57. Al-Ḥadīd
الحديد
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِى السَّمَٰوَٰتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(۱) اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں جو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی ہے عزت والا اور حکمت والا۔
(1) All that is in the heavens and the earth glorifies Allah, and He is the Mighty, the Wise.
لَهُۥ مُلْكُ السَّمَٰوَٰتِ وَالْأَرْضِ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(۲) آسمانوں اور زمین میں اسی کی سلطنت ہے جلاتا بھی وہی ہے مارتا بھی وہی ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔
(2) His is the dominion of the heavens and the earth; He gives life and He causes death, and He has power over all things.
هُوَ الْأَوَّلُ وَالْأَخِرُ وَالظَّٰهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
(۳) وہ اول بھی وہی آخر بھی وہی، ظاہر بھی وہی باطن بھی وہی، اس کو ہر شے کا خوب علم ہے (وہ ہر شے سے واقف ہے)۔
(3) He is the First and the Last, the Manifest and the Hidden, and He has full knowledge of all things (He is aware of everything).
هُوَ الَّذِى خَلَقَ السَّمَٰوَٰتِ وَالْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِى الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(۴) وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں (اور تھوڑی مدت میں) پیدا کیا پھر عرش حکومت پر قائم ہوگیا (وہ خوب جانتا ہے) جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے ـ اللہ تمہارے ساتھ ہے جہاں تم جہاں کہیں رہو، اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے ، ان کو دیکھتا ہے۔
(4) He it is Who created the heavens and the earth in six days (in a short span of time), then established Himself upon the Throne of Sovereignty. He knows what enters into the earth and what comes out of it, and what descends from the heaven and what ascends into it — Allah is with you wherever you may be, and Allah sees all that you do.
لَهُۥ مُلْكُ السَّمَٰوَٰتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ
(۵) خدا ہی کی ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت اور خدا ہی کی طرف ہے تمام کاموں کا مرجع۔
(5) His is the dominion of the heavens and the earth, and to Allah all matters are returned.
يُولِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ وَهُوَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(۶) وہ رات کو داخل کردیتا ہے دن میں اور دن کو داخل کردیتا ہے رات میں ، اور سینوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہے۔
(6) He causes the night to enter into the day and the day to enter into the night, and He is All-Knowing of what lies in the breasts [of people].
امِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ فَالَّذِينَ امَنُوا مِنكُمْ وَأَنفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ
(۷) لوگو! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اس میں سے جو اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے کچھ خرچ کرو ـ پھر جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور (راہ خدا میں) خرچ کئے ان کے لئے بڑا ہی اجر ہے۔
(7) Believe in Allah and His Messenger ﷺ, and spend from that of which He has made you trustees — those of you who believe and spend [in His cause] will have a great reward.
وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَٰقَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(۸) تمہیں ہوگیا کیا کہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے ، حالانکہ پیغمبر تم کو تم کو اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے ـ اور تم سے اقرار واقع اور عہد لیا ہے ، اگر ہو تم ایماندار۔
(8) And what is the matter with you that you do not believe in Allah, while the Messenger calls you to believe in your Lord, and He has already taken your covenant — if indeed you are believers?
هُوَ الَّذِى يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِۦٓ ءَايَٰتٍۭ بَيِّنَٰتٍ لِّيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَٰتِ إِلَى النُّورِ وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(۹) وہی ہے جو اپنے بندہ پر واضح نشانیاں نازل کرتا ہے کہ تم کو ظلمتوں سے نور کی طرف نکالے ـ یقیناً اللہ بھی ہے ، رحیم بھی ہے ، پرشفیق بھی ہے۔
(9) He it is Who sends down clear signs upon His servant to bring you out from the depths of darkness into the light — and indeed Allah is Kind and Merciful to you.
وَمَالَكُمْ أَلَّا تُنفِقُوا فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ السَّمَٰوَٰتِ وَالْأَرْضِ لَا يَسْتَوِى مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَٰتَلَ أُو۟لَٰٓئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَٰتَلُوا وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(۱۰) اور تمہیں ہوکیا ہے کہ تم راہ خدا میں کچھ دیتے نہیں ، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کی ہے ـ جن لوگوں نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور جہاد بھی کیا ـ اللہ نے ان میں سے ان لوگوں کے بڑے بڑے درجے بڑے درجے ہیں نسبت ان لوگوں کے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد کے بعد ضرف کیا اور جہاد بھی کیا ـ اللہ نے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اچھا وعدہ فرمایا اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔
(10) And what is the matter with you that you do not spend in the path of Allah, while to Allah belongs the inheritance of the heavens and the earth? Those among you who spent [in His cause] before the Conquest [of Makkah] and fought — they are far greater in rank than those who spent and fought afterward. Allah has promised each of them the best [reward], and Allah is well-acquainted with all that you do.
