39. Az-Zumar
الزمر
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
(۱) یہ ایک فرستادہ الٰہی ہے جو اُتارا گیا ہے اللہ ہی کی طرف سے جو عزت والا اور حکمت والا ہے۔
(1) This is a divine sending-down, revealed from Allah — the Mighty, the All-Wise.
إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ
(۲) (اے پیغمبر!) یقیناً ہم نے تمہاری طرف برحق کتاب اتاری لہذا پوری اطاعت کے ساتھ اللہ کی عبادت کرو۔
(2) (O Prophet!) Indeed We have sent down to you the Book in truth — therefore worship Allah with complete obedience, keeping religion purely for Him.
أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَىٰ إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ
(۳) خبردار! دیکھو! خالص اطاعت اللہ ہی کے لیے ہے اور جو لوگ خدا کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا دوست بناتے ہیں (اپنا کارساز کہتے ہیں اور کہتے ہیں) ہم ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ ہم ان کی وجہ سے ہم خدا کا تقرب حاصل ہوجائے — ان میں اللہ حاکم ناطق دے گا، بے شک اللہ جھوٹے ناشکرے کو سیدھا راستہ نہیں دکھاتا (اس کو ہدایت نہیں کرتا)۔
(3) Beware! Pure obedience and worship belong to Allah alone. And those who take protectors other than Him (saying He is their provider, and saying): 'We worship these deities only so that they may bring us closer to Allah' — Allah will judge between them in what they differ about. Indeed Allah does not guide one who is a liar and an ingrate (He does not bestow guidance on him).
لَوْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا لَاصْطَفَىٰ مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ هُوَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
(۴) خدا کسی کو اپنا بیٹا بنانا تو اپنے بندوں میں سے کی اچھی کو جس کو چاہتا، وہ تو ان سب سے پاک ہے — معبود برحق ہے — ایک ہے — بڑا زبردست اور با قوت ہے!
(4) Had Allah wished to take a son, He would have chosen from what He creates whomever He willed — He is transcendent above all that! He is Allah, the One, the Overwhelming Subduer!
خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى أَلَا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
(۵) اس نے مناسب طریقہ سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے — کبھی رات پر دن چھا جاتی ہے اور کبھی رات پر دن چھا جاتی ہے — (یعنی کبھی رات بڑی تو رات بڑی) اور سورج اور چاند یہ سب اس کے مسخّر، مطیع و منقاد ہیں — ہر ایک کا ایک معین دورہ ہے — وہی ہے — خبردار! وہی ہے، صاحب مغفرت بھی ہے۔
(5) He created the heavens and the earth in a fitting and ordered manner — at times night wraps over day and at times day wraps over night (i.e., sometimes the night is long and sometimes the day is long) — and the sun and moon are all subjugated to Him, obedient and compliant — each one runs for a fixed term — it is He! Beware: it is He, and He is also the Possessor of forgiveness (He is the Forgiving).
خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا
(۶) تم کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اسی قسم کا جوڑا بھی اور چارپایوں میں سے آٹھ قسم کے جوڑے پیدا کیے — تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہیں پیدا کیا — ایک قسم کے پیدا کرنے کے بعد دوسری قسم سے [باقی تحریر اگلے صفحہ پر جاری]
(6) He created you from a single soul, then made from it its mate, and sent down for you eight pairs of cattle — He creates you in your mothers' wombs, one stage of creation after another [continued on next page]
إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(۷) اگر تم کفر کرو تو اللہ تمہاری پروا نہیں فرماتا — اور اگر تم شکر گزار ہو تو وہ اس کا (اس کے گناہ) کا بوجھ کوئی نہیں اٹھاتا — پھر تم سب تمہارے پروردگار کے دربار میں جانا ہے — پھر جو کچھ تم کرتے ہیں وہ بتادے گا — یقیناً وہ تمہارے سینوں کے تمام رازوں سے واقف ہے — ان کا پورا علم رکھتا ہے۔
(7) If you are ungrateful, then Allah has no need of you — and He does not approve of ingratitude for His servants — and if you are grateful He approves of it for you — and no bearer of burden shall bear the burden of another — then to your Lord is your return — and He will inform you of what you used to do — indeed He is All-Knowing of what is within the breasts (He has complete knowledge of all your innermost secrets).
وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَنْدَادًا لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِهِ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ
(۸) اور جب آدی کو کوئی ضرر پہنچتا ہے تو اپنے پروردگار کی طرف ہمتن متوجہ ہوجاتا ہے — پھر جب اللہ تعالیٰ اس کو اپنے انعام اکرام سے سرفراز کرتے ہیں (نعمت و راحت دیتے ہیں) تو کہتا ہے — یہ تو مجھے میرے علم سے ملا ہے — نہیں بلکہ یہ ایک فتنہ ہے (امتحان ہے) — مگر اکثر لوگ نادان ہیں (کچھ نہیں جانتے) — (اے پیغمبر!) آپ کہہ دیجیے، (اے خاطب) تو اپنے کفر سے کچھ تمتع حاصل کرلے — یقیناً تو دوزخیوں میں سے ہے۔
(8) And when distress touches a person he turns completely towards his Lord in supplication — then when Allah bestows upon him a favour from Himself (gives him comfort and ease) he says: 'This came to me through my own knowledge!' — No! Rather it is a trial (a test) — but most people are unaware (know nothing). (O Prophet!) Say [addressing such a person]: 'Enjoy your ingratitude a little while — indeed you are among the people of the Fire!'
أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ
(۹) کیا وہ شخص جو رات کو سجدے اور قیام کرتا ہے (بندگی میں لگا ہوا ہے، عبادت کرتا ہے) اور آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار بھی رہتا ہے — کہو! کیا عالم اور جاہل دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (ہرگز نہیں) جن کو خدا نے عقل سلیم دی ہے وہی نصیحت اختیار کرتے ہیں۔
(9) Is the person who spends the night in prostration and standing (engaged in devotion, performing worship) — who fears the Hereafter and hopes for the mercy of his Lord — [equal to the heedless]? Say: 'Can those who know and those who do not know ever be equal? (Never!) Only those whom Allah has given sound reason take heed and benefit from admonition.'
قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
(۱۰) (پیغمبر!) تم کہو: میرے ایماندار بندو (میری فرمانبرداری کرنے والو)! اپنے رب سے ڈرو جو اس دنیا میں اچھا کام کرتے ہیں ان کو اچھا بدلہ ملتا ہے — خدا کی زمین کشادہ ہے (وسیع ہے) — جو لوگ صبر کرتے ہیں ان کو پورا اجر بے حساب ملتا ہے۔
(10) (O Prophet!) Say: 'O My servants who believe (who obey Me)! Fear your Lord — those who do good in this world receive a good recompense — Allah's earth is vast (spacious) — those who are patient receive their full reward without limit [without reckoning].'
قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ
(۱۱) تم کہہ دو مجھے حکم دیا گیا ہے کہ خدا کی خالص اطاعت کے ساتھ عبادت کروں، (بندگی کروں)۔
(11) Say: 'I have been commanded to worship Allah with pure devotion and complete sincerity (to serve only Him).'
وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ
(۱۲) اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے مسلمان ہوجاؤں (دین میں اول درجہ کا مسلمان رہوں)۔
(12) 'And I have also been commanded to be the first of the Muslims (to hold the foremost rank in submission).'
قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(۱۳) تم کہو! اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں گا تو مجھے روز قیامت کے عذاب کا ڈر ہے۔
(13) Say: 'If I were to disobey my Lord, I would fear the punishment of a momentous Day [the Day of Resurrection].'
قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَهُ دِينِي
(۱۴) تم کہو: میں اللہ ہی کی عبادت کو خالص کر کے پوری اطاعت اور صدق دلی کے ساتھ بندگی بجا لاتا ہوں۔
(14) Say: 'I worship Allah alone, keeping my religion purely for Him with full obedience and sincere devotion.'
فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِنْ دُونِهِ قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ
(۱۵) پھر تم پوجا کرتے رہو اس کو (خدا کو) چھوڑ کر جس کوئی چاہو — تم کہہ دو (پیغمبر!)، جنہوں نے دن قیامت کے اور اپنے اہلیوں کو خسارے اور نقصان میں ڈالا — ہاں ہاں! یکی ہے ظاہرا صریح خسارہ اور نقصان۔
(15) 'So worship whatever you please besides Him!' Say: 'The true losers are those who cause loss to themselves and to their families on the Day of Resurrection — yes indeed! That, manifestly and clearly, is the greatest loss and ruin.'
لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ذَٰلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ
(۱۶) ان کے لیے (دوزخیوں کے لیے) آگ کا اوڑھنا اوپر سے آگ اور نیچے سے بچھونا — جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔
(16) For them (the people of Hell) there will be canopies of fire above them and layers of fire beneath them — it is with this that Allah frightens His servants [to turn them away from disobedience].
وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فَبَشِّرْ عِبَادِ
(۱۷) کو ڈراتا ہے — میرے بندوں (پیغمبر!) تم میرے بندوں کو مبارکباد دے دو۔
(17) [Continued] — '(O Prophet!) give glad tidings to My servants [who feared and obeyed].'
الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُولَٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ
(۱۸) جو لوگ دھر کر باتیں سنتے ہیں اور اس میں سے اچھی بات کی اتباع اور پیروی کرتے ہیں — یہی لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی ہے اور یہی لوگ ہیں عقل سلیم والے (سمجھنے والے)۔
(18) Those who listen attentively to words and follow the best of them — these are the ones whom Allah has guided, and they are the ones possessed of sound understanding (the truly discerning).
أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ أَفَأَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِي النَّارِ
(۱۹) بھلا کیا اس شخص پر جس پر عذاب کا حکم ہوگیا ہے، تو (اے نبی!) کیا پھر تم ایسے دوزخیوں کو نجات دلاگے (ان کو بچالوگے؟)
(19) So can the one upon whom the sentence of punishment has been passed be saved? — (O Prophet!) Can you then deliver those in the Fire (save them from it?)
لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ الْمِيعَادَ
(۲۰) مگر جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بالا خانوں پر بالا خانے تیار ہیں (کئی منزلہ مکان ہیں) ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں — اللہ کا یہ وعدہ ہے — اللہ اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرتا۔
(20) But as for those who fear their Lord — for them are high chambers built one above another (multi-storey mansions), beneath which rivers flow — this is Allah's promise, and Allah never goes against His promise.
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُولِي الْأَلْبَابِ
(۲۱) (اے خاطب!) کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے — پھر اس میں سے زمین میں نالے بناتا ہے — پھر اس سے مختلف قسم کی کھیتی پیدا کرتا ہے — پھر وہ زوردار، بھری بھری ہوجاتی ہے (بالاخر) وہ سوکھ کر پیلی پڑجاتی ہے — پھر پکا پکرا کوڑا ہو، اور چورا چورا ہوجاتی ہے — اس میں عقل سلیم والوں کے لیے نصیحت اور عبرت ہے۔
(21) (O addressee!) Do you not see that Allah sends down rain from the sky — then He makes it flow as springs into the earth — then through it He produces crops of various kinds — then they grow strong and lush and full (but finally) they turn yellow and wither — then they become dry, crumbled chaff — indeed in this is a lesson and admonition for those of sound understanding.
أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِنْ رَبِّهِ فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
(۲۲) کیا پھر وہ شخص جس کے دل کو اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے، (اس کا سینہ صدر کردیا ہے) پھر وہ اپنے رب کے نور پر قائم ہے، بس کیا ہی خرابی ہے ان سخت دلوں کے لیے جو یاد الٰہی سے متاثر نہیں ہوتے — یہ لوگ بڑی ہی گمراہی میں (صریح بھٹکے ہوئے) ہیں (مرتکب بھٹکے ہیں)۔
(22) Is then the one whose breast Allah has opened for Islam (whose heart He has expanded) — who walks in the light from his Lord — [equal to the hard-hearted]? How unfortunate then are those with hard hearts who are not moved by the remembrance of Allah — these people are in manifest and open misguidance (clearly astray).
اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
(۲۳) اللہ نے بہترین کلام اتارا (وہ کیا ہے؟) وہ ایک کتاب ہے جس کے اجزا میں مناسبت ہے اور وہ (کتاب) بار بار پڑھی جاتی ہے (بعض احکام بارہا دہراءے گئے ہیں) اس سے خدا ترسوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں پھر پوست اور دل نرم ہوجاتے ہیں اور یاد خدا سے متاثر ہوجاتے ہیں — یہ خدا کی ہدایت ہے — جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے — جس کو خدا گمراہ کرے (گمراہ رکھے) اس کا کوئی ہادی نہیں۔
(23) Allah has sent down the most excellent of speech (what is it?): it is a Book whose parts are consistent with one another and which is recited repeatedly (certain rulings are reiterated throughout it) — from it the skin of those who fear their Lord is moved [with awe] and then their skins and hearts soften and are moved by the remembrance of Allah — this is Allah's guidance — He guides with it whomever He wills — and whoever Allah leads astray (keeps in misguidance), for him there is no guide.
أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَقِيلَ لِلظَّالِمِينَ ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ
(۲۴) کیا وہ شخص جو اپنے منہ سے روکتا اور اس کو بناتا ہے روز قیامت کے سخت اور بُرے عذاب کو؟ اور ظالموں سے کہا جائے گا تم جو کچھ کماتے اور کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو!
(24) Is then the one who tries to shield his face from the terrible punishment on the Day of Resurrection [in any way equal to the secure believer]? And it will be said to the wrongdoers: 'Taste what you used to earn and do!'
كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ
(۲۵) ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی تکذیب کی تھی — پھر ان کو ایسی جگہ سے عذاب آیا کہ ان کو شعور بھی نہ تھا، (خیال بھی نہ تھا)۔
(25) Those before them also denied — then punishment came to them from where they had no awareness (no inkling of it at all).
