفَنِّدُونِ

(۹۴) اور جب قافلہ لکلا تو ان کے والد نے کہا مجھے یوسف کی خوشبو آتی ہے اگر تم مجھے احمق نہ سمجھو ، (بیکا ہوا نہ جانو) ۔

And when the caravan departed, their father said: I can indeed perceive the fragrance of Yūsuf — if only you would not think me senile (would not consider me deluded).

12:95

قَالُوا تَاللَّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلَالِكَ الْقَدِيمِ

(۹۵) انہوں نے کہا بخدا تم تو اپنی پرانی واڈیاھلی پرانی محبت میں ہو ۔

They said: By Allah, you are still in your same old delusion (your same old deep attachment).

12:96

فَلَمَّا أَن جَاءَ الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَىٰ وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

(۹۶) پھر جب خوش خبری پہنچانے والا آگیا تو اس نے ان کے منہ پر ڈال دیا اور وہ پھر بینا ہوگئے کہا میں تم سے کہتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جن کو تم نہیں جانتے ۔

Then when the bearer of good news came, he placed it over his face, and he regained his sight. He said: Did I not tell you that I know from Allah what you do not know?

12:97

قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ

(۹۷) انہوں نے کہا ابا جان ! ہمارے گناہوں کے لئے دُعائے مغفرت کیجئے ۔ بے شک ہم خطاکار تھے ۔

They said: O our father, ask forgiveness of our sins for us — we were indeed sinners.

12:98

قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

(۹۸) کہا میں عنقریب اپنے رب سے تمہارے لئے مغفرت طلب کروں گا ، وہی ہے غفور و رحیم ۔

He said: Soon I will seek forgiveness for you from my Lord. Indeed He is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.

12:99

فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَىٰ يُوسُفَ آوَىٰ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِن شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ

(۹۹) پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے ، (ان کے گھر میں داخل ہوئے) تو انہوں نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں داخل ہو اللہ نے انشاء اللہ امن وچین کے ساتھ ۔

Then when they entered upon Yūsuf (entered his home), he embraced his parents and said: Enter Egypt in peace, if Allah wills.

12:100

وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِّمَا يَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ

(۱۰۰) اور یوسف نے اپنے ماں باپ کو تخت پر اونچا بٹھایا اور سب ان کے (یوسف کے) سامنے سجدے میں گر پڑے ۔ کہا ابا جان ! یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے ۔ خدا نے اس کو سچا کر دکھایا ۔ یہ خدا کا بڑا احسان ہے کہ مجھے قید سے نکالا اور آپ سب کو بادیہ نشینی سے یہاں لایا بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان میں ناچاقی پیدا کردی تھی ۔ بے شک خدا جس پر چاہتا ہے اپنا لطف وکرم کرتا ہے ۔ کیونکہ وہ علیم وحکیم ہے ۔

And he raised his parents upon the throne and they all fell prostrate before him (before Yūsuf). He said: O my father, this is the interpretation of my dream from before — my Lord has made it come true. He has greatly favoured me by taking me out of prison and by bringing all of you from the desert, after Shaytān had sown discord between me and my brothers. Indeed my Lord is Most Subtle in what He wills; indeed He is the All-Knowing, the All-Wise.

12:101

رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ

(۱۰۱) اے میرے رب ! تو نے مجھے ملک وحکومت سے حصہ دیا اور مجھے خوابوں کی تعبیر سکھائی ۔ (باتوں کا مقصد سمجھایا) اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے (کارساز ہے) دنیا میں اور آخرت میں تو ہی میرا میرا مالی ہے (کارساز ہے) مجھے مسلمان اور اچھوں سے ملادے ۔

O my Lord! You have given me authority and taught me the interpretation of dreams (explained to me the meaning of matters). O Creator of the heavens and the earth, You are my Guardian (Protector) in this world and the Hereafter — cause me to die as a Muslim and join me with the righteous.

12:102

ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ

(۱۰۲) یہ غیب کی باتیں ہیں جن کو ہم تمہیں بتادے رہے ہیں ۔ تم ان کے پاس نہ تھے جب کہ وہ اپنے کام پر اتفاق کرتے تھے اور وہ سازش و مکاری کرتے ہیں ۔

These are tidings of the unseen which We reveal to you. You were not present with them when they agreed upon their plan and were plotting.