مَن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥ وَلَهُۥٓ أَجْرٌ كَرِيمٌ
(۱۱) کون ہے جو اللہ کو قرضہ حسنہ دے پھر اللہ اس کے قرض سے کئی چند کردے گا اور اس کے لئے ہے بزرگ بدلہ۔
(11) Who is it that will lend Allah a goodly loan, so that He may multiply it for him — and he will have a generous reward?
يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَٰتِ يَسْعَىٰ نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَٰنِهِمْ بُشْرَىٰكُمُ الْيَوْمَ جَنَّٰتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(۱۲) اس دن کو یاد رکھو جس دن تم مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے سامنے اور سیدھی جانب سے دوڑتا ہوگا ـ اس دن تم کو مبارک ہو ایسی جنتیں جن کے نیچے نہریں ہیں جن میں تم ہمیشہ رہو گے ـ یہی ہے بڑی کامیابی۔
(12) Remember the day when you will see the believing men and believing women with their light running before them and on their right — [they will be told:] Good news for you today: Gardens beneath which rivers flow, in which you shall abide forever — that is the supreme success.
يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَٰفِقُونَ وَالْمُنَٰفِقَٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُۥ بَابٌۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ
(۱۳) اس دن کا خیال رکھو جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمانداروں سے کہیں گے ـ ذرا ہماری طرف نظر کرو کہ ہم سے کچھ نور حاصل کریں ـ ان کو جواب دیا جائے گا : جاؤ پیچھے (یعنی دنیا کو) پھر (وہاں) نور ڈھونڈو ـ پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دی جائے گی جس کا ایک دروازہ ہوگا ـ اندر کی طرف رحمت ہوگی اور باہر کی طرف عذاب ہوگا۔
(13) Remember the day when the hypocrite men and hypocrite women will say to the believers: Wait for us, let us get some light from your light — they will be answered: Go back [to the world] and seek light there. Then a wall will be erected between them with a gate: inside it will be mercy, and outside it, from the front, will be punishment.
يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ قَالُوا بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِىُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ
(۱۴) منافق ، مسلمانوں کو پکاریں گے (پکار کریں گے) کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ (مسلمان) کہیں گے ـ ہاں! مگر تم نے اپنے آپ کو فتنہ و فساد میں ڈال لیا تھا (خطرے وغیرہ) اور تم ہمیشہ (منتظر تھے) اور رہے اور خلش اور شک میں رہے (ہمارا نصیب پھوٹ گیا تھا) ـ اور آرزؤوں نے تمہیں دھوکہ میں رکھا ـ تمہاری (بیہودہ) آرزوؤں نے تمہیں دھوکہ دیا یہاں تک کہ خدا آ گیا اور اللہ کے متعلق بڑے دھوکہ باز نے دھوکہ دیا۔
(14) The hypocrites will call out to the Muslims [saying]: Were we not with you? They will reply: Yes! But you put yourselves in trial and temptation (endangering yourselves), and you always wavered and remained in doubt and confusion — and your [vain] desires deceived you until Allah's command came, and the great deceiver [Satan] deceived you concerning Allah.
فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنكُمْ فِدْيَةٌ وَلَا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مَأْوَىٰكُمُ النَّارُ هِىَ مَوْلَىٰكُمْ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(۱۵) تو آج تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ کافروں سے ـ تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ ہی تمہاری رفیق ہے اور وہ کیا ہی بُرا ٹھکانا اور انجام ہے۔
(15) So today no ransom will be accepted from you, nor from those who disbelieved — your abode is the Fire; it is your companion [and guardian], and what an evil destination and end it is.
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَٰبَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ
(۱۶) کیا مسلمانوں کے لئے ابھی تک وہ وقت نہیں آیا کہ یاد خدا کے لئے اور اس (قرآن) کے لئے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے ـ ان کے دل گداز ہوں ـ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو پہلے سے کتاب دی گئی تھی اور ان پر ایک زمانہ وراز گزر چکا ـ پھر ان کے دل (پتھر کی طرح) سخت ہوگئے اور ان میں سے بہت سے فاسق وبدکار ہیں۔
(16) Has the time not yet come for those who believe that their hearts should humble themselves before the remembrance of Allah and what has been revealed of the Truth — and they should not become like those who were given the Book before, and for whom a long period passed so their hearts became hard (like stone), and many of them are wicked transgressors?