فَأَذَاقَهُمُ اللَّهُ الْخِزْيَ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
(۲۶) پھر خدا نے ان کو دنیا ہی میں ذلّت وخواری کا مزہ چکھلایا اور آخرت کا عذاب تو اس سے بہت زیادہ ہی ہے — کاش ان کو کچھ علم ہوتا۔
(26) Then Allah made them taste humiliation and disgrace right in this worldly life — and the punishment of the Hereafter is far greater — if only they had some knowledge [of this]!
وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
(۲۷) اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے سامنے ہر قسم کے حالات بیان کردیے ہیں تاکہ کچھ تو نصیحت لیں (عبرت لیں)۔
(27) And We have set forth in this Qur'an every kind of parable and example for people, so that they may take some heed (take a lesson).
قُرْآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
(۲۸) (خدانے بیان کردیا ہے) قرآن کو جو عربی زبان کا ہے، اس میں کسی قسم کی کجی اور بے راہی نہیں ہے تاکہ وہ تقوٰی اختیار کریں۔
(28) A Qur'an in the Arabic language, free from all crookedness and deviation (God has made this declaration) — so that they may adopt God-consciousness [taqwā].
ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلًا فِيهِ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلٍ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
(۲۹) اللہ نے ایک ایسے غلام کی مثال بیان کی جس کے مالک ہونے میں کئی آقا شریک ہیں اور سب ضدی، ہٹ دھرم بدخو ہیں اور ایک دوسرے غلام کی مثال بیان کی جو ایک ہی آقا کا زر خرید ہے — (سالم، پورا بلا شرکت کسی ایک کا غلام ہے) — کیا یہ دونوں غلام برابر ہوسکتے ہیں؟ (پیغمبر! تم کہو!) الحمد للہ — بلکہ ان کے اکثر لوگوں کو کچھ بھی علم نہیں!
(29) Allah strikes a parable of a slave who has several quarrelsome, stubborn, bad-natured partners as masters, and another slave who belongs to a single master alone — (one belonging purely and wholly to a single master without any partnership) — can these two slaves ever be equal? (O Prophet! Say:) 'All praise is to Allah!' — rather most of these people have no knowledge whatsoever!
إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ
(۳۰) (اے پیغمبر!) یقیناً تم بھی مرنے والے ہو اور یہ بھی مرنے والے ہیں!
(30) (O Prophet!) You will certainly die, and they too will certainly die!
ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ
(۳۱) پھر تم قیامت کے دن اپنے خدا کے پاس جھگڑوگے — (اور وہی فیصلہ کرے گا)۔
(31) Then on the Day of Resurrection you will dispute before your Lord — (and He will be the one who decides).
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ
(۳۲) بھلا اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جس نے خدا پر جھوٹ کے پلندے باندھے، سچی بات کی تکذیب کی اور اس سے انکار کیا جب وہ اس کے پاس پہنچی (یعنی ذہاب ذہب پہنچا) — کیا جہنم میں کافروں کا مقام نہیں؟
(32) Who then could be a greater wrongdoer than one who fabricates lies against Allah, who denied the truth and rejected it when it came to him (i.e., when the truth reached him)? Is not Hell the abode of the disbelievers?
وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ
(۳۳) اور جو شخص سچی بات لائے اور اس سچی بات کی تصدیق کرے (یعنی حق مذہب کو مانے) ایسے ہی لوگ متقی ہیں (پرہیزگار ہیں، خداترس ہیں)۔
(33) And the one who brings the truth and the one who confirms it (i.e., the one who accepts the true religion) — such are the ones who are the God-fearing (the pious and devout).
لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ
(۳۴) ان کو ان کے خدا کے پاس وہ سب ملے گا جو وہ چاہتے ہیں — نیکوکاروں کی یہی جزا ہے۔
(34) For them with their Lord will be whatever they desire — such is the reward of the doers of good.
لِيُكَفِّرَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَسْوَأَ الَّذِي عَمِلُوا وَيَجْزِيَهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ
(۳۵) تا کہ اللہ ان کے بُرے کاموں کو ڈھانک دے (اور ان کو بری الذمہ کردے) اور ان کو بہترین اعمال کی جزا دے۔
(35) So that Allah may expiate from them the worst of what they did (and absolve them) and reward them for the best of what they used to do.
أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
(۳۶) کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے اور یہ لوگ تمہیں اس کے (خدا کے) سواے دوسروں سے ڈراتے ہیں اور جس کو خدا گمراہ کرے (یعنی گمراہ رکھے) اسے کون ہدایت کرسکتا ہے؟
(36) Is Allah not sufficient for His servant? And yet they [the disbelievers] try to frighten you (O Prophet) with those besides Him — and whoever Allah allows to go astray (keeps in misguidance), who can guide him?
وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُضِلٍّ أَلَيْسَ اللَّهُ بِعَزِيزٍ ذِي انْتِقَامٍ
(۳۷) اور جس کو خدا ہدایت کرے اسے کون گمراہ کرسکتا ہے؟ کیا اللہ عزت اور قہمت اور انتقام لینے والا نہیں؟ (بے شک ہے)۔
(37) And whoever Allah guides, who can lead him astray? Is Allah not the Mighty, Possessor of vengeance? (Indeed He is, without doubt!)
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلْ أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ
(۳۸) اور اگر تم ان سے پوچھو آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو ان کو کہنا پڑے گا کہ اللہ نے — تم کہو، کیا تمہاری رائے اور تمہارا خیال ہے کہ وہ معبود جن سے تم دعائیں کرتے ہو [جاری ہے]
(38) And if you ask them who created the heavens and the earth, they will certainly say 'Allah' — say then: 'Have you then considered those whom you invoke besides Allah [continued]'
قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(۳۹) تم کہو — لوگو! تم اپنی اپنی جگہ اپنا کام کرو اور میں (اپنی جگہ) اپنا کام کرتا ہوں — ابھی تم کو حقیقت حال معلوم ہوجائے گی (وہ کیا ہے؟)
(39) Say: 'O my people! Act according to your position, and I [too] act according to mine — soon you will come to know the reality of the matter (what it really is)!'
مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُقِيمٌ
(۴۰) جس پر غذاب آجاتا ہے اس کو ذلیل وخوار کردیتا ہے اور وہ عذاب اس پر ہمیشہ اور دائم رہتا ہے۔
(40) Upon whom punishment comes, it disgraces and humiliates him, and that punishment remains upon him forever and permanently.
إِنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
(۴۱) یقیناً ہم نے لوگوں کی ہدایت کے لیے ایک ایک سچی اور برحق کتاب تم پر اتاری — اب جو ہدایت اختیار کرے گا اس کا فائدہ اسی کو ہوگا — اور جو گمراہی اختیار کرے اس کا نقصان خود اسی کو پہنچے گا اور تم ان کے وکیل اور ذمہ دار تو ہوئیں۔
(41) Indeed We sent down upon you the Book in truth for the guidance of people — whoever chooses guidance, its benefit is for himself — and whoever chooses to go astray, its harm will reach himself — and you are not their guardian or responsible trustee [over them].
اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
(۴۲) وہ اللہ ہی تو ہے جو موت کے وقت سب جانوں کو اپنے قبضہ میں کرلیتا ہے اور جو نہ مرے سونے کے وقت بھی قبضہ میں کرلیتا ہے — پھر جس کے مرنے کا حکم دیتا ہے اس کو اپنے اختیار میں کرلیتا ہے اور دوسری کو چھوڑ دیتا ہے — (اور یہ بھی) ایک معین وقت تک — یقیناً اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے دلائل اور نشانیاں ہیں — (کہ جس طرح سونا بھی مرنا ہی غیر اختیاری ہے)۔
(42) It is Allah alone Who takes all souls at the time of their death, and also those that have not died, during their sleep — then He retains those upon whom He has decreed death, and sends back the others for a fixed appointed term — indeed in this are signs and evidences for those who reflect (for just as sleep is a form of death, it too is involuntary).
أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ شُفَعَاءَ قُلْ أَوَلَوْ كَانُوا لَا يَمْلِكُونَ شَيْئًا وَلَا يَعْقِلُونَ
(۴۳) کیا انہوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسروں کو شفاعت کی مان لیا ہے؟ (کیا یہ سمجھتے ہیں کہ خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے ہاتھ میں کچھ کام آئیں گے؟) تم کہو کیا اس صورت میں ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں اور کچھ علم بھی نہیں رکھتے ہوں (تو کیا ہاں پھر سفارش کریں گے)؟
(43) Or have they taken intercessors besides Allah? Say: 'Even if they have absolutely nothing in their hands and no knowledge at all (will they still intercede)?'
قُلْ لِلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(۴۴) تم کہو — شفاعت بالکل اللہ کے اختیار میں ہے — آسمان اور زمین میں اسی کی بادشاہی ہے — پھر تم سب کو اس کی طرف پلٹ جانا ہے (اس کے دربار میں حاضر ہونا ہے)۔
(44) Say: 'All intercession belongs entirely to Allah — His is the dominion of the heavens and the earth — then to Him you will all be returned (you will all have to appear in His court).'
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
(۴۵) اور جب صرف خدائے واحدہ وحدہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل منقبض ہوجاتے ہیں (نفرت اور کراہت کرتے ہیں) اور جب ان لوگوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو خدا کے سوا ہیں تو بڑے خوش ہوجاتے ہیں — (گویا کہ انہیں کوئی بڑی بشارت و خوش خبری مل گئی)۔
(45) And when Allah alone — the One — is mentioned, the hearts of those who do not believe in the Hereafter feel constricted (they feel revulsion and aversion) — but when those besides Him are mentioned, they rejoice greatly — (as if they had received some great glad tidings).
قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
(۴۶) (اے پیغمبر!) تم کہو اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے اور باطن و ظاہر کے جاننے والے! تو اپنے بندوں کے درمیان مسائل کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں۔
(46) (O Prophet!) Say: 'O Allah, Creator of the heavens and the earth, Knower of the hidden and the manifest! You are the Judge who decides between Your servants in all matters in which they differ.'
وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ مِنْ سُوءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبَدَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ
(۴۷) ان ظالموں کے ہاتھ میں دنیا اور اس کے ماحل اور اس کے برابر اور بھی ہوتا تو دے کر قیامت کے دن وہ عذاب سے جان چھڑا لیتے — اور خدا کی طرف سے ان کو وہ معاملہ آئے گا جس کا ان کو وہم وگمان بھی نہ تھا۔
(47) Even if the wrongdoers possessed all that is on earth and as much again with it, they would give it all as ransom to escape the terrible punishment on the Day of Resurrection — and there will appear to them from Allah that which they had never reckoned (what they had not imagined even in their wildest dreams).
وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
(۴۸) ان پر ان کی بداعمالیاں ظاہر ہوجائیں گی اور جس عذاب کے آنے پر وہ ٹھٹھا اور مذاق کیا کرتے تھے وہ ان کو گھیرلے گا، گرفتار کرلے گا۔
(48) Their evil deeds will become manifest to them and that [punishment] which they used to mock and ridicule will surround and seize them.
فَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
(۴۹) پس جب انسان کو کوئی قسم تکلیف پہنچتی ہے تو ہم سے دعائیں کرنے لگتا ہے (ہم کو پکارنے لگتا ہے) اور جب ہم اس کو ہمارے پاس انعام اکرام سے سرفراز کرتے ہیں تو کہتا ہے — یہ تو مجھے میرے علم سے ملا ہے — نہیں بلکہ یہ ایک فتنہ ہے (امتحان ہے) مگر اکثر لوگ نادان ہیں (کچھ نہیں جانتے)۔
(49) When some hardship befalls a person he calls to Us (he begins to pray to Us), and when We bestow upon him a favour from Us he says: 'This was given to me on account of my own knowledge!' — No! Rather it is a trial (a test) — but most people are unaware (know nothing).
قَدْ قَالَهَا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
(۵۰) یہ بات کبھی ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پہلے تھے — پھر انہوں نے جو کچھ کمایا تھا ان کے کام نہ آیا۔
(50) This very thing was said by those who came before them — but what they had earned did not avail them at all.
فَأَصَابَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَالَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ هَٰؤُلَاءِ سَيُصِيبُهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَمَا هُمْ بِمُعْجِزِينَ
(۵۱) پس ان کی بُرائی کمائی ان کو پہنچی — اور ان میں سے جن لوگوں نے شرک و کفر کیا (اپنے آپ کو تباہ کیا) ان کو ان کے اعمال کی بُرائی ابھی پہنچنے والی ہے — بھلا یہ ہم کو بس طرح (براکیں کے) عاجز کریں گے۔
(51) So the evil of what they had earned befell them — and those among these [present people] who committed shirk and kufr (who ruined themselves) — the evil consequence of their deeds is about to reach them — can they escape Us or make Us helpless [in any way]?
أَوَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(۵۲) کیا ان لوگوں کو علم نہیں کہ اللہ جس کو چاہتا ہے اس کا رزق فراخ (روزی کی زیادتی) اور اس کی دست قدرت سے (روزی) کم کردیتا ہے (اس میں ایمانداروں کے لیے نشانیاں ہیں (دلائل ہیں)۔
(52) Do these people not know that Allah expands the provision of whoever He wills and restricts it [for whoever He wills] by His power — indeed in this are signs and evidences for people of faith.
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(۵۳) تم کہو — اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے آپ پر بڑی زیادتی کی ہے : تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو — اللہ تمام گناہ معاف فرماتا ہے یقیناً وہی غفور و رحیم ہے۔
(53) Say: 'O My servants who have greatly wronged themselves — do not despair of Allah's mercy — indeed Allah forgives all sins — indeed He is the All-Forgiving, the Most Merciful.'
وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ
(۵۳) اور تم اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو، اس کی فرمانبرداری اختیار کرو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے اور تمہارا کوئی یار و مددگار نہ رہے۔
(54) And turn back to your Lord and submit to Him before the punishment comes to you and you have no helper or supporter left.
وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ
(۵۵) (لوگو!) جو بہترین احکام (وحی اور قرآن) تم پر تمہارے رب کے پاس سے اتر رہا ہے اس کی اتباع، پیروی کرو اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم بے خبر رہو۔
(55) (O people!) Follow the finest commands (the revelation and Qur'an) that are being sent down to you from your Lord before the punishment comes upon you suddenly while you are unaware.
أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ وَإِنْ كُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ
(۵۶) ایسا نہ ہو کہ کسی کو یہ کہنا پڑے (داحرت) ہائے میری — ان کوتاہیوں پر جو کہ میں نے خدائے تعالیٰ کے متعلق کی ہیں اور اگرچہ کہ میں تمسخر و آمنی کرنے والوں میں سے تھا۔
(56) [Act now,] lest any soul should have to say [on the Day of Reckoning]: 'Alas for me! (What a loss!) — for the shortcomings I committed in [my duties to] Allah, and I was indeed among those who mocked and scoffed.'
أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ
(۵۷) یا یہ کہنا پڑے کہ کاش خدا مجھے ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا!
(57) Or lest a soul should have to say: 'If only Allah had guided me, I too would have been among the God-fearing!'
أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ
(۵۸) یا عذاب کو دیکھ کر یہ کہنا پڑے کاش مجھے جانے پھر آنا ملتا تو میں بھی نیک بندوں میں داخل ہوجاتا۔
(58) Or lest a soul should have to say upon seeing the punishment: 'If only I could return [to the world] — then I too would be among the doers of good!'
بَلَىٰ قَدْ جَاءَتْكَ آيَاتِي فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنْتَ مِنَ الْكَافِرِينَ
(۵۹) کیوں نہیں — (اللہ تعالیٰ فرمائے گا) میرے احکام تجھے پہنچ چکے تھے مگر تو نے ان کی تکذیب کی اور تو نے تکبر کیا اور تو منکروں میں سے تھا۔
(59) [The answer will be:] 'But yes! — (Allah Almighty will say:) My signs did come to you, but you denied them and acted arrogantly, and you were among the disbelievers.'
وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَى الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى اللَّهِ وُجُوهُهُمْ مُسْوَدَّةٌ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْمُتَكَبِّرِينَ
(۶۰) اور قیامت کے دن تو ان لوگوں کو دیکھے گا جنہوں نے خدا پر جھوٹ بولا ان کے منہ کالے ہوں گے — کیا دوزخ میں تکبر کرنے والوں کا مقام نہیں ہے؟
(60) And on the Day of Resurrection you will see those who fabricated lies against Allah — their faces blackened — is not Hell the abode of the arrogant?
وَيُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
(۶۱) اور اللہ ان لوگوں کو بچائے گا جو متقی اور ان کی کامیابی اور بامرادی کے ساتھ — ان کو عذاب چھو تک نہ جائے گا اور نہ ان کو کسی قسم کا حزن وملال ہوگا۔
(61) And Allah will deliver those who are God-fearing [and pious] along with their success and triumph — no harm will touch them whatsoever and they shall have no grief or sorrow.
اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ
(۶۲) اللہ سب کا خالق ہے اور سب کا وکیل ہے (ذمہ دار ہے)۔
(62) Allah is the Creator of all things and He is the Guardian and Trustee over all things (He is the disposer of all affairs).
لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
(۶۳) آسمانوں اور زمین کی گنجیاں خدا کے ہاتھ میں ہیں اور جو خدا کے احکام سے منکر رہے اور مخالف رہے وہی ہیں بڑے خسارے اور نقصان میں۔
(63) To Him belong the keys of the heavens and the earth — and those who deny and oppose Allah's signs — they are the ones in the greatest loss and ruin.
قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ
(۶۴) (پیغمبر!) تم کہو — کیا غیر خدا کی عبادت کرنے کا تم مجھے حکم کرتے ہو — اے جاہلو! (نادانو!)
(64) (O Prophet!) Say: 'Do you then command me to worship other than Allah? — O ignorant ones! (O fools!)
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
(۶۵) (پیغمبر!) یقیناً تم کو گئی تھی اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے کہ اگرتم شرک کرو تو تمہارے سارے اعمال غارت ہوجائیں گے اور تم خسارے میں پڑوگے (نقصان اٹھاؤگے)۔
(65) (O Prophet!) Indeed revelation came to you and to those before you [with this warning]: 'If you were to associate partners with Allah, all your deeds would certainly be rendered vain and you would surely be among the losers (you would suffer a great loss).'
بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الْشَّاكِرِينَ
(۶۶) نہیں! بلکہ تم صرف خدا کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرتے رہو۔
(66) 'No! Rather worship Allah alone and be among the thankful.'
وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
(۶۷) ان لوگوں نے اللہ کی جیسی قدر کرنی چاہیے تھی نہیں کی — قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے دست قدرت میں لپٹے ہوئے ہوں گے — اور خدائے تعالیٰ پاک ہے اور ان کے شرک سے اعلیٰ و ارفع ہے۔
(67) These people have not estimated Allah as He truly deserves to be estimated — on the Day of Resurrection the whole earth will be in His grip and all the heavens will be rolled up in His power — He is transcendent and exalted far above what they associate with Him.
وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ
(۶۸) اور صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جو لوگ ہیں سب بے ہوش ہوجائیں گے مگر جس کو خدا چاہے — پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب کھڑے ہوکر دیکھتے ہوں گے۔
(68) And the Trumpet will be blown — then all who are in the heavens and the earth will fall senseless except those whom Allah wills — then it will be blown again and behold they will all stand up looking [around].
وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
(۶۹) اور زمین نور الٰہی سے روشن ہوجائے گی — اعمال نامے سامنے دھرے ہوں گے — پیغمبر اور شہدا حاضر دربار الٰہی کے آئیں گے اور ان کے اور ان میں حق فیصلہ کیا جائے گا — اور ان پر کسی قسم کا ظلم کا ہوگا۔
(69) And the earth will be illumined by the light of its Lord — the Records of deeds will be set down — the Prophets and the witnesses will be brought before Allah's court — and judgment will be made between them in truth — and no injustice of any kind will be done to them.
وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُونَ
(۷۰) اور ہر شخص کو اس کے کاموں کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور اللہ ان کے کاموں سے خوبی سے واقف ہے۔
(70) And every person will be given the full recompense of what they did — and Allah is Most Knowledgeable of what they do.
وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا قَالُوا بَلَىٰ وَلَٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ
(۷۱) اور (قیامت میں) کافر (کافر) لوی ٹولی ہانکے جائیں گے (روانہ کردیے جائیں گے) یہاں تک کہ جب وہ دوزخ کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور دوزخ کے نگہبان ان سے کہیں گے — کیا تمہارے پاس تم میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے — جو تمہارے رب کی طرف آیات آپ کو سناتے تھے اور اس دن (یعنی قیامت) کے آنے کی اطلاع دیتے تھے؟ (دوزخی) کہیں گے، کیوں نہیں — مگر کافروں پر عذاب کا حکم ہوکر رہا۔
(71) And [on the Day of Resurrection] the disbelievers will be driven in groups towards Hell — until when they arrive at it, its gates will be opened and its guardians will say to them: 'Did not messengers from among you come to you — reciting to you the verses of your Lord and warning you about the coming of this Day [of Resurrection]?' (The people of Hell) will say: 'Yes indeed! — but the sentence of punishment was bound to fall upon the disbelievers.'
قِيلَ ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
(۷۲) (اور) ان سے کہا جائے گا دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ — اب تم اس میں ہمیشہ رہوگے — پس تکبر کرنے والوں کا کیا برا مقام ہے۔
(72) (And) it will be said to them: 'Enter the gates of Hell to remain therein forever — how wretched is the abode of the arrogant!'
وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ
(۷۳) اور خدا سے ترس لوگ گروہ گروہ جنت کی طرف جماعت جماعت روانہ کردیے جائیں گے — یہاں تک کہ وہ جنت کے پاس آجائیں گے اور اس کے دروازے کھلے دیے جائیں گے اور اس کے منتظم ان سے کہیں گے — سلام علیکم تم سلامت رہو اور خوش حال بسر کرو — ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔
(73) And those who feared their Lord will be led in groups towards Paradise — until when they arrive at it, its gates will be opened and its guardians will say to them: 'Peace be upon you! May you be well and happy — enter it for ever and ever!'
وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ
(۷۴) (جنتی) کہیں گے الحمد للہ جس نے اپنے وعدے کو ہمارے لیے سچا کرکے دکھایا اور ہم کو زمین جنت کا وارث بنایا — ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں پھرتے ہیں، رہتے ہیں — پس عمل کرنے والوں کا کیا بہتر اجر اور ثواب ہے۔
(74) (The people of Paradise) will say: 'All praise is for Allah Who fulfilled His promise to us and made us inherit the land of Paradise — we roam and dwell in Paradise wherever we wish — how excellent is the reward and recompense for the workers [of righteous deeds]!'
وَتَرَى الْمَلَائِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
(۷۵) (اے خاطب!) تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش (رب العلمین) کو گھیرے ہوئے ہیں — اپنے رب کی تسبیح اور تحمید کرتے ہیں — ان میں حق فیصلہ کیا گیا اور کہتے ہیں الحمد للہ رب العالمین۔
(75) (O addressee!) You will see the angels encircling the Throne (of the Lord of all the worlds) — glorifying and praising their Lord — judgment has been passed between them in truth — and they say: 'All praise is for Allah, the Lord of all the worlds.'