12:103

وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ

(۱۰۳) اور اکثر لوگ چاہے تم کتنی ہی حرص کرو (کتنا ہی شوق کرو ، چاہو) ایمان لانے والے نہیں ۔ (یعنی یہ بدنصیب ہرگز ایمان لائیں نہ لائیں گے ۔ آپ ان کی طرف توجہ نہ کرو ۔)

And most of the people, even if you are eager (however much you desire), will not believe. (That is, these unfortunates will never believe — do not concern yourself with them.)

12:104

وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ

(۱۰۴) اور تم اس تبلیغ پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے ۔ یہ تو صرف یاد دہانی اورنصیحت ہے ۔

And you do not ask them any recompense for this. It is nothing but a reminder and admonition for all the worlds.

12:105

وَكَأَيِّن مِّن آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ

(۱۰۵) اور آسمانوں اور زمین میں کتنی نشانیاں ہیں جن پر سے لوگ گزرتے ہیں (یعنی ان کا علم رکھتے ہیں) اور وہ ان (نشانوں) سے اعراض کرتے ہیں ، (یعنی کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے) ۔

And how many a sign there is in the heavens and the earth that they pass by (i.e., are aware of), yet they turn away from them (i.e., they take no lesson from them).

12:106

وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ

(۱۰۶) اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں لاتے مگر یہ کہ وہ شرک بھی کرتے ہیں ۔

And most of them do not believe in Allah without also associating partners with Him.

12:107

أَفَأَمِنُوا أَن تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

(۱۰۷) کیا لوگ اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کی آفت عظیم ان پر آ چھا جائے یا قیامت اچانک ان کے پاس آجائے اور ان کو اس کی خبر بھی نہ ہو ۔

Are they then secure against an overwhelming punishment from Allah coming upon them, or the Hour coming upon them suddenly while they are unaware?

12:108

قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ

(۱۰۸) (پیغبر!) تم کہو یہ میرا راستہ ہے ۔ میں اللہ کی طرف دعوت دوں ، (بلاؤں) ، میں اور میرے ساتھ (چلاؤں) ، خدا کی طرف بصیرت پر ، اور میں اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں (میں موحد ہوں) ۔

Say (O Prophet ﷺ): This is my path — I call to Allah with clear insight, I and those who follow me. And glorified is Allah, and I am not of the polytheists (I am a monotheist).

12:109

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ اتَّقَوا أَفَلَا تَعْقِلُونَ

(۱۰۹) اور ہم ، تم سے پہلے بھی قریوں میں رہنے والوں میں سے صرف مرد لوگوں کو ہی وہی سے سرفراز کرتے تھے ۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ، کہ ان سے جو لوگ پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا ؟ اور آخرت کا مقام تو خدا تر لوگوں کے لئے بہتر تھا ۔ کیا تم لوگ اتنا بھی نہیں سمجھتے (عقل سے کچھ کام نہیں لیتے ؟) ۔

And We sent before you only men from among the inhabitants of towns to whom We revealed (Our commands). Have these people not travelled in the land and seen what was the outcome of those before them? And the abode of the Hereafter is indeed better for those who have taqwā. Will you not then reason (will you make no use of your intellect)?

12:110

حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّيَ مَن نَّشَاءُ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ

(۱۱۰) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگ (سب سے) مایوس ہوچلے اور گمان کیا کہ ان کو جھوٹا اور کذاب سمجھتے ہیں تو ہماری نصرت آگئی ۔ اور ہم نے جن کو چاہا نجات دی اور ہمارا عذاب مجرم قوم سے پھیرا اور ردنہیں کیا جاتا ۔

Until when the messengers despaired and thought they had been falsely accused (that people considered them liars), Our help came to them. Then We saved whom We willed, and Our punishment is not turned back from the criminal people.

12:111

لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

(۱۱۱) ان کے قصوں میں اہل دانش وبینش کے لئے عبرت ہے ۔ یہ من گھڑت باتیں نہیں ہیں لیکن ان کی تصدیق ہے جو ان کے سامنے ہیں اور ہر شئے کی تفصیل ہے اور ایمان دار لوگوں کے لئے ہدایت ورحمت ہے ۔

Indeed in their stories there is a lesson for people of understanding. It is not a fabricated account, but a confirmation of what came before it, and a detailed explanation of all things, and a guidance and mercy for people who believe.