83. Al-Muṭaffifīn
المطففين
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ
(۱) افسوس ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔
(1) Woe to those who give short measure and weight!
الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ
(۲) جو لوگوں سے ناپ لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔
(2) Those who, when they take measure from people, take full measure.
وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ
(۳) اور جب ان لوگوں کو ناپ کر یا ان کو تول کر دیتے ہیں تو ان کو خسارے اور نقصان میں ڈالتے ہیں۔
(3) But when they measure or weigh for them, they give less than their due.
أَلَا يَظُنُّ أُولَٰئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ
(۴) کیا یہ لوگ انہیں نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہونا بھی ہے۔
(4) Do not these people know that after death they will also be raised up again?
لِيَوْمٍ عَظِيمٍ
(۵) ایک بڑے دن کے لیے۔
(5) For a mighty Day.
يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
(۶) سب لوگ اس دن رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
(6) The day when all people will stand before the Lord of all the worlds.
كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ
(۷) یقیناً بدکاروں کے اعمال نامے سجّین میں ہیں۔
(7) Indeed the record of the wicked is in Sijjīn.
وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ
(۸) اور تمہیں کیا معلوم کہ سجّین کیا ہے؟
(8) And what will make you know what Sijjīn is?
كِتَابٌ مَّرْقُومٌ
(۹) (سجّین) ایک دفتر ہے جس میں (بدکاروں کے اعمال) لکھے ہوئے ہیں۔
(9) (Sijjīn is) a written register in which (the deeds of the wicked) are recorded.
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(۱۰) وہ دن (یقین نہ رکھنے والوں اور) جھٹلانے والوں کے لیے بڑا افسوسناک ہے۔
(10) Woe on that day to those who deny (who have no certainty of faith and who reject the truth)!
الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ
(۱۱) جو لوگ روز جزا کو جھٹلاتے ہیں۔
(11) Those who deny the Day of Recompense.
وَمَا يُكَذِّبُ بِهِ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ
(۱۲) اور روز جزا کا انکار کرتا ہے وہی شخص جو حدود الٰہی سے باہر نکل گیا ہو اور گنہگار بھی ہو۔
(12) And none denies it except every transgressor who has gone beyond the bounds set by Allah, and who is a sinner.
إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ
(۱۳) جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں، یہ تو پرانے دھوکسے اور قدیم کہانیاں ہیں۔
(13) When Our verses are recited to him, he says: These are nothing but fables and legends of the ancients.
كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ
(۱۴) نہیں! بلکہ ان کے دلوں پر زنگ آگیا ہے اس (مال اور اعمال) کی وجہ سے جو انہوں نے کمایا تھا۔
(14) Nay! Rather, their hearts have become corroded with rust on account of what they used to earn (of wealth and deeds).
كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ
(۱۵) یہی نہیں بے شک یہ لوگ اپنے پروردگار سے قیامت کے دن کے دن حجاب میں رہیں گے (اور دیدار الٰہی سے محروم رہیں گے)۔
(15) Nay! Indeed on that Day they will be veiled from their Lord (and deprived of the vision of Allah).
ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِيمِ
(۱۶) پھر یہ لوگ یقیناً دوزخ میں بھی جائیں گے۔
(16) Then indeed they will enter Hell.
ثُمَّ يُقَالُ هَٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ
(۱۷) پھر ان سے کہا جائے گا یہی تو وہ جہنم ہے جس کی تم تکذیب کرتے اور جھوٹ سمجھتے تھے۔
(17) Then it will be said to them: This is that very Hell which you used to deny and call a lie.
كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ
(۱۸) نہیں نہیں ! یقیناً نیکوں کا کتابچہ علّیّین میں ہے۔
(18) Nay! Indeed the record of the righteous is in ʿIlliyyīn.
وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ
(۱۹) اور تمہیں کیا معلوم کہ علّیّون ہے کیا؟
(19) And what will make you know what ʿIlliyyūn is?
كِتَابٌ مَّرْقُومٌ
(۲۰) وہ ایک کتابچہ ہے (جس میں وقت نیکوں کے نام درج کیے گئے ہیں)۔
(20) It is a written register (in which the names of the righteous are inscribed at the right time).
يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ
(۲۱) اس کو جانتے اور اس کی گواہی دیتے ہیں خدائے تعالیٰ کے مقرب لوگ۔
(21) The angels nearest to Allah bear witness to it.
إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ
(۲۲) بے شک نیک لوگ بڑی نعمت میں ہیں۔
(22) Indeed the righteous are in great bliss.
عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ
(۲۳) تختوں پر بیٹھے ہوئے دیکھتے ہوں گے۔
(23) Reclining upon thrones they will be looking on.
تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ
(۲۴) (اے مخاطب!) تو ان کے چہروں میں نعمت کی تر و تازگی دیکھے گا (جانے گا)۔
(24) (O addressee!) You will recognise in their faces the freshness and radiance of bliss.
يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ
(۲۵) ان کو خالص سربمہر شراب پلائی جائے گی۔
(25) They will be served a pure, sealed wine to drink.
خِتَامُهُ مِسْكٌ وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ
(۲۶) اور اس کا مُہر مِسک ہے ۔ ایسی ہی چیز کے لیے حرص و ریس کرنے والے حرص و ریس کریں۔
(26) Its seal is of musk — so for this let those who compete, compete.
وَمِزَاجُهُ مِن تَسْنِيمٍ
(۲۷) اور اس کی ملونی تسنیم کے چشمے کی ہے (جس سے تسکین و راحت پیدا ہوتی ہے)۔
(27) And its mixture is from Tasnīm (a spring that brings peace and comfort).
عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ
(۲۸) (تسنیم) ایک چشمہ ہے جس میں سے خدا کے مقرب لوگ پئیں گے۔
(28) (Tasnīm is) a spring from which the those nearest to Allah will drink.
إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ
(۲۹) بدکار اور مجرم لوگ ایماندروں (سے تلے تو ان) پر خوب ہنستے۔
(29) Indeed the wicked and criminal used to laugh at the believers (mocking them).
وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ
(۳۰) اور (بدماش) جب ان کے (مسلمانوں کے) پاس سے گزرتے تو آنکھوں سے اشارے کرتے۔
(30) And when they (the wicked) passed by them (the Muslims), they would wink at each other in mockery.
وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَى أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ
(۳۱) اور جب اپنے اہل و عیال کے پاس واپس ہوتے تو باتیں بناتے دلگی کرتے، واپس ہوتے۔
(31) And when they returned to their households they returned jesting and making fun.
وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ
(۳۲) اور جب یہ لوگ ان کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ لوگ یقیناً غلط کار ہیں، گمراہ ہیں۔
(32) And when they saw them, they said: Indeed these people are certainly misguided and astray.
وَمَا أُرْسِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ
(۳۳) اور یہ لوگ ان پر نگران کار بناکر نہیں بھیجے گئے۔
(33) Yet they were not sent as guardians over them.
فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ
(۳۴) پس آج ایماندار کافروں پر خوب ہنسیں گے۔
(34) So today the believers will laugh at the disbelievers.
عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ
(۳۵) (مسلمان لوگ) صوفوں پر بیٹھے ہوئے (الٰہیان سے ان کافروں کا تماشہ) دیکھتے ہوں گے۔
(35) (The Muslims) will be seated on couches watching (with wonder from on high the spectacle of those disbelievers).
هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
(۳۶) کیا ان کافروں کو ان کے اعمال کا بدلہ بدل گیا؟
(36) Have the disbelievers been repaid for what they used to do?