اعْلَمُوٓا أَنَّ اللَّهَ يُحْىِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْأَيَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(۱۷) یہ بات جان لو کہ اللہ زمین کو اس کے مرجانے کے بعد جان بخشا اور تروتازہ بنادیتا ہے ـ ہم نے اس کے نظائر بیان کردئے کہ تم سمجھو بوجھو۔
(17) Know that Allah revives the earth after its death — We have made the signs clear to you, so that you may understand.
إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَٰتِ وَأَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَٰعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ
(۱۸) بے شک خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور جو لوگ اللہ کو قرضہ حسنہ دیتے ہیں ان کو دو چند دے گا اور ان کے لئے باعزت اجر ہے۔
(18) Indeed, the men who give in charity and the women who give in charity, and those who lend Allah a goodly loan — it will be multiplied for them, and for them is a generous reward.
وَالَّذِينَ ءَامَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ الْجَحِيمِ
(۱۹) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں وہی خدا کے پاس صدیق اور شہید ہیں راست گو ہیں اور راست باز ہیں ـ ان کے لئے ان کا ثواب بھی ہے اور ان کا نور بھی ہے اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کو جھٹلاتے ہیں ان کو دوزخ کے رہنے والے ہیں۔
(19) Those who believe in Allah and His Messengers ﷺ — they are the ṣiddīqūn (the truthful and upright ones) and the witnesses [martyrs] in the sight of their Lord — for them is their reward and their light. And those who disbelieve and deny Our signs — they are the companions of Hellfire.
اعْلَمُوٓا أَنَّمَا الْحَيَوٰةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِى الْأَمْوَٰلِ وَالْأَوْلَٰدِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَٰمًا وَفِى الْأَخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَٰنٌ وَمَا الْحَيَوٰةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَٰعُ الْغُرُورِ
(۲۰) خوب جان رکھو کہ یہ دنیوی زندگی لہو و لعب ہے اور ظاہری زینت ہے اور آپس میں فخر اور برائی ہے اور مال و اولاد میں کثرت کا مقابلہ ہے ـ اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش کہ اس کاسا (اس کا) اُگنا کسانوں کو اچھا معلوم ہوتا ہے پھر وہ زور پر آتی ہے پھر اس کو دیکھتے ہیں زرد پڑ کر پھر چورا چورا ہوگئی اور آخرت میں (بعض کے لئے) سخت عذاب ہے اور (بعض کے لئے) اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رضا مندی ہے اور دنیا کی زندگی کی زندگی کیا ہے مگر دھوکہ کا سامان ہے۔
(20) Know well that the life of this world is but play and amusement, outward adornment, boasting among yourselves, and rivalry in [accumulation of] wealth and children — its likeness is as rain whose [resulting] vegetation pleases the farmers; then it grows strong, then you see it turn yellow, and then it crumbles away. And in the Hereafter there is severe punishment [for some], and forgiveness and pleasure from Allah [for others] — and the life of this world is nothing but the provision of deception.
سَابِقُوٓا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِۦ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(۲۱) (لوگو!) تمہارے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمان اور زمین کے برابر ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے تیار کی گئی ہے (دادِ مولیٰ ہے) یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑا فضل و افضل والا ہے۔
(21) [O people!] Hasten toward forgiveness from your Lord and a Garden whose width is as the width of the heavens and the earth, prepared for those who believe in Allah and His Messengers ﷺ — that is Allah's grace; He bestows it on whom He wills, and Allah is the Possessor of immense grace.
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِى الْأَرْضِ وَلَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِى كِتَٰبٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَآ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(۲۲) کوئی آفت ، کوئی مصیبت روئے زمین پر نہیں پڑتی اور نہ خود تم پر مگر اس سے پہلے ایک کتاب میں موجود ہے کہ ہم ان چیزوں کو پیدا کریں یقیناً یہ سب اللہ کے پاس آسان ہے۔
(22) No calamity befalls upon the earth or in your own selves, except that it is in a Book [of decree] before We bring it into existence — indeed, that is easy for Allah.
لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَآ ءَاتَىٰكُمْ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
(۲۳) تاکہ تم غم نہ کھاؤ، اس پر جو تمہارے ہاتھ سے نکل گیا (یا ہاتھ نہ آیا) اور نہ اتراؤ اور نام کرو اس پر کہ آیا ـ اللہ ہر اتراتے والے اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔
(23) So that you may not grieve over what slipped from your hands (or what you did not obtain), nor exult over what came to you — Allah does not love every arrogant boaster.
الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَمِيدُ
(۲۴) جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو (حق سے) منہ پھیرتے ہیں اور جو (اللہ سے) مستغنی ہے (اللہ سے) مستغنی ہے اللہ (سے) مستغنی ہے اور اللہ (سے) مستغنی ہے سزاوار حمد وتعریف ہے۔
(24) Those who are miserly and who command people to be miserly — and whoever turns away, indeed Allah is the Self-Sufficient, the Praiseworthy.
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَٰتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَٰبَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَٰفِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُۥ وَرُسُلَهُۥ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(۲۵) ہم نے اپنے پیغمبروں کو واضح دلائل (اور معجزات) کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان بھی اتاری کہ لوگ عدل و انصاف پر قائم رہیں اور (منکرین کے مقابلہ کے لئے) لوہا اتارے جس میں بڑی قوت ہے ، یہ اور لوگوں (دوسرے حم) کے لئے منافع بھی ہیں اور تاکہ اللہ کو بھی معلوم ہوجائے کہ بے دیکھے اللہ اور اس کے رسولوں کی کون مدد کرتا ہے ـ یقیناً اللہ باقوت عزیز ہے۔
(25) We have sent Our Messengers with clear proofs (and miracles), and sent down with them the Book and the Balance [of justice], so that people may uphold equity. And [for the purpose of defending against opponents] We sent down iron, in which there is mighty strength and benefits for people, and so that Allah may know who helps Him and His Messengers ﷺ in the unseen — indeed Allah is Strong and Mighty.
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا وَإِبْرَٰهِيمَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَٰبَ فَمِنْهُم مُّهْتَدٍ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ
(۲۶) ہم نے نوح اور ابراہیم کو پیغبر بنا کر بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری رکھا مگر ان میں سے بعض تو ہدایت پر آئے اور ان میں سے اکثر بدکار رہ گئے۔
(26) And We sent Nūḥ (Noah) and Ibrāhīm (Abraham) as Prophets, and placed prophethood and the Book in their lineage — some of them were guided, but many of them were wicked transgressors.
ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَءَاتَيْنَٰهُ الْإِنجِيلَ وَجَعَلْنَا فِى قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَٰهَا عَلَيْهِمْ
(۲۷) پھر ہم نے ان (اولوالعزم پیغمبروں) کے بعد اور رسولوں کو بھیجا اور ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو بھی بھیجا اور ان کو انجیل دی ـ اور جو لوگ عیسیٰ کی اتباع کرتے تھے ان کے دلوں میں ہم نے شفقت اور رحمت پیدا کردی ـ اور گوشہ گیری اور خدا ترسی (ان کے دلوں میں ڈالی تھی) مگر (رہبانیت) انہوں نے ازخود ایجاد کردی ـ ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی۔
(27) Then We followed them up with [other] Messengers of Ours, and followed [them] with 'Īsā ibn Maryam (Jesus son of Mary), and gave him the Injīl (Gospel). And in the hearts of those who followed him We placed compassion and mercy, and monasticism — they innovated it of their own accord; We did not prescribe it for them.
عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَٰنِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا فَـَٔاتَيْنَا الَّذِينَ ءَامَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ
(۲۸) جس کو خود انہوں نے ایجاد کیا تھا کہ ہم نے ان پر صرف خدا کی رضا کی جوئی کی تھی ـ تو ان پر فرض نہیں کیا تھا ـ پھر ہم نے ان میں سے ایمانداروں کو ان کا اجر دیا اور ان میں سے بہت سے ہیں ، فاسق و فاجر ہیں۔
(28) [That which] they invented themselves — We had only required of them to seek Allah's pleasure — yet they did not observe it as it deserved to be observed. So We gave those among them who believed their reward, but many of them are wicked transgressors.
لِّئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَٰبِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَىْءٍ مِّن فَضْلِ اللَّهِ وَأَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(۲۹) (یہ اس لئے کہا جاتا ہے) کہ اہل کتاب کہیں یہ نہ رکھیں کہ مسلمانوں کو خدا کے فضل و کرم سے کچھ نہیں ملتا ـ یقیناً یہ (فضل) اللہ کے ہاتھ میں ہے ، جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ عظیم الشان فضل و کرم والا ہے۔
(29) [This is said] so that the People of the Book should not suppose that the Muslims have no access to Allah's grace and bounty — indeed, [all] bounty is in the hand of Allah; He bestows it on whom He wills, and Allah is the Possessor of immense grace.