11. Hūd
هود
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الٓرٰ كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ
(۱) آلر۔ یہ ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور پھر تفصیل وار ہیں (کس کے پاس سے ؟) حکیم و خبیر کے پاس سے (یعنی یہ خدا کی بھیجی ہوئی کتاب ہے ) ۔ اس کے معنے میں کوئی پیچیدگی نہیں ۔
(1) Alif Lām Rā. This is a Book whose verses are firmly established, then set forth in detail — from (whose presence?) the presence of the All-Wise, the All-Aware (that is, this is the Book sent by God). There is no ambiguity in its meaning.
أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ
(۲) (کتاب حکیم میں ہے) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ دیکھو ! میں تم کو اللہ کی طرف سے یہ (کتاب) ڈراتا ہوں (برے چیزوں سے) اور (مفید چیزوں کی) خوش خبری اور بشارت دیتا ہوں ۔
(2) (It is stated in the Wise Book) that you should not worship anyone save Allah. Look! I am (conveying this Book) to you from Allah as a warner (against evil things) and a bearer of glad tidings (of beneficial things).
وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِن تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ
(۳) اور (اس کتاب میں یہ بھی ہے) کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو اپنے رب سے (معانی مانگو) پھر توبہ کرو (اور اس کی طرف رجوع رہو) ۔ وہ تم کو اچھی طرح رسائے گا (کامیاب زندگی عطا فرمائے گا) ایک مقررہ وقت تک اور ہر بڑے نیکوکار کو بڑا بدلہ عطا فرمائے گا ۔ اور اگر تم نہ مانو (اعراض کرو) تو مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا ، جو طول طویل ہے ، اندیشہ لگا ہوا ہے ۔
(3) And (it is also in this Book) that you seek forgiveness from your Lord (seek His pardon), then repent (and remain turned toward Him). He will grant you a good livelihood (bestow upon you a successful life) until an appointed time, and will give every great righteous person his great reward. And if you do not accept (if you turn away), then I fear upon you the punishment of a great day, which is exceedingly long.
إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(۴) تم کو اللہ کے دربار میں واپس جانا ہے اور (وہ جو چاہے گا) اس کو ہر شے پر قدرت ہے ۔
(4) You are to return to Allah's court, and He has power over all things (whatever He wills).
أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(۵) ہاں ! بے شک یہ (مشرکین) اس سے (رسول سے ، اللہ سے) اپنی عداوت اور بے چینی چھپا لینے کے لیے مڑ جاتے ہیں (روگردانی کرتے ہیں) ۔ مگر دیکھو ! جب وہ (ستر پردوں میں بھی چھپیں) جو چاہیں اوڑھ لیں ، خدا ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہے ۔ (ان کے رازوں اور چھپے ہوئے کاموں کا وہ علم رکھتا ہے) وہ تو (دل کے خیالات اور) سینوں کے رازوں سے بھی واقف ہے ۔
(5) Indeed! These (polytheists) fold up their chests to hide their enmity and restlessness from Him (from the Prophet, from Allah), turning away (showing aversion). But look! Even when they wrap themselves (in as many veils as they wish), God is aware of their outward and inward affairs. (He has knowledge of their secrets and hidden deeds.) He is even aware of the thoughts of the heart and the secrets of the breasts.
وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
(۷) اور زمین پر کوئی چلنے والا نہیں مگر اس کی روزی اللہ پر لازم ہے اور اس کو معلوم ہے کہ اس کے ٹھہرنے اور رکے رہنے کی جگہ کہاں ہے ۔ (یہ) سب ایک واضح کتاب میں ہے (علم الٰہی اور لوح محفوظ میں ہے) ۔
(6) And there is no creature upon the earth but its sustenance is the responsibility of Allah, and He knows its place of rest and its place of deposit — all of it is in a clear Book (in divine knowledge and the Preserved Tablet).
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَلَئِن قُلْتَ إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِن بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ
(۷) اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن (اور مختلف الاطوار) میں پیدا کیا اور اس کا تخت پانی (کل حیات) پر تھا ۔ اس لیے کہ وہ تمہارا امتحان لے کہ تم میں سے کون نیک عمل کرتا ہے ۔ اگر (پیغمبر) آگر تم (ان سے) کہو کہ (تم کو دوبارہ حیات ملے گی) تو (منکرین اور کفار کہیں گے) یہ تو نرا دھوکہ ہے ، (مرتج جادو ہے ، بڑھی ہوئی بدعقلی ہے) ۔
(7) And it is He who created the heavens and the earth in six days (and in various phases), and His throne was upon water (the totality of life) — so as to test you, which of you does the finest deeds. If (the Prophet) were to say to them that (you will be granted life again), then (the deniers and unbelievers would say) this is nothing but pure deception (outright sorcery, sheer foolishness).
وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَىٰ أُمَّةٍ مَّعْدُودَةٍ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
(۸) اور اگر ہم ان سے ایک معین زمانہ تک عذاب کو روک رکھیں تو وہ ضرور کہیں گے اس کو کس (نے روکا ہے ؟) دیکھو ! جس دن (عذاب) ان کے پاس آجائے گا (وہ عذاب) ان کے پاس سے کسی کے روکے نہ رکسے گا ۔ یہ لوگ جس بات کا مذاق اڑاتے تھے وہ ان پر چھا جائے گی (آن پڑے گی انہیں نہ جانے دیں گے) ۔
(8) And if We were to hold back the punishment from them until a counted period, they would surely say: what has held it back? Look! On the day when (the punishment) comes to them, it will not be turned away from them by anyone. That which they used to mock will overwhelm them (it will descend upon them and they will not be let go).
وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ
(۹) اگر ہم انسان کو اپنی مہربانی ، (رحمت اور خوش حالی) کا مزہ چکھائیں پھر (کسی مصلحت اور امتحان کے لیے) اس سے (دبع کردیں) چھین لیں تو (آسیدہ کے لیے) وہ مایوس اور نا امید ہوجاتا ہے (اور گزشتہ احسانات کا) شکر ادا نہیں کرتا ۔
(9) If We let a human taste Our mercy (Our bounty and prosperity) and then (for some purpose and as a test) take it away from him (withdraw it), then he becomes despondent and hopeless (about future relief) and shows no gratitude for past blessings.
وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ
(۱۰) اگر ہم اس کو مصیبت اور مضرت پہنچنے کے بعد نعمت کے مزے چکھا دیں تو (کیا) کہنے لگتا ہے ، اب میری ساری بدحالیاں دفع ہوگئیں (اب تبصیری نے نگل لیا) ۔ بے شک ، انسان بڑا اتراتے والا ہے ، فخر و ناز کرنے والا ہے ۔
(10) If We let him taste prosperity after an adversity that had afflicted him, he begins to say: now all my misfortunes are gone (now good fortune has swallowed them up). Indeed, man is one who greatly boasts and brags.
إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ
(۱۱) مگر وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور اعمال صالحہ کیے ، انہیں کے لیے ہے مغفرت اور بڑا اجر و مرتبہ ۔
(11) Except for those who were patient and did righteous deeds — for them is forgiveness and a great reward and rank.
فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ وَضَائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ أَن يَقُولُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ كَنزٌ أَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ إِنَّمَا أَنتَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ
(۱۲) پھر کیا تم ان چیزوں کو چھوڑ دو گے جن کی تم کو وحی جاری ہے ۔ کیا ان کی باتوں سے تم دل تنگ ہو (تمہارے سینہ میں اس سے زیادہ برداشت کی قوت نہیں رہی ؟) کیونکہ وہ کہتے ہیں : کس نے کہ ان پیغمبر پر خزانہ نہیں اتارا گیا یا ان کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں آیا ؟ تم صرف (نقصان دہ باتوں سے) ڈرانے والے ہو ۔ اور سب پر ذمہ دار اللہ ہے ۔
(12) Then will you abandon some of what is being revealed to you? Are you distressed by their words (has your breast run out of patience for this)? — because they say: why was no treasure sent down upon this Prophet, or why did no angel come with him? You are only a warner (from harmful things). And Allah is the guardian over all things.
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
(۱۳) کیا یہ (کفار) کہتے ہیں کہ قرآن پیغمبر کی تصنیف ہے ؟ پیغمبر تم کہواسی طرح کی تصنیف کی دس سورتیں تو لاؤ اور خدا کو چھوڑ کر اپنی مدد کے لیے جن کو چاہو ، بلاؤ ، اگرتم سچے ہو ۔
(13) Do these (unbelievers) say that the Qur'an is the Prophet's own composition? Say (O Prophet): then bring ten surahs of similar composition and call upon whomsoever you wish besides Allah for your assistance, if you are truthful.
فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ وَأَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ
(۱۴) پھر اگر وہ لوگ لاجواب ہوجائیں (اور تمہارا کہنا نہ کریں) تو سمجھ لو کہ جو کچھ اتارا گیا ہے (خدا) علم الٰہی کے ساتھ اتارا گیا ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اب کیا تم اس کو دل سے مانو گے ؟
(14) Then if they are left without an answer (and cannot comply with your demand), then know that whatever has been sent down has been sent down with divine knowledge, and that there is no god save Allah — so will you now accept this with your hearts?
مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ
(۱۵) جو دنیا کی زندگی اور زیب و زینت چاہتے ہیں ، ہم ان کو ان کے اعمال کے نتائج اسی دنیا میں کافی وافی طور پر دے دیتے ہیں اور انہیں کسی قسم کا نقصان اور خسارہ نہیں دیا جاتا ۔
(15) Those who desire the life of this world and its adornment — We fully recompense them for their deeds in this very world, and they are not given any reduction or loss therein.
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(۱۶) یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں بجز دوزخ کے کچھ نہیں ، انہوں نے جو کچھ کیا وہ سب اکارت گیا اور جو کچھ بھی وہ کرتے رہے وہ بھی اکارت و برباد ہے ۔
(16) These are the people for whom in the Hereafter there is nothing except the Fire. Whatever they did has all gone to waste, and whatever they used to do is also vain and ruined.
أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ
(۱۷) تو پھر کیا وہ شخص جو خدا کے پاس کی واضح دلیل پر ہو (اور عقل سے عقل قبول کرتی ہو) ، اور اس کی شہادت اس سے بھی دی ہو ، اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (یعنی تورات) بھی دی جو امام اور رہمت بھی تھی ۔ اسی پر ایمان رکھتے تھا ۔ اور قوموں میں سے جو اس سے انکار کرے تو اس کا ٹھکانا دوزخ ہے (اس کے دعوے ٹھکانے کی جگہ جہنم ہے) ۔ تم اس میں شک نہ کرو ۔ یقی تمہارے رب کے پاس سے حق ہے ۔ مگر اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے ۔
(17) So is the person who stands on a clear proof from his Lord (and reason accepts it), and he himself bears witness to it, and before it there was also the Book of Moses (that is, the Torah) as a guide and a mercy? These very ones have faith in it. And from the factions, whoever denies it — their abode is the Fire (their promised destination is Hell). Have no doubt about this — it is indeed the truth from your Lord, but most people do not believe.
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أُولَٰئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَىٰ رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
(۱۸) اور (پہلا) اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس نے خدا پر جھوٹ باندھا ۔ یہ لوگ اپنے رب کے دربار میں پیش کیے جائیں گے ۔ گواہ کہیں گے : یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا ۔ ہاں ! خدا کی لعنت ہے ظالموں پر ۔
(18) And who could be more wicked than one who fabricated a lie against God? These people will be brought before their Lord. The witnesses will say: these are the very ones who fabricated lies against their Lord. Indeed! The curse of Allah is upon the wrongdoers.
الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ
(۱۹) (یہ لوگ کیسے ہیں ؟) یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو راہ خدا سے پھیرتے ہیں اور اس میں ٹیڑھا پن پیدا کرتے ہیں ، (تاویل بے جا کرتے ہیں) اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں ۔ (یعنی جب آخرت کا ذکر نہیں ، تو پھر وہ کفر بھی کریں گے ، کبھی آپ پر رہنے والوں کو روراتی پر رہنے دیں گے ۔)
(19) (What are these people like?) They are those who turn others away from the path of Allah and seek to make it crooked (they give it distorted interpretations), and they are also deniers of the Hereafter (that is, since they do not believe in the Hereafter, they will commit unbelief, and will never let those who follow you remain on the straight path).
أُولَٰئِكَ لَمْ يَكُونُوا مُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُم مِّن أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ اللَّهِ يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ
(۲۰) یہ لوگ زمین پر بھی قابو سے باہر تھے (کب ہمارے ہاتھ سے نکل سکتے تھے) وہ کب ہم کو عاجز کرسکتے تھے اور خدا کے مقابل ان کا کوئی سرپرست نہ تھا ۔ ان کو دو دو چنا عذاب ہوگا ۔ یہ لوگ نہ (حق بات) سن سکتے تھے نہ (حق بات) دیکھ سکتے تھے ۔
(20) These people were never beyond Our reach on earth (when could they escape Our grasp?). When could they render Us helpless? And they had no protector against God. For them the punishment will be doubled. They could neither hear (the truth) nor see (the truth).
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
(۲۱) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کا نقصان کیا (خسارے میں پڑگئے) اور جو کچھ بھی وہ جھوٹ لگاتے تھے وہ سب بے کار اور اکارت گیا ۔
(21) These are the people who have caused loss to themselves (they have fallen into loss), and all the false things they used to fabricate went to waste and came to naught.
لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَ
(۲۲) بے شک یہ لوگ آخرت میں زیادہ سے زیادہ خسارے میں پڑے ہوئے (یقیناً نقصان اٹھانے والے) ہیں ۔
(22) There is no doubt that in the Hereafter they are the greatest losers (certainly they are the ones who suffer loss).
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
(۲۳) بے شک جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں اور اپنے رب پر پورا اعتماد اور بھروسہ رکھتے ہیں وہ جنتی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔
(23) Indeed, those who believe and do righteous deeds and have complete trust and reliance upon their Lord — they are the people of Paradise and they will dwell therein forever.
مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالْأَعْمَىٰ وَالْأَصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
(۲۴) ان دونوں فریق کی مثال ایسی ہے جیسے اندھا اور بہرا ، دیکھتا اور سنتا ۔ کیا ان دونوں کی مثال برابر ہے ؟ پھر تم کیوں نہیں سوچتے (غور و فکر کرتے) ؟
(24) The example of these two groups is like the blind and the deaf versus the seeing and the hearing. Are the two equal in example? Then why do you not reflect (ponder and think)?
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
(۲۵) ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا ، (کہ ان سے کہہ دو) میں تمہیں صاف ڈرانے والا ہوں ۔
(25) We sent Nūḥ toward his people (saying: tell them) I am a clear warner for you.
أَن لَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ
(۲۶) (اے نوح !) تم اپنی قوم سے کہہ دو کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو (ناسوی اللہ کی پوجا نہ کرو ، ورنہ) مجھے تمہارے متعلق قیامت کے دردناک دن کے عذاب کا ڈر ہے ۔ (قیامت میں تمہیں کیا تکلیفیں ہوں گی اس کا مجھے خوف لگا ہوا ہے ۔)
(26) (O Nūḥ!) Say to your people that do not worship anyone except Allah (do not worship anyone besides Allah, otherwise) I fear for you the punishment of a painful day of Judgment. (I am apprehensive about what torments will befall you on the Day of Resurrection.)
فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُم مِّن فَضْلٍ عَلَيْنَا بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ
(۲۷) پھر (نوح کی قوم میں سے) جو منکر تھے ان لوگوں نے کہا : تم ہمارے ہی جیسے آدمی ہو اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ تمہاری اتباع کرنے والے ہم میں سے صرف وہی ہیں جو بے سمجھ رذیل لوگ ہیں اور ہم تم کو ہم پر کوئی فضیلت نہیں سمجھتے ۔ بلکہ ہم تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں ۔ (اور ہمارے دل میں تم کو گمان بھی ہے کہ تم بے سروپا باتیں کہتے ہو) ۔
(27) Then the chiefs among his people who were disbelievers said: we see you as nothing but a man like ourselves, and we see that those who follow you are none but the lowly and foolish among us, and we do not see any virtue in you over us. Rather, we consider you to be liars. (And we even suspect in our hearts that you are speaking baseless things.)
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَآتَانِي رَحْمَةً مِّنْ عِندِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمْ لَهَا كَارِهُونَ
(۲۸) (نوح نے) کہا ۔ (میرے دوستو !) کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور اس کی رحمت مجھ پر آتی ہے اور جس کے متعلق تم پر اندھے ہو تو کیا خدا کی طرف سے (رحمت کو تمہارے گلے زبردستی) دیتے ہیں (تم حق سے کراہت کرتے ہو ۔ زبردستی آگلے ہیں ، خدا کی رحمت اور خواہ خواہ کے اندے نہ ہو ۔ یہ تو حق بات ہے ۔ زبردستی تمہارے گلے لگانا کیا گیا ہے) ۔
(28) (Nūḥ) said: O my people! Do you think that if I stand on clear proof from my Lord and His mercy comes upon me — about which you are blinded — should we then force it upon your necks against your will? (You are averse to the truth. Forcing it is being done — God's mercy is not something to be made an unwanted burden. This is the truth, but forcing it upon your necks, what has been done [cannot be undone].)
وَيَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ وَلَٰكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ
(۲۹) اور لوگو ! میں اس پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا ۔ میرا اجر تو اللہ پر ہے (وہی میری تبلیغ کا بدلہ دے گا) اور میں ایمانداروں کو اپنے پاس سے نکال دینے والا نہیں ۔ (دربار الٰہی میں حاضر ہونے والے ہیں) اپنے رب کے پاس ملنے والے ہیں ۔ مگر میں تم کو نادان لوگ سمجھتا ہوں ۔
(29) And O people! I do not ask any wealth from you for this. My reward is with Allah (He will recompense me for my preaching). And I am not one to drive away the believers from my presence. (They are those who will appear before Allah's court) — they are about to meet their Lord. But I see you as an ignorant people.
وَيَا قَوْمِ مَن يَنصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِن طَرَدتُّهُمْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
(۳۰) اور لوگو ! اگر میں ان (دین داروں) کو نکال دوں تو اللہ (کے غضب) سے مجھے کون بچائے گا ۔ تو پھر بھی تم اتنا اتنا نہیں سمجھتے (کچھ بھی دھیان نہیں رکھتے) ۔
(30) And O people! If I were to drive them (the believers) away, then who would save me from Allah (from His wrath)? So will you still not reflect (do you not pay any heed at all)?
وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَن يُؤْتِيَهُمُ اللَّهُ خَيْرًا اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنفُسِهِمْ إِنِّي إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ
(۳۱) اور (لوگو !) میں تم سے ہرگز نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے میرے ہاتھ میں ہیں ، (میرے پاس نہیں) اور میں غیب داں بھی نہیں ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کے متعلق جن کو تم ذلیل اور خوار (و دولت) سمجھتے ہیں ، یہ کہتا ہوں کہ اللہ ان کو کبھی بھلائی نہیں دے گا ۔ ان کے باطن کا علم اللہ ہی کو ہے ۔ اگر میں (ایسا کروں یا) ایسا کہوں تو بے شک میں بھی ظالموں میں سے ہوجاؤں گا ۔
(31) And O people! I do not at all say to you that the treasures of God are in my hands (they are not with me), and I am not one who knows the unseen, and I do not say that I am an angel, and I do not say about those whom you consider lowly and disgraced (and without wealth) that Allah will never grant them any good. Allah alone knows what is in their hearts. If I were to do (or say) such a thing, then I too would undoubtedly be among the wrongdoers.
قَالُوا يَا نُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
(۳۲) لوگوں نے (نوح کے) کہا ، اے نوح ! تم نے ہم سے خوب دل کھول کر بحث و مباحثہ کیا ۔ اگرتم سچے ہو تو لے آؤ جس (عذاب) کا تم ہم سے وعدہ کرتے ہو ۔
(32) The people said (to Nūḥ): O Nūḥ! You have debated with us at great length and opened your heart fully. If you are truthful, then bring upon us that (punishment) which you keep promising us.
قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُم بِهِ اللَّهُ إِن شَاءَ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ
(۳۳) (نوح نے) کہا خدا چاہے تو وہی تم پر عذاب لائے گا ۔ تم (اسے) روک سکتے نہیں (نہ خدا کو عاجز کرسکتے ہو) ۔
(33) (Nūḥ) said: Allah alone will bring it upon you if He wills. You cannot prevent it (nor can you render God helpless).
وَلَا يَنفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(۳۴) میں تم کو لاکھ نصیحت کرنا چاہوں ، اگر خدا گمراہ رکھنا چاہتا ہے تو میری نصیحت کچھ کام نہ آئے گی ۔ وہ تمہارا رب ہے اور تم کو اسی کی طرف واپس جانا ہے ۔
(34) Even if I desire to give you a thousand pieces of advice, if God wills to keep you astray, my advice will be of no avail. He is your Lord and to Him you are to return.
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ إِجْرَامِي وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تُجْرِمُونَ
(۳۵) کیا لوگ یہ کہتے ہیں کہ (نوح نے) اپنا گھڑا ہوا یہ سب باتوں کو دل سے گڑھ لیا ؟ تم (اچھا (اے نوح)) کہہ دو : اگر میں نے اپنا جھوٹا گھڑ لیا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ، اور میں بھی تمہارے جرموں سے بری ہوں ۔
(35) Do people say that (Nūḥ) fabricated all of this from his own heart? Say (well then, O Nūḥ): if I fabricated my own lie then my crime is upon me, and I am also free from the crimes that you commit.
وَأُوحِيَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلَّا مَن قَدْ آمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
(۳۶) اور نوح کو وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے اب کوئی ایمان لانے کا نہیں ، سوائے ان کے جو ایمان لاچکے ہیں ۔ اب ان کاموں پر تم غم نہ کرو (جو کچھ کہتے ہیں اس کی پرواہ نہ کرو) ۔
(36) And it was revealed to Nūḥ: no one from your people will now believe except those who have already believed. So do not grieve over what they do (do not be concerned by what they say).
وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ
(۳۷) اور (اے نوح) ہمارے سامنے اور ہمارے حکم کے مطابق کشتی بناؤ اور ان ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہلو کیونکہ یہ سب غرق ہونے اور ڈوبنے والے ہیں ۔
(37) And (O Nūḥ) build the ark before Our eyes and according to Our command, and do not speak to Us about the wrongdoers, for they are all going to be drowned.
وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌ مِّن قَوْمِهِ سَخِرُوا مِنْهُ قَالَ إِن تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ
(۳۸) اور (نوح تو) کشتی بنا رہے ہیں اور قوم (نوح) میں سے ایک ایک جماعت آتی ہے اور ان پر ہنسی اڑاتی ہے ۔ نوح نے کہا اگر تم ہم سے مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی تم سے اسی طرح مذاق اڑائیں گے (ہم سے بھی) یہی ہوتا ہے ۔
(38) And (Nūḥ is) building the ark, and one group after another from Nūḥ's people passes by and mocks him. Nūḥ said: if you mock us, then we too shall mock you in the same way — (this is also what happens) with us.
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيمٌ
(۳۹) تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ کس شخص پر وہ عذاب آتا ہے جو اس کو ذلیل اور خوار کردیتا ہے اور جس پر عذاب دائم قائم رہتا ہے ۔
(39) You will soon come to know upon whom comes that punishment which disgraces and humiliates him, and upon whom a permanent, lasting punishment descends.
حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ
(۴۰) یہاں تک کہ جب ہماراحکم آپہنچا اور تنور لگا ، ہم نے (نوح سے) کہا : اس میں ہر جوڑے کے جوڑے کو سوار کرلو اور اپنے اہل (گھرانے) کو بھی ، مگر جس (کی خرابی) پر فیصلہ ہوچکا ، اور ان لوگوں کو بھی جو ایمان لائے اور ان کے (نوح کے) ساتھ بہت کم لوگ ایمان لائے ۔
(40) Until when Our command arrived and the oven boiled over, We said (to Nūḥ): take aboard it a pair from every (kind), and also your family — except those about whom judgment had already been passed — and those who believed, and very few had believed with him (Nūḥ).
وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(۴۱) اور کہا اس میں سوار ہوجاؤ ۔ اس کشتی کا چلنا اور ٹھہرنا اللہ کے نام سے ہے ۔ بے شک میرا پروردگار بڑی مغفرت اور رحم والا ہے ۔
(41) And he said: board it. Its sailing and its mooring are in the name of Allah. Indeed, my Lord is Most Forgiving, Most Merciful.
وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ الْكَافِرِينَ
(۴۲) اور کشتی موجوں جیسی پہاڑوں میں سے لوگوں کو لے کر چل رہی ہے ، نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ الگ سے جدا تھا ۔ بیٹا ! تو بھی ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہوجا ۔
(42) And the ark was sailing through them among waves like mountains, and Nūḥ called out to his son who was standing apart and aloof: My son! Come aboard with us and do not be with the unbelievers.
قَالَ سَآوِي إِلَىٰ جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ
(۴۳) اس نے کہا میں ابھی ایسے پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں ، جو مجھے پانی سے بچائے گا ۔ (نوح نے کہا) آج کے دن اللہ کے حکم سے کوئی نہیں بچا سکے گا مگر وہ جس پر خود خدا ہی رحم فرمائے ۔ اور ان دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وہ ڈوب گیا ۔
(43) He said: I will soon take shelter on a mountain that will protect me from the water. (Nūḥ said:) Today no one can save from the command of Allah except he upon whom God Himself shows mercy. And a wave came between the two of them, and he (the son) drowned.
وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ وَقِيلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
(۴۴) اور کہہ دیا گیا ۔ اے زمین ! تو اپنا پانی نگل جا (نگل جا) اور اے آسمان ! تو تھم جا ۔ پانی کم ہوگیا اور جو ہونا تھا ہوگیا اور کشتی بھی جودی پہاڑ سے جاگلی اور کہہ دیا گیا (خدا کی مار ہے) ظالم لوگوں کو ۔
(44) And it was said: O earth! Swallow up your water (swallow it up), and O sky! Cease! The water subsided and what was to happen had happened, and the ark came to rest upon Mount Jūdī, and it was said: (God's curse upon) the wrongdoing people.
وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ
(۴۵) اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا ۔ پھر کہا ، پروردگار ! میرا بیٹا تو میرے خاندان کا ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو احکم الحاکمین ہے (بہترین فیصلہ کرنے والا ہے) ۔
(45) And Nūḥ called upon his Lord, then said: My Lord! My son is indeed from my family, and Your promise is true, and You are the wisest of all judges (the best of those who render judgment).
قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے نوح ! یہ (تمہارا بیٹا) تمہارے متعلقین میں سے نہیں ہے ، یہ بدکار ہے (اللہ نے) لہذا ایسی چیز کے متعلق سوال نہ کرو جس کا تم کو علم نہیں ۔ ایسی چیز کے متعلق سوال نہ کرو جس کا تم کو علم نہیں ۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم بھی جاہلوں میں سے ہوجاؤ ۔
(46) (Allah the Exalted) said: O Nūḥ! He (your son) is not from your family (kin). He is a worker of evil deeds. Therefore do not ask Me about that of which you have no knowledge. Do not ask about that of which you have no knowledge. I admonish you lest you become one of the ignorant.
قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَن أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَاسِرِينَ
(۴۷) (نوح نے) عرض کیا ۔ میرے پروردگار ! میں تیری پناہ لیتا ہوں ، ایسی بات کے متعلق سوال کرنے سے جس کا مجھے علم نہیں ۔ اگر تو مجھے رحم نہ فرمائے اور مجھ پر رحم نہ کرے تو میں بڑے خسارے والوں میں پڑجاؤں گا ۔ (بڑا نقصان اٹھاؤں گا)
(47) (Nūḥ) submitted: My Lord! I seek Your refuge from asking about something of which I have no knowledge. If You do not forgive me and have no mercy on me, I will be among the great losers. (I will suffer great loss.)
قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ
(۴۸) کہا گیا : اے نوح ! ہماری طرف سے سلامتی اور تمہارے ساتھ جو تھے ان سب پر اور (تمہارے) ان معلقین پر برکت کے ساتھ (کشتی سے) اترو ۔ (آندہ نسلوں کی طرف سے) کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کو ہم دنیا میں راحتیں دیں گے (دنیا میں مزے دیں گے) پھر ہمارا درد ناک عذاب ان کو پکڑلے گا ۔
(48) It was said: O Nūḥ! Disembark in peace from Us and with blessings upon you and upon all those who were with you and upon your kin. (As for future generations) there will be some people whom We will grant pleasures in the world (give them enjoyment in the world), then Our painful punishment will seize them.
تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَٰذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ
(۴۹) یہ غیب کی خبریں ہیں جو تم کو دی جاری ہیں جن سے تم پہلے نہ جانتے تھے تمہاری قوم۔ مبر کرو (جو مصائب آرہے ہیں ، انہیں برداشت کرلو) ۔ انجام نیک متقیوں ہی کا ہوتا ہے ۔
(49) These are the tidings of the unseen which are being revealed to you — neither you nor your people knew them before this. So be patient (bear the calamities that are coming). The final outcome belongs to the God-fearing.
وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ
(۵۰) اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) ۔ ہود نے کہا : لوگو ! اللہ کی بندگی کرو (اس کی عبادت میں رہو) ۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ۔ تم تو سراسر (جھوٹ بولتے ہو) افتراپردازی کرتے ہو ۔ (یعنی غیر خدا کو معبود کہنا بالکل افتراپردازی ہے) ۔
(50) And to ʿĀd We sent their brother Hūd. Hūd said: O people! Worship Allah (remain in His service). You have no god other than Him. You are nothing but (liars who) fabricate falsehood. (That is, calling anyone besides God a deity is pure fabrication.)
يَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي أَفَلَا تَعْقِلُونَ
(۵۱) لوگو ! میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا ۔ (تبلیغ کا معاوضہ نہیں چاہتا) میرا بدلہ تو اس کے پاس ہے جس نے مجھے پیدا کیا ۔ کیا تم نہیں سمجھتے ۔
(51) O people! I do not ask any reward from you for this (I want no compensation for preaching). My reward is with the One who created me. Do you not understand?
وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ
(۵۲) لوگو ! تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو ۔ پھر توبہ کرو (ابر کو لائے گا) وہ تم پر بکثرت بارش برسائے گا اور تمہاری قوت میں ترقی دے گا (تمہاری خوش حالی اور خوشی بڑھے گی) ۔ اور مجرم بن کر روگردانی تو نہ کرو ۔
(52) O people! Seek forgiveness from your Lord, then repent to Him. He will send the sky upon you with abundant rain and will increase your strength with (further) strength (your prosperity and happiness will grow). And do not turn away as sinners.
قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
(۵۳) ان لوگوں نے کہا : اے ہود ! تم کوئی معجزہ تو لائے نہیں اور ہم تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ، اور نہ ہم تم پر ایمان لانے والے ہیں ۔
(53) They said: O Hūd! You have not brought us any miracle, and we are not going to abandon our gods on your say, nor are we going to believe in you.
إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
(۵۴) (یہ کفار کا ہے) ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی دیوتا (کا سایہ تم پر ہوگیا ہے) نے تم کو بری طرح پکڑ لیا ہے ۔ ہود نے کہا : میں اللہ کو شاہد کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان تمام (دیوتاؤں) سے بری ہوں جن سے تم شرک کرتے ہو ۔
(54) (This is the speech of the unbelievers:) We only think that one of our gods has seized you badly (has come over you). Hūd said: I make Allah a witness, and you too bear witness, that I am free of all these (deities) with whom you associate partners.
مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ
(۵۵) خدا کو چھوڑ کرتم سب مل کر میرے ساتھ کید (کرکرو) ، (مکر کرو) پھر مجھے مہلت بھی نہ دو ۔
(55) Leave God aside — all of you together plot (and scheme) against me, then give me no respite at all.
إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(۵۶) میں اللہ پر توکل کرتا ہوں جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا بھی ۔ زمین پر چلنے والوں میں کوئی ایسا نہیں جس کی جنبش اس کے ہاتھ میں نہ ہو ، میرا رب (صراط مستقیم) پر ہے (یعنی جو کچھ وہ کرتا ہے اچھا ہی کرتا ہے) ۔
(56) I place my trust in Allah, who is my Lord as well as yours. There is no creature on earth but its movement is in His hand. My Lord is on the straight path (that is, whatever He does, He does well).
فَإِن تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئًا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ
(۵۷) پس اگر تم نہ مانو (روگردانی پر اڑے رہو) تو میں جو کچھ تمہارے لیے تمہاری طرف بھیج کر لایا تھا وہ پہنچا چکا ۔ پہنچا چکا ، اور میرا رب قوم کو پیدا کرے گا اور تم اس کا کچھ بھی (نہ تھا آئے گا) نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔ بے شک میرا رب ہر چیز کا نگہبان ہے ۔
(57) So if you will not accept (if you persist in turning away), then I have delivered to you what I was sent with to you. My Lord will bring into being another people in your place, and you can do Him no harm whatsoever (nothing will come of it). Indeed, my Lord is the guardian over all things.
وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَنَجَّيْنَاهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ
(۵۸) اور جب ہماراحکم آپہنچا تو ہم نے ہود اور جوان کے ساتھ ایمان لائے تھے ، ہماری رحمت کی وجہ سے ، بچالیا اور ان کو سخت عذاب سے بھی نجات دی ۔
(58) And when Our command came, We saved Hūd and those who had believed with him, by Our mercy, and We delivered them from a severe punishment.
وَتِلْكَ عَادٌ جَحَدُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ
(۵۹) اور یہ عاد کی قوم تھی جس نے اپنے رب کی نشانیوں سے انکار کیا اور خدا اور رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر ایک جبار و سرکش کے حکم کو مانا اور اس کی اتباع کی ۔
(59) And this was the people of ʿĀd, who rejected the signs of their Lord and disobeyed God and His messengers, and followed the command of every stubborn tyrant.
وَأُتْبِعُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا إِنَّ عَادًا كَفَرُوا رَبَّهُمْ أَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُودٍ
(۶۰) اور ان کے (عاد کے لوگوں کے) پیچھے لعنت لگادی گئی اس دنیا میں بھی اور قیامت کے دن میں بھی ۔ ہاں بے شک قوم عاد نے اپنے رب سے کفر کیا ۔ ہاں ! ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے (لعنت ہے) ۔
(60) And a curse was made to follow them (the people of ʿĀd) in this world and on the Day of Resurrection too. Indeed, the people of ʿĀd disbelieved in their Lord. Indeed, cursed be ʿĀd, the people of Hūd!
وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُّجِيبٌ
(۶۱) اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی (انہی کے خاندان کے) صالح کو (پیغمبر بناکر) بھیجا ۔ (صالح نے) کہا : لوگو ! اللہ کی عبادت کرو ۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ۔ خدا ہی نے (لائق پرستش نہیں) زمین سے تم کو پیدا کیا اور اس میں بسایا لہذا تم اس سے دعائے مغفرت کرو اور توبہ کرو (رجوع الی اللہ) کرو ۔ بے شک میرا رب قریب ہے ، محبوب ہے ، تمہاری استدعاؤں کو قبول کرتا ہے ، جو مانگو دیتا ہے ۔
(61) And to Thamūd We sent their brother Ṣāliḥ (of their own clan, as a prophet). (Ṣāliḥ) said: O people! Worship Allah. You have no god other than Him. It is God who created you from the earth and settled you therein, so seek His forgiveness and repent (turn back to Allah). Indeed my Lord is near, He is beloved; He accepts your supplications and gives what you ask.
قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَٰذَا أَتَنْهَانَا أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ
(۶۲) (قوم ثمود نے) کہا ، اے صالح ! ہم کو اس سے پہلے تم سے پوری امید تھی (تم ہماری مربوبی کی بنوبت پرتی) ۔ کیا تم ہم کو اس بات سے روکتے ہو کہ ہم ان چیزوں کی پوجا کریں جن کی ہمارے باپ دادا کی پوجا کرتے تھے ؟ ہم (تمہاری توحید کی) اس بات کی طرف سے جس کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو ، بڑا ہی شک ہو بڑا ہے (یہ خلش تو بھی بڑا ہوگی رہے گی) ۔
(62) (The people of Thamūd) said: O Ṣāliḥ! We had great hope in you before this (you were the light of our hope). Do you forbid us from worshipping what our forefathers used to worship? We are in great doubt about what you call us to (about your monotheism), a doubt that is very deep (this nagging uncertainty will never go away).
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَن يَنصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ
(۶۳) (صالح نے) کہا ۔ اے میری قوم ! اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے اپنی جانب سے مجھے رحمت عطا فرمائی (اور پیغمبری دی ہو) تو اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو کون خدا کے (کے بچ جانے غضب) سے میری مدد کرے گا ۔ تم میری مدد کرنے والوں کو تو کون خدا کے (بچائے گا) بناتے ہو اور تم مجھے خسارہ اور نقصان پر نقصان میں ڈالتے ہو ۔
(63) (Ṣāliḥ) said: O my people! If I stand on a clear proof from my Lord and He has bestowed His mercy upon me (and given me prophethood), then if I disobey Him, who would help me against Allah (against His wrath)? You do not add anything to me except loss upon loss.
وَيَا قَوْمِ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيبٌ
(۶۴) (صالح نے کہا) اور اے لوگو ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے (اور اس کی قدرت کا ایک نشانی ہے) تمہارے لیے ایک آزمائش ہے ۔ تو اس کو چھوڑ دو اور خدا کی زمین میں کھاتی اور چرتی پھرتی رہے اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگاؤ ورنہ تم پر قریب آنے والا عذاب آجائے گا (اور قریب میں تم گرفتار ہو جاؤ گے) ۔
(64) (Ṣāliḥ said:) And O people! This is the she-camel of Allah (and a sign of His power) — a trial for you. So leave her to eat and graze in Allah's land, and do not touch her with harm, otherwise a punishment that is close at hand will seize you (and you will be seized shortly).
فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ
(۶۵) لوگوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں ۔ تو (صالح نے) کہا ابتم تین دن اپنے گھروں میں مزے اڑاؤ ۔ (جو ہوگا معلوم ہوجائے گا) ۔ یہ وعدہ ناقابل تکذیب ہے ۔ (ہوکر رہے گا) ۔
(65) They hamstrung her. So (Ṣāliḥ) said: then enjoy yourselves in your homes for three days (what will happen, you will come to know). This promise is not liable to be falsified (it will surely come to pass).
فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَالِحًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِئِذٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ
(۶۶) پھر جب ہماراحکم آپہنچا تو ہم نے صالح اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ، اپنی رحمت سے بچالیا ، (ان کو نجات بخشی) اور اس دن کی خواری اور رسوائی سے بھی بچایا ۔ بے شک تمہارا رب بلا شک قوی اور باعزت ہے ۔
(66) Then when Our command came, We saved Ṣāliḥ and those who had believed with him, by Our mercy (We delivered them), and We saved them from the disgrace and humiliation of that day. Indeed, your Lord is powerful and mighty.
وَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ
(۶۷) (ثمود کی قوم کا انجام کیا ہوا ؟) سخت زلزلہ کی آواز نے ظالموں کو آلیا ۔ پھر وہ اپنے گھروں میں (سرنگوں) اوندھے پڑے رہ گئے ۔
(67) (What was the end of Thamūd?) A terrible thunderous blast seized the wrongdoers, and they lay prostrate face-down in their homes.
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا أَلَا إِنَّ ثَمُودَ كَفَرُوا رَبَّهُمْ أَلَا بُعْدًا لِّثَمُودَ
(۶۸) (وہ تاہ اور غیر آباد ہوگئے) ، گویا وہ تاہ اور غیر آباد ہو بادہوگئے ، گویا وہ گھروں میں رہتے ہی نہ تھے ۔ ہاں ! دیکھو قوم ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا ۔ ہاں ! قوم ثمود پر پھٹکار ہے ۔ (دوری ہے رحمت الٰہی سے) ۔
(68) (They became desolate and uninhabited) — as if they had never dwelt in those homes. Look! The people of Thamūd disbelieved in their Lord. Indeed! Cursed be the people of Thamūd (they are far removed from divine mercy).
وَلَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا سَلَامًا قَالَ سَلَامٌ فَمَا لَبِثَ أَن جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ
(۶۹) جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس (اسحاق کے پیدا ہونے کی) خوش خبری لے کر آئے تو انہوں نے سلام کیا ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی سلام کیا ۔ پھر فوراً ایک بھنے ہوئے گائے کا بچھڑا تلا کرلائے ۔
(69) When Our messengers (angels) came to Ibrāhīm with the glad tidings (of the birth of Isḥāq), they greeted with salām. Ibrāhīm (peace be upon him) also returned the salām. Then he immediately went and brought a roasted calf.
فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ
(۷۰) جب (ابراہیم نے) دیکھا کہ ان لوگوں کے ہاتھ (تلے ہوئے گوشت) کی طرف نہیں بڑھتے ہیں تو اس بات کو ناماوس پایا اور (ابراہیم کو) ان سے خوف پیدا ہوا ۔ (فرشتوں نے) کہا ، ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔
(70) When (Ibrāhīm) saw that their hands did not reach toward the roasted meat, he found this strange and a sense of fear arose in him (from them). (The angels) said: fear not, we have been sent toward the people of Lūṭ.
وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ
(۷۱) ابراہیم کی بیوی سارہ (پاس) کھڑی تھیں (ایام جس) تو کھل کر ہنس پڑیں ۔ پھر ہم نے سارہ کو اسحاق کی مبارکبادی دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی ۔
(71) Ibrāhīm's wife Sārah was standing nearby (in attendance) and she laughed aloud. Then We gave Sārah glad tidings of Isḥāq and after Isḥāq of Yaʿqūb.
قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَٰذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ
(۷۲) (سارہ نے) کہا : ہائے میری خرابی ! کیا میں بچہ جنوں گی اور میں بوڑھی ہوگئی ہوں اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں ۔ بے شک یہ (بوڑھا بڑھیا کا بچہ جننا) بڑی تعجب خیز بات ہے ۔
(72) (Sārah) said: Alas my ruin! Shall I give birth while I am an old woman, and my husband too is an old man? Indeed this (giving birth at such old age) is a most astonishing thing.
قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ
(۷۳) (فرشتوں نے) کہا ، کیا تم حکم خدا پر تعجب کرتی ہو ؟ اللہ کی رحمت اور برکت تم اہل البیت (خانوادہ ابراہیم) پر ہے ۔ بے شک وہ (اللہ) لائق ستائش ہے بزرگ ہے ۔
(73) (The angels) said: Are you astonished at the command of Allah? The mercy of Allah and His blessings are upon you, O people of the household (the family of Ibrāhīm). Indeed He (Allah) is praiseworthy and glorious.
فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ وَجَاءَتْهُ الْبُشْرَىٰ يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ
(۷۴) جب ابراہیم کا خوف اور ترس دور ہوا اور (فرشتوں نے) خوش خبری دے دی اور اسحاق کی پیدائش کی خبر دی تو (ابراہیم) قوم لوط کے متعلق ہم سے جھگڑنے لگے ۔
(74) When Ibrāhīm's fear and dread had passed and (the angels) had given him the glad tidings of the birth of Isḥāq, then (Ibrāhīm) began to argue with Us concerning the people of Lūṭ.
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُّنِيبٌ
(۷۵) بے شک ابراہیم بڑے حلیم بڑے دل اور ثابت و رسوخ اور ثابت قدم اور (دعائیں کرتے رہنے والے) ہیں ۔ (یعنی دعائیں کیا کرتے تھے) کہ یہ بلا ٹل جائے ۔
(75) Indeed Ibrāhīm is most forbearing, tender-hearted, steadfast and firm, and one who constantly turns to God (in prayer). (That is, he would pray) that this calamity be averted.
يَا إِبْرَاهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا إِنَّهُ قَدْ جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَإِنَّهُمْ آتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍ
(۷۶) اے ابراہیم ان باتوں کو چھوڑ دو کیونکہ تمہارے رب کا حکم آچکا ہے اور ان کو وہ عذاب آنے والا ہے جو ناقابل رد ہے ۔
(76) O Ibrāhīm! Leave aside these matters, for the command of your Lord has come, and upon them is coming a punishment that cannot be turned back.
وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ
(۷۷) اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو ان کی وجہ سے وہ مغموم ہوگئے اور دل تنگ و پریشان ہوگئے اور (لوط نے) کہا یہ دن بڑا سخت ہے (یعنی اس بدمعاش قوم سے کیسے مقابلہ ہوگا ؟) ۔
(77) And when Our messengers (angels) came to Lūṭ, he was distressed on their account and became uneasy and troubled of heart, and (Lūṭ) said: this is a very difficult day (that is, how will I deal with this wicked people?).
وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ قَالَ يَا قَوْمِ هَٰؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ
(۷۸) اور ان کے (لوط کے) پاس (قوم کے) لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور وہ پہلے سے برے کام کیا کرتے تھے ۔ (لوط نے) کہا لوگو ! یہ میری لڑکیاں ہیں (جو عورتیں ہیں) وہ تمہارے لیے نہایت (مناسب اور) پاک ہیں لہذا خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے رسوا نہ کرو ۔ کیا تم میں کوئی بھلا مانس ، نیک آدمی نہیں ۔
(78) And Lūṭ's people came rushing toward him, and they used to commit evil deeds previously. (Lūṭ) said: O people! These are my daughters (women), they are purer and more fitting for you, so fear Allah and do not disgrace me in the matter of my guests. Is there not a single decent, upright man among you?
قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ
(۷۹) انہوں نے کہا : تم کو معلوم ہے کہ ہم کو (عورتوں سے) تمہاری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور (تمہاری) یقینی تم کو خوب علم ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں ۔
(79) They said: You know well that we have no interest in your daughters (in women), and you certainly know well what it is that we want.
قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ
(۸۰) (لوط نے) کہا : کاش ! مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لیتا ۔
(80) (Lūṭ) said: Would that I had the power to confront you, or that I could take refuge in some strong support.
قَالُوا يَا لُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُوا إِلَيْكَ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ إِلَّا امْرَأَتَكَ إِنَّهُ مُصِيبُهَا مَا أَصَابَهُمْ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ
(۸۱) (فرشتوں نے) کہا : اے لوط ! ہم تمہارے رب کے فرستادہ ہیں ، (فرشتے ہیں) ، یہ تم تک ہرگز نہ پہنچیں گے ، لہذا تم رات کے ایک حصہ میں اپنے اہل کو لے کر (یہاں سے) چلے جاؤ (دیکھو !) تمہارے میں سے کوئی ادھر ادھر نظر نہ کرے ، مگر تمہاری عورت (وہ تمہاری ساتھ نہ جائے گی) ۔ اس پر وہی مصیبت نازل ہوگی جو دوسروں پر نازل ہونے والی ہے ۔ ان (بدکاروں) کے لیے وعدے کا وقت صبح کا ہے ، کیا صبح قریب نہیں ؟ (یعنی تم پریشان کیوں ہو ؟)
(81) (The angels) said: O Lūṭ! We are messengers of your Lord (angels) — they shall never reach you. So depart with your family in a part of the night (look!) and let none of you glance back, except your wife — she shall not go with you. Upon her will descend the same calamity as upon the others. Their appointed time is the morning — is not the morning near? (That is, why are you distressed?)
فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ
(۸۲) پس جب ہماراحکم آگیا تو ہم نے اس (گاؤں) کو الٹ کردیا اور اس پر بکثرت پتھر برسائے (کہ پتھروں کا ڈھیر لگ گیا) ۔
(82) So when Our command came, We turned that (town) upside down and rained upon it stones abundantly (piling stones upon it).
مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ
(۸۳) یہ (پتھر) تمہارے رب کے پاس معلوم تھا (یعنی خدائی تقدیر میں بدکاروں پر نگاری ہوگی اور نگاری ہے ؟) اور یہ عذاب جو قوم لوط پر آیا ہے تو ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے ۔ (یعنی آج کے بدکاروں پر بھی آئے گا) ۔
(83) These (stones) were marked with your Lord (that is, in divine decree it is recorded that the evildoers will be marked and struck). And this punishment that came upon the people of Lūṭ is not far from the wrongdoers (that is, it will come upon today's evildoers as well).
وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ
(۸۴) اور ہم نے مدین کی طرف انہیں کے بھائی (یعنی انہی کے خاندان کے) شعیب کو (پیغمبر بناکر) بھیجا ۔ (شعیب نے) کہا : لوگو ! اللہ کی عبادت کرو ۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ۔
(84) And to Madyan We sent their brother Shuʿayb (of their own clan as a prophet). (Shuʿayb) said: O people! Worship Allah. You have no god other than Him.
وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
(۸۵) لوگو ! انصاف کے ساتھ ناپ تولو ۔ پورا پورا لین دین کرو ۔ لوگوں کو ان کی چیزوں کے دینے میں نقصان نہ کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو ۔
(85) O people! Measure and weigh with justice. Give full measure in all your dealings. Do not cause loss to people in their belongings, and do not go about spreading corruption in the land.
بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ
(۸۶) اللہ کے پاس جو چیز باقی ہے وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم ایمان کے دل میں ہو اور میں تم پر کوئی تنگہبان نہیں ۔ (اپنی سوچ سمجھ کر کام کرو) ۔ اچھے برے کی مجھے ذمہ داری نہیں ۔
(86) What remains with Allah is better for you if you are sincere believers, and I am not a guardian over you (think for yourselves and act). I am not responsible for what is good or bad for you.
قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلَاتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ إِنَّكَ لَأَنتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ
(۸۷) لوگوں نے کہا : اے شعیب ! (کیا تم نماز پڑھ رہے ہو) کیا تمہاری نماز تم کو یہ حکم دیتی ہے کہ ہمارے باپ دادا جن کی پوجا کرتے تھے ہم ان کو چھوڑ دیں یا ہم اپنے مال میں جو چاہیں نہ کریں ۔ بے شک آپ تو بڑے حلیم والے ، رشد و فلاح والے ہو ۔
(87) The people said: O Shuʿayb! Does your prayer command you (is your prayer telling you) that we should abandon what our forefathers used to worship, or that we should not do with our wealth as we please? Indeed you are most forbearing and full of righteousness and welfare.
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا وَمَا أُرِيدُ أَن أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ
(۸۸) (شعیب نے) کہا : (لوگو !) اور میری قوم ! اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور میرے رب نے اپنی جانب سے مجھے اچھا رزق عطا فرمایا ہے (یعنی نیک پیغمبر بنایا ، حلال رزق تو بتایا تو کیا تم کو جو بتایا تو کیا تم کو جو میں نے حرام خوری سے منع کیا) میں نہیں چاہتا (کہ تم کو جو میں منع کرتا ہوں اس میں تمہاری خلاف ورزی کروں) کہ تمہاری خالفت کرکے وہ کام کروں جس سے تمہیں روکتا ہوں ۔ میرا ارادہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے (جہاں تک ہوسکے ، ہو سکے ، تمہاری اصلاح کا کام کروں ۔ میری توفیق بھی اللہ ہی سے ہے ، اسی پر توکل کرتا ہوں (اور اسی سے پناہ مانگتا ہوں) وہی میرا مرجع ہے (اسی کی طرف میری انابت ہے) ۔
(88) (Shuʿayb) said: O people! O my community! If I stand on a clear proof from my Lord and He has bestowed upon me from His side a good provision (that is, He made me a righteous prophet and showed me lawful provision) — then I do not desire (to go against what I forbid you from, violating my own command) that I do something against what I forbid you from. My intention is only to reform (you) as much as I am able. And my success lies only with Allah — upon Him I place my trust (and from Him I seek refuge). He alone is my recourse (to Him alone is my turning).
وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ
(۸۹) لوگو ! میری دشمنی میں کہیں ایسا جرم نہ کرتیو جس سے تم پر ایک ایسی مصیبت آن پڑے جیسی مصیبت نوح کی قوم یا قوم ہود یا قوم صالح پر پڑی (یعنی ان پر عذاب نازل ہوا) اور قوم لوط بھی تم سے کچھ دور نہیں (جو خانہ ان کی جو تاریخ ہوئی وہ تمہارے زمانہ سے بہت قریب ہے) ۔
(89) O people! Let not your enmity toward me lead you to such a crime that a calamity befalls you like the calamity that befell the people of Nūḥ, or the people of Hūd, or the people of Ṣāliḥ (that is, punishment descended upon them), and the people of Lūṭ are not far from you (for their fate happened in a time very close to yours).
وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ
(۹۰) اور اپنے رب کی مغفرت طلب کرو ۔ پھر اس کی طرف توبہ کرو ۔ میرا رب تو رحیم ہے ، ودود ہے ، ، ودود بھی ہے اور محبت اور مودت بھی کرتا ہے (رحم بھی کرتا ہے) ۔
(90) And seek forgiveness from your Lord, then repent to Him. My Lord is Merciful and full of love (He shows mercy) and affection.
قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ وَمَا أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ
(۹۱) لوگوں نے کہا : اے شعیب ! تمہاری بہت سی باتیں ہمیں سمجھ میں نہیں آتیں اور تم ہمارے اندر بہت سی کمزور و ناتواں دیکھتے ہیں ۔ اگر تمہارے لوگ (رہبان) نہ ہوتے تو ہم ابتم کو سنگسار کردیتے اور تم ہمارے پاس نہ عزیز ہو، نہ عزت مند ہو (نہ زبردست ہو) ۔
(91) The people said: O Shuʿayb! We do not understand much of what you say, and we see you as very weak and powerless among us. Were it not for your kinsmen (your clan), we would have stoned you by now, for you are no dear one to us, nor of any honor (nor of any power).
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ
(۹۲) (شعیب نے) کہا : اے میری قوم ! کیا میری جماعت تمہارے لیے اللہ سے بھی زیادہ عزت ہے ؟ تم نے اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے (تمہارے پاس بے قدری سے کھڑا ہے) ۔ بے شک میرا خدا تمہارے سب کرتوتوں سے خوب واقف ہے (سب کو احاطہ کیے ہوئے ہے) ۔
(92) (Shuʿayb) said: O my people! Is my clan more honored in your eyes than Allah? You have cast Allah behind your backs (treating Him as of little worth). Indeed, my Lord is fully aware of everything you do (He encompasses it all).
وَيَٰقَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ
اے لوگو! تم اپنے زور و قوت کے مطابق کام کرو ۔ میں بھی کام کرتا ہوں ۔ تم کو معلوم ہوجائے گا کہ جس پر عذاب آتا ہے وہ خوار ہوتا ہے (جاہ ہوتا ہے) اور کون جھوٹا ہے ۔ (جو جھوٹا ہوتا ہے وہ گرفتار بلا ہوتا ہے) اور تم بھی منتظر رہو ، میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں ۔ (یعنی تمہارا انجام تم اپنی آنکھوں سے دیکھو کہ کون جیتتا ہے اور کون ہارتا ہے اور کون غلا میں گرفتار ہوتا ہے) ۔
O my people! Act according to your power and ability — I too am acting. You will soon come to know who it is upon whom a disgraceful punishment falls, and who is a liar. And wait — I too am waiting along with you. [That is, you will see with your own eyes who wins and who loses, and who is caught in calamity.]
وَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَٰثِمِينَ
اور جب بجا ہمارا حکم آگیا تو ہم نے شعیب کونجات دی ، (ان کو بچالیا) اور مسلمانوں کو بھی ان کے ساتھ (یہ سب) ہماری رحمت سے ہوا ۔ اور ظالموں کو سخت آواز کا عذاب آگھیرا اور وہ اپنے گھردار میں پڑے رہ گئے ۔
And when Our command came, We saved Shu'ayb and those who believed with him, by mercy from Us. And the blast [of punishment] seized those who had done wrong, and they lay prostrate in their dwellings.
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَآ أَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ
(وہ ایسے جاہ ہوئے) گویا کہ وہ ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے (کبھی آباد ہوئے ہی نہ تھے) ۔ ہاں! (اہل) مدین بھی ایسے ہی تاہ ہوئے جیسی قوم ثمود جاہ ہوئی ۔
As though they had never dwelt therein. Away with Madyan, just as Thamud was cast away!
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَٰتِنَا وَسُلْطَٰنٍ مُّبِينٍ
ہم نے موسیٰ کو اپنی آیتوں اور نشانیوں اور قوی دلائل اور معجزات کے ساتھ بھیجا ۔ (کن کی طرف؟)
And indeed We sent Moses with Our signs and a clear authority. [Towards whom?]
إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِيهِ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ
فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف انہوں نے فرعون کا حکم مانا ۔ (فرعون کے سرداروں نے) اور فرعون کا کام راہ پر نہ تھا ۔ (گمراہی تھی) ۔
Towards Pharaoh and his chiefs, and they followed the command of Pharaoh. And Pharaoh's command was not on the right path. [It was error and misguidance.]
يَقْدُمُ قَوْمَهُۥ يَوْمَ الْقِيَٰمَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ
(فرعون) قیامت کے دن اپنی قوم سے آگے آگے چلنے پہنچے گا اور ان کو داخل جہنم کردے گا اور یہ کیا برا مقام ہے جس پر لوگ وارد ہوں گے ، پہنچیں گے ۔
He [Pharaoh] will go before his people on the Day of Resurrection and lead them into the Fire. And what a wretched destination to arrive at!
وَأُتْبِعُوا فِي هَٰذِهِۦ لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَٰمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ
اور ان لوگوں کے پیچھے اس (دنیا) میں بھی اور روز قیامت میں بھی لعنت لگادی گئی ۔ یہ کیا برا عطیہ ہے!
And they were followed in this [world] and on the Day of Resurrection by a curse. What a wretched gift to be bestowed!
ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ الْقُرَىٰ نَقُصُّهُۥ عَلَيْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَحَصِيدٌ
یہ واقعہ بستیوں کے حالات میں سے ہے جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ آباد اور سرسبز ہیں اور کچھ اجڑے ہوئے اور تباہ و برباد ہیں ۔
This is from the news of the towns which We relate to you. Among them are some still standing and some [already] reaped [destroyed].
وَمَا ظَلَمْنَٰهُمْ وَلَٰكِن ظَلَمُوٓا أَنفُسَهُمْ فَمَآ أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مِن شَيْءٍ لَّمَّا جَآءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ
اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا ۔ مگر انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ۔ جب تمہارے رب کا فرمان عذاب آگیا تو ان کے معبود ان کے کچھ کام نہ آئے ۔ (یہ کچھ نفع نہیں) جن کو خدا کو چھوڑ کر پکارتے تھے ۔ اور انہوں نے ان کو تباہی اور نقصان میں پڑا رہنے کو بڑھایا اور ترقی دی ۔
And We did not wrong them, but they wronged themselves. Their deities which they used to call upon besides Allah availed them nothing when the command of your Lord came. And they [those deities] added nothing to them but ruin.
وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُۥٓ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
اور اسی طرح تمہارے رب (کا عذاب اور اس) کی گرفت ہے ۔ جب وہ قریوں اور بستیوں کو گرفتار کرتا ہے بحالیکہ وہ ظالم ہوں ۔ اس کی گرفت تو سخت اور عذاب تو سخت المناک اور نہایت دردناک ہوتا ہے ۔
Such is the seizure of your Lord when He seizes the towns while they are committing wrong. Indeed His seizure is painful and severe.
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْءَاخِرَةِ ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ
بے شک اس میں اس شخص کے لئے آیت (اور عبرت) ہے جو عذاب آخرت کا خوف رکھتا ہو ۔ اس دن (قیامت کا) سب لوگ جمع ہوں گے اور وہ دن (ضرور آنے والا ہے) سب کو شہود ہونے والا ہے ۔
Indeed in that is a sign for those who fear the punishment of the Hereafter. That is a Day for which all people shall be gathered, and that is a Day [surely to come] that will be witnessed by all.
وَمَا نُؤَخِّرُهُۥٓ إِلَّآ لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ
اور ہم اسے پیچھے نہیں ڈالتے مگر ایک محدود اور مقین زمانے کے لئے ۔
And We delay it only until a fixed and counted term.
يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ
جس دن قیامت آجائے گی کوئی اس کے بغیر اجازت کے بات کرنے کے قابل نہ ہوگا ۔ پھر ان میں سے بعض بدقسمت ہوں گے اور بعض خوش قسمت ۔
The day it comes, no soul will speak except by His permission. Then among them [some] shall be wretched and [some] fortunate.
فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ
پس جو بدنصیب ہوں گے وہ دوزخ میں آہ کرتے اور چیخ چلاتے ہوں گے ۔ (ہائے ہائے کریں گے) ۔
As for those who are wretched — they shall be in the Fire. For them therein is [the sound of] exhaling and inhaling [wailing and shrieking]. [They will cry out in anguish.]
خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَٰوَٰتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ
وہ لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان زمین ہیں ۔ مگر جس کو (یا جب تک) خدا (یعنی جب تک نجات دے گا) چاہے ۔ تمہارا رب تو جو چاہے کرتا ہے ۔ (اس کو کوئی روک نہیں سکتا) ۔
Abiding therein as long as the heavens and the earth endure, except what your Lord may will [i.e., whatever exception He grants]. Indeed your Lord is doer of what He wills.
وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَٰلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَٰوَٰتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
اور جو خوش نصیب ہیں وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے (یعنی جنت سے آخر تک وہ جنت میں رہیں گے) ۔ جب تک آسمان زمین ہیں مگر جس کو تمہارا رب چاہے ۔ (اس کو کچھ دن دوزخ میں رہنا پڑے گا) ۔ یہ ایسی عطا ہے جو منقطع نہ ہوگی (ختم نہ ہوگی) ۔
And as for those who are blessed — they shall be in Paradise, abiding therein as long as the heavens and the earth endure, except what your Lord may will. [Some may spend some time in Hell first.] This is an uninterrupted gift [that will never end].
فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هَٰٓؤُلَآءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُم مِّن قَبْلُ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنقُوصٍ
پس تم ان کے متعلق کچھ شک و شبہہ نہ کرو جن کو یہ پوجتے ہیں ۔ یہ پوجتے نہیں مگر اس طرح جس طرح (ان سے) پہلے ان کے باپ دادا پوجا کرتے تھے اور بے شک ہم ان کا حصہ ہم انہیں اناللہ اکبر انہیں پورا پورا دیں گے ، اس میں کچھ کمی نہ ہوگی ۔
So do not be in any doubt about what these people worship. They worship only as their forefathers worshipped before them, and indeed We shall pay them their share [of punishment] in full, without the least reduction.
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيبٍ
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی (توریت کو کتاب دی) تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے ایک طے نہ ہوجاتی (یعنی عذاب آجاتا) تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا (یعنی جلد عذاب آجاتا) مگر یہ لوگ تو اس کے متعلق سخت شک میں پڑے ہوئے ہیں ۔
And indeed We gave Moses the Book [the Torah], but there arose differences concerning it. Had it not been for a word [decree] that had already gone forth from your Lord, judgment would have been passed between them [the punishment would have come swiftly]. But surely they are in grave doubt about it.
وَإِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَٰلَهُمْ إِنَّهُۥ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
اور یقیناً تمہارا رب ان کے تمام اعمال کا پورا پورا بدلہ (اور جزا) دے گا کیونکہ وہ ان کے اعمال سے باخبر ہے (کوئی چھپی ہوئی چیز نہیں ہے ، سب کچھ جانتا ہے) ۔
And indeed your Lord will repay each of them in full for their deeds. He is indeed All-Aware of what they do. [Nothing is hidden from Him; He knows all.]
فَاسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
پس تم اسی طرح قائم رہو جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے مضبوطی سے اس پر قائم رہو (استقامت اختیار کرو) اور وہ لوگ بھی جو توبہ کرکے تمہارے ساتھ ہیں اور حد سے تجاوز نہ کریں (طغیان نہ کریں) کیونکہ جو کچھ تم کررہے ہو اس پر خدائے تعالیٰ دیکھ رہا ہے ۔
So remain steadfast as you have been commanded, as must also those who have repented along with you. And do not transgress [the bounds]. Indeed He is All-Seeing of what you do.
وَلَا تَرْكَنُوٓا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ
اور ان ظالموں پر مائل نہ ہو (شیطان کا سہارا نہ ڈھونڈو) کہ کہیں تم کو دوزخ میں جانا پڑے اور اللہ کو چھوڑ کر (اس کے سواء) تمہارا کوئی یار و مددگار نہیں اور نہ تم کو مدد اور نصرت مل سکتی ہے ۔
And do not lean towards those who do wrong, lest the Fire should touch you. [Do not seek the support of tyrants.] For you have no protectors apart from Allah, and then you shall not be helped.
وَأَقِمِ الصَّلَوٰةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّٰكِرِينَ
اور تم نماز قائم رکھو دن کے دونوں جانب اور رات کے حصے میں یعنی (پہلی رات میں) کیونکہ نیکیاں برائیوں کو دفع کردیتی ہیں ۔ یہ یاد دہانی اور چند وصیحت ہے ان لوگوں کے لئے جو ان کو قبول کرتے ہیں ۔
And establish prayer at the two ends of the day and at some hours of the night [the early part of the night]. Indeed good deeds remove evil deeds. This is a reminder for those who take heed.
وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
اور صبر کرو کیونکہ اللہ نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ۔
And be patient, for indeed Allah does not allow the reward of the good-doers to go to waste.
فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُولُوا بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَآ أُتْرِفُوا فِيهِ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ
پھر کیوں کان ایسے لوگ نہ ہوتے جو پہلے زمانہ کے لوگوں کے رہے ہیں نیک اعمال پر رہتے ، جولوگوں کو زمین میں شر وفساد سے روکتے ۔ مگر ہاں! تھوڑے ان میں سے ایسے بھی تھے جن کو ہم نے نجات دی تھی اور جو ظالم تھے وہ اپنی آرام طلبی کے پیچھے پڑے رہتے تھے اور وہ مجرم بھی تھے ۔
Then why were there not among the generations before you, people of understanding who would forbid corruption in the land? — except a few of those whom We saved from among them. And those who wronged followed what they were given of comfort and luxury, and they were criminals.
وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَىٰ بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ
اور تمہارا رب ایسا تو نہیں کہ بلادوں کو (قریوں کی) ظلم سے ہلاک کردے حالانکہ اس کے رہنے والے نیکوکار (اور مصلحین) ہوں ۔
And your Lord would not destroy the towns unjustly while their people are reformers [and righteous].
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَٰحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ
اور اگر خدا چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی قسم کا بناتا اور یہ تو ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے ۔
And if your Lord had willed, He would have made all people a single community. But they will not cease to differ.
إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
مگر جس پر تمہارے رب نے رحم کرے اور اس لئے انہیں پیدا کیا ہے اور اب تمہارے رب کی بات پوری ہوگئی کہ دوزخ کو تو جن و انس سب سے بھر دوں گا ۔
Except those upon whom your Lord has mercy, and for that [purpose] He created them. And the word of your Lord has been fulfilled: 'I will surely fill Hell with jinn and mankind altogether.'
وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَ وَجَآءَكَ فِي هَٰذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ
اور ہم سب کچھ پیغمبروں کے قصے (ان کے حالات) تمہارے سامنے بیان کریں گے ۔ ان قصوں سے تمہارے دل کو تسلی ہوگی (یثبت ہوگی) اور (یہ تمام قصے حق ہیں) اور اس میں جو کچھ آیا ہے (ثابت ہے) اور یہ مومنوں کے لئے (ایمانداروں کے لئے) نصیحت اور یاد دہانی ہے ۔
And all that We relate to you of the accounts of the Messengers — with it We strengthen your heart. In this has come to you the truth, and an admonition and reminder for the believers.
وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَٰمِلُونَ
اور تم بے ایمانوں سے کہہ دو کہ تمہارے امکان میں جو کچھ ہے تم کرو اور ہم بھی اپنے امکان میں کریں گے ۔
And say to those who do not believe: 'Act according to your capacity — we too are acting.'
وَانتَظِرُوٓاْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ
تم بھی (نتیجہ کا) انتظار کرو اور ہم بھی (اس کا) انتظار کرتے ہیں ۔
And wait — we too are waiting.
وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَٰوَٰتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُۥ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
اور آسمانوں اور زمین کے غیب سب اللہ کے ہیں (اور اس کو معلوم ہیں) تمام کاموں کا مرجع و ماب وہی ہے لہذا اس کی عبادت کرو اور اسی پر توکل کرو ۔ تم جو کچھ کرتے ہو اس سے تمہارا رب بے خبر نہیں (غافل نہیں) ۔
And to Allah belongs the unseen of the heavens and the earth, and to Him all matters are returned. So worship Him and place your trust in Him. And your Lord is not unaware of what you